رچرڈ ڈیوڈ ولیمس
.webp)


کس کے زرہ میں تن پہ سنواروں گا یا علی
جنگل میں کس کو اب میں پکاروں گا یا علی
اب کس کا خود سر سے اتاروں گا یا علی
کس طرح اپنے دل کو ابھاروں گا یا علی
بستی ملی جو خاک میں ویرانہ ہو گیا
گھر صاحبِ عزا کا عزاخانہ ہو گیا
یہ محض تاریخی بیان نہیں تھا، بلکہ ان کی ذاتی درد تھا ۔ ان کا دربار امام باڑے میں تبدیل ہو چکا تھا۔ وہ اپنی سلطنت کے زوال کو کربلا کے المیے سے اس طرح جوڑتے ہیں کہ قاری حیران رہ جاتا ہے۔ وہ امام سے براہِ راست موازنہ تو نہیں کرتے، لیکن اپنے نام 'واجد علی' اور 'شاہ' کے ذریعے ایک نرم اشارہ ضرور دیتے ہیں۔ منبر پر بیٹھ کر وہ اپنی ذاتی مایوسی اور جلاوطنی کے غم کو ایک عوامی اور روحانی شکل دیتے تھے۔

پارسا ملکہ: خاص محل اور خواتین کی مجلسِ عزا
دربار کی سیاست اور محرم کی رسومات کا ایک اور اہم پہلو خواتین کی مجالس تھیں۔ نواب کی سینئر بیوی، خاص محل، کے لیے محرم کی مجالس محض مذہبی تقریب نہیں تھیں، بلکہ ان کی شاہی حیثیت، طاقت اور ثقافتی سرپرستی کا مرکز تھیں۔مٹیا برج کے اندرونی درباری سیاست کے تناظر میں، خواتین کی مجلس ایک تنازعے کا باعث بنی۔ واجد علی شاہ کی سینکڑوں متعہ بیویاں تھیں جنہیں وہ موسیقی کی تربیت دیتے تھے، جس سے خاص محل میں شدید بے چینی پیدا ہوئی۔ 1864 میں خاص محل نے برطانوی وائسرائے لارڈ لارنس کو خطوط لکھے۔ انہوں نے شکایت کی کہ نواب ان کے شاہی اختیارات اور مذہبی آزادی کو سلب کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی شاہی حیثیت کی علامت 'نوبت' (ڈھول کا مجموعہ) بند کر دی گئی ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ محرم کے دوران ان کی مجلسِ عزا پر پابندی لگا دی گئی ہے، جبکہ دیگر بیگمات کو اپنی مجالس منعقد کرنے کی اجازت ہے۔ خاص محل کے لیے مجلسِ عزا صرف مذہب نہیں تھی، بلکہ یہ ان کا وہ سیاسی اور سماجی حق تھا جو انہیں شیعہ شاہی خاندان میں اعلیٰ مقام دلاتا تھا۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اس دور میں محرم کی مجالس، خاص طور پر خواتین کے لیے، کتنی بڑی سماجی اور سیاسی طاقت رکھتی تھیں۔
تخت سے اتر کر طبل اٹھانا: عاجزی یا سیاست؟
مٹیا برج کے محرم کا سب سے حیرت انگیز اور یادگار منظر وہ ہوتا تھا جب خود نوابِ اودھ اپنے گلے میں طاشہ ڈالتا اور جلوس میں شامل ہو جاتا۔ایک بادشاہ کا خود ساز بجانا اس اس دور کے شاہی روایات کے بالکل برعکس تھا، کیونکہ شاہی طبقے میں فنونِ لطیفہ کو 'خدمت' سمجھا جاتا تھا، نہ کہ خود کرنے کا کام۔ لیکن واجد علی شاہ کے لیے یہ محض موسیقی نہیں تھی۔ اس دور کے موسیقی کے ماہرین، جیسے صادق علی خان، نے طبلوں اور محرم کے جلوسوں پر تفصیلی کتب لکھیں۔ ان کے مطابق، طبلوں کی تھاپ میں کربلا کی جنگ کا مفہوم پنہاں تھا۔واجد علی شاہ کا طبلہ بجانا ائمہ کی شاہی فوج میں ایک معمولی سے سپاہی اور طبل نواز کی حیثیت سے شمولیت تھی۔ ایک بادشاہ کے لیے یہ انتہائی عاجزی اور خود کو مٹا دینے کا عمل تھا۔ لیکن اس میں ایک گہرا نفسیاتی پہلو بھی تھا۔ اپنی سلطنت کے چھن جانے اور جلاوطنی کے درد کو وہ کربلا کے المیے سے جوڑتے تھے۔ تخت سے اتر کر طبلے کی قطار میں کھڑے ہو جانا، ان کی ذاتی شکست اور اہلِ بیت کی قربانیوں کے درمیان ایک روحانی پل تھا۔
انیسویں صدی کے اواخر میں محرم کی رسومات اور ان میں موسیقی کے استعمال پر شدید فکری اور مذہبی مباحث جاری تھے۔ برطانوی حکام، نوآبادیاتی مبصرین اور بعض ہندوستانی اصلاح پسند حلقے محرم کے جلوسوں میں ڈھول، طاشہ اور دیگر بلند آواز سازوں کے استعمال کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ ان کے نزدیک مذہب کا مثالی اظہار خاموشی، نظم و ضبط اور سکون سے وابستہ تھا، جبکہ جلوسوں میں پیدا ہونے والا شور انہیں غیر مہذب اور جذباتی طرزِ عمل محسوس ہوتا تھا۔ اس نوآبادیاتی نقطۂ نظر نے عوامی مذہبی رسومات کو اکثر تہذیبی پیمانوں پر جانچنے کی کوشش کی۔یوں محرم کی رسومات میں موسیقی، طاشہ، نوحہ اور مرثیہ خوانی کے بارے میں ہونے والی یہ بحثیں دراصل مذہبی روایت، عوامی ثقافت اور نوآبادیاتی دور کے تہذیبی تصورات کے درمیان جاری ایک وسیع تر کشمکش کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان مباحث سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ عزاداری صرف ایک مذہبی عمل نہیں تھی بلکہ اس کے طریقۂ اظہار پر مختلف سماجی، ثقافتی اور فکری رجحانات بھی اثر انداز ہو رہے تھے۔
لیکن واجد علی شاہ، جو خود موسیقی کے عظیم ماہر تھے، کا ماننا تھا کہ موسیقی غم کو بیان کرنے کا سب سے طاقتور ذریعہ ہے۔ انہوں نے اپنے مرثیوں کے لیے مخصوص اور دھیمے راگ جیسے خماج، بھیریں، پیلو، اور جھنجھوٹی تجویز کیے۔ یہ وہی راگ تھے جو ٹھمری جیسی نیم کلاسیکی اصناف میں استعمال ہوتے تھے۔ ان کے نزدیک موسیقی محض تفریح نہیں تھی، بلکہ یہ روح کو سکون دینے، اجتماعی غم کو ایک خوبصورت شکل دینے اور جلاوطن اودھ کی برادری کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھنے کا ذریعہ تھی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ساز کی آواز بھی کبھی کبھی آنسوؤں سے زیادہ سچی ہوتی ہے۔

آخری محرم: ایک دور کا اختتام
یاد رہے کہ21 ستمبر 1887۔ محرم کا دوسرا دن۔ صبح کے دو بجے سے کچھ دیر پہلے، 65 سالہ واجد علی شاہ نے اس فانی دنیا سے کوچ کر گیا۔ان کے جسم کو کربلا سے منگوائی گئی خاص چادروں میں لپیٹا گیا، جن پر پورا قرآن لکھا ہوا تھا۔ انہیں سبتین آباد امام باڑہ میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی آخری رسومات میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ برطانوی حکومت چاہتی تھی کہ دربار کو جلد از جلد اور سستے میں ختم کر دیا جائے، اور تجہیز و تکفین کا بجٹ 5,000 روپے تک محدود کر دیا گیا (جبکہ خاندان نے 12,000 روپے مانگے تھے)۔ لیکن "مسلم جذبات" کو بھڑکنے کے ڈر سے انہیں محرم کی باقی تقریبات کا بجٹ کم کرنے کی جرات نہ ہو سکی۔
وفات کلکتہ کے مٹیا برج میں ہی پائی۔ یہ وہی مٹیا برج تھا جسے انہوں نے جلاوطنی کے باوجود ایک نئے لکھنؤ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی اور جہاں محرم کی عزاداری ان کی روحانی اور تہذیبی شناخت کا سب سے نمایاں اظہار بن چکی تھی۔وفات کے بعد ان کا جسدِ خاکی سلطانت خانہ میں رکھا گیا جہاں عقیدت مندوں نے آخری دیدار کیا۔ اسی شب شہزادہ جہان قادر بہادر اور شمس العلماء مفتی سید محمد عباس صاحب نے انہیں سبطین آباد امام باڑے میں سپردِ خاک کیا۔
بکھر گیا دربار
نواب کی وفات کے بعد مٹیا برج کا دربار آہستہ آہستہ بکھرنے لگا۔ تقریباً 8 سے 9 ہزار افراد ایسے تھے جن کا روزگار اس دربار سے وابستہ تھا۔ بہت سے لوگوں نے دوبارہ لکھنؤ واپس جانے کی درخواست کی۔ دربار کی جائیدادیں نیلام کی گئیں اور نواب کے قرضے ادا کرنے کے لیے اثاثے فروخت کر دیے گئے۔ یوں مٹیا برج کی وہ شاندار دنیا جو تین دہائیوں تک اودھ کی تہذیب کی امین رہی تھی رفتہ رفتہ ماضی کا حصہ بن گئی۔تاہم مٹیا برج کا محرم محض ایک مذہبی رسم نہیں تھا۔ یہ ایک ایسی یادگار روایت تھی جس میں جلاوطن دربار کی پوری تاریخ سمٹ آئی تھی۔ کربلا کی یاد میں ہونے والی عزاداری دراصل کئی سطحوں پر معنی رکھتی تھی۔ اس میں اہلِ بیتؑ کی محبت بھی شامل تھی اور اودھ کی کھوئی ہوئی سلطنت کا غم بھی۔ یہ مذہبی عقیدت کا اظہار بھی تھا اور ایک منتشر برادری کی اجتماعی شناخت کا ذریعہ بھی۔
جلاوطنی میں بھی محرم ایک شاہی تقریب کی صورت برقرار رہا۔ یہ وہ موقع تھا جب نواب واجد علی شاہ اور خاص محل اپنی رعایا اور عقیدت مندوں کے درمیان فیاضی اور سرپرستی کا کردار ادا کرتے تھے۔ مردوں اور خواتین کی الگ الگ مجالس شیعہ برادری کی اجتماعی شناخت کو مضبوط کرتی تھیں۔ امام باڑوں میں ہونے والی دعائیں اور جلوس صرف اہلِ بیتؑ ہی کے لیے نہیں بلکہ اپنے سرپرستوں یعنی بادشاہ اور ملکہ کی یاد سے بھی وابستہ تھے۔آج مٹیا برج کا وہ شاہی دربار تو بکھر چکا ہے، نواب کی جائیدادیں ان کے قرضے چکانے کے لیے نیلام ہو گئیں، لیکن سبتین آباد امام باڑہ آج بھی وہاں کی شیعہ برادری کا دل ہے۔
غم، بقا اور ایک لازوال شناخت
نوٹ : رچرڈ ڈیوڈ ولیمز ایک برطانوی محقق، مؤرخ اور موسیقیات کے ماہر ہیں جنہوں نے نواب واجد علی شاہ، مٹیا برج کی ثقافت، محرم کی عزاداری اور برصغیر کی موسیقی کی تاریخ پر گراں قدر تحقیقی کام کیا ہے۔ ان کی تحقیقات نے واجد علی شاہ کی شخصیت کے اس مذہبی اور روحانی پہلو کو نمایاں کیا ہے جسے ماضی کے اکثر مؤرخین نے نظرانداز کر دیا تھا۔"