
نقی احمد ندوی
جب تک آپ مدرسہ میں پڑھ رہے ہوتے ہیں تو اسلام نہیں سمجھ پاتے، جب آپ کسی یونورسٹی میں پڑہتے ہیں، اور تصویر کے دونوں رخ دیکھتے ہیں تو سمجھ میں آتا ہے، کہ اسلام تو وہ ہے ہی نہیں جو ہمیں پڑھایا گیا تھا، اسلام اس سے کہیں زیادہ آفاقی، کہیں زیادہ بلند اور کہیں زیادہ انقلابی ہے جس کی تعلیم ہمیں سات آٹھ سال تک دی گءی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ جن ظاہر پرستی، رسوم پرستی اور شخصیت پرستی کی تعلیم وتلقین ایک عرصہ تک دی گءی تھی وہ آہستہ آہستہ بے معنی نظر آنے لگتی ہے۔ اور محسوس ہونے لگتا ہے، کہ ہمارے دین میں داراصل ان سب چییزوں کو ثانوی حیثیت حاصل ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال، مودودی، دیدات، اور نایک وغیرہ نے بیشتر علماء سے زیادہ صحیح اسلام کو سمجھا اور دین وملت کے لیے دیر پا اثرات مرتب کیے۔
میں اس بات کا مکمل حامی ہوں کہ بجاے ہم اپنے مدارس کے بچوں کو یونورسٹی میں بھیجیں، کیوں نہ ہم اپنے بڑے مدارس کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ اس کا فایدہ یہ ہوگا کہ تصویر کے دونوں رخ مدرسہ میں طلباء کے سامنے آیں گے اور انکے افکار وخیالات خود ہی بدل جایںگے۔ بجاے اس کے کہ ہم ندی سے سمندر میں تیرنے کے لیے جایں ہم اپنے ندی اور تالاب کو خود ہی کیوں نہ سمندر بنادیں۔
آپ یہ کہیں گے کہ یونورسٹی بنانے کا مطلب ہے کہ ہم ساینس بھی پڑھایں جی، نہیں آپ اسلامی علوم اور ارٹ سبجکٹ ( جیسے سیایسات ، سماجیات، تاریخ، اقتصادیات، جرنلزم ، وکالت وغیرہ ) کو اپنی یونیورسٹی میں جگہ دیں اور یہیں سے طلباء اسلامی علوم جیسے تفیسر ، حدیث، فقہ وغیرہ میں پی ایچ ڈی کریں اور جن کو دوسرے آرٹ سبجکٹ میں پی ایچ ڈی کرنے کی خواہش ہو وہ اس سبجکٹ میں تعلیم حاصل کریں )، جب ہم ندوہ، سہانپور، بنارس، عمرآباد، وغیرہ کو ایک تالاب کے بجاے، ایک سمندر میں تبدیل کردیں گے تو دو فایدے ہوسکتے ہیں۔
ایک تو موروثی علماء کی پیداوار کم ہوجایگی، اور جوفارغین مدارس عالمیت اور فضیلت کے بعد خود کو علامہ سمجھنے لگتے ہیں جب کہ وہ انٹر تک ہی تعلیم حاصل کرچکے ہوتے ہیں مگر سماج کو ایسا باور کراتے ہیں کہ انھوں نے اسلامی علوم میں ڈاکٹری کرلی ہے اور اپنے ناقص علم کو زندگی بھر نشر کرتے رہتے ہیں وہ ذہنیت ختم ہوجاگی کہ ابھی اور پڑھای باقی ہے، اسلامی علوم میں ڈاکٹری کرنے کے بعد ہی آپ سماج کے لیے ایک عالم بن سکتے ہیں نہ کہ انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد جو ابھی رایچ ہے۔
دوسرا فایدہ یہ ہوگا کہ مدارس کے طلباء مین اسٹریم میں نہیں جاپاتے اس جیسے الزامات خود بہ خود ختم ہوجایں گے۔ ایسی تبدیلی کرنے کے بعد مدارس کے فارغین آپ کو میں اسٹریم میں نظر آنے شروع ہوجایں گے۔
یہاں بات صرف بڑے مدارس کو یونورسٹی میں بدلنے کی ہے، اب یہی مدارس مدینہ یونورسٹی ، ازہر یونورسٹی ، میلیشیا اسلامک یونورسٹی وغیرہ کے مقابل کھڑے نظر آیں گے، اس صورت میں صرف چند اقدامات کے ذریعہ ہم لوگ برصغیر ہند وپاک کے اندر اپنے مدارس کوایک ایسی بلندی تک پہونچانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں جہاں کے علماء اقبال کے شاہین کا مصداق ہونگے اور دین وملت کی خدمت اور بہتر انداز میں کرنے کے قابل ہونگے اور اسلام کی بھی ان کو صحیح سمجھ ہوگی ۔ اوراس کے نتیجہ میں ہمارے سماج میں ایسی تبدیلی نظر آنے شروع ہوگی جو ہمارے مستقبل مین ہماری مجموعی ترقی کا ضامن بن سکتی ہے۔
(نقی احمد ندوی، ریاض، سعودی عرب)