مزار تو دلوں میں بنتے ہیں: ایک پاکستانی کی نظر میں نیتاجی

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | 13 d ago
مزار تو دلوں میں بنتے ہیں___ نیتاجی ایک پاکستانی  کی نظر میں

 

عامر ریاض ۔ لاہور 

آج ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کو جو آزادیاں نصیب ہیں اس میں اک بڑا حصہ اس "بغاوت" کی دین ہے جو تیزی سے بدلتے بین الاقوامی منظرنامے میں نیتا جی سبھاش چندر بوس نے بروقت کی تھی۔ جس شدید دباؤ کے تحت 1940 کی دہائی میں "لازوال" سلطنت برطانیہ کو کرپس مشن (1942)، کابینہ مشن (1946) اور پھر ماؤنٹ بیٹن (1947) کو بھیجنا پڑا، اس دباؤ کا بین الاقوامی سطح پر اظہار اٹلانٹک چارٹر (14 اگست 1941) تھا تو خطّے کی سطح پر انڈین نیشنل آرمی جس کی وجہ سے برٹش انڈین آرمی تاریخ میں پہلی دفعہ واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔ یہ نیتا جی اور ان کے ساتھیوں کا وہ جرم تھا جسے بکھرتی ہوئی سلطنت نے تادم تحریر معاف نہیں کیا۔ جو پھل اگست 1947میں ٹوٹے ہوے آم کی طرح کانگرس اور مسلم لیگ کے آنگن میں گرا وہ جس اوکھی ٹہنی سے جڑا تھا اس ٹہنی پر ضرب کاری نیتا جی سبھاش چندر بوس ہی نے لگائی تھی۔

آج بھی بنگلہ دیش، ہندوستان، پاکستان اور برطانیہ کی اشرافیہ کے لیے نیتا جی سبھاش چندر بوس کا نام اک خوفناک یاد ماضی ہی ہے۔ 1849 میں پنجاب پر قبضے سے لے کر آزادی ہند قانون 1947 کے درمیان افغانستان اور روس کی طرف پیش قدمی کی وجہ سے برٹش انڈین آرمی میں سب سے بڑی تعداد پنجابیوں ہی کی تھی کہ انگریز انھیں "بازو شمشیر زن"  کہتا تھا۔

سبھاش کا جرم یہی تھا کہ انہوں نے اسی بازو شمشیر زن کو آزادی کے متوالوں میں ڈھالا کہ آئی این اے میں واضح اکثریت ان پنجابیوں کی تھی جنھوں نے بازوشمشیرزن کے "تمغے" کو اتار پھینکا تھا۔

سبھاش چندر بوس  کا شمار ان چند انقلابی رہنماؤں میں ہوتا ہے جو جمہوریت، ترقی پسندی، جدیدیت اور قومی و ثقافتی رنگارنگی کا حسین امتزاج تھے۔ آج کے "انقلابیوں" کے برعکس سبھاش کے نزدیک مسلح جدوجہد پہلا نہیں بلکہ آخری حربہ تھا۔ انہوں نے 1921 سے لے کر 1939 تک محدود رائے دہی  پر مشتمل نو آبادیاتی عہد میں بلدیاتی انتخابات ہی میں حصہ نہ لیا بلکہ صوبائی و مرکزی کونسلوں / اسمبلیوں کے انتخابات میں بھی شامل رہا۔ آل انڈیا کانگرس میں وہ اس دن تک شامل رہا جب تک انہیں نکال باہر نہ کر دیا گیا۔

23 جنوری 1897 کو بنگالی وکیل "جانکی ناتھ" کے گھر پیدا ہونے والے سبھاش 20 ویں صدی کی دوسری دہائی میں کیمبرج (برطانیہ) پڑھنے گئے تھے۔ وہاں لاہوری رہنما جناب کے ایل گابا کے ساتھ مل کر انہوں نے ہندوستانی طلباء سے ہونے والی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔

1921 وہ سال ہے جب نوجوان سبھاش نے انڈین سول سروس (آئی سی ایس) کا امتحان پاس کیا۔ یہ وہی دور تھا جب آئی سی ایس افسر بننا اک خواب تھا اور ہندوستانی اشرافیہ کے سپوت اس خواب کی تکمیل کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار رہتے تھے۔

اخبار مارننگ نیوز کے مطابق سبھاش چندر بوس نے اس امتحان میں چوتھی پوزیشن حاصل کی تھی۔ مگر نوجوان سبھاش اپریل 1921 میں اس پرتعیش زندگی کو ٹھوکر مار کر اپنے گرو اور حقیقی دیس بندھو چترنجن داس (سی آر داس) سے آن ملے۔

کامیابی کی انتہا پر اسے تج دینا تو قلندری شان ہے اور بوس نے ساری عمر اس روایت کو نبھایا۔ یہ وہی سی آر داس تھے جنھوں نے 1922 میں مہاتما گاندھی سے اختلاف کرتے ہوے موتی لال نہرو کے ہمراہ "سوراج پارٹی" بنائی تھی اور کانگرس کو چھوڑ دیا تھا۔

حکیم اجمل خان اور علامہ اقبال کی طرح سی آر داس کو بھی "لکھنو پیکٹ" (1916) کی اس شق پر سخت اعتراض تھا جس کے تحت پنجاب و بنگال میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوششیں کی گئیں تھیں۔ 1924 میں جب سی آر داس برٹش انڈیا کی سب سے بڑی میونسپلیٹی یعنی کلکتہ کے میر بنے تو انھوں نے پہلی دفعہ بنگالی مسلمانوں کو ان کی آبادی کے حساب سے کلکتہ میونسپلٹی میں نشستیں دیں جس پر سی آر داس اور ان کے چیلوں سے ناراض ہو گئے۔

سی آر داس جب کلکتہ کے میر تھے تو ان کے دو شاگرد حسین شہید سہروردی اور سبھاش چندر بوس اس میونسپلٹی کے ڈپٹی میر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر تھے۔ ان دونوں شاگردوں نے گرو کے مان کو خوب نبھایا کہ جس کی گواہ آئندہ 50 برس کی تاریخ ہے۔ 1938 میں جب مسلم اقلیتی صوبوں یعنی یوپی، سی پی، بہار وغیرہ میں بننے والی کانگرسی وزارتوں بارے وہاں کے مسلمانوں نے بجا تحفظات کا اظہار کیا تو 21 دسمبر 1938 کو بحیثیت صدر آل انڈیا کانگرس سبھاش چندر بوس نے بروقت مہاتما گاندھی کو خط لکھا اور کہا کہ ہمیں اس کے لیے ایک کمیشن بنانا چاہیے مگر مہاتما گاندھی نے ان کی تجویز کو رد کر دیا۔

جنوری 1939 میں جب وہ دوبارہ کانگرس کی صدارت کے لیے کھڑے ہوئے تو بوس کے مخالفوں میں مہاتما گاندھی، ابوالکلام آزاد اور جی ڈی برلا پیش پیش تھے۔ سجاتا بوس نے سبھاش کی سوانح "سلطنت کا باغی" (پینگوئن بکس -- 2011) میں مستند حوالوں سے تمام تفصیلات دیں ہیں۔ بقول مصنف "گذشتہ دو عشروں میں مہاتما کی اتھارٹی کو پہلی دفعہ کامیابی سے چیلنج کیا گیا۔

یاد رہے کہ 3جولائی 1940 وہ آخری دن تھا جو بطور آزاد شہری، سبھاش نے وطن عزیز میں گذارا۔ اس دن سبھاش نے کامیابی سے کلکتہ میں نصب برطانوی راج کی نشانی ہال ویل کے مجسمہ کو تحریک چلا کر ہٹوا دیا تھا کہ راج نے اس دن کے بعد بوس کو نشان عبرت بنانے کا فیصلہ کر لیا۔

راج نے گرفتار تو کر لیا لیکن زیادہ عرصہ جیل میں رکھ نہیں پاۓ. پھر 25 دسمبر 1940 کو نیتاجی بنگال سے نکل کر 'ضیاالدین' کے خفیہ نام کے ساتھ چھپتے چھپاتے آدھا ہندوستان پار کر کے پنجاب و صوبہ سرحد (کے پی کے) سے ہوتے ہوئے کابل کے لاہوری گیٹ کی سرائے میں ہمراہ پہنچے۔

بس یہاں سے اک نئی جدوجہد کا آغاز ہوا۔ 2 اپریل 1941 کو وہ برلن پہنچ چکے تھے جہاں جرمنوں، اطالویوں، روسیوں اور جاپانیوں کی مدد سے راج کے خلاف مورچہ لگانے کی تیاری تھی۔

جون 1941 میں ہٹلر نے نپولین کی تقلید میں روس پر حملہ کرنے کی ہمالائی غلطی دہرائی تو سبھاش کو بہت رنج ہوا۔ مگر طوفانوں میں کشتیاں چلانے میں ماہر سبھاش تو "ہمت مرداں" کا داعی تھا۔

دراصل 14اگست 1941 سے 26 دسمبر 1941 کے درمیان دنیا کی سیاست تیزی سے بدلنے لگی۔ اگست میں ہونے والے اٹلانٹک چارٹر پر برطانوی وزیراعظم ونسٹنٹ چرچل سے دستخط لینے اور دسمبر میں 26 ممالک بشمول سویت یونین سے اس چارٹر کی "‘منظوری" کے بعد دنیا کی بادشاہی کا تاج روزویلٹ کی مرہون منت اب ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے سر رکھا جا چکا تھا۔ سویت یونین، برطانیہ، چین سبھی اس کے اتحادی ٹھہرے۔ ہمارے ہاں کمیونسٹ پارٹی سے تاج برطانیہ نے پابندی ہٹالی کہ الٹی گنگا بہنے لگی۔

جرمنی کی شکست کے بعد جاپان آخری امید تھی جبکہ لڑائی کا میدان برما محاذ سے جنوب مشرقی ایشیا تک سج چکا تھا۔ اب بوس کی منزل سنگاپور تھی کہ جہاں انھیں آزاد ہند فوج کی قیادت کرنی تھی۔

آزاد ہند فوج" فوج ایک سیالکوٹی افسر موہن سنگھ نے فروری 1942 میں بنائی تھی۔ اکتوبر 1943 کو جب بوس سنگاپور ایئرپورٹ پر اترے تو آزاد ہند فوج کے دو کمانڈر محمد زمان کیانی اور عزیز احمد ان کا استقبال کرنے موجود تھے۔

نیتاجی کی آمد نے فوج میں جان ڈال دی کہ برٹش انڈین آرمی کے برعکس اس فوج کی میس  میں ہندو مسلم سکھ سب ایک جگہ ایک ساتھ ہی کھانا کھاتے تھے۔

اب اس فوج کا قومی ترانہ منتخب کرنا تھا۔اس بار بھی بوس نے آزاد ہند فوج کے لیے علامہ اقبال کا لکھا ترانہ ہندی "سارے جہاں سے اچھا ہے ہندوستان ہمارا" کا انتخاب کیا۔

یہی تھی وہ سیاسی بصیرت جس کی وجہ سے بوس نے نوآبادیاتی دور کے سب سے بڑے منصوبہ یعنی بازو شمشیر زن سے جڑے پنجابیوں کو جوق در جوق آزاد ہند فوج کی طرف آنے پر مائل کیا۔

بوس محض ایک عسکری ماہر ہی نہ تھے بلکہ انھیں پنجاب اور بنگال کے قربتوں کی تاریخ پر بھی عبور تھا۔ 1929 میں وہ لاہور میں تھے جہاں انھیں پنجابی طلباء کانفرنس سے خطاب کرنا تھا۔ ان کی یہ تقریر جگت ایس برائٹ کی کتاب "بوس کی اہم تقاریر اور بیانات" (انگریزی) میں شامل ہے۔ 

 انہوں نے کہا کہ آپ کو شاید معلوم نہ ہو کہ بنگالی ادب نے پنجاب کی تاریخ سے کیا کچھ حاصل کیا ہے۔ آپ (پنجابیوں) کی عظیم شخصیات کی منظوم داستانوں کو شاعری کی شکل میں بنگالی زبان میں ڈھال کر گایا جاتا ہے کہ اس میں ٹیگور بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی ایک گیت تو ہر بنگالی کو یاد ہیں۔ ہمارے بزرگوں نے اس پنجابی کلام کو بنگالی میں ہمارے لیے ڈھالا تھا جس سے ہزاروں بنگالی متاثر ہیں۔ اس ثقافتی ہم آہنگی کو سیاست کے قالب میں ڈھالنا ہے۔

اس عظیم انسان کی موت پراسرار ہے۔ ابتک یہ راز ہی ہے کہ آخر نیتاجی کے ساتھ کیا ہوا ۔ مگر ان کی لاش  کو چھپانے والے یہ بھول گئے کہ "مزار" تو لوگوں کے دلوں میں بنتے ہیں اور دل کا دریا سمندر سے بھی گہرا ہوتا ہے۔ بس اس پرسرار گمشدگی نے بوس کو امر کر دیا اور سیاسی چالیں چلنے والے اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔