زیبا نسیم : ممبئی
قرآن مجید میں نماز اور زکوٰۃ کو بار بار ساتھ ذکر کیا گیا ہے کیونکہ یہی دونوں دین کی بنیاد ہیں۔ نماز اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور زکوٰۃ بندوں کا حق ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک بھی ادا نہ ہو تو دین کا توازن برقرار نہیں رہتا۔ سورۂ توبہ میں زکوٰۃ کے متعدد احکام بیان کیے گئے ہیں جو اس کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔ حدیث میں بھی اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر رکھی گئی ہے جن میں نماز اور زکوٰۃ نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
معاشرے میں زکوٰۃ سے غفلت
ہماری سوسائٹی میں نماز روزہ اور حج کے بارے میں آگاہی تو پائی جاتی ہے لیکن زکوٰۃ کے بارے میں سنجیدہ معلومات کی کمی ہے۔ بہت سے لوگ زکوٰۃ کا صحیح حساب نہیں جانتے۔ اکثر لوگ صرف رمضان میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور ہر سال ایک ہی افراد کو دیتے رہتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی آئی یا نہیں۔ زکوٰۃ کو محض چند اشیا یا معمولی رقم دینے تک محدود کر دینا اس کے اصل مقصد سے دوری کی علامت ہے۔
مولانا آزاد کی تنبیہ
مولانا ابوالکلام آزاد نے لکھا کہ مسلمانوں نے جس فریضے کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا وہ زکوٰۃ ہے۔ ان کے مطابق انفرادی طور پر بغیر منظم نظام کے زکوٰۃ ادا کرنا اس کے قرآنی تصور کو پورا نہیں کرتا۔ اگر زکوٰۃ کے اجتماعی نظام کو درست کر لیا جائے تو مسلمانوں کے معاشی مسائل بڑی حد تک حل ہو سکتے ہیں۔
نماز اور زکوٰۃ کا باہمی تعلق
مولانا اسعدالدین اصلاحی نے مثال دی کہ نماز اور زکوٰۃ ایک گاڑی کے دو پہیوں کی مانند ہیں۔ اگر ایک پہیہ بھی کمزور ہو تو گاڑی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ اسی طرح دین کی تکمیل بھی دونوں کے بغیر ممکن نہیں۔
عہد نبوی میں زکوٰۃ کا نظام
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زکوٰۃ کا باقاعدہ انتظام تھا۔ وصولی کے لیے نمائندے مقرر کیے جاتے تھے۔ انہیں ہدایت دی جاتی تھی کہ نرمی اور عدل سے کام لیں۔ بیت المال میں مکمل حساب رکھا جاتا تھا اور مستحقین تک منظم انداز میں مدد پہنچائی جاتی تھی۔ یہ ایک مربوط معاشی نظام تھا نہ کہ محض انفرادی خیرات۔
خلافت راشدہ کی مثالیں
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے واضح اعلان کیا کہ جو شخص زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا اس کے خلاف اقدام کیا جائے گا۔عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں زکوٰۃ کا مضبوط نظام قائم رہا۔معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا گیا جہاں زکوٰۃ کے مؤثر نظام کے باعث غربت کم ہو گئی۔عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور میں خوشحالی اس قدر بڑھی کہ مستحقین کی تلاش مشکل ہو گئی۔
زکوٰۃ کا حساب اور نصاب
زکوٰۃ اندازے سے نہیں بلکہ باقاعدہ حساب سے ادا کی جاتی ہے۔ سونے کا نصاب تقریباً 87.5 گرام اور چاندی کا نصاب تقریباً 612 گرام ہے۔ نقد رقم تجارتی مال اور دیگر قابل زکوٰۃ اثاثے جمع کر کے قمری سال مکمل ہونے پر ڈھائی فیصد ادا کیا جاتا ہے۔ زرعی پیداوار پر عشر ہے جو بارانی زمین پر دس فیصد اور آبپاشی والی زمین پر پانچ فیصد ہے۔ مویشیوں کے لیے بھی مخصوص مقدار مقرر ہے۔
غربت کا چیلنج اور موجودہ صورت حال
سچر کمیٹی کی رپورٹ نے مسلمانوں کی معاشی پسماندگی کی نشاندہی کی۔Christophe Jaffrelot نے نوجوانوں میں بے روزگاری کی بلند شرح کو خطرناک قرار دیا۔ملک کے کئی اضلاع ترقی سے محروم ہیں۔NITI Aayog نے پسماندہ اضلاع کی فہرست جاری کی جن میں نوح نمایاں ہے جبکہ اس کے قریب گروگرام خوشحالی کی مثال ہے۔بڑے شہروں جیسے ممبئی ،دہلی،چنئی،بنگلورواور حیدرآباد میں بھی جھگی بستیوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو منظم معاشی اصلاح کی متقاضی ہے۔
دولت کی تخلیق اور تقسیم
اسلام دولت کی منصفانہ تقسیم کے ساتھ اس کی تخلیق پر بھی زور دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت کو فروغ دیا اور مدینہ میں آزاد منڈی قائم کی جہاں اجارہ داری اور ناجائز ٹیکس نہیں تھے۔ آج کے دور میں مہارت تحقیق اختراع اور کاروباری صلاحیت معیشت کی بنیاد ہیں۔ اگر دولت پیدا نہیں ہوگی تو تقسیم بھی ممکن نہیں ہوگی۔
اجتماعی ذمہ داری اور عملی قدم
غربت کا خاتمہ صرف انفرادی خیرات سے ممکن نہیں بلکہ منظم نظام سے ہوگا۔ ہر علاقے میں مستحقین اور صاحب نصاب افراد کا سروے ہونا چاہیے۔ زکوٰۃ کو تعلیم روزگار صحت اور خود کفالت کے منصوبوں میں استعمال کیا جائے تاکہ مستقل تبدیلی آئے۔ علماء سماجی کارکن اور صاحب حیثیت افراد مل کر ایسا نظام قائم کریں جو شفاف اور مؤثر ہو۔زکوٰۃ محض ایک عبادت نہیں بلکہ مکمل معاشی نظام ہے۔ جب اسے سنجیدگی اور حکمت کے ساتھ اجتماعی سطح پر نافذ کیا جائے گا تو معاشرے میں توازن خوشحالی اور عدل قائم ہوگا۔ ہمیں تاریخ کے روشن نمونے کو سامنے رکھ کر جدید تقاضوں کے مطابق زکوٰۃ کے نظام کو زندہ کرنا ہوگا تاکہ ایک باوقار اور مستحکم معاشرہ تشکیل پا سکے۔
مالی آگاہی کی ضرورت اور معاشی شعور
آج کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور مالی آگاہی ایک اہم ضرورت بن چکی ہے۔ جس طرح تعلیم کے میدان میں خواندگی کی مہم چلتی ہے اسی طرح مال اور معیشت کے بارے میں شعور پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ مالی آگاہی کا مطلب یہ ہے کہ انسان جان سکے کہ وہ کس طرح کمائے کس طرح بچت کرے کس طرح سرمایہ کاری کرے کس طرح اپنے اوپر خرچ کرے اور کس طرح دوسروں کی مدد کرے۔آج کا معاشرہ بڑی حد تک قرض اور کریڈٹ کے نظام پر چل رہا ہے۔ لوگ اکثر وہ چیزیں خرید لیتے ہیں جن کی حقیقی ضرورت نہیں ہوتی اور اس رقم سے خریدتے ہیں جو ان کے پاس موجود نہیں ہوتی۔ اس رویے کے نتیجے میں معاشرہ پیداواری بننے کے بجائے قرض پر قائم ہو جاتا ہے۔ ہمیں ایک ایسی معیشت کی ضرورت ہے جو محنت بچت اور سرمایہ کاری پر قائم ہو تاکہ دولت پیدا ہو اور پھر اسے منصفانہ طور پر تقسیم کیا جا سکے۔
سادگی اور بچت کا کلچر
ہمارے معاشرے میں غیر ضروری اخراجات خصوصاً شادی بیاہ کے مواقع پر بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ سادہ اور سنت کے مطابق نکاح کی جگہ رسم و رواج نے لے لی ہے جس کی وجہ سے خاندانوں پر مالی بوجھ بڑھتا ہے۔ اگر ہم شادی کو آسان اور سادہ بنا دیں تو نہ صرف معاشی دباؤ کم ہوگا بلکہ بچت کا راستہ بھی کھلے گا۔ یہی بچت آگے چل کر سرمایہ کاری اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔مالی آگاہی کا تقاضا ہے کہ آمدنی اور خرچ دونوں کا جائزہ لیا جائے۔ بچت کو محض جمع نہ رکھا جائے بلکہ اسے درست اور حلال سرمایہ کاری میں لگایا جائے۔ ماضی میں قافلوں کی صورت میں مشترکہ سرمایہ کاری ہوتی تھی جہاں لوگ اپنا مال ملا کر تجارت کرتے تھے۔ آج کے دور میں بھی اجتماعی سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت کے ذریعے ترقی ممکن ہے بشرطیکہ دیانت اور پیشہ ورانہ مہارت موجود ہو۔

دنیا میں زکوٰۃ کے نظام کی مثالیں
دنیا کے مختلف ممالک میں زکوٰۃ کے منظم نظام قائم کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پرMalaysia میں زکوٰۃ کا باقاعدہ ریاستی نظام موجود ہے۔ وہاں مستحقین کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایک وہ جو وقتی طور پر مدد کے محتاج ہیں اور دوسرے وہ جو ہنر اور وسائل ملنے پر خود کفیل بن سکتے ہیں۔ انہیں تربیت دی جاتی ہے کاروبار کے لیے سرمایہ فراہم کیا جاتا ہے اور چند برسوں میں وہ لینے والے سے دینے والے بن جاتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی اور آن لائن نظام کے ذریعے شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔
اسی طرحSouth Africa میں مسلمان اقلیت ہونے کے باوجود معاشی میدان میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہاں زکوٰۃ کے اداروں میں پیشہ ور افراد کام کرتے ہیں اور خواتین بھی قیادت میں شامل ہیں۔ جدید مالیاتی نظام جیسے مائیکرو فنانس اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے غربت کے خاتمے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مائیکرو فنانس اور ہنر مندی
مائیکرو فنانس یعنی چھوٹے قرضوں کے ذریعے چھوٹے کاروبار کھڑے کیے جا سکتے ہیں۔ اگر زکوٰۃ کے وسائل کو منظم انداز میں استعمال کیا جائے تو ہنر سکھا کر نوجوانوں اور خواتین کو خود کفیل بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح ایک پائیدار معاشی نظام قائم ہو سکتا ہے جس میں دولت کی تخلیق اور تقسیم دونوں پہلو متوازن ہوں۔
زکوٰۃ کی قومی مہم اور منظم کوشش
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر بستی اور ہر شہر میں زکوٰۃ کے بارے میں باقاعدہ آگاہی مہم چلائی جائے۔ جس طرح نماز کے لیے تحریکیں چلیں اسی طرح زکوٰۃ کے صحیح نظام کو قائم کرنے کے لیے بھی اجتماعی جدوجہد کی جائے۔ اس میں علماء ماہرین معاشیات چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سماجی کارکن اور خواتین سب کو شامل ہونا چاہیے۔زکوٰۃ انفرادی خیرات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی نظام ہے۔ اگر ہم اخلاص پیشہ ورانہ مہارت اور دیانت کے ساتھ اس کو نافذ کریں تو چند برسوں میں معاشرے میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اس کے ذریعے خوشحالی پیدا ہوگی غربت کم ہوگی اور مسلمان معاشی طور پر مضبوط ہو کر دوسروں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم نماز کے ساتھ زکوٰۃ کو بھی قائم کریں اور دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کریں۔