انڈونیشیا میں ہندوستانی سفارت خانے کی پیشکش
ہندوستان اور انڈونیشیا کا رشتہ محض دو خودمختار ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی داستان ہے جس کی جڑیں دو ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہیں۔ بحرِ ہند کی موجوں نے صدیوں قبل جن تہذیبوں، مذاہب، زبانوں، فنون اور تجارتی روایات کو ایک دوسرے سے جوڑا، وہی روابط آج اکیسویں صدی میں ایک مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔
دنیا کی تیسری اور چوتھی سب سے بڑی جمہوریتوں میں شمار ہونے والے یہ دونوں ممالک نہ صرف آبادی، جغرافیہ اور معیشت کے اعتبار سے اہم ہیں بلکہ بحرِ ہند اور بحرالکاہل کے خطے میں امن، سلامتی اور اقتصادی استحکام کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان اور انڈونیشیا کے درمیان تعلقات نے غیر معمولی رفتار سے ترقی کی ہے، جس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں ممالک نے تجارت، دفاع، بحری سلامتی، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم، ثقافت اور عوامی روابط سمیت تقریباً ہر شعبے میں تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔

ہندوستان اور انڈونیشیا کے درمیان تعلقات کی بنیاد جدید سفارت کاری سے کہیں پہلے رکھی جا چکی تھی۔ قدیم ہندوستانی تاجر، مبلغین، دانشور اور سمندری ملاح صدیوں قبل انڈونیشیا کے مختلف جزیروں تک پہنچے، جہاں ان کے ذریعے ہندوستانی تہذیب، فلسفہ، ادب اور مذہبی افکار متعارف ہوئے۔
ہندو مت اور بدھ مت کی تعلیمات ہندوستان سے انڈونیشیا پہنچیں، جنہوں نے مقامی معاشرے اور ثقافت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ آج بھی جاوا، بالی اور انڈونیشیا کے دیگر علاقوں میں قدیم مندروں، تاریخی آثار اور ثقافتی روایات میں ہندوستانی تہذیب کی جھلک نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
بعد کے ادوار میں اسلام بھی بحرِ ہند کے تجارتی راستوں کے ذریعے ہندوستانی ساحلوں سے انڈونیشیا پہنچا۔ ہندوستانی مسلمان تاجروں اور صوفی بزرگوں نے اسلام کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں آج انڈونیشیا دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی رکھنے والا ملک ہے۔یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات صرف سیاسی یا اقتصادی مفادات پر مبنی نہیں بلکہ مشترکہ تہذیبی ورثے اور تاریخی یادداشتوں سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔
بیسویں صدی میں جب ایشیا اور افریقہ کے ممالک نوآبادیاتی نظام سے آزادی حاصل کر رہے تھے، اس وقت ہندوستان اور انڈونیشیا ایک دوسرے کے قدرتی حلیف بن کر ابھرے۔
ہندوستان نے انڈونیشیا کی آزادی کی جدوجہد کی بھرپور حمایت کی، جبکہ انڈونیشیا نے بھی عالمی سطح پر ہندوستان کے مؤقف کی تائید کی۔ دونوں ممالک اس نظریے پر متفق تھے کہ نوآزاد ممالک کو کسی بڑی طاقت کے زیر اثر آنے کے بجائے آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔اسی مشترکہ سوچ نے 1955 میں انڈونیشیا کے شہر بانڈونگ میں منعقد ہونے والی تاریخی ایشیائی۔افریقی کانفرنس کی بنیاد رکھی، جس میں ایشیا اور افریقہ کے 29 ممالک نے شرکت کی۔ اس کانفرنس نے نوآبادیاتی نظام کے خاتمے، عالمی امن، مساوات اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون کے نئے دور کا آغاز کیا۔بعد ازاں یہی نظریات 1961 میں غیر وابستہ تحریک (نان الائنڈ موومنٹ) کے قیام کی بنیاد بنے، جس میں ہندوستان اور انڈونیشیا نے قائدانہ کردار ادا کیا۔

اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات ہمیشہ خوشگوار رہے، تاہم 1991 میں ہندوستان کی "لُک ایسٹ پالیسی" کے اعلان کے بعد ان تعلقات میں ایک نئی روح پیدا ہوئی۔
اس پالیسی کا مقصد جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے ساتھ اقتصادی، سیاسی اور تزویراتی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ بعد ازاں 2014 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے مزید وسعت دیتے ہوئے "ایکٹ ایسٹ پالیسی" کا آغاز کیا، جس کے بعد انڈونیشیا ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون بن گیا۔
اس نئی حکمت عملی کے نتیجے میں دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، بحری سلامتی، دفاع، توانائی، بنیادی ڈھانچے، تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور عوامی روابط میں تعاون کو غیر معمولی وسعت دی۔
سال 2018 ہندوستان اور انڈونیشیا کے تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوا۔اسی سال وزیر اعظم نریندر مودی نے انڈونیشیا کا سرکاری دورہ کیا، جہاں دونوں ممالک نے اپنے تعلقات کو "جامع اسٹریٹجک شراکت داری" (Comprehensive Strategic Partnership) کا درجہ دیا۔
اس موقع پر بحرِ ہند اور بحرالکاہل کے خطے میں بحری تعاون سے متعلق مشترکہ وژن بھی جاری کیا گیا، جس میں آزاد، محفوظ، کھلے اور جامع انڈو پیسیفک خطے کے قیام پر زور دیا گیا۔یہ اقدام صرف دفاعی تعاون تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے تجارت، بحری معیشت، قدرتی وسائل، آفات سے نمٹنے، بندرگاہوں کی ترقی، سمندری سلامتی اور علاقائی استحکام کے شعبوں میں بھی تعاون کی نئی راہیں کھلیں۔
سال 2024 میں ہندوستان اور انڈونیشیا نے سفارتی تعلقات کے قیام کی پچہترویں سالگرہ منائی۔یہ محض ایک رسمی تقریب نہیں تھی بلکہ دونوں ممالک نے اس موقع کو گزشتہ سات دہائیوں کی کامیاب شراکت داری کا جائزہ لینے اور مستقبل کے تعاون کے نئے اہداف طے کرنے کے لیے استعمال کیا۔
اسی تسلسل میں جنوری 2025 میں انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے ہندوستان کا سرکاری دورہ کیا، جو صدر بننے کے بعد ان کا پہلا دورہ تھا۔ وہ ہندوستان کے 76ویں یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں مہمانِ خصوصی بھی تھے۔اس موقع پر انڈونیشیا کی مسلح افواج کا 352 رکنی مارچنگ دستہ راج پتھ پر ہونے والی پریڈ میں شریک ہوا، جو دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کی ایک منفرد علامت بن گیا۔
صدر پرابوو اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں تجارت، دفاع، سمندری سلامتی، توانائی، تعلیم، ثقافت، ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت اور علاقائی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔یہ ملاقاتیں اس حقیقت کی غماز تھیں کہ ہندوستان اور انڈونیشیا اپنے تعلقات کو صرف ماضی کی مشترکہ یادوں تک محدود رکھنے کے بجائے مستقبل کی ضروریات کے مطابق ایک جدید، مضبوط اور ہمہ جہت شراکت داری میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
آج دونوں ممالک بحرِ ہند اور بحرالکاہل کے خطے میں امن، استحکام، آزاد بحری نقل و حمل، اقتصادی ترقی اور پائیدار تعاون کے فروغ کے لیے ایک دوسرے کے قابل اعتماد شراکت دار بن کر سامنے آئے ہیں۔ یہی اعتماد آئندہ برسوں میں اس تعلق کو مزید وسعت دینے کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔
اعلیٰ سطحی سیاسی روابط اور مضبوط ادارہ جاتی تعاون
بین الاقوامی تعلقات میں دوستی کا اصل پیمانہ صرف تاریخی روابط یا خوشگوار بیانات نہیں ہوتے بلکہ ایسے مضبوط ادارہ جاتی نظام ہوتے ہیں جو حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود تعاون کا تسلسل برقرار رکھتے ہیں۔ ہندوستان اور انڈونیشیا کے تعلقات کی ایک بڑی خصوصیت یہی ہے کہ دونوں ممالک نے گزشتہ دو دہائیوں میں مختلف شعبوں میں متعدد ایسے مستقل ادارہ جاتی فورمز قائم کیے ہیں، جن کے ذریعے سیاسی، اقتصادی، دفاعی، سائنسی اور ثقافتی تعاون کو باقاعدہ اور منظم انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
اسی مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے کی بدولت دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف اعلیٰ سطحی سیاسی رابطے مسلسل برقرار ہیں بلکہ باہمی اعتماد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

جنوری 2025 میں انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے ہندوستان کا سرکاری دورہ کیا، جو ان کے صدر بننے کے بعد پہلا دورہ تھا۔ یہ دورہ کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت رکھتا تھا کیونکہ اسی برس دونوں ممالک سفارتی تعلقات کے قیام کی پچہترویں سالگرہ بھی منا رہے تھے۔صدر پرابوو نے نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی، صدرِ جمہوریہ اور دیگر اعلیٰ ہندوستانی قیادت سے ملاقاتیں کیں، جن میں تجارت، دفاع، بحری سلامتی، سرمایہ کاری، خوراک، توانائی، تعلیم، ثقافت، ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت اور علاقائی تعاون جیسے موضوعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
26 جنوری کو وہ ہندوستان کے 76ویں یومِ جمہوریہ کی تقریب میں مہمانِ خصوصی تھے، جہاں انڈونیشیا کی مسلح افواج کے 352 رکنی مارچنگ دستے نے پہلی مرتبہ شاندار پریڈ میں حصہ لیا۔ اس منظر کو دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے دفاعی اور سفارتی اعتماد کی علامت قرار دیا گیا۔
ہندوستان نے بھی انڈونیشیا کے ساتھ روابط کو مسلسل مضبوط بنانے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ اکتوبر 2024 میں وزیر مملکت برائے امور خارجہ پبتر مارگریٹا وزیر اعظم کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے جکارتہ پہنچے اور صدر و نائب صدر کی تقریبِ حلف برداری میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔
مئی 2025 میں رکنِ پارلیمان سنجے کمار جھا کی قیادت میں ایک کثیر الجماعتی پارلیمانی وفد نے انڈونیشیا کا دورہ کیا۔ اس وفد میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمان، سابق سفارت کار اور سینئر سیاسی شخصیات شامل تھیں۔ یہ دورہ ہندوستان کی سفارتی مہم "آپریشن سندور" کا حصہ تھا، جس کا مقصد اہم شراکت دار ممالک کو ہندوستان کے مؤقف اور علاقائی سلامتی سے متعلق پالیسیوں سے آگاہ کرنا تھا۔
دوسری جانب انڈونیشیا کے وزراء بھی مختلف مواقع پر ہندوستان آتے رہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں میں تسلسل برقرار رہا۔فروری 2024 میں اُس وقت کے وزیرِ سیاحت و تخلیقی معیشت ساندیاگا صلاح الدین اونو نے نئی دہلی میں منعقدہ رائزینا ڈائیلاگ میں شرکت کی، جو عالمی سفارت کاری اور سلامتی سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس سمجھی جاتی ہے۔
اگست 2025 میں انڈونیشیا کے وزیرِ انسانی حقوق نٹالیئس پگائی نے ہندوستان کا دورہ کیا تاکہ انسانی حقوق کے تحفظ اور عدالتی نظام کے حوالے سے ہندوستان کے تجربات کا مطالعہ کیا جا سکے۔اسی سال وزیرِ ثقافت فدلی زون نے ہندوستان میں منعقدہ ویوز سمٹ 2025 میں شرکت کی، جبکہ وزیرِ دفاع شجفری شمس الدین نے نئی دہلی میں ہونے والے تیسرے ہندوستان۔انڈونیشیا وزرائے دفاع مذاکرات میں شرکت کی۔
فروری 2026 میں انڈونیشیا کے نائب وزیر برائے مواصلات و ڈیجیٹل امور نیزار پاتریا نے نئی دہلی میں منعقدہ عالمی مصنوعی ذہانت (Global AI Summit) میں شرکت کی، جب کہ مئی 2026 میں وزیر خارجہ سوگیونو نے برکس وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان کا دورہ کیا۔
ہندوستان اور انڈونیشیا کے درمیان سب سے اہم ادارہ جاتی پلیٹ فارم مشترکہ کمیشن اجلاس (Joint Commission Meeting) ہے، جس کا قیام 2001 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی سطح پر عمل میں آیا۔
یہ اجلاس دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتا ہے اور مستقبل کے تعاون کے لیے رہنما اصول طے کرتا ہے۔جون 2022 میں نئی دہلی میں ساتواں مشترکہ کمیشن اجلاس منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت ہندوستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس۔ جے شنکر اور انڈونیشیا کی اُس وقت کی وزیر خارجہ ریتنو مارسودی نے کی۔اس کے بعد 7 جون 2026 کو آٹھواں مشترکہ کمیشن اجلاس بھی نئی دہلی میں منعقد ہوا، جس میں ڈاکٹر ایس۔ جے شنکر اور انڈونیشیا کے موجودہ وزیر خارجہ سوگیونو نے دونوں ممالک کے تعلقات کا جامع جائزہ لیا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
Ahead of PM Modi's visit to Indonesia, India's Ambassador to Indonesia, Sandeep Chakravarti, speaks to India Today's Pranay Upadhyay about the next phase of the India-Indonesia partnership.
— India Today Global (@ITGGlobal) July 5, 2026
From defence and maritime cooperation to digital payments, critical minerals, food… pic.twitter.com/0aaKtwIHZ6
دونوں ممالک کے درمیان فارن آفس کنسلٹیشنز (Foreign Office Consultations) کا نظام بھی انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
ستمبر 2024 میں نئی دہلی میں ہونے والے آٹھویں اجلاس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سفارتی حکام نے علاقائی صورتحال، عالمی سیاست، کثیرالجہتی تعاون، اقوام متحدہ میں باہمی اشتراک اور بحرِ ہند و بحرالکاہل کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
علاقائی سلامتی کے پیش نظر ہندوستان اور انڈونیشیا نے سلامتی کے شعبے میں بھی قریبی تعاون کو فروغ دیا ہے۔
ہندوستان۔انڈونیشیا سلامتی مذاکرات (India–Indonesia Security Dialogue) کے تحت قومی سلامتی کے مشیر، دفاعی ماہرین اور اعلیٰ حکام باقاعدگی سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔
مارچ 2022 میں دوسرا سلامتی مذاکراتی اجلاس انڈونیشیا میں منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول اور انڈونیشیا کے اُس وقت کے رابطہ کار وزیر برائے سیاسی، قانونی و سلامتی امور ڈاکٹر محمد محفوظ نے کی۔
اس سلسلے کا تیسرا اجلاس جون 2026 میں جکارتہ میں منعقد ہونا طے پایا، جس میں سائبر سکیورٹی، سمندری سلامتی، دہشت گردی، منظم جرائم، سرحدی سلامتی اور علاقائی استحکام جیسے اہم موضوعات پر گفتگو متوقع تھی۔
ہندوستان اور انڈونیشیا نے صرف سفارتی اور دفاعی شعبوں تک تعاون محدود نہیں رکھا بلکہ مختلف اقتصادی اور تکنیکی شعبوں میں بھی مستقل فورمز قائم کیے ہیں۔
ان میں دو سالہ تجارتی وزراء فورم، توانائی فورم، سی ای او فورم، دوا سازی و صحت فورم، بنیادی ڈھانچے کا فورم اور تجارت و سرمایہ کاری سے متعلق ورکنگ گروپ شامل ہیں۔
اسی طرح انسداد دہشت گردی، انسداد منشیات، سائنس و ٹیکنالوجی، خلائی تعاون، تیل و گیس، قابلِ تجدید توانائی، زراعت، شہری ہوا بازی، کوئلہ، انڈمان۔آچے رابطہ کاری، قونصلر امور، بین المذاہب مکالمہ اور ٹریک 1.5 ڈائیلاگ جیسے شعبوں میں بھی مشترکہ ورکنگ گروپس سرگرم عمل ہیں۔
عالمی سیاست میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات، بحرِ ہند اور بحرالکاہل کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور اقتصادی شراکت داری کی نئی ضروریات کے پیش نظر ہندوستان اور انڈونیشیا نے اپنے تعلقات کو ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون وقتی سیاسی تبدیلیوں سے متاثر ہونے کے بجائے مستقل اور منظم انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔
اعلیٰ سطحی دوروں، مشترکہ کمیشن، سلامتی مذاکرات اور مختلف شعبوں میں قائم مستقل فورمز نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک ایسی مضبوط بنیاد فراہم کی ہے، جس پر آئندہ کئی دہائیوں تک باہمی تعاون کی نئی عمارت تعمیر کی جا سکتی ہے۔
تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی شراکت داری کی نئی جہتیں
اگر کسی بھی دو ممالک کے تعلقات کی مضبوطی کا اندازہ لگانا ہو تو اس کا سب سے مؤثر پیمانہ باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون ہوتا ہے۔ ہندوستان اور انڈونیشیا کے تعلقات بھی اسی حقیقت کی بہترین مثال ہیں۔ تاریخی اور ثقافتی رشتوں سے آگے بڑھتے ہوئے دونوں ممالک نے گزشتہ دو دہائیوں میں اقتصادی شراکت داری کو غیر معمولی وسعت دی ہے، جس کے نتیجے میں آج انڈونیشیا، آسیان (ASEAN) خطے میں ہندوستان کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن چکا ہے۔ہندوستان دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہے، جبکہ انڈونیشیا جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ دونوں ممالک کی بڑی آبادی، وسیع منڈی، قدرتی وسائل اور صنعتی صلاحیت انہیں ایک دوسرے کا قدرتی اقتصادی شراکت دار بناتی ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2005-06 میں دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 4.3 ارب امریکی ڈالر تھا، جو بڑھتے بڑھتے 2022-23 میں 38.84 ارب امریکی ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
بعد ازاں عالمی معاشی سست روی، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور بین الاقوامی تجارتی حالات کے باعث تجارت کے حجم میں کچھ کمی ضرور آئی، لیکن اس کے باوجود 2024-25 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت 28.15 ارب امریکی ڈالر رہی، جو اس شراکت داری کی مضبوطی کا واضح ثبوت ہے۔
ہندوستان اور انڈونیشیا کی معیشتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ انڈونیشیا قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، جبکہ ہندوستان ایک بڑی صنعتی اور صارف منڈی رکھتا ہے۔
ہندوستان، انڈونیشیا سے خام پام آئل (Crude Palm Oil) درآمد کرنے والا دنیا کے بڑے خریداروں میں شامل ہے اور انڈونیشیا کے کوئلے کا بھی اہم درآمد کنندہ ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان معدنیات، قدرتی ربڑ، پلپ، کاغذ اور ہائیڈروکاربن سے متعلق مصنوعات بھی انڈونیشیا سے حاصل کرتا ہے۔
دوسری جانب ہندوستان انڈونیشیا کو ریفائن شدہ پیٹرولیم مصنوعات، تجارتی گاڑیاں، ٹیلی کمیونیکیشن آلات، زرعی اجناس، فولادی مصنوعات، پلاسٹک اور دیگر صنعتی سامان برآمد کرتا ہے۔
سرمایہ کاری میں وسعت
صرف تجارت ہی نہیں بلکہ سرمایہ کاری کے شعبے میں بھی تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔انڈونیشیا میں تقریباً 100 ہندوستانی کمپنیاں یا مشترکہ منصوبے سرگرم عمل ہیں، جو توانائی، انفراسٹرکچر، مینوفیکچرنگ، دواسازی، آئی ٹی، آٹوموبائل، ٹیکسٹائل اور خدمات کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
انڈونیشیا کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2000 سے 2024 کے درمیان ہندوستان نے 7,292 منصوبوں میں مجموعی طور پر 1.56 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔
دوسری طرف ہندوستان میں انڈونیشیا کی سرمایہ کاری کا حجم ابھی نسبتاً محدود ہے، تاہم پام آئل، خوراک، معدنیات اور بعض صنعتی شعبوں میں انڈونیشیائی کمپنیاں اپنی موجودگی بڑھا رہی ہیں۔ ہندوستانی اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2025 تک انڈونیشیا کی مجموعی سرمایہ کاری 668.37 ملین امریکی ڈالر رہی۔
ماہرین کے مطابق اگر دونوں ممالک آزاد تجارتی سہولتوں، لاجسٹکس، بندرگاہی تعاون اور سپلائی چین کو مزید مضبوط بنائیں تو سرمایہ کاری کا حجم آنے والے برسوں میں کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔
معاشی تعلقات کو فروغ دینے میں فضائی رابطے اور سیاحت بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔گزشتہ چند برسوں میں ہندوستانی سیاحوں کی بڑی تعداد انڈونیشیا، خصوصاً بالی، کا رخ کر رہی ہے۔ اسی بڑھتی ہوئی طلب کو دیکھتے ہوئے ایئر انڈیا نے دہلی اور بالی کے درمیان اپنی پروازوں کی تعداد ہفتے میں سات سے بڑھا کر دس کر دی ہے۔
فی الحال دونوں ممالک کے درمیان چار اہم فضائی روٹس فعال ہیں:
جکارتہ۔ممبئی
بالی۔دہلی
بالی۔ممبئی
بالی۔بنگلورو
تاہم نئی دہلی اور جکارتہ کے درمیان براہِ راست فضائی سروس کا نہ ہونا اب بھی ایک بڑی کمی تصور کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ پرواز شروع ہو جائے تو تجارت، سرمایہ کاری اور سیاحت تینوں میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
بالی کئی برسوں سے ہندوستانی سیاحوں کی پسندیدہ منزل بن چکا ہے۔سال 2023 میں آسٹریلیا کے بعد ہندوستان، بالی آنے والے سیاحوں کا دوسرا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔
اسی طرح 2024 میں مجموعی طور پر تقریباً 7.1 لاکھ ہندوستانی سیاح انڈونیشیا پہنچے، جس کے نتیجے میں ہندوستان، ملائیشیا، آسٹریلیا، سنگاپور اور چین کے بعد انڈونیشیا آنے والے سیاحوں کا پانچواں بڑا ذریعہ بن گیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستانی سیاح صرف بالی ہی نہیں بلکہ یوگیاکارتا، لومبوک، جکارتہ، بنڈونگ اور دیگر مقامات میں بھی دلچسپی لینے لگے ہیں، جس سے انڈونیشیا کی سیاحت کو مزید فروغ مل رہا ہے۔
اگرچہ ہندوستانی سیاحوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، لیکن اس کے مقابلے میں انڈونیشیا سے ہندوستان آنے والے سیاحوں کی تعداد ابھی بھی نسبتاً کم ہے۔دونوں حکومتیں مذہبی سیاحت (خصوصاً بدھ مت اور ہندو مت سے وابستہ مقامات)، طبی سیاحت، تعلیمی تبادلوں اور کاروباری سفر کو فروغ دے کر اس فرق کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ ہندوستان اور انڈونیشیا کے درمیان تجارت کی موجودہ صلاحیت ابھی مکمل طور پر استعمال نہیں ہوئی۔دونوں ممالک قابلِ تجدید توانائی، ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، گرین ٹیکنالوجی، بندرگاہی ترقی، خوراک کے تحفظ، فارماسیوٹیکل صنعت، ای۔کامرس اور سپلائی چین جیسے نئے شعبوں میں تعاون کو وسعت دے سکتے ہیں۔
بحرِ ہند اور بحرالکاہل کے خطے میں دونوں ممالک کی جغرافیائی اہمیت بھی اقتصادی تعاون کو نئی رفتار دے سکتی ہے۔ اگر فضائی اور بحری رابطوں کو مزید بہتر بنایا جائے، تجارتی رکاوٹیں کم کی جائیں اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے تو آئندہ چند برسوں میں دوطرفہ تجارت ایک بار پھر 40 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔
اقتصادی تعاون کی یہی بڑھتی ہوئی رفتار اس بات کی علامت ہے کہ ہندوستان اور انڈونیشیا صرف تاریخی دوست ہی نہیں بلکہ مستقبل کی عالمی معیشت میں بھی ایک دوسرے کے قابلِ اعتماد شراکت دار بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ثقافتی رشتے، تعلیمی تعاون اور مستقبل کی سمت
ہندوستان اور انڈونیشیا کے تعلقات کی اصل طاقت صرف سیاسی، دفاعی یا اقتصادی مفادات میں نہیں بلکہ ان تاریخی، ثقافتی اور عوامی روابط میں پوشیدہ ہے جو صدیوں سے دونوں معاشروں کو ایک دوسرے سے جوڑے ہوئے ہیں۔ یہی مشترکہ تہذیبی ورثہ دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک منفرد شناخت عطا کرتا ہے اور انہیں ایشیا کے مضبوط ترین شراکت داروں میں شامل کرتا ہے۔
ہندوستانی تہذیب کی جھلک آج بھی انڈونیشیا کے مختلف حصوں، خصوصاً بالی اور جاوا میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ رامائن اور مہابھارت جیسے قدیم رزمیہ قصے، روایتی رقص، موسیقی، مندروں کا فنِ تعمیر اور مقامی تہوار اس تاریخی ربط کی گواہی دیتے ہیں۔
اسی ثقافتی ورثے کو زندہ رکھنے کے لیے جکارتہ میں جواہر لعل نہرو انڈین کلچرل سینٹر (JNICC) گزشتہ کئی دہائیوں سے سرگرم ہے۔ 1989 میں قائم ہونے والا یہ مرکز یوگا، ہندی زبان، ہندوستانی کلاسیکی موسیقی، کتھک، بھارت ناٹیم، مصوری اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
بالی میں سوامی وویکانند کلچرل سینٹر بھی اسی مقصد کے لیے کام کر رہا ہے۔ 2005 میں قائم ہونے والا یہ مرکز ہندوستانی ثقافت کے فروغ کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے فنکاروں، طلبہ اور دانشوروں کے درمیان رابطوں کو مستحکم کر رہا ہے۔
دسمبر 2025 میں نئی دہلی میں یونیسکو کی بین الحکومتی کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر ہندوستان نے انڈونیشیا کو نویں صدی کے تاریخی نالندہ کاپر پلیٹ کی نقل پیش کی۔ یہ صرف ایک تاریخی یادگار کا تبادلہ نہیں تھا بلکہ اس بات کا اعتراف بھی تھا کہ صدیوں قبل ہندوستان کی نالندہ یونیورسٹی اور انڈونیشیا کے موآرا جمبی علمی مرکز کے درمیان گہرے علمی روابط موجود تھے۔اس یادگار کو انڈونیشیا کے موآرا جمبی میوزیم میں محفوظ کیا گیا، جہاں اسے دونوں ممالک کی مشترکہ تہذیبی میراث کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
ہندوستان اور انڈونیشیا اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ مضبوط تعلقات کی بنیاد صرف حکومتی معاہدے نہیں بلکہ تعلیم، تحقیق اور نوجوان نسل کے درمیان روابط ہوتے ہیں۔
اسی مقصد کے تحت انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز (ICCR) ہر سال انڈونیشیا کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے 20 وظائف فراہم کرتی ہے۔ ان وظائف کے ذریعے متعدد انڈونیشیائی طلبہ ہندوستان کی مختلف جامعات میں انجینئرنگ، طب، سماجی علوم، زبان و ادب، فنون اور دیگر شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
انڈونیشیا کی جامعات میں اس وقت آئی سی سی آر کے تین چیئرز بھی قائم ہیں، جہاں ہندوستانی زبان، تہذیب اور تاریخ پر تدریس و تحقیق کی جاتی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے ایک نئی مفاہمتی یادداشت پر بھی کام جاری ہے، جس سے تعلیمی تبادلے مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔
ہندوستان کا انڈین ٹیکنیکل اینڈ اکنامک کوآپریشن (ITEC) پروگرام انڈونیشیا کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ہر سال انڈونیشیا کے سرکاری افسران، انجینئروں، ماہرین، اساتذہ، بینکاروں اور دیگر پیشہ ور افراد کے لیے 100 تربیتی نشستیں مختص کی جاتی ہیں، جن کے ذریعے وہ ہندوستان میں جدید انتظامی، تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرتے ہیں۔
اپریل 2026 میں انڈونیشیا کے 30 ججوں پر مشتمل ایک وفد نے بھوپال کی نیشنل جوڈیشل اکیڈمی میں خصوصی تربیتی پروگرام میں شرکت کی، جسے دونوں ممالک کے عدالتی تعاون کی ایک اہم مثال قرار دیا گیا۔
انڈونیشیا میں ہندوستانی نژاد افراد کی موجودگی تقریباً دو صدیوں پر محیط ہے۔انیسویں اور بیسویں صدی میں تجارت اور کاروبار کی غرض سے متعدد ہندوستانی خاندان انڈونیشیا منتقل ہوئے، جنہوں نے وہاں کی معیشت اور معاشرے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
آج انڈونیشیا میں تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار ہندوستانی نژاد افراد (PIOs) آباد ہیں۔ ان میں اکثریت جنوبی ہندوستان سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ سندھی، سکھ، گجراتی، تامل، ملیالی، تیلگو اور دیگر برادریاں بھی نمایاں تعداد میں موجود ہیں۔
اس کے علاوہ تقریباً 15 ہزار ہندوستانی شہری (NRIs) بھی انڈونیشیا میں مقیم ہیں، جو صنعت، تجارت، بینکاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، تعلیم، مشاورت اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ برادری دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، سماجی اور ثقافتی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ہندوستان اور انڈونیشیا کے تعلقات اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ بحرِ ہند اور بحرالکاہل کے بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات، عالمی سپلائی چین کی نئی ترتیب، ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، قابلِ تجدید توانائی اور سمندری سلامتی جیسے موضوعات دونوں ممالک کو مزید قریب لا رہے ہیں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے برسوں میں تجارت، دفاع، خلائی تحقیق، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم، ثقافت، سیاحت اور عوامی روابط میں مزید اضافہ ہوگا۔ اگر براہِ راست فضائی رابطے، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو مزید وسعت دی جائے تو دونوں ممالک کی شراکت داری پورے ایشیا کے لیے ایک کامیاب ماڈل بن سکتی ہے۔
دو ہزار سال پر محیط تاریخی روابط سے لے کر جامع اسٹریٹجک شراکت داری تک کا سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان اور انڈونیشیا کے تعلقات وقتی سیاسی مفادات کے بجائے مشترکہ تہذیب، باہمی احترام اور مشترکہ ترقی کے وژن پر استوار ہیں۔
آج جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور بحرِ ہند و بحرالکاہل کا خطہ عالمی سیاست و معیشت کا مرکز بنتا جا رہا ہے، ایسے میں ہندوستان اور انڈونیشیا کا تعاون صرف دو ممالک کی دوستی نہیں بلکہ ایک ایسے شراکتی ماڈل کی مثال ہے جو امن، استحکام، اقتصادی خوش حالی اور تہذیبی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں ہندوستان اور انڈونیشیا نہ صرف ایک دوسرے کے قریبی اسٹریٹجک شراکت دار رہیں گے بلکہ ایشیا اور دنیا میں امن، ترقی اور تعاون کے فروغ میں بھی مزید مؤثر کردار ادا کریں گے۔