اردو اکادمی دہلی کا سالانہ ادبی اجتماع ”نئے پرانے چراغ“ کے حوالےسے
عمیر منظر
شعبہ اردو
مانو ،لکھنؤ کیمپس۔لکھنؤ
اردو کے ادبی اجتماعات میں ”نئے پرانے چراغ“ کی شاید ہی کوئی دوسری مثال ملے۔یہ دہلی کے قلم کاروں کا سالانہ ادبی پروگرام ہے،جس کا اہتمام دہلی اردو اکادمی کرتی ہے۔اس سالانہ ادبی پروگرام میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد شریک ہوتی ہے۔ان کی خوشی اور سرگرمی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔نوجوانوں کے لیے ادبی اظہار کی یہ پہلی منزل آگے کا راستہ ہموار کرتی ہے۔بزرگوں کے شانہ بشانہ انھیں اپنی ادبی تخلیقات کو پیش کرنے کاموقع ملتا ہے۔بزرگ ادیبوں اور شاعروں کے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ انھیں کے سامنے ایک نسل ادبی اظہار کے قابل ہوگئی ہے۔اردو اکادمی دہلی کے ابتدائی خدو خال جن بزرگوں نے مرتب کیے تھے ان کی ذہانت اور طباعی مبارک باد کے قابل ہے۔کیونکہ دیگر سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ نسل نو کے لیے موقع کی فراہمی دراصل ایک نسل کی تربیت اورانھیں آگے بڑھانا مقصود ہے۔میر و غالب کی دلی میں ادبی صلاحیتوں کے اظہار کے بہت سے مواقع ہیں لیکن اکیڈمی کا اسٹیج بے مثال ہے۔
نئے پرانے چراغ میں جن ادیبوں اور تخلیق کاروں کو شرکت کا موقع ملا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ ایک مشترکہ ادبی پروگرام ہے جس میں بزرگ اور نوجوان سب شریک ہوتے ہیں اسی لیے اس کے بارے میں کہاجاتا ہے ”نئے پرانے چراغ“ کا بنیادی مقصد اردو زبان و ادب کی مختلف اصناف سے وابستہ اہلِ قلم کو ایسا مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں نئی نسل کے تخلیق کاروں کو سینئر شعرا و ادبا کے تجربات سے استفادہ کا موقع مل سکے اور دہلی کی دیرینہ ادبی روایت کو نئی فکر، تازہ امکانات اور نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھایا جاسکے“۔ابتدا میں یہ دوروزہ پروگرام ہوا کرتا تھا مگر ادھر کئی برس سے یہ ادبی اجتماع پانچ روزہ ہوگیا ہے۔اس اجتماع کے دوران مختلف ادبی نشستیں، سمینار اور مشاعرے منعقد ہوتے ہیں، جن میں بڑی تعداد میں شعرا، ادبا اور ریسرچح اسکالرز اپنی تخلیقات اور تحقیقی کاوشیں پیش کرتے ہیں۔ابتدائی دورمیں یہ پروگرام غالب اکیڈمی میں ہوا کرتاتھامگر اب قمر رئیس سلور جبلی آڈیٹوریم اردو اکادمی میں ہوتا ہے۔

”نئے پرانے چراغ“ جواں سال قلم کاروں کے تعارف کا ایک اہم وسیلہ ہے۔اس پروگرام سے بہت سے تخلیق کاروں کی شناخت ہوتی ہے اور انھیں ادبی سفر کے آغاز کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ملتا ہے۔مجھ جیسے بے شمار لکھنے والوں کو دلی میں اول اول ”نئے پرانے چراغ“ کی شکل میں ہی پہلا معتبر ادبی اسٹیج ملا تھا۔ دلی میں جاری اس پروگرام سے وہ پرانے دن یا د آگیا گئے۔کیا خوب ادبی کہکشاں سجتی تھی۔کیسے کیسے ممتازادیبوں اور شاعروں سے اس پروگرام کے توسط سے ملاقات ہوتی تھی۔ان کے مشورے اور رہنمائی ادبی زندگی کے لیے مہمیز کا کام کرتی تھی۔ 2000ء میں نئے پرانے چراغ کا پہلا مشاعرہ پڑھنے کا پہلا موقع مجھے ملا تھا۔اس مشاعرہ میں من موہن تلخ،سیماب سلطان پوری، اسد رضا،ڈاکٹر راشد انور راشد اور وقار مانوی وغیرہ شریک تھے۔ربع صدی پہلے کے ان مشاعروں اور ادبی پروگراموں میں نہ جانے کیسے کیسے ممتاز ادیب شامل رہے مگرچند تصویروں سے یہی معلوم ہوا کہ ڈاکٹر تابش مہدی،گلزار دہلوی،متین امروہوی،رفعت سروش،ابرار کرت پوری،نصرت گوالیاروی،نظمی سکندر آبادی،قمر سنبھلی وغیرہ کے ساتھ2001/2003/2010
میں مشاعرہ پڑھنے کاموقع ملا۔حالانکہ میں 2012تک ان پروگراموں میں شریک ہوتا رہا۔ایک دو بار مشاعرہ میں بطورناظم بھی مدعو کیا گیا۔قمر رئیس صاحب جب اردو اکیڈمی کے چیئر مین بنائے گئے تواس زمانے میں مشاعروں کے بجائے مجھے تحقیقی و تنقیدی اجلاس میں مقالہ پڑھنے کے لیے دعوت دی گئی۔قمر رئیس کا یہ تجربہ بھی اچھا رہا۔دراصل اکیڈ می کی گورننگ باڈی نے یہ طے کیا تھا کہ دلی کی جامعات میں ریسرچ کرنے والے اسکالر اپنے تحقیقی مقالوں کے عناوین کے تناظر میں مقالہ پڑھیں۔یہ تجربہ بھی کام یاب رہا۔
.webp)
تنقیدی اجلاس کے صدور حضرات نے جہاں ریسرچ اسکالر کی رہنمائی کی وہیں ریسرچ کے عناوین بھی زیر بحث آئے۔ابھی اان لائن کی اس قدر سہولت نہیں تھی اس لیے نئے پرانے چراغ کا اجتماعی پلیٹ فارم معلومات کا بھی ذریعہ بن جاتا اور یہ بھی کہ ریسرچ اسکالر کا معیار و منہاج کیا ہے۔دراصل جامعہ ملیہ اسلامیہ،دلی یونی ورسٹی اور جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی کے شعبہ ہائے اردو کے جواں سال ریسرچ اسکالرسے بڑی رونق رہتی ہے۔ اور ذہین طلبہ اس سے خاطر خواہ فائدہ اٹھاتے ہوئے کام یاب و کامران ہوتے چلے جاتے ہیں۔اطلاعاتی ٹکنالوجی کے اس دور میں جب پیش کش کے نت نئے طریقے اور خود کو نمایاں کرنے کے بے شمار ذرائع سامنے آچکے ہوں کہ منٹوں میں دنیا جہان تک اپنی بات پہنچائی جاسکتی ہے۔اور اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا جاسکتا ہے لیکن اس کے باوجود مشترکہ اجتماعیت اور تربیت کا ادارہ ”نئے پرانے چراغ“کی اہمیت آج بھی دوچند ہے۔کیونکہ یہاں ادب و شعر کی پذیرائی،رہنمائی اور استادانہ گرفت کرنے والے سب ہی لوگ موجود رہتے ہیں۔ربع صدی کی یہ ادبی سرگرمی تاریخ بھی ہے اور تہذیب بھی۔ نئے پرانے چراغ کے مشاعروں کے ابتدائی زمانے میں اپنے اساتدہ کے علاوہ اکثر جن لوگوں سے گفتگو ہوتی۔اور جو رہنمائی اور حوصلہ افزائی بھی خوب کرتے تھے ان میں شہباز ندیم ضیائی،شمس رمزی،قمر سنبھلی،ڈاکٹر ظفر مرادآبادی،انور باری، سلیم صدیقی وغیرہ کے نام شامل ہیں۔شہباز ندیم ضیائی کی ایک بڑی خوبی یہ بھی تھی کہ وہ جن مشاعروں میں مدعو نہیں ہوتے تھے اس میں سننے کے لیے جاتے تھے۔وہ صرف مدعو مشاعروں میں ہی نہیں جاتے تھے۔فنی باریکیوں سے خوب واقف تھے اس لیے ان کی داد بھی اہم ہوتی تھی۔دلی سے بہت سے شاعروں سے رابطہ کا سبب ”نئے پرانے چراغ“کے مشاعرے ہی تھے۔دلی اسی طرح شاد و آباد ہے اور ان پروگراموں کے توسط سے ایک ادبی فضا قائم ہے۔یہ موقع بھی خوب ہے کہ جب ایک بڑی تعداد کو ایک ساتھ بیٹھنے اور ایک دوسرے کو سننے کاموقع ملتا ہے۔ورنہ دوسرے شہروں میں یہ مواقع پہلے بھی نہیں تھے اور آج بھی نہیں ہیں۔

اک ز مانہ تھا جب ان سرگرمیوں کے مرکز میں انیس اعظمی،شمیم احمد،راغب الدین صاحبان ہوا کرتے تھے۔اب محمد ہارون اور پونم صاحبہ وغیرہ ہیں مگر عاجزی وانکساری کی وہی روایت روشن ہے۔کام کے بوجھ کے باوجود گفتگو میں شگفتگی کا انداز قائم رکھتے ہیں۔
پروفیسر اختر الواسع،پروفیسر خالد محموداورپروفیسر شہپر رسول جیسے مشاہیر علم وادب نے اکیڈمی کے وائس چیرمین کے طورپر اس کی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کیا اور عوامی دلچسپی کے پروگراموں کو بھی فروغ دیا۔یہ بات میرے لیے باعث سعادت رہی ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ان سے بطور شاگرد کسب فیض کا مجھے موقع ملا اور آج بھی ان کی رہنمائی مجھے حاصل ہے۔ممکن ہے لوگوں کے علم میں یہ بات نہ ہو کہ دلی اردو اکادمی نے نئے پرانے چراغ میں شعرا کی تعداد کو کبھی مختص نہیں کیا بلکہ یہ کیا کہ اشعار کی شرط اور ترنم پر پابندی عائد کردی۔سلیم شیرازی،شرف نانپاروی،اقبال اشہر،اور بہت سے مترنم شعرا تحت میں پڑھتے ہوئے ملیں گے۔اور اسی لیے خالص شعر خوب داد ملتی ہے۔
اپنے عہد کے ادبی ماحول سے بیشتر تخلیق کاروں کو شکایت ہوتی ہے۔دراصل ادب کی دنیا میں کوئی کسی مقام پر ٹھہرنا نہیں چاہتا بلکہ پورے ادب کی فتح کا ایک لامتناہی سلسلہ وہ چاہتا ہے۔غالب کو بھی اپنے عہد سے شکایت تھی۔انھوں نے تو خود کو عندلیب گلشن ناآفریدہ کہا تھا۔ ان کے متعدد خطوط میں قلعہ کے مشاعروں کا حال ملتا ہے۔موجودہ زمانے میں ہم چاہے جو بھی کہیں لیکن یہ بات تو واضح ہے کہ ایک بھرا پرا اسٹییج موجود ہے اور حاصل کرنے والے اس سے بہت کچھ حاصل کررہے ہیں۔اور اپنی ادبی زندگی کے لیے آسودگی کاسامان بھی فراہم کررہے ہیں۔”نئے پرانے چراغ“کا یہ سلسلہ تادیر قائم رہے۔بقول متین امروہوی ؎
قائم رہے گا پھول سے خوشبوکا سلسلہ
نسبت رہے گی باغباں بلبل کو باغ سے
ہوتے رہیں گے حسب روایت یہ حشر تک
روشن نئے چراغ پرانے چراغ سے