زیبا نسیم : ممبئی
رمضان برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے۔ اس مہینے کی فضیلت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ قرآن مجید کا نزول اسی مقدس مہینے میں ہوا۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں انسان کو روحانی طور پر سنورنے اور اللہ کے قریب ہونے کا خاص موقع ملتا ہے۔رمضان کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے جس میں اللہ کی خاص مہربانیاں بندوں پر نازل ہوتی ہیں۔ دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے جس میں گناہوں کی معافی طلب کی جاتی ہے۔ تیسرا عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا ہے جس میں بندہ پوری عاجزی کے ساتھ اللہ سے رہائی اور بخشش کی دعا کرتا ہے۔
جب رمضان المبارک کا چاند نظر آتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا فرماتے اور کہتے کہ یہ چاند خیر اور برکت کا ہے۔ یہ چاند خیر اور برکت کا ہے۔ میں اس ذات پر ایمان رکھتا ہوں جس نے تجھے پیدا فرمایا۔ یہ دعا اس مہینے کے آغاز پر خیر و برکت اور ایمان کی تجدید کا پیغام دیتی ہے۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رمضان المبارک سے بے حد محبت تھی۔ آپ کثرت سے یہ دعا فرماتے کہ اللہ آپ کو رمضان نصیب فرمائے۔ شعبان کے مہینے ہی سے آپ روزوں کی کثرت فرما کر رمضان کی تیاری شروع کر دیتے تھے۔ جب رمضان آتا تو آپ نہایت شوق اور محبت کے ساتھ اس کا استقبال فرماتے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بابرکت مہینے کی آمد پر صحابہ کرام سے سوالیہ انداز میں تین مرتبہ پوچھتے تھے۔
ماذا يستقبلكم وتستقبلون
کون تمہارا استقبال کر رہا ہے اور تم کس کا استقبال کر رہے ہو۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ کیا کوئی وحی نازل ہونے والی ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ انہوں نے عرض کیا کیا کسی دشمن سے جنگ ہونے والی ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں۔ انہوں نے عرض کیا پھر کیا معاملہ ہے۔
اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔
ان اللہ يغفر في اول ليلة من شهر رمضان لكل اهل القبلة
بے شک اللہ تعالیٰ رمضان کی پہلی رات ہی تمام اہل قبلہ کی مغفرت فرما دیتا ہے۔
حضور ﷺ کا طریقہ استقبالِ رمضان
ماہ رمضان کا استقبال کرنا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ آپ اس مہینے کی آمد پر عبادت میں زیادہ محنت فرماتے اور اپنے اہل خانہ کو بھی تیار کرتے تھے۔ حضور ﷺ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان نصیب فرما۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ رمضان میں امت کو ایسی نعمتیں ملتی ہیں جو پہلے کسی کو نہیں ملیں۔ پہلی رات اللہ نظر رحمت فرماتا ہے۔ فرشتے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ جنت کو روزہ دار کے لیے آراستہ کیا جاتا ہے۔ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک سے بہتر ہوتی ہے۔ اور آخری رات گناہوں کی بخشش ہوتی ہے۔
روزہ دار کا مقام اور جنت کا دروازہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں ایک کا نام ریان ہے۔ اس سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے۔ ایک اور حدیث میں فرمایا کہ جس نے رمضان کا روزہ رکھا اور اس کی حدود کا خیال رکھا تو اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ یہ رمضان کی عظیم فضیلت ہے جو ہمیں سنجیدگی سے اس مہینے کو گزارنے کی دعوت دیتی ہے۔
عبادت کی تیاری اور وقت کی حفاظت
رمضان میں راتوں کی عبادت بڑھ جاتی ہے جیسے تراویح اور تہجد۔ اس لیے پہلے سے شب بیداری اور نفلی عبادت کی عادت ڈالنی چاہیے تاکہ رمضان میں تھکن محسوس نہ ہو۔ رمضان میں وقت کی قدر بہت ضروری ہے۔ آج کل انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا وقت کے ضیاع کا بڑا ذریعہ ہیں۔ بہتر ہے کہ رمضان سے پہلے ہی ان کے استعمال کو محدود کر لیا جائے تاکہ قیمتی لمحات ضائع نہ ہوں۔
دعاؤں اور قرآن سے مضبوط تعلق
رمضان قبولیت دعا کا مہینہ ہے۔ اس لیے ابھی سے دعا مانگنے کی عادت بنائیں اور مسنون دعائیں یاد کریں کیونکہ ان میں تاثیر بھی زیادہ ہوتی ہے۔ رمضان نزول قرآن کا مہینہ ہے۔ خوش نصیب لوگ اس میں تلاوت کی کثرت کرتے ہیں۔ بہتر ہے کہ رمضان سے پہلے ہی قرآن پڑھنے کا معمول بنا لیا جائے تاکہ رمضان میں دل لگاؤ کے ساتھ تلاوت ہو سکے۔
احکامِ رمضان سیکھنے کی ضرورت
رمضان سے پہلے سب سے اہم کام اس کے مسائل سیکھنا ہے۔ روزہ کن چیزوں سے ٹوٹتا ہے۔ کن باتوں سے مکروہ ہوتا ہے۔ تراویح کا طریقہ کیا ہے۔ کتنی رکعتیں ہیں۔ ختم قرآن کی فضیلت کیا ہے۔ اعتکاف کے احکام کیا ہیں۔ کن حالات میں مسجد سے نکلنا جائز ہے۔ یہ سب جاننا ضروری ہے کیونکہ لاعلمی میں عبادت فاسد ہو سکتی ہے اور بعد میں مسئلہ پوچھنے کا فائدہ کم رہ جاتا ہے۔ عقل مندی یہی ہے کہ پہلے علم حاصل کیا جائے۔
خریداری اور بازار سے پرہیز
ضروری شاپنگ رمضان سے پہلے کر لینی چاہیے تاکہ رمضان میں بازار نہ جانا پڑے۔ اس طرح نماز روزہ ذکر اور تلاوت میں یکسوئی حاصل ہوتی ہے اور قیمتی وقت ضائع نہیں ہوتا۔ ویسے بھی بازار اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ مقامات میں سے ہیں جبکہ روزہ دار اللہ کے نزدیک محبوب ہوتا ہے۔ محبوب چیز کو ناپسندیدہ جگہ پر رکھنا اس کی قدر گھٹا دیتا ہے۔

چاند رات اور ہماری روش
اہل ایمان رمضان کی آمد پر خوش ہوتے ہیں اور اس کے جانے پر برکتوں کے چھن جانے کا احساس کرتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ رمضان کے اختتام پر چاند رات کو شور شرابہ۔ موٹر سائیکل دوڑانا۔ فحش گانے۔ آتش بازی۔ فائرنگ۔ نشہ بازی اور فضول خرچی میں بدل دیتے ہیں۔ یہ سب شریعت کے خلاف اور رمضان کی توہین ہے۔ عید کی خوشی کے نام پر کی جانے والی یہ حرکات نیکیوں کو ضائع کر دیتی ہیں۔
اصل عید کی خوشی کیا ہے
عید کا مطلب صرف کپڑے اور کھانا نہیں بلکہ اصل خوشی گناہوں کی معافی ہے۔ جس نے رمضان میں توبہ کی۔ آنسو بہا کر اللہ کو راضی کیا۔ عید کی نماز میں دل سے دعا کی۔ اسی کو حقیقی عید نصیب ہوئی۔ اگر کپڑے پرانے ہوں اور کھانے سادہ ہوں تب بھی وہ کامیاب ہے۔ اور جس کی نظر صرف ظاہری نمائش پر ہو اور نماز سے غافل رہے تو اس کی عید محض رسم رہ جاتی ہے۔
اعتدال اور شکر کا راستہ
اگر اللہ نے دیا ہے تو پہنیں اور کھائیں مگر دکھاوے کے لیے نہیں۔ کھائیں مگر نماز اور ذکر سے غافل ہو کر نہیں۔ عید کا مقصد آوارگی اور فضول خرچی نہیں بلکہ شکر۔ عبادت۔ اور اللہ کی رضا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں بار بار رمضان نصیب فرمائے اور اس کے فیضان سے مستفیض کرے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ افطار میں جلدی کرنا سنت ہے مگر اسی وقت کریں جب سورج کے ڈوبنے کا یقین ہو جائے۔ صرف اذان سننا شرط نہیں۔ بادل کے دن خاص طور پر احتیاط کرنی چاہیے۔
رمضان المبارک میں کچھور کی کیا اہمیت ہے اور کیوں ۔ جانیں ۔ آواز دی وائس کے اس خاص پروگرام میں ۔۔۔