زیبا نسیم - ممبئی
منصب اور مقام کی محبت امت میں اختلاف کا ایک سبب ہے۔ اگر آپ کسی منصب کی خدمت کر رہے ہیں تو اپنے آپ سے سوال کیجیے کہ کیا آپ اسلام کی خدمت کر رہے ہیں یا اپنے نفس کی؟ مفتی ابراہیم ڈیسائی
جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والے مفتی ابراہیم ڈیسائی ان علما میں شمار ہوتے ہیں جن کی علمی جڑیں ہندوستان کی عظیم دینی روایت سے وابستہ تھیں۔ انہوں نے گجرات کے معروف دینی ادارے جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل سے درس نظامی اور علم افتاء کی تعلیم حاصل کی، دارالعلوم دیوبند کے ممتاز عالم اور مصلح حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ سے علمی و روحانی فیض حاصل کیا اور بعد میں اپنی علمی خدمات کے ذریعے پوری دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔
مفتی ابراہیم ڈیسائی نے جنوبی افریقہ سے دینی خدمت کا آغاز کیا لیکن ان کی فکر اور علمی اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہے۔ دارالافتاء محمودیہ کا قیام، اسک امام فتاویٰ پورٹل کی بنیاد اور ہزاروں فقہی مسائل میں رہنمائی نے انہیں عالمی سطح پر معروف علما کی صف میں شامل کر دیا۔ وہ ایک ایسے عالم دین تھے جنہوں نے روایتی دینی علوم کو جدید ذرائع ابلاغ کے ساتھ جوڑ کر ایک نئی مثال قائم کی۔
جنوبی افریقہ میں روشن ہوا چراغ
مفتی ابراہیم ڈیسائی 16 جنوری 1963ء کو جنوبی افریقہ کے شہر رچمنڈ، صوبہ نٹال میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی عمر ہی سے انہیں قرآن اور دینی علوم سے گہری دلچسپی تھی۔ انہوں نے واٹر وال اسلامک انسٹی ٹیوٹ (میاں فارم) جنوبی افریقہ میں معروف حافظ عبدالرحمن میاں صاحب رحمہ اللہ سے قرآن مجید حفظ کیا۔ حفظ قرآن کی تکمیل کے بعد انہوں نے اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کے لیے ہندوستان کا رخ کیا جہاں انہوں نے گجرات کے معروف دینی ادارے جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل میں داخلہ لیا۔
ہندوستان کا رخ
جامعہ اسلامیہ ڈابھیل میں انہوں نے سات سال تک درس نظامی کی تعلیم حاصل کی اور ہر سال نمایاں کامیابی حاصل کی۔ دینی علوم میں مہارت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے فقہ اسلامی میں تخصص کے لیے اسی ادارے میں مفتی کورس مکمل کیا۔ دو سال تک انہوں نے حضرت مفتی احمد خانپوری صاحب کی نگرانی میں علم افتاء حاصل کیا اور فقہی مسائل میں گہری بصیرت پیدا کی۔
دارالعلوم دیوبند میں روحانی تربیت
افتاء کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مفتی ابراہیم ڈیسائی نے دارالعلوم دیوبند کا سفر کیا جہاں انہوں نے اپنے وقت کے عظیم عالم دین، دارالعلوم دیوبند کے سابق مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ کی صحبت اختیار کی۔ حضرت گنگوہی رحمہ اللہ نہ صرف ایک جلیل القدر فقیہ تھے بلکہ اصلاح و تربیت کے میدان میں بھی نمایاں مقام رکھتے تھے۔ مفتی ابراہیم ڈیسائی نے ان سے علمی استفادے کے ساتھ روحانی تربیت بھی حاصل کی اور بعد میں حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ کے مجاز خلیفہ بنے۔

تدریس سے افتاء تک علمی سفر
جنوبی افریقہ واپسی کے بعد مفتی ابراہیم ڈیسائی نے تدریسی میدان میں قدم رکھا۔ انہوں نے مدرسہ تعلیم الدین، اسپیگو بیچ میں دس سال تک فقہ، اصول فقہ، تفسیر اور حدیث کی تدریس کی۔بعد میں وہ مدرسہ انعامیہ کیمپر ڈاؤن سے وابستہ ہوئے جہاں انہوں نے دس سال تک حدیث کے سینئر استاد کے طور پر خدمات انجام دیں۔ صحیح بخاری شریف کی تدریس ان کی خاص پہچان تھی اور وہ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک اس عظیم کتاب حدیث کا درس دیتے رہے۔اس کے علاوہ انہوں نے مدرسہ نعمانیہ، چیٹس ورتھ ڈربن اور مدرسہ حمیدیہ میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں اور بڑی تعداد میں علما کی تربیت کی۔
شعبہ افتاء میں 25 سالہ خدمات
مفتی ابراہیم ڈیسائی نے فقہی رہنمائی کے میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ کوازولو نٹال جمعیت علما کے مجلس عاملہ کے رکن رہے اور تقریباً 25 سال تک اس کے شعبہ افتاء کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔انہیں اس اہم منصب پر مولانا یونس پٹیل رحمہ اللہ اور مولانا عبد الحق عمرجی رحمہ اللہ نے مقرر کیا تھا۔وہ کوازولو نٹال جمعیت علما کی عدالتی کمیٹی کے سربراہ بھی رہے اور تجارتی و ازدواجی معاملات میں ثالثی اور مصالحت کی خدمات انجام دیتے رہے۔
دارالافتاء محمودیہ: ایک عالمی علمی مرکز
سال 2011ء میں مفتی ابراہیم ڈیسائی مستقل طور پر ڈربن منتقل ہوئے اور شیرووڈ کے علاقے میں دارالافتاء محمودیہ قائم کیا۔یہ ادارہ جلد ہی جدید دور کے مسائل کے حل کے لیے ایک اہم علمی مرکز بن گیا۔ یہاں دنیا کے مختلف ممالک سے طلبہ افتاء کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے تھے۔ان کے زیر تربیت کئی علما نے دنیا کے مختلف حصوں میں دارالافتاء قائم کیے اور اپنی فتاویٰ ویب سائٹس شروع کیں۔ اس طرح دارالافتاء محمودیہ کا علمی اثر جنوبی افریقہ سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ گیا۔
اسک امام فتاویٰ پورٹل اور جدید دینی رہنمائی
مفتی ابراہیم ڈیسائی نے سال 2000ء میں اسک امام فتاویٰ پورٹل قائم کیا۔ یہ ایک ایسا آن لائن پلیٹ فارم تھا جہاں دنیا بھر سے مسلمان اپنے دینی مسائل کے جوابات حاصل کرتے تھے۔اس ویب سائٹ نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دینی رہنمائی کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس پر تقریباً 40 ہزار فتاویٰ محفوظ کیے گئے اور دنیا کے 123 سے زائد ممالک کے افراد اس سے استفادہ کرتے رہے۔
اسلامی تجارت اور مالیات میں کردار
مفتی ابراہیم ڈیسائی اسلامی مالیات اور تجارت کے مسائل میں بھی خصوصی دلچسپی رکھتے تھے۔ وہ ایف این بی اسلامک فنانس کے شرعی بورڈ کے چیئرمین رہے۔2002ء میں انہوں نے شرعی اصولوں کے مطابق کاروباری مہم شروع کی جس کا مقصد جدید تجارتی معاملات کو اسلامی اصولوں کی روشنی میں سمجھانا تھا۔ اس سلسلے میں انہوں نے متعدد کانفرنسیں اور علمی نشستیں منعقد کیں۔مفتی ابراہیم ڈیسائی کی علمی خدمات کا اعتراف دنیا بھر میں کیا گیا۔ انہوں نے امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، چین، زیمبیا، ملاوی اور دیگر ممالک کا سفر کیا اور مساجد، جامعات اور مختلف اداروں میں علمی خطابات کیے۔انہیں کئی سال تک دنیا کے 500 بااثر ترین مسلمانوں کی فہرست میں شامل کیا جاتا رہا۔
تصنیفی خدمات
مفتی ابراہیم ڈیسائی نے کئی اہم کتابیں اور علمی مضامین تحریر کیے۔ ان کی معروف تصانیف میں "تعارف حدیث" شامل ہے جس میں حدیث اور اس کے علوم کا عمومی تعارف پیش کیا گیا ہے۔اسی طرح "مدخل البیوع" اسلامی تجارت کے اصولوں پر ایک اہم کتاب ہے۔ انہوں نے قصیدہ بردہ کی مفصل شرح بھی تحریر کی۔ان کے فتاویٰ کو "المحمود" کے عنوان سے دو جلدوں میں مرتب کیا گیا جبکہ جدید فقہی فیصلوں کا مجموعہ "معاصر فتاویٰ" کے نام سے تین جلدوں میں شائع ہوا۔
مفتی ابراہیم ڈیسائی صاحب کی خدمات
انہوں نے امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، چین، زیمبیا، ملاوی اور دیگر کئی ممالک کے دورے کیے اور مساجد، جامعات اور مختلف اداروں میں مختلف موضوعات پر خطابات اور لیکچرز دیے۔ انہیں کئی سال تک دنیا کے 500 بااثر ترین مسلمانوں کی فہرست میں شامل کیا جاتا رہا۔
مفتی ابراہیم ڈیسائی کا انتقال 15 جولائی 2021ء کو جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں ہوا۔ ان کے انتقال پر دنیا بھر کے علما، طلبہ اور دینی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور ان کی علمی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔
مفتی ابراہیم ڈیسائی کی زندگی ہندوستانی دینی روایت، جنوبی افریقہ کی علمی جدوجہد اور جدید دنیا میں دینی رہنمائی کے حسین امتزاج کی مثال تھی۔ انہوں نے مدارس کی علمی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید ذرائع کو استعمال کیا اور ثابت کیا کہ ایک عالم دین وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے پوری دنیا کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ان کا علمی ورثہ، ان کے شاگرد اور ان کے قائم کردہ ادارے آج بھی ان کی خدمات کی یاد دلاتے ہیں