مہاویر جینتی: جین مذہب کا مغل بادشاہ اکبر پر کیسے پڑا تھا گہرا اثر؟

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 31-03-2026
مہاویر  جینتی: جین مذہب کا مغل بادشاہ اکبر پر کیسے پڑا تھا گہرا اثر؟
مہاویر جینتی: جین مذہب کا مغل بادشاہ اکبر پر کیسے پڑا تھا گہرا اثر؟

 



منصور الدین فریدی : نئی دہلی 

ہندوستان میں یوں تو جینوں کی بڑی تعداد موجود ہے لیکن زیادہ تر لوگ حتیٰ کہ خود جین بھی اپنے مذہب کے فلسفے سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔جین مت جس کی بنیاد بھگوان مہاویر نے رکھی،ایک قدیم اور پرامن مذہب ہے جو عدم تشدد اور رواداری کی تعلیم دیتا ہے۔ مسلمانوں اور جینوں کے تعلقات تاریخ کے مختلف ادوار میں ملے جلے رہے ہیں جن پر برصغیر کی سیاسی صورتحال اور حکمرانوں کی پالیسیوں کا گہرا اثر رہا ہے۔۔ یہ تعلقات کبھی تنازعات پر مبنی رہے تو کبھی باہمی ہم آہنگی پر۔بارہویں صدی کے بعد جب برصغیر میں اسلام کی آمد ہوئی تو جین برادری کو بعض ادوار میں مشکلات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ دہلی سلطنت کے دور اور بعد کے کچھ حکمرانوں کے زمانے میں چند مقامات پر مندروں کو نقصان پہنچایا گیا اور زیارت گاہوں کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ تاہم یہ صورتحال ہر دور اور ہر خطے میں یکساں نہیں تھی بلکہ وقت اور حکمرانوں کے لحاظ سے اس میں تبدیلی آتی رہی۔

رواداری اور سرپرستی

تنازعات کے باوجود کئی مسلم حکمرانوں نے رواداری کا مظاہرہ کیا۔ خاص طور پر شہنشاہ اکبر جین مت کے احترام کے لیے معروف تھے۔ انہوں نے جین تہوار پریوشن کے دوران جانوروں کے ذبح پر پابندی عائد کی اور پنجرے میں بند پرندوں کو آزاد کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔مغل شہنشاہ اکبر جین مت کا بہت احترام کرتے تھے اور انہوں نے جین سادھوؤں ہیر وجے سوری بھانو چندر اپادھیائے اور وجے سین سوری سے متعدد ملاقاتیں اور گفتگو کیں۔مغل شہنشاہ اکبر اور احمد آباد کے جین بزرگوں کا ذکر بھی اہم ہے۔

جین گرو کو دعوت 

جب اکبر کو احمد آباد کے مشہور جین بزرگ ہیر وجے سوری کے علم اور کردار کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے 1282 میں انہیں دربار میں مدعو کیا۔ سوری نے دعوت قبول کی مگر سفر کے اخراجات کے لیے دی گئی رقم لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جین سادھو ہمیشہ بھیک کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ ہیر وجے سوری بھانو چندر اپادھیائے اور وجے سین سوری پر مشتمل وفد احمد آباد سے پیدل روانہ ہوا اور راستے میں بھیک مانگتے ہوئے فتح پور سیکری پہنچا جہاں ان کا شاہی مہمانوں کی طرح استقبال کیا گیا۔سوری نے پہلے ابوالفضل سے گفتگو کی اور انہیں کرم کے نظریے اور غیر شخصی خدا کا تصور سمجھایا۔بعد میں انہوں نے اکبر سے ملاقات میں کہا کہ سچا مذہب ہمدردی پر قائم ہوتا ہے اور خدا ایک ہے اگرچہ مختلف مذاہب میں اس کے نام مختلف ہیں۔انہوں نے اکبر کو جین تعلیمات سے آگاہ کیا اور عدم تشدد کی اہمیت بیان کی۔

ذبح پر پابندی

اکبر ان کی باتوں سے متاثر ہو کر گجرات میں چھ ماہ کے لیے جانوروں کے ذبح پر پابندی لگانے آمادہ ہوئے۔ انہوں نے کئی ٹیکس ختم کیے قیدیوں کو رہا کیا اور پرندوں کو آزاد کرنے کے احکامات بھی دیے۔ہیر وجے سوری چار سال تک دربار میں رہے اور 1586 میں واپس گجرات روانہ ہوئے۔ اس دوران انہوں نے اپنی برادری کے لیے کئی سہولیات حاصل کیں۔ کہا جاتا ہے کہ اکبر نے شکار ترک کرنے کا عہد کیا اور گوشت کھانے سے بھی اجتناب کی خواہش ظاہر کی۔جب جین بزرگ واپس جا رہے تھے تو اکبر نے انہیں اپنے محل میں محفوظ جین مذہبی کتب بطور تحفہ پیش کیں اور اصرار کر کے انہیں قبول کروایا۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Hullas Jain (@jainhullas)

 شراویکا کے برت اور اکبر کی حیرت 

ایک مرتبہ مغل شہنشاہ اکبر اپنے عظیم شاہی محل کی بالکنی میں کھڑے تھے اور شاہراہ کی طرف دیکھ رہے تھے کہ انہوں نے ایک جلوس دیکھا جس میں ایک جین خاتون یعنی شراویکا رتھ میں سوار تھی۔ وہ راستے میں لوگوں کو سلام کر رہی تھی اور وقتاً فوقتاً انہیں نذرانے بھی پیش کر رہی تھی۔ جلوس کے آگے باجے بج رہے تھے اور لوگ خوشی کے گیت گا رہے تھے۔اکبر اس منظر کو دیکھ کر حیران رہ گئے اور درباری خادموں سے اس جلوس کے بارے میں پوچھا۔ معلوم کرنے پر انہیں بتایا گیا کہ یہ شراویکا جین مذہب کی پیروکار ہے اور اس نے چھ ماہ کے طویل برت رکھے ہیں۔ آگرہ کی جین سنگھ نے اس کے اس غیر معمولی تپسیا کے اعزاز میں یہ جلوس نکالا ہے اور اس خاتون کا نام چمپا ہے۔اکبر کو اس بات پر شدید حیرت ہوئی کہ کوئی انسان چھ ماہ تک بغیر کھائے کیسے زندہ رہ سکتا ہے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ایک ماہ کے روزے رکھنا بھی کتنا مشکل ہوتا ہے حالانکہ اس میں رات کو کھانے کی اجازت ہوتی ہے۔خادموں نے مزید بتایا کہ چمپا شراویکا نے پورے چھ ماہ نہ دن میں کھانا کھایا اور نہ رات میں۔

اکبر نے لیا امتحان

اکبر نے اسے ناممکن سمجھا اور اس کی حقیقت جانچنے کا فیصلہ کیا۔ چمپا شراویکا کو پورے احترام کے ساتھ دربار میں بلایا گیا۔ اکبر نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ کوئی اتنا طویل برت رکھ سکے۔ چمپا نے جواب دیا کہ مذہب کی طاقت سے سب کچھ ممکن ہو جاتا ہے۔ اکبر نے کہا کہ اگر وہ محل میں محافظوں کی نگرانی میں دوبارہ روزہ رکھے تو وہ یقین کر لیں گے۔چمپا شراویکا اس پر راضی ہو گئی۔ وہ محل میں عزت و احترام کے ساتھ مقیم رہی اور باہر پہرے دار مقرر کر دیے گئے۔ مقررہ مدت کے بعد جب اکبر نے دریافت کیا تو بتایا گیا کہ اس نے دن اور رات میں کچھ بھی نہیں کھایا۔ اکبر کی حیرت مزید بڑھ گئی۔ انہوں نے ان دنوں میں کسی بھی جاندار کے قتل پر پابندی عائد کر دی جن دنوں چمپا روزہ رکھ رہی تھی۔ اکبر نے اس کی تعریف کی۔ چمپا نے عاجزی سے کہا کہ یہ سب مذہب دیوتاؤں اور گرو کی تاثیر کا نتیجہ ہے۔

جین مذہب میں دلچسپی 

اس واقعے کے بعد اکبر کو جین مذہب میں گہری دلچسپی پیدا ہوئی اور انہوں نے آچاریہ ہیر وجے سوری جی سے درخواست کی کہ وہ دربار میں آ کر انہیں تفصیل سے آگاہ کریں۔ بھگوان مہاویر کے بعد چمپا شراویکا کو ایسی نادر تپسیا کرنے والی شخصیت سمجھا گیا۔ اس واقعے نے اکبر کے دل میں جین مذہب اس کے آچاریوں اور پیروکاروں کے لیے گہرا احترام پیدا کیا۔اسی کے نتیجے میں اکبر نے جین یاتریوں پر عائد جزیہ ٹیکس ختم کر دیا اور عدم تشدد کے اصول کو ہیر وجے سوری جی سے سیکھا۔

اکبر نے اپنی قسمت اور مستقبل کے بارے میں بھی پوچھا تو سوری جی نے فرمایا کہ یہ کام دنیا دار لوگ کرتے ہیں جبکہ سادھو علم اور روحانی سکون کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اکبر نے احترام کے طور پر سونا چاندی پیش کرنا چاہا مگر سوری جی نے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر کچھ دینا چاہتے ہیں تو پنجرے میں بند پرندوں اور جانوروں کو آزاد کریں اور ڈابر نامی جھیل میں بڑے پیمانے پر مچھلیوں کے شکار پر پابندی لگائیں۔ ساتھ ہی پریوشن کے ایام میں ہر قسم کے تشدد کو روکنے کا حکم جاری کریں۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Hullas Jain (@jainhullas)

اکبر بنا سبزی خور 

اکبر نے ان تمام باتوں کو قبول کیا اور اپنے طور پر پریوشن کے آٹھ دنوں کے ساتھ مزید چار دن شامل کر کے بارہ دن تک جانوروں کو کاٹنے پر پابندی عائد کر دی۔ یہ حکم گجرات مالوہ اجمیر دہلی فتح پور لاہور اور ملتان تک پورے سلطنت میں نافذ کیا گیا۔ انہوں نے گرنار ترنگا شترنجیہ کیسریاجی ابو راجگرہی اور سمیٹ شکھرجی جیسے زیارتی مقامات کے آس پاس بھی جانوروں کے قتل پر پابندی لگا دی۔وکرم سموت 1640 میں ہیر وجے سوری جی کو جگد گرو کا خطاب دیا گیا۔ بعد میں انہوں نے آگرہ گوالیار اور دیگر علاقوں کا دورہ کر کے جین مذہب کی تعلیمات کو عام کیا جس کے نتیجے میں ہزاروں ہندو اور مسلمان گوشت خوری اور شراب نوشی چھوڑنے لگے۔اکبر 1582 میں سبزی خور بن گئے اور انہوں نے شکار کرنا بھی ترک کر دیا۔

سپریم کورٹ کی مہر 

 دلچسپ بات یہ ہے کہ صدیوں بعد جہاں تاریخ کے صفحات اس رواداری اور ہم آہنگی کے ثبوت ہیں وہیں ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے بھی مغل دور میں جین مذہب کے پروان پانے کی بات کی۔ دراصل بال پاٹل اور دیگر بنام یونین آف انڈیا و دیگر 2005 کے مقدمے میں سپریم کورٹ نے جین برادری اور مغل شاہی خاندان کے درمیان تاریخی تعلقات کا ذکر کیا۔ عدالت نے اس بات کو اجاگر کیا کہ جین افراد مغل دربار کے لیے بینکر اور سرمایہ کار کے طور پر کام کرتے تھے جبکہ اپنی مذہبی شناخت کو بھی برقرار رکھتے تھے۔ یہ مثال ایک ایسے برداشت کرنے والے معاشرے کو ظاہر کرتی ہے جہاں مختلف مذاہب کے لوگ خوشی سے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔