ڈاکٹرعمیر منظر ,
پیارے نبیﷺ کی شخصیت اور سیرت انسانوں کو متاثر کرتی ہے اور اسی کا فیضان ہے آپ کے بارے میں کیا مسلمان اور کیا غیر مسلم سب عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ چونکہ تخلیق کار زیادہ حساس ہوتا ہے تو اس کا متاثر ہونایا اس کی رغبت کا ہونا ایک فطری بات ہے ۔اردو کی دیگر شعری اصناف کی طرح نعتیہ شاعری غیر مسلم شعرا کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی ۔
غیر مسلم شعرا کی نعت گوئی کا سلسلہ آپ ﷺ کی حیات مبارکہ سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ اعشی میمون بن قیس جو کہ ز مانہ جاہلیت کا مشہور شاعر تھا ۔سوق عکاظ میں جس کے قصائد کی دھوم تھی نیز سبعہ معلقہ کے ایک شاعر کے طورپر بھی جانا جاتا ہے جن کے قصائد خانہ کعبہ کی دیواروں پر آویزاں کیے جاتے تھے اس نے بھی نعت کہی تھی روایت بیان کی جاتی ہے کہ وہ نعتیہ اشعار کہہ کر حضور اقدس کی خدمت میں جارہا تھا کہ مسلمان ہوجائے مگر اہل عرب نے کسی طرح اس کو اس ارادے سے باز رکھا۔فارسی اور اردو شاعری میں غیر مسلم شعرا نعت گوئی کا سلسلہ تاریخی تسلسل کے ساتھ ملتا ہے ۔نعتیہ ادب کے معروف محقق پروفیسر ریاض مجید کا لکھتے ہیں کہ جنوبی ہند سے ہی غیر مسلم شعرا کی نعت گوئی کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا ۔‘لچھی نرائن شفیق کا ‘‘معراج نامہ’’اور راج مکھن لال مکھن کا نعتیہ کلام اسی اظہار عقیدت کے نمونے ہیں’ ۔
پروفیسر ریاض مجید ہندوشاعروں کی نعت کا حقیقی دور ۱۸۵۷ کے بعد کا قرار دیتے ہیں ۔ان کا یہ بھی خیال ہے کہ دور جدید میں بہت سے ہندو شعرا ملتے ہیں جنھوں نے نعتیہ شاعری کی روایت کو معیارکے اعتبار سے آگے بڑھایا ہے ۔اس ضمن میں انھوں نے منشی شنکر لال ساقی(۱۹۲۰۔۱۸۹۰) ،مہاراجہ سرکشن پر شاد،دلو رام کوثری اور عرش ملیسانی کا خاص طور پر ذکر کیا ہے ۔نعتیہ ادب کے ایک اور محقق نور میرٹھی لکھتے ہیں :
دور متوسطین میں پہلے غیر مسلم شعرا میں منشی شنکر لال ساقی اور راجہ مکھن لال مکھن اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔ان دونوں شاعروں نے نعت گوئی میں نمایاں مقام حاصل کیا ۔دور جدید کے شعرا میں مہاراجہ سرکشن پرشاد شاد ،دلو رام کوثری ،بال مکند عرش ملسیانی اور دورحاضر کے مشہور شعرا میں امرچند قیس جالندھری ،پروفیسر جگن ناتھ آزاد ،پیار ے لال رونق دہلوی ،کالیدارس گپتا رضا ،کنور مہند سنگھ بیدی سحر ،اوم پرکاش ،ساحر ہوشیار پوری ،گرسرن لال ادیب لکھنوی ،راجہ بھگوان داس بھگوان ،لچھمی نارائن سخااور دامودر سخی ٹھاکر نے برصغیر کی سطح پر شہرت حاصل کی ۔ان کے علاوہ الن جون مخلص بدایونی پہلے مسیحی شاعر ہیں جن کا ہدیہ عقیدت گلدستہ نعت ۱۹۳۹میں بدایوں سے شائع ہوا ۔اور دوسرے مسیحی شاعر نذیر قیصر ہیں جن کا مجموعہ نعت ‘اے ہوا موذن ہو’ لاہور سے ۱۹۹۲ میں منظر عام پر آیا ۔(بہر زماں بہر زماں صلی اللہ علیہ وسلم ،نور میرٹھی ، ص ۴۵ کراچی ۱۹۹۲ )
چونکہ اردو کا خمیر ہندستان کی سرزمین سے اٹھا ہے اوریہاں کے خمیر میں پیار،محبت،روحانیت اور رواداری شامل ہے۔ مسلمانوں کے روحانی نظام کوسرزمین ہند سے اور سرزمین ہند کے روحانی نظام کو مسلمانوں سے کبھی اجنبیت نہیں محسوس ہوئی۔اس باہمی انس و محبت سے ایک عظیم مشترکہ تہذیبی وراثت بھی وجود میں آئی اور سچ یہ ہے اردو زبان بھی اسی انس و محبت کا نتیجہ ہے۔
ہندستان سماجی تاریخ پر نگاہ رکھنے والے جانتے ہیں کہ یہاں آنے والے صوفیا کی تعلیمات کا مرکزومحور حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی تھی۔اس لیے جب ان صوفیا نے ہندستانی سماج یامعاشرے کو اپنے کردار واخلاق اور تعلیمات سے متاثر کرناشروع کیاتو خود بہ خودرسول کریم کی ذات وشخصیت بھی مثالی بنتی گئی۔کرشن بہاری نورلکھنوی نے اس حقیقت کو اس طرح بیان کیاہے:
ایمان اس کو کہتے ہیں اے اہل بندگی!
اک اجنبی کی بات پہ سب کو یقین ہے
نتیجہ یہ ہوا کہ غیرمسلم شعرا کی کی کئی نسلیں سامنے آتی گئیں اور ان شعرا کے کلام کا وقیع ذخیرہ اردو کے نعتیہ ذخیرہ کا حصہ بنتا گیا ۔رسول خدا سے عقیدت ومحبت کا ایسا والہانہ اظہار ان کی نعتوں میں ملتا ہے کہ رشک آتا ہے ۔کنور مہند سنگھ بیدی سحر کا ایک شعرتو زبان زد خاص و عام ہے ۔
عشق ہوجائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمد پہ اجارہ تو نہیں
لیکن ان سے بہت پہلے دلو رام کوثری نے رسالت مآب کے حضور میں نذرانہ عقیدت پیش کرکے اپنے دلی جذبات و احساسات کوآئینہ کیا تھا ۔دلو رام کوثری کے دو نعتیہ مقطع ملاحظہ فرمائیں ۔
لے کے دلو رام کو حضرت گئے جنت میں جب
غل ہوا ہندو بھی محبوب خدا کے ساتھ ہے
کچھ عشق پیمبر میں نہیں شرط مسلماں
ہے کوثری ہندو بھی طلب گار محمد
حضور سرور کونین کے تعلق سے اظہار عقیدت کرنا اسلام میں تو بتایا گیا ہے اور اس کی پاس داری کی جاتی ہے کہ جناب محمد ﷺ سے مدحت کے تعلق سے آپ کو یاد کرے اور حضرت حق کے فرمان کے مطابق لیکن مشترکہ تہذیب کا جو اثر اور جو صورت حال ہے وہ یہ ہے کہ ہندستان گیر سطح پر غیر مسلموں نے اس کلچر کو اپنا یا ہے ۔جہاں جہاں وہ ہیں انھوں نے آپ کی شان میں عقیدتوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔غیر مسلموں میں ہندو،سکھ اور عیسائی مذہب کے ماننے والوں نے اردو کی نعتیہ شاعری میں قابل ذکر اضافہ کیا ہے ۔یہ روایت ابتدا سے جاری ہے اور آج بھی بے شمار شعرا اسلام کے پیروکار نہ ہونے کے باوجود رسالت مآب کے حضور میں اپنی عقیدتوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں ۔قرآن میں ورفعنا لک ذکر ک کہا گیا ہے ۔اس الوہی اعلان کی دلیل کے طور پر غیر مسلم شعرا کی نعتوں کوبھی دیکھا جاسکتا ہے ۔
غیر مسلم نعت گو شعرا کی ایک نمایاں خوبی نعتیہ شاعری کی روایتوں اور رسموں کی پاس دار ی ہے۔غیر مسلم شعرا کی نعت گوئی کے بارے میں ہمارے بعض ناقدین نے لکھا ہے کہ ان کے یہاں روایت کی مکمل پاس داری ملتی ہے یہاں عرض صرف یہ کرنا ہے کہ الوہیت اور رسالت کا جو فرق ہے ہمارے بہت سے نعت گو شعرا اس کا خاطر خواہ پاس نہیں رکھتے ۔اس سے متعلق بہت سے مباحث ہیں البتہ غیر مسلم شعرا نے اس روایت کو سامنے رکھتے ہوئے جو کچھ پیش کیا ہے اسے مشترکہ تہذیبی ورثے کے طور پر دیکھنا چاہیے ۔غیر مسلم شعرا کے یہاں عقیدت و محبت اور سرور کائنات سے شیفتگی اپنی جگہ لیکن منصب رسالت کو الوہیت کے درجے پر فائز نہیں کیاجاسکتا ۔اس باریک فرق کا لحاظ ضروری ہے ۔پنڈت بال مکند عرش ملسیانی کا شعر ہے
اتر آئے خود عرش و کرسی سے جلوے
نبوت کا اوج کمال اللہ اللہ
اس طرح کے اشعار کے علی الرغم غیر مسلم شعرا کے یہاں محبت و عقیدت کا ایک جذبہ موجزن دکھائی دیتا ہے ۔اقبال نے تو کہا تھا کہ‘ میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے’ جبکہ جاوید وشسٹ کہتے ہیں کہ
اک برہمن ہند تمہیں پیار کرے ہے
چوٹی سے ہمالہ کی نمشکار کرے ہے
روایت کی جس پاس داری اور احترام کا ذکر گذشتہ سطور میں کیا گیا ہے اس کی ایک نمایاں مثال ہمیں اردو مثنوی کی روایت میں ملتی ہے ۔ مثنوی میں پہلے حمد، نعت اور منقبت کے اشعار ہوتے ہیں۔اسے مشترکہ تہذیب کا فیضان ہی کہا جائے گا کہ چاہے وہ میر حسن ہوں یا دیا شنکر نسیم سب کے یہاں نہ صرف اس روایت کی پاس داری ملے گی بلکہ اشعار سے یہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ہے اسے کہنے والا کون ہے ۔مثنوی لکھتے وقت شعرا اس صنف کی ہیئت کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہیں ۔دکن سے لے کر شمال تک بلا تخصیص مثنویوں کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔
کرتا ہے یہ دو زباں سے یکسر
حمد حق و مدحت پیمبر
غیر مسلم شعرا کے یہاں نعتیہ شاعری میں ان تمام لوازم کا اہتمام ہمیں ملتا ہے چونکہ روایت سے یہ لوگ واقف ہیں اس لیے محاورے سب وہی استعمال کررہے ہیں ،جو عام شعرا کرتے ہیں ۔یعنی سروکائنات ،ماہ عرب ،آمنہ کے لال مدح سرائے مصطفی ،نور ہدایت وغیرہ۔عرش ملسیانی کا شعر ہے ۔
حامل جلوہ ازل پیکر نور ذات تو
شان پیمبری سے ہے سرورکائنات تو
قابل ذکر بات یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی ﷺ کی نعت لکھتے وقت غیر مسلم شعرا نے اپنے مراکز عقیدت سے تقابل کی کوئی صورت نہیں نکالی ۔یعنی انھوں نے خالصتااسے نعت رہنے دیا ۔گلزار دہلوی کہتے ہیں۔
محمد مصطفی ماہ عجم رشک عرب سن لے
برہمن زادہ کشمیر کی فریاد لب سن لے
قابل غور پہلو یہ بھی ہے کہ ہندستان کے تناظر میں دیگر نعت گو شعرا کی طرح غیر مسلم شعرا نے بھی نعت کے عمومی مضامین کو اپنے اپنے انداز میں باندھنے اور ادا رکر نے کی کوشش کی ہے اور خوب کی ہے ۔مثلا واقعہ معراج پر بے شمار شعر ملتے ہیں ۔ہمارے زمانے میں لکھنؤ کے ایک شاعر رام پرکاش بیخود کہتے ہیں
جہاں ہو آئے ہیں سرکار چودہ سو برس پہلے
وہاں سے اہل دنیا عربوں کھربوں میل پیچھے ہیں
ترقی لاکھ کرلی ہو زمانے نے مگر بیخود
مرے آقا سے یہ سائنس کیا جبرئیل پیچھے ہیں
سیرت رسول کا سب سے اہم باب آدمیت کی معراج ۔یعنی انسانی حقوق کی بحالی ہے ۔ذات پات کا وہ نظام جس میں ہندستان آج بھی
ڈاکٹر عمیر منظر
غلطاں و بیچاں ہے ۔اسلامی تعلیمات کا یہی وہ حصہ ہے جو برادران وطن کو سب سے زیادہ اپیل کرتا ہے ۔اقبال نے تو یہ کہا تھا کہ‘‘ ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز’’ ۔پنڈت ہری چند اختر اپنی نعت میں کہتے ہیں ۔
آدمیت کا غرض ساماں مہیا کردیا
اک عرب نے آدمی کا بول بالا کردیا
اس طرح کے بے شمار مضامین ہیں جو غیر مسلم نعت گو شعرا نے اپنی نعتوں میں باندھے ہیں۔
پروفیسر ریاض مجید نے پہلی ناکام جنگ آزادی کے بعد کے دور کو ہندو شاعروں کی نعت گوئی کا حقیقی دور قرار دیا ہے ۔اس سلسلے میں انھوں نے منشی شنکر لال ساقی(۱۹۲۰۔۱۸۹۰) ،مہاراجہ سرکشن پر شاد،دلو رام کوثری اور عرش ملسیانی کا ذکر خصو صیت کے ساتھ کیا ہے ۔
منشی شنکر لال ساقی(۱۹۲۰۔۱۸۹۰) سکندر آباد کے رہنے والے تھے ۔یہ غالب ،ذوق اور بہادر شاہ ظفر کے مشاعروں میں شامل رہے ہیں ۔البتہ غالب سے زیادہ استفادہ کیا نیزان کے مشہور شاگردہر گوپال سہائے تفتہ سے قرابت داری تھی ۔ انھوں نے غزلوں کے ساتھ نعتیں بھی کہی ہیں ۔ایک جگہ وہ کہتے ہیں ۔
میں اگر خاک نشین در احمد ہوں گا
رفعت عرش کی ہمسر مری پستی ہوگی
اسی نعت میں وہ یہ بھی کہتے ہیں
نعت لکھتا ہوں مگر شرم مجھے آتی ہے
کیا مری ان کے مدح خوانوں میں ہستی ہوگی
یہ اشعار محض عقیدت و محبت کا اظہار نہیں بلکہ اردو نعت کے عمومی رویے اور رجحان کے بھی غماز ہیں ۔
ہوئی کافور نور مصطفی سے شرک کی ظلمت
سیاہی سے ندامت کی دل کفار کالا ہے
صفات ذات احمد لکھ سکوں کیا میری طاقت ہے
خیال اہل دانش جب یہاں مکڑی کا جالا ہے
اس سلسلے کا ایک اہم نام مہاراجہ سرکشن پرشاد کا ہے ۔شعرو ادب سے انھیں والہانہ تعلق تھا ۔ہندستان کی مشترکہ تہذیب وثقافت کے ایک عمدہ نمائندہ کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں ۔ فن قرآت کو باقاعدہ سیکھا اور تلاوت وغیرہ کا اہتمام کرتے تھے ۔گیتا رامائن اور گرنتھ صاحب سے بھی واقف تھے ۔ہندو مذہب کے اہم پیشواؤں پر جہاں مضامین اور نظمیں لکھیں وہیں بزرگان دین اور اولیاء اللہ کی شان میں مدحیہ قصائد لکھے ۔شاعری میں دیگر اصناف کے ساتھ ساتھ نعت گوئی میں بھی کمال پیدا کیا ۔نعتیہ شاعری میں سروکائنات کے بعد مدینہ سے عقیدت ومحبت کا اظہار ایک عام بات ہے اور مضمون کو نہ جانے کس کس طرح شعرا نے باندھا ہے ۔مہاراجہ سرکشن پرشاد نے بھی ایک نعت مدینہ ردیف میں کہی ہے ۔ یہ نعت مدینۃ النبی کے عشق میں ڈوبی ہوئی ہے ۔ایک شعر میں وہ کہتے ہیں
خاک رہ یثرب کو بناؤں گا میں سرمہ
دیکھوں گا ان آنکھوں سے جو میدان مدینہ
اعتماد و یقین کی ایک فضا یہ بھی دیکھیں
کیوں میری شفاعت میں بھلا دیر لگے گی
کیوں مجھ کو نہیں جانتے سلطان مدینہ
یہ جذبہ بھی قابل قدر ہے
کافر ہوں کہ مومن ہوں خدا جانیے کیا ہوں
پر بند ہ ہوں ان کاجو ہیں سلطان مدینہ
نعتوں میں منقبت کے اشعار کی روایت ہے ۔واضح رہے کہ لکھنو میں نعتیہ شاعری کا ایک اہم حصہ مدح صحابہ ہے ۔اس تناظر میں شاد کا یہ شعر دیکھیں ۔
بو بکر و عمر عثمان و علی تھے چار عناصر ملت کے
کثرت وحدت میں ہے جیسے حال وہ تھا ان چاروں کا
دوسرا مصرعہ ہندستان کے خاص تناظر میں کہا گیا ہے اور اس کا خاطر خواہ لطف ہمیں لوگ اٹھا سکتے ہیں ۔
دلو رام کوثری کو خواجہ حسن نظامی سے عقیدت ومحبت تھی ۔دلو رام کے انتقال پر ان کا نعتیہ کلام خواجہ صاحب نے بڑے اہتمام سے شائع کیا تھا ۔ان کے مجموعہ نعت کا نام ‘‘ہندو کی نعت تھا’’جسے تیسری بار خواجہ حسن نظامی نے ۱۹۳۷ میں شائع کیا تھا ۔اس کا پہلا ایڈیشن ۱۹۲۴ میں شائع ہوا تھا ۔
کوثری کا تعلق ضلع حصار سے تھا ۔ان کی نعتیں ایک طرف جہاں عقیدت ومحبت کا شاہ کار ہیں وہیں
انھوں نے اپنے ہندو ہونے کا ذکر اپنی مختلف نعتوں میں کیا ہے اور یہ بھی فخر کے ساتھ کہا ہے کہ میں ہندو سہی مگر ثناخوان مصطفی ہوں ۔ایک مسلسل نعت میں انھوں نے لکھا ہے کہ ہندو سمجھ کے جب جہنم میں مجھے صدا دی تو پاس جب اس کے گیا تو وہ مجھ کو نہیں جلا سکی اس نے وجہ دریافت کی اور مجھ سے نام اور مذہب پوچھا میں نے بتایا کہ ہندو ہونے کے باوجود چونکہ میں ثناخوان مصطفی ہوں اس لیے تیرا شعلہ مجھ تک نہیں آسکا ۔آخری شعر ہے
ہے نام دلو رام تخلص ہے کوثری
اب کیا کہوں بتادیا جوکچھ بتا سکا
انھیں حسان الہند کا خطاب بھی دیا گیا تھا ۔ایک نعت میں وہ خود کہتے ہیں
ہے حسان پہلا تو میں دوسرا ہوں
نہیں فرق اول میں ثانی میں رکھا
خدا نے انھیں سونپی محفل عرب کی
مجھے بزم ہندوستانی میں رکھا
انھوں نے اپنی کئی نعتوں میں اس طرح کے مضامین نظم کیے ہیں کہ ایک ہندوجو کہ بت پرست ہے مگر نعت احمد لکھتا ہے ۔اس لیے اس کی بخشش ہوگئی ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندو نعت شعر ا نے کتابوں اور شعری روایتوں کے ساتھ ساتھ عام ہندستانی معاشرہ میں رائج تصورسے بھی فائدہ اٹھایا ۔شفاعت کے تصور میں جہاں سرکار دوعالم کو بعض حوالوں سے مرکزی حیثیت دی جاتی ہے غالباً اسی تناظر میں دلو رام کوثری نے اپنے جذبات واحساسات کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور اسی رعایت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے ۔
عرش ملسیانی (۱۹۰۸ ۔ )ملیسان ضلع جالندھر سے تعلق رکھتے تھے ۔ان کے والد پنڈت لبھو رام جوش ملسیانی داغ کے شاگردوں میں تھے ۔شعرو ادب کا خداد ملکہ حاصل تھا ۔شاعری صحافت،ترجمہ نگاری کے علاوہ متعدد اہم کتابیں ان کے قلم سے نکلیں ۔آہنگ حجاز ان کی نعتوں کا مجموعہ ہے ،جس کا دیباچہ عبدالماجد دریاآبادی نے لکھا تھا ۔ان کا خیال ہے کہ قومی اور اجتماعی حیثیت سے عرش ایک بڑی خدمت انجام دے رہے ہیں ۔یعنی ملک میں دو بڑی قوموں کے درمیان محبت اور رواداری کے جذبے کو شاعری کے توسط سے انھوں نے فروغ دیا ہے۔پروفیسر ریاض مجید کا خیال ہے کہ عرش ملسیانی اپنی نعتوں میں صداقت اور حقیقت پسندی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں ۔
عرش ملیسانی کی نعتیں عقیدت ومحبت کے ساتھ ساتھ لفظیات کے خاص اہتمام کی وجہ سے بھی اہمیت کی حامل ہیں ۔
توحید کی مے کا لطف اٹھا ایمان کے جام و مینا سے
جب ساقی ،ساقی کوثر ہو پھر عذر بھلا کیوں پینے میں
یہ امی پیمبر کا جوش فصاحت
بشر کی یہ شان حقیقت نمائی
سرکار دو عالم کی تعریف و توصیف میں ان کے دلی جذبات و احساسات اس طرح شامل ہوتے ہیں کہ شعر روانی اور برجستگی کی ایک مثال بن جاتا ہے
ہاں ہاں تمہیں تو ہو دل عالم کے دل نواز
دلدار و دل نشین و دلآرا تمہیں تو ہو
تم پر ہمیشہ مطلع عالم کو ناز ہے
رہتا ہے اوج پر جو ستارا تمہیں تو ہو
ہندستان کے مخصوص ثقافتی اور تہذیبی پس منظر میں غیر مسلم نعت گو شعرا نے ایک بڑی خدمت انجام دی ہے ۔اس سے جہاں باہمی انس و محبت اور اور اخوت ویگانگت کی فضا قائم ہوئی ہیں اردو زبان وادب کا یہ رویہ بھی سامنے آیا کہ ز بانوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔ان نعتوں نے منافرت اور دشمنی کے ماحول میں سروکائنات کے اخلاق اور مروت کو رہنما بنایا ۔
ہندستان کے کثیر ثقافتی اور تہذیبی ماحول کو یقینا نعتیہ شاعری کے سبب بڑی تقویت ملی ہے ۔
ڈاکٹرعمیر منظر ,شعبۂ اردو مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی، لکھنؤ کیمپس