
ڈاکٹر ریحان اختر قاسمی
ہندوستان اپنی تہذیبی گوناگونی، مذہبی تنوع اور مشترکہ سماجی روایت کے اعتبار سے دنیا کے نمایاں ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں مختلف مذاہب، ثقافتوں اور تہذیبوں کے ماننے والے صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ اسی مشترکہ ہندوستانی فضا میں مسلمانوں نے ہمیشہ اپنے دینی تشخص، مذہبی شعائر اور اسلامی اقدار کو محفوظ رکھا اور ساتھ ہی ساتھ ملک کے اجتماعی نظم، سماجی ہم آہنگی اور قومی اتحاد کو بھی اہمیت دی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ دین اور دنیا کے درمیان اعتدال، توازن اور حکمت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی معاشرے میں مسلمانوں کی دینی زندگی صرف عبادات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں سماجی ذمہ داری، اخلاقی کردار، قانون پسندی اور انسانی احترام بھی نمایاں طور پر شامل رہا ہے۔
نمازِ جمعہ اور نمازِ عیدین اسلام کے عظیم شعائر میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ محض عبادات نہیں بلکہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی، روحانی وابستگی اور دینی اجتماعیت کی علامت ہیں۔ جمعہ کا دن مسلمانوں کے لیے ہفتہ وار روحانی اجتماع، دینی تعلیم و تربیت اور امت کے اتحاد کا مظہر ہے۔ اسی لیے قرآنِ مجید میں جمعہ کے دن اللہ کے ذکر اور نماز کی طرف متوجہ ہونے کی تاکید کی گئی ہے۔ سورۂ الجمعہ آیت 9 میں بندے اور اللہ کے درمیان تعلق کی مضبوط بنیاد، روحانی پاکیزگی کا ذریعہ اور فلاح و کامیابی کا راستہ قرار دیا گیا ہے۔
اسی طرح عیدین کے تعلق سے قرآن میں اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے، تکبیر بیان کرنے اور اجتماعی خوشی و مسرت کے اظہار کا مفہوم ملتا ہے۔ اسلام میں عید محض ایک تہوار نہیں بلکہ امت کے اتحاد، سماجی مساوات، دینی شکرگزاری اور روحانی مسرت کا عظیم مظہر ہے۔

احادیثِ نبویؐ میں بھی نمازِ جمعہ اور عیدین کی غیر معمولی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کو مسلمانوں کے لیے سب سے افضل دن قرار دیا۔ سنن ابن ماجہ کی ایک روایت میں مذکور ہے کہ مسلمان جب جمعہ کے لیے مسجد کی طرف جاتے ہیں تو فرشتے ان کے نام لکھتے رہتے ہیں اور خطبہ شروع ہونے کے بعد صحیفے بند کر دیتے ہیں۔ صحیح بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعہ صرف ایک نماز نہیں بلکہ ایک روحانی اجتماع ہے جس میں مسلمانوں کی دینی وابستگی، اجتماعی شعور اور اللہ کے ساتھ تعلق کی تجدید ہوتی ہے۔ اسلام کی یہی تعلیم مسلمانوں کے اندر عبادت کا شوق، اجتماعیت کا جذبہ اور دینی شعائر سے گہری محبت پیدا کرتی ہے۔
ہندوستان کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں مسلمان خصوصاً جمعہ اور عیدین کے موقع پر بڑی جامع مساجد اور عیدگاہوں میں نماز ادا کرنے کو سعادت سمجھتے ہیں۔ لوگ دور دراز علاقوں سے بڑی مساجد کا رخ کرتے ہیں تاکہ بڑے اجتماع میں شریک ہو سکیں، علماء کے بیانات سن سکیں، دینی ماحول سے فیض حاصل کر سکیں اور امت کے اتحاد و اخوت کا خوبصورت منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔ ہندوستان کی بڑی جامع مساجد اور عیدگاہیں ہمیشہ سے مسلمانوں کے مذہبی، روحانی اور سماجی جذبات کا مرکز رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عیدین اور جمعہ کے موقع پر لاکھوں مسلمانوں کا ان مقامات کی طرف رخ کرنا ایک فطری اور جذباتی کیفیت بن جاتی ہے۔
لیکن موجودہ ہندوستانی حالات میں آبادی کے بڑھتے دباؤ، شہروں کے تیزی سے پھیلاؤ، ٹریفک کے مسائل، سیکورٹی خدشات اور انتظامی پابندیوں کی وجہ سے بعض مقامات پر ایسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے کہ ایک ہی جامع مسجد یا عیدگاہ میں تمام لوگوں کا جمع ہونا ممکن نہیں رہتا۔ کئی مرتبہ مساجد اور عیدگاہوں کے اطراف شدید بھیڑ ہو جاتی ہے، عوامی راستے متاثر ہوتے ہیں، ٹریفک جام کی صورت پیدا ہوتی ہے اور روزمرہ کے ضروری کاموں، مریضوں کی آمد و رفت اور ایمبولینس وغیرہ کو دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ریاستوں اور شہروں میں انتظامیہ کی جانب سے سڑکوں یا عوامی مقامات پر نماز ادا کرنے کے سلسلے میں پابندیاں جاری کی جاتی ہیں۔

ایسے حالات میں مسلمانوں کے لیے اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ اسلامی شریعت اس سلسلے میں کیا رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اسلام کا مزاج ہمیشہ اعتدال، آسانی، حکمت اور معاشرتی ذمہ داری پر قائم رہا ہے۔ اسلامی شریعت نے جہاں نماز، جمعہ اور عیدین جیسے عظیم شعائر کی تاکید کی ہے وہیں امنِ عامہ، سماجی نظم اور راستوں کے حقوق کو بھی بڑی اہمیت دی ہے۔ اسلام یہ تعلیم نہیں دیتا کہ عبادت کے نام پر دوسروں کو تکلیف دی جائے یا معاشرتی نظام کو متاثر کیا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے راستوں کے حقوق ادا کرنے، لوگوں کو تکلیف سے بچانے اور معاشرتی آسانی پیدا کرنے کی تعلیم دی ہے۔ ایک حدیث میں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح دوسروں کے لیے ضرر اور نقصان کا سبب بننے سے منع کیا گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ فقہائے کرام اور علماء امت نے واضح کیا ہے کہ سڑکیں عوامی استعمال کے لیے ہوتی ہیں اور ان پر تمام شہریوں کا حق ہوتا ہے۔ لہٰذا ایسی صورت میں جب حکومتی سطح پر پابندی موجود ہو یا ٹریفک میں رکاوٹ، مریضوں کی آمد و رفت اور عام شہریوں کو دشواری پیش آنے کا اندیشہ ہو تو سڑکوں پر نماز ادا کرنے سے اجتناب کرنا شرعی حکمت اور احتیاط کے مطابق ہے۔ اسلام کبھی بھی عبادت کو دوسروں کے لیے تکلیف، بد نظمی یا انتشار کا ذریعہ نہیں بناتا بلکہ وہ حسنِ معاشرت، سماجی توازن اور امن و سکون کی تعلیم دیتا ہے۔ شریعت کا معروف اصول "لا ضرر ولا ضرار" یعنی نہ خود نقصان اٹھاؤ اور نہ دوسروں کو نقصان پہنچاؤ اسی اسلامی حکمت کی ترجمانی کرتا ہے۔
موجودہ ہندوستانی حالات میں مختلف مسلم تنظیموں، دینی اداروں، علماء کرام اور ملی تنظیموں نے بھی مسلمانوں سے یہی اپیل کی ہے کہ وہ نمازِ جمعہ اور عیدین کے موقع پر نظم و ضبط قائم رکھیں، سرکاری ہدایات کا احترام کریں اور مساجد و عیدگاہوں کے اندر یا متبادل جائز مقامات پر سکون اور وقار کے ساتھ نماز ادا کریں۔ جمعیۃ علماء ہند سمیت مختلف مسلم تنظیموں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلمان جذبات کے بجائے حکمت، صبر اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے دینی فرائض انجام دیں تاکہ عبادت کا تقدس بھی برقرار رہے اور سماجی ہم آہنگی بھی متاثر نہ ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ ایسے راستے کی تعلیم دیتا ہے جس میں دین بھی محفوظ رہے اور معاشرہ بھی امن و سکون کے ساتھ چلتا رہے۔ اس لیے اکثر مقامات پر شدید بھیڑ کے باوجود مسلمان عیدگاہ یا بڑی جامع مسجد میں نماز ادا کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر ایک ہی مقام پر تمام لوگوں کی گنجائش ممکن نہ ہو تو شریعت مسلمانوں کو آسان اور معتدل راستہ اختیار کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ ایسی صورت میں بہتر طریقہ یہی ہے کہ مسلمان اپنے محلوں، کالونیوں اور علاقوں کی مساجد یا عیدگاہوں میں نماز ادا کریں۔ اس سے نہ صرف بھیڑ کم ہوگی بلکہ سکون، خشوع، اطمینان اور نظم کے ساتھ عبادت بھی ادا ہو سکے گی۔ درحقیقت اسلام میں کسی خاص مسجد میں نماز ادا کرنا اصل مقصد نہیں بلکہ اللہ کی رضا اور عبادت کا حصول اصل مقصود ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے محلے کی مسجد میں نماز ادا کرے تو اس کے اجر و ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔

فقہائے کرام نے بھی واضح کیا ہے کہ اگر کسی ایک جامع مسجد میں تمام لوگوں کی گنجائش نہ ہو تو مختلف محلوں اور علاقوں کی مساجد میں جمعہ اور عید کی نماز کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔ یہی طرزِ عمل موجودہ حالات میں جائز، مناسب، حکیمانہ اور قابلِ عمل ہے۔ اگر کسی مقام پر شدید مجبوری ہو، مسجد میں جگہ نہ مل سکے یا انتظامی پابندیوں کی وجہ سے بڑی جماعت ممکن نہ ہو تو چند بالغ مسلمان کسی مناسب جگہ یا گھر میں بھی جماعت قائم کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہاں نظم، وقار اور شرعی آداب کا لحاظ رکھا جائے۔ اس سے اسلام کی آسانی، وسعت اور عملی حکمت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی روشن روایت ہمیشہ یہی رہی ہے کہ اسلام حالات کے مطابق سہولت اور آسانی فراہم کرتا ہے، نہ کہ مشقت اور تنازع کو فروغ دیتا ہے۔
اسلام نے ہمیشہ اپنے ماننے والوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ اپنے دینی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے ملکی قوانین، سماجی روایات اور قومی مفادات کا احترام کریں۔ یہی اعتدال اور توازن ہندوستانی مسلمانوں کی اصل شناخت بھی ہے۔
آج کے حالات میں بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ مسلمان جذبات کے بجائے حکمت، صبر، دینی بصیرت اور اجتماعی ذمہ داری کے ساتھ کام کریں۔ عبادت کا اصل مقصد اللہ کی بندگی، روحانی اصلاح، اخلاقی تربیت اور انسانوں کے درمیان محبت، خیر خواہی اور اخوت کو فروغ دینا ہے، نہ کہ کسی قسم کی کشیدگی، تصادم یا بد نظمی پیدا کرنا۔
اگر موجودہ حالات میں مسلمان اپنے محلوں کی مساجد اور عیدگاہوں میں نظم و وقار کے ساتھ نماز ادا کریں، سڑکوں اور عوامی راستوں پر غیر ضروری ہجوم سے گریز کریں، مقامی انتظامیہ سے تعاون کریں اور علماء و مسلم تنظیموں کی اپیلوں پر عمل کریں تو یہ نہ صرف شرعی تعلیمات کے عین مطابق ہوگا بلکہ اسلام کے حسنِ اخلاق، اعتدال، امن پسندی، قانون پسندی اور ذمہ دارانہ طرزِ فکر کا بہترین عملی نمونہ بھی ثابت ہوگا۔ یہی طرزِ عمل ہندوستان جیسے متنوع اور مشترکہ معاشرے میں دینی وقار، سماجی ہم آہنگی، قومی اتحاد اور باہمی احترام کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
مصنف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فیکلٹی آف تھیولوجی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں
E-mail: [email protected]