اردو زبان وادب کی تہذیبی روایت کے امین تھے ۔ ڈاکٹر امام اعظم

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | 3 Months ago
اردو زبان وادب کی تہذیبی روایت کے امین ڈاکٹر امام اعظم  کا انتقال
اردو زبان وادب کی تہذیبی روایت کے امین ڈاکٹر امام اعظم کا انتقال

 

 کولکتہ ۔  منصور الدین فریدی :نئی دہلی

اردو زبان وادب کی تہذیبی روایت کے امین۔۔۔۔ متعدد  کتابوں کے مصنف نامور شاعر ،ادیب ،محقق و نقاد اور صحافی ڈاکٹر امام اعظم ریجنل ڈاٸر یکٹر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کولکتہ خالق ِ حقیقی سے جا ملے۔  ڈاکٹر امام اعظم ایک متحرک، فعال، سر گرم اور باصلاحیت ادیب، نقاد اور مصنف تھے۔

ان کی موت کی خبر نے کولکتہ سے دربھنگہ تک بلکہ اردو دنیا کو سوگوار کردیا ہے۔ گزشتہ دو سالوں سے دل کی بیماری میں مبتلا تھے ڈاکٹر امام اعظم متعدد کتابوں کے مصنف اور ماہنامہ تمثیل کے ایڈیٹر تھےجسے وہ پابندی سے شائع کرتے تھے۔حال ہی میں ان کی تازہ تصنیف کلکتہ کی منظوم تاریخ ’’یہی ہے کلکتہ ‘‘شائع ہوکر قبولیت حاصل کی ہے۔اس کتاب میں کلکتہ کی تاریخ کو عمدہ پیرائے میں بیان کیا گیا ہے ۔2012سے ہی مولانا آزاد اردو یونیورسٹی کے ریجنل سنٹر کی ذمہ داری سے سنبھال رہے تھے۔ان کا تعلق دربھنگہ ضلع سے گنگوارہ سے تھا ۔20جولائی 1960میں ان کی پیدائش ہوئی ۔

انہوں نے دربھنگہ میں ادبی سرگرمیوں کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ دربھنگہ میں مولانا آزا د یونیورسٹی کے سنٹر کے قیام اور تعمیراتی کاموں میں ان کا رول کافی اہم تھا۔گزشتہ ایک دہائی سے ان کا میدان عمل کلکتہ تھا ۔کلکتہ میں نہ صرف وہ ریجنل سنٹر میں دفترامور انجام دیتے تھے بلکہ وہ ادبی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔وہ کلکتہ کی شاندار ماضی کی دریافت کیلئے کوشاں تھے۔وہ منافقانہ ماحول میں بھی یکسوئی کے ساتھ ادب کے گیسو کو سنواررہے تھے۔وہ نوجوان اسکالرکی رہنمائی کرنے میں گریز نہیں کرتے تھا

کولکتہ کے ممتاز دانشور اور ادیب پروفیسر منصور عالم نے کہا کہ ۔۔ یہ اردو دنیا کا ایک بڑا بلکہ ناقابل تلافی نقصان ہے،اردو نے ایک محسن کو گنوا دیا ہے۔وہ ایک ایسی شخصیت کے مالک تھے جن کا اردو دنیا میں کوئی دشمن نہیں تھا وہ کسی کے ساتھ کوئی اختلاف یا ٹکراو نہیں تھا،وہ ہر کسی کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ان کا کردار ان کے نام کی مانند تھا ۔

ڈاکٹر امام اعظم کی سیرت و کردار کی طہارت ، نفاست ، شرافت اور صلاحیت کے سبب ان کی شخصیت کی طرح ان کی شاعری بھی شفافیت، طہاریت ،صالحیت اور اخلاقیات کی غماز رہی۔ ان کے انداز بیاں میں محبت و خلوص کے ساتھ لفظوں کا جادو شامل تھا وہ تنقیدی باتوں کو بھی محبت کے لڑیوں میں پیرو دیتے تھے۔ ڈاکٹر امام اعظم کا تعلق شمالی بہار سے تھا ۔ در بھنگہ کا خطہ عہد قدیم سے ہی علمی وادبی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ اردوزبان و ادب کے ہمہ جہت فروغ میں اس شہر نے اہم کردارادا کیا ہے۔ ہرعہد میں اس خطے سے تحقیق کاروں نے اپنی تخلیقات سے اردوزبان وادب کی آبیاری کی ہے۔

عہد حاضر میں بھی اس خطے کے ادباء و شعراء کی ایک کثیر تعداد اپنی اوبی نگارشات کے حوالے سے اپنی شناخت قائم کر رہی ہے۔ ایسے تحقیق کاروں میں جنہوں نے دربھنگہ کے ادبی منظر نامے کو وسعت دی، جن کی ادبی سرگرمیوں سے اس خطے کی او بی فضا سازگار ہوئی اور جنہوں نے دربھنگہ کا نام قومی اور بین الاقوامی منظر نامے پر نمایاں کیا ہے، ان میں ایک اہم نام ڈاکٹر امام اعظم کا تھا۔

یاد رہے کہ سید اعجاز حسن امام اعظم کے والد کا نام محد ظهر المنان ظفر فاروقی تھا ۔ ظفر المنان ظفر فاروقی نے داد یہائی اور نانیہائی دونوں جانب سے صالح روایتوں کی میراث پائی تھی۔ ان کا داد یبائی سلسلہ صوفیوں کے اس خانوادے سے تعلق رکھتا ہے جن سے بہار میں سلسلہ شطاریہ کا سرچشمہ جاری ہوا

ان کی شخصیت کے کئی پہلو تھے اور ہر پہلو قابل توجہ تھا۔ان ہی میں ایک پہلو ان کا ادبی جریدہ تمثیل نو کا بانی مدیر ہونا بھی ہے۔ تمثیل نو ملک بھر سے شائع ہونے والے اردو کے ادبی رسالوں کے درمیان اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔ یہ ایک سنجیدہ علمی و ادبی رسالہ ہے جسے تمام حلقوں میں پذیرائی حاصل رہی۔

دراصل سال 2001 میں ڈاکٹر امام اعظم نے اپنے ہندی فولدر تمثیل کو اردو رسم الخط میں ماہنامہ تمثیل نو کے نام سے زیادہ ترقی یافتہ شکل میں جاری کیا تھا- اس رسالے نے دربھنگہ کی ادبی صحافت کی روایت کی توسیع کی۔ یہ رسالہ پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رہا بلکہ اپنی قوت نمو کو ثابت کرتا ہوا بتدریج ارتقا پذ یر رہا۔ امام اعظم نے تمثیل نو کو بدلتے ادوار سے ہم آہنگ رکھنے کی کوشش کی ہے اور اسے صوری و معنوی دونوں اعتبار سے خوب سے خوب تر بنانے کے لئے کوشاں رہے ۔

اس جریدہ کی سنجیدگی اور معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ممتاز صحافی اور دانشور آنجہانی خوشونت سنگھ نے متیل نو کے اکتو بر تاد سمبر 2003 کے شماروں پراپنے کالم میں اظہار خیال کیاتھا۔ یہ کالم ٹیلی گراف کولکاتا، ٹریبیون جالندھر اور دکن ہیرالڈ بنگلور میں شائع ہوا تھا۔ اس کالم میں انہوں نے مضامین، مختصر کہانیوں اور نظموں کی تعریف کی تھی اور شاہد کلیم (آرا) کی ایک نظم ” یہ تصویر نہیں جنگل کی “ کو اپنے کالم میں جگہ دی۔ اس رسالے کا خشونت سنگھ کی نظر میں آنا اور ان کا اپنےکالم میں اس کا ذکر کرنا ایک بڑی بات تھی۔

تمثیل نو۔ ادبی صحافت کا نقش۔۔۔ نامی کتاب کے مصنف ڈاکٹر ابرار اجراوی نے ڈاکٹر امام اعظم کے بارے میں لکھا تھا کہ  ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر امام اعظم اردو کے پاسدار، ہندی کے تاجدار،انگریزی کے رازدار، شعر و صحافت کے ذی وقار اور شخص  طرحدار  ہیں۔ان کی تحریروں میں ایہام نہیں وضاحت ہے، ابہام نہیں صباحت  ہے،ان کی شاعری میں زندگی کی جستجو ہے، وہ زندگی جو ماضی،حال، مستقبل تینوں سے عبارت ہے۔ جس  میں ماضی کا طرب ،  حال کا کرب اور مستقبل کی بشارت تینوں کی عکاسی و نقاشی اپنی بہار دکھاتی ہے

دربھنگہ میں شاعری کی اس جدید تر روایت کی توسیع میں اہم رول ادا کرنے والی جو تازہ کار نسل نمایاں ہوئی ان میں ایک اہم نام ڈاکٹر امام اعظم کا تھا۔ امام اعظم کے تخلیقی جہان کی کئی جہتیں ہونے کے باوجود ایوان ادب میں ان کا داخلہ شاعری کے باب سے ہوتا ہے۔ ڈاکٹر امام اعظم کی شاعری  1980 کے بعد کی ادبی نسل اپنے پیش روؤں سے کئی اعتبار سے مختلف تھی ۔

ڈاکٹر امام اعظم  کہتےتھے کہ  کہ آج اردو دنیا میں انتشار ، افتراق اور  اشتہار کے ماحول میں جب ہر شخص اپنی خودستائی ،  خود نمائی اور خود توصیفی نیز  ہم چنیں دیگرے نیست کی ڈفلی بجا رہا ہے ۔ کسی کو یہ فکر نہیں کہ اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی نیز اشاعت و ترسیل کی راہ میں حائل مشکلات و معاملات کو کیسے دور کیا جائے ،  کون سی ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے جو اردو کی فلاح و بقا کے لیے مفید اور کار آمد ہو ۔ اس کے برخلاف اردو والوں کو فکر ہے تو صرف اور صرف اپنے ذاتی مفاد کی