احمد خان
ہولی مبارک ہو ، یہ رنگوں کا تیوہار ، محبت کا پیغام دیتا ہے، دلوں کی نفرت کے خاتمے کی علامت ہے ، برائی کو جلانے کا اعلان ہے ، یعنی اچھائی کی برتری کا حتمی اعلان ہے یہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کا ایک خوبصورت نمونہ ہے جس میں ہندو مسلم سکھ عیسائی سب خوبصورت رگوں کی مانند ہے نظر اتے ہیں، یہی ملک کی طاقت ہے اور یہی ہمارے معاشرے کی خوبصورتی ہے-اسی کے ساتھ اردو شاعری میں ہولی رنگ، محبت، اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت ہے۔ نظیر اکبر آبادی سے لے کر ساحر لدھیانوی تک، لاتعداد شعرا نے ہولی پر نظمیں اور اشعار لکھے ہیں۔ یہ شاعری تہوار کے جوش و خروش، بہار کی آمد، اور رنگوں کے ذریعے سماجی اتحاد کو ظاہر کرتی ہے۔
اس تہوار میں ایک رنگ نہیں بلکہ متعدد اور مختلف رنگوں کا جو سنگم ہوتا ہے وہ کہیں نہ کہیں ہمارے ملک کی ثقافت اور تہذیب کے رنگا رنگ ہونے کا بھی ثبوت دیتا ہے، ساتھ یہی پیغام دیتا ہے کہ ایک ساتھ بہت سارے رنگ مل کر ہی زندگی کو رنگین بناتے ہیں
عید بقر عید کی طرح ہولی دیوالی بھی بڑے تہوار ہیں۔ دیوالی روشنیوں کے چمک اور میٹھائیوں کی مہک تہوار ہے نظیر اکبر آبادی نے ان تہواروں کی خوبصورتی کو بھی اپنی نظموں میں سمو ٹھنے بیٹھنے والے، ان دیا ہے کیونکہ نظیر صاحب نے ہی عام جنتا کے دوست، ان کے ساتھ ا کی خوشیوں اور غم میں شریک ہونے والے ان کے یہاں ہولی پر بہت زیاده اور بہت اچھی ؎ نظمیں ہیں جیسے کہ
پھر آن کے عشرت کا مچا ڈھنگ زمین پر
اور عیش نے عرصہ کیا اس تنگ زمین پر
ہر دل کو خوشی کا ہوا آہنگ زمیں پر
یں تال کہیں زنگ زمیں پربجتے ہیں
ہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر
.webp)
صرف یہ نہیں کہ ہولی رنگو کا تہوار ہے بلکہ یہ وہ منفرد تہوار ہے جس کے ذریعہ ہندوستان اپنی عظیم وراثت کی جھلک دکھاتا ہے۔ اور اس پیغام کو عام کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ دنیا کا یہ واحد ملک ہے جہاں سیکڑوں قسم کی بولیاں اور ہزاروں قسم کے رسم و رواج ہونے کے باوجود ہندوستان کی دھڑکن ایک ہے، جہاں لوگوں کے دلوں میں کوئی تفریق نہیں ہے، جہاں بھائی چارہ ہے، اخوت ہے اور امن و سکون ہے۔ یہی کہ وہ ایک دن کے لیے ہر چیزمذہب، ذات، رنگ ، نسل سے بالاتر ہوکر ان لال، پیلےاور گلابی رنگوں کی طرح آپس میں مل جاتے ہیں اور دنیا کو دکھاتے کہ ہم سب ایک ہیں
ہاں اگرچہ ایسا نہیں ہوتا تو یہ دن ہم آہنگی کا دن نہیں ہوتا، جس کی اہمیت کا اندازہ اس ستارہویں، آٹھارہویں صدی میں اردو اور فارسی میں ہونے والی میر تقی میر،خواجہ حیدرعلی آتش اور انشا کی شاعری کو پڑھ کر لگایا جا سکتا ہے، جس میں انہوں نے ہولی کا ذکر کیا ہے۔
جیسے جشن ہولی کی مناسبت سے ایک جگہ میر نے لکھا ہے
آؤ ساتھی بہار پھر آئی
ہولی میں کتنی شادیاں لائی
جس طرح دیکھو مارکا سا ہے
شہر ہے یا کوئی کوئی تماشا ہے
تھال بھر بھر ابير لاتے ہیں
گل کی پتی ملا اڑاتے ہیں
اور آگے خواجہ آتش نے بھی ہولی کی آتشزدگی میں لکھا
ہولی شہیدِ ناز کے خون سے بھی کھیلیے
رنگ اس میں ہے، گلال کا بوُ ہے ابیر کی
اگرچہ ہولی مذہبی دن ہوتا تو مغل بادشاہ جہانگیر اسے "عید ای گلابی” کا نام نہ دیتا اور بابا بلھے شاہ بھی یہ نہیں کہتے
ہولی ری کھیلوں گی، کھا کر بسم اللہ
نام نبی کے رتن چا رہی، بوند پڑی الھآ
رنگ رنگیلی اوہی کھاوی
جو سکھِی ہوئے فنا فی اللہ
امیر قزلباش نے ہولی کو کچھ یوں بیان کیا ہے کہ ۔۔۔
میں دور تھا تو اپنے ہی چہرہ پہ مل لیا
اس زندگی کے ہاتھ میں جتنا گلال تھا
مرزا غالب نے ہولی کے موضوع پر باقاعدہ کوئی قصیدہ یا نظم تو نہیں لکھی، لیکن ان کے خطوط اور کلام میں ہولی کے تہوار، رنگوں اور دوستوں کے ساتھ ہولی کھیلنے کا ذکر ملتا ہے۔ غالب کے دور میں دہلی میں ہولی کا جشن جوش و خروش سے منایا جاتا تھا، جس کی جھلک ان کی شاعری میں نظر آتی ہے۔
ہولی پر غالب کا مشہور فارسی شعر/رباعی ملاحظہ فرمائیں
ہوا ہے شاہِ خوباں، آفتابِ عید و ہولی
رواں ہے سرور و مستی، ہر یک رنگ و بولی
(اس شعر میں غالب نے ہولی کو شاہِ خوباں اور عید کی طرح خوشیوں کا تہوار قرار دیا ہے)
اس کے علاوہ غالب نے اپنے فارسی کلام میں بھی ہولی کے رنگوں اور بہار کا ذکر کیا ہے، جہاں وہ رنگ و بو اور جشنِ بہاراں کو اجاگر کرتے ہیں
.webp)
ہولی صوفیوں کی زبانی
صوفیائے کرام کی تعلیمات نے برصغیر کی تہذیب پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ انہوں نے مذہب، ذات اور فرقے سے بالاتر ہو کر محبت، رواداری اور انسان دوستی کا پیغام دیا۔ ان ہی بزرگوں میں حضرت نظام الدین اولیاء کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے، جن کی خانقاہ میں ہر طبقے اور ہر مذہب کے لوگ حاضری دیتے تھے۔
ان کے محبوب مرید امیر خسرو نہ صرف ایک عظیم شاعر اور موسیقار تھے بلکہ اپنے مرشد سے بے پناہ عقیدت رکھتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ہولی کے موقع پر جو نغمے اور کلام تخلیق کیے، ان میں رنگ اور محبت کی ایسی آمیزش ہے جو صوفیانہ فکر کی عکاسی کرتی ہے۔
آج رنگ ہے اے ماں رنگ ہے ری
میرے محبوب کے گھر رنگ ہے ری
بلھے شاہ برصغیر کے ان عظیم صوفی شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے روحانیت اور انسان دوستی کا گہرا پیغام دیا۔ بلھے شاہ کی فکر کا مرکز وحدت الوجود، عشقِ الٰہی اور باطنی معرفت ہے، جس میں انسان اور خالق کے تعلق کو عشق کی نظر سے سمجھایا گیا ہے۔
ان کی شاعری میں ظاہری رسم و رواج سے زیادہ باطن کی پاکیزگی پر زور ملتا ہے۔ وہ انسان کو اپنے اندر جھانکنے، نفس کی اصلاح کرنے اور سچی محبت اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ بلھے شاہ کے نزدیک حقیقی عشق وہ ہے جو انسان کو تکبر، نفرت اور تفرقہ سے آزاد کر کے خالق کے قریب لے جائے۔
کھیلوں گی کہہ کر بسم اللہ
ہوری کھیلوں گی کہہ کر بسم اللہ
نام نبیؐ کی رتن چڑھی بوند پڑی اللہ اللہ
رنگ رنگیلی اوہی کھلاوے جو سکھی ہووے فنا فی اللہ
ہوری کھیلوں گی کہہ کر بسم اللہ
الست بربکم پیتم بولے سب سکھیاں نے گنگھٹ کھولے
قالو بلیٰ ہی یوں کر بولے لا الہ الا اللہ
ہوری کھیلوں گی کہہ کر بسم اللہ
نحن اقرب کی بنسی بجائی من عرف نفسہ کی کوک سنائی
فثم وجہ اللہ کی دھوم مچائی وچ دربار رسول اللہ
ہوری کھیلوں گی کہہ کر بسم اللہ
ہاتھ جوڑ کر پاؤں پڑوں گی عاجز ہو کر بنتی کروں گی
جھگڑا کر بھر جھولی لوں گی نور محمد صلی اللہ
ہوری کھیلوں گی کہہ کر بسم الل