آواز دی وائس : نئی دہلی
حج صرف ظاہری مشقت یا غیر معمولی انداز میں سفر کرنے کا نام نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد روحانی اور فکری فائدہ حاصل کرنا ہے۔ مصنف کے مطابق حج انسان کو حکمت اور تدبر کا درس دیتا ہے۔ ملت کی اصلاح اور تعمیرِ نو کا کامیاب طریقہ تصادم اور تخریب نہیں بلکہ پرامن اور غیر نزاعی جدوجہد ہے۔ پیغمبرِ اسلامؐ نے دارالندوہ جیسے سیاسی مرکز میں طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے دعوت اور تربیت کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا کی۔
اس موضوع پر ممتاز اسلامی اسکالر مولانا وحید الدین خان نے اپنے ایک مضمون حج کی معنویت میں لکھا ہے کہ ۔۔۔ کچھ لوگ مجھ سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے لیے دعا کیجیے، ہم نے بائیسکل کے ذریعہ حج کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ اس سے پہلے بھی حاجیوں کاکئی گروپ مجھ سےملا ہے، جو اسی قسم کی باتیں کرتا تھا۔ مثلاً کوئی بتاتا تھاکہ ہم اونٹ کے ذریعے حج کا سفر کرنے جارہے ہیں، کوئی بتاتا تھا کہ ہم پیدل حج کا سفر کرنے جارہے ہیں، وغیرہ۔ یہ لوگ حج کی صورت (form) کو جانتے ہیں، مگر وہ حج کی معنویت کو نہیں جانتے۔ قرآن میں آیا ہے کہ حج کے لیے سفر کرو، اور اس کے منافع (الحج، 22:28) کو حاصل کرو۔ منافع کا لفظی مطلب ہے فائدہ (benefit)۔ لیکن اس کا مطلب مادی فائدہ نہیں ہے، بلکہ معنوی فائدہ ہے۔ یعنی حج سے حکمت (wisdom) کا سبق حاصل کرو، حج سے زندگی کی حکمتیں دریافت کرو، حج کی عبادت پر غور کرکے اس سے رازِ حیات کو جانو۔
مثلاً آپ حج کے لیے مکہ جائیں اور کعبہ کا طواف کرتے ہوئے آپ دیکھیں کہ کعبہ کی ابراہیمی عمارت اب وہاں موجود نہیں ہے۔ پیغمبر ابراہیم نے کعبہ کو لمبی صورت میں بنایا تھا، جب کہ موجودہ کعبہ چوکور صورت میں ہے، جو کہ قدیم مکہ کے لوگوں نے بطور خود تعمیر کیا تھا۔ قدیم کعبہ کی تقریباً ایک تہائی جگہ حطیم کی صورت میں غیر مسقف پڑی ہوئی ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے اِسی کعبہ کا طواف کیا۔ انھوں نے کعبہ کو دوبارہ ابراہیمی صورت میں بنانے کی کوشش نہیں کی۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ پیغمبر اسلام کی ایک سنت وہ ہے جس کو اسٹیٹس کوازم کہا جاسکتا ہے۔ یعنی موجود حالت پر تعمیرِ نو کی کوشش کرنا۔ گویا کہ موجود حالت کو بدلنے کی تحریک چلانا، سنتِ رسول نہیں ہے۔ بلکہ سنتِ رسول یہ ہے کہ موجود حالت کو چھیڑے بغیر نئی تعمیر کا منصوبہ بنایا جائے۔ موجودہ زمانے کی مسلم تحریکیں سب کی سب اس کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ ہر تحریک کے لیڈر یہ چاہتے ہیں کہ پہلے حالتِ موجودہ (statusquo) کو بدلیں ، اس کے بعد اپنے منصوبہ کے مطابق تعمیرِ نو کا کام کریں، یہ طریقہ بلاشبہ سنتِ رسول کے خلاف ہے۔
دراصل حقیقی کامیابی انقلابی نعروں یا طاقت کے حصول میں نہیں بلکہ انسان سازی اور فکری بیداری میں پوشیدہ ہے۔ پیغمبرِ اسلامؐ نے اپنے عملی نمونے سے یہ سکھایا کہ معاشرے میں پائیدار تبدیلی صبر حکمت اور مثبت منصوبہ بندی کے ذریعے آتی ہے۔ جب افراد اپنی توانائیاں نزاع اور مخالفت میں ضائع کرنے کے بجائے تعلیم تربیت اور تعمیری جدوجہد پر صرف کرتے ہیں تو ایک خاموش مگر مضبوط انقلاب برپا ہوتا ہے جو دیرپا نتائج پیدا کرتا ہے۔ معاشرے میں موجود حالات اور نظام سے براہِ راست ٹکراؤ کے بجائے پُرامن اور مثبت انداز میں اصلاح اور تعمیر کا عمل جاری رکھا جائے۔ پیغمبرِ اسلامؐ نے مکہ کے سیاسی اور سماجی نظام کو بدلنے کی تحریک نہیں چلائی بلکہ موجود مواقع کو استعمال کرتے ہوئے دعوت تعلیم اور اخلاقی تربیت کے ذریعے ایک نئی فکری قوت تیار کی۔
اس موضوع پر مولانا وحید الدین خان مزید لکھتے ہیں کہ ۔۔۔ اصل یہ ہے کہ ملت کی تعمیرِ نو کا کام مکمل معنوں میں ایک مثبت کام ہے۔ جب آپ دیکھیں کہ صورت موجودہ یہ ہے کہ ملت کے معاملات پر عملاً کسی گروہ کا قبضہ قائم ہے تو ایسی حالت میں تعمیرِنو کا منصوبہ کامیاب طور پر صرف اس وقت کیا جاسکتا ہے، جب کہ اس کو غیر نزاعی منصوبہ کی بنیاد پر انجام دیا جائے۔ اگر نئے قائدین یہ چاہیں کہ پہلے قابض گروہ سےلڑ کر اس کو ہٹائیں، وہ پہلے اسٹیٹس کو کو بدلیں، اور اس کے بعد نئی تعمیر کا آغاز کریں تو ایسا منصوبہ ہمیشہ ٹکراؤ سے شروع ہوگا۔ ایسے منصوبہ کا آغاز تخریب سے شروع ہوگا، نہ کہ تعمیر سے۔ چنانچہ ایسا منصوبہ اپنے آغاز ہی میں نزاعی (controversial) بن جائے گا۔ لوگوں کی طاقت غیر ضروری قسم کے ٹکراؤ پر چلنے لگے گی۔
اس کے برعکس، اگر اسٹیٹس کو کو برقرار رکھتے ہوئے اپنا کام شروع کردیا جائے تو نزاع کی نوبت نہیں آئے گی، بلکہ تعمیر کا کام اول دن سے تعمیر کے اصول پر جاری ہوجائے گا۔ اب ایک لمحہ بھی تخریب میں ضائع نہیں ہوگا۔
مولانا وحید الدین خان نے اس موضوع پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ۔۔۔ مکّہ عرب کا مرکزی شہر تھا۔ قریش نے مکّہ میں دار الندوہ قائم کررکھا تھا۔ دار الندوہ گویا قبائلی پارلیامنٹ تھی۔یہاں تمام اہم اُمور کے فیصلے کیے جاتے تھے۔ پیغمبرِ اسلام کے دادا عبدالمطلب دارالندوہ کے ممتاز ممبروں میں سے ایک تھے۔عام رواج کے مطابق، ایک حوصلہ مند لیڈر کے لیے پہلا ٹارگیٹ یہ تھا کہ وہ دار الندوہ کا رُکن بننے کی کوشش کرے۔ جو گویا اُس وقت کے عرب میں سیاسی طاقت کے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔لیکن پیغمبرِ اسلام نے دار الندوہ میں داخلے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ حتی کہ اُنہوں نے یہ مطالبہ بھی نہیں کیا کہ اپنے دادا عبد المطلب کی خالی سیٹ اُنہیں دی جائے۔دار الندوہ کے معاملے میں پیغمبرِ اسلام نے وہ پُر امن طریقہ اختیار کیا جس کو اسٹیٹس کوازم کہا جاتا ہے۔ یعنی صورتِ موجودہ سے ٹکراؤ نہ کرنا، بلکہ جو صورتِ موجودہ ہے اس کو علی حالہٖ قبول کرلینا۔ مگر پیغمبرِ اسلام کا اسٹیٹس کوازم سادہ طورپر صرف اسٹیٹس کوازم نہ تھا بلکہ وہ مثبت اسٹیٹس کوازم (positive status quoism) تھا۔ یعنی وقت کے نظام سے ٹکراؤ کیے بغیر موجود مواقع کو دریافت کرکے اُسے استعمال کریں ۔ اس طریقِ کار کو فارمولا کی زبان میں اس طرح کہاجاسکتا ہے:
Ignore the problems, avail the opportunities.