حضرت امام مصطفیٰ رضا خان قادری :علم، فقاہت، روحانیت اور عوامی رہنمائی کا روشن باب

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 20-07-2026
حضرت امام مصطفیٰ رضا خان قادری :علم، فقاہت، روحانیت اور عوامی رہنمائی کا روشن باب
حضرت امام مصطفیٰ رضا خان قادری :علم، فقاہت، روحانیت اور عوامی رہنمائی کا روشن باب

 



نئی دہلی: برصغیر کی دینی، علمی اور روحانی تاریخ میں مفتیِ اعظم ہند حضرت امام مصطفیٰ رضا خان قادری برکاتی نوری رحمۃ اللہ علیہ کا نام غیر معمولی احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ آپ نے اپنے والد، مجددِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے علمی و فقہی مشن کو نئی وسعت عطا کی اور نصف صدی سے زائد عرصے تک فتویٰ، تدریس، تصنیف، روحانی تربیت اور ملتِ اسلامیہ کی رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ہزاروں فتاویٰ، متعدد علمی تصانیف، بے شمار تلامذہ و خلفاء اور حق گوئی و استقامت سے عبارت آپ کی زندگی اہلِ سنت کی علمی روایت کا روشن باب ہے۔ یہ مضمون مفتیِ اعظم ہند کی حیات و خدمات، فقہی بصیرت، روحانی فیضان، ملی کردار اور ان کے علمی ورثے کا جامع جائزہ پیش کرتا ہے، جس نے انہیں برصغیر کے عظیم ترین دینی رہنماؤں کی صف میں ممتاز مقام عطا کیا۔

ولادت اور خاندانی پس منظر

غوثُ الوقت، قطبِ عالم، مفتیِ اعظم ہند، تاجدارِ اہلِ سنت حضرت امام مصطفیٰ رضا خان قادری برکاتی نوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 22 ذوالحجہ 1310ھ مطابق 18 جولائی 1892ء کو بریلی شریف، اتر پردیش میں ہوئی۔ آپ مجددِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان قادری برکاتی بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے سب سے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ آپ نے اپنے والدِ گرامی کی علمی، فقہی، روحانی اور اصلاحی روایت کو نہ صرف محفوظ رکھا بلکہ اسے مزید وسعت بھی عطا کی۔ آپ برصغیر کے ممتاز مفتیانِ کرام، عظیم روحانی پیشوا اور اہلِ سنت کے مقتدر رہنما کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔

آباؤ اجداد کا تاریخی پس منظر

حضرت مفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کا خاندان افغان النسل برہیچ قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ آپ کے جدِ اعلیٰ شجاعت جنگ محمد سعید اللہ خان رحمۃ اللہ علیہ 1739ء میں نادر شاہ ابدالی کے ہمراہ سیاسی مہم کے سلسلے میں ہندوستان آئے۔ نادر شاہ کی واپسی کے بعد انہوں نے ہندوستان ہی کو اپنا مستقل وطن بنایا۔

مغل بادشاہ محمد شاہ نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں شش ہزاری کا اعلیٰ فوجی اور انتظامی منصب عطا کیا، جو اس زمانے میں سلطنتِ مغلیہ کا نہایت باوقار اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ لاہور کا شیش محل اور ریاست رام پور کے بعض علاقے جاگیر کے طور پر بھی ان کے سپرد کیے گئے۔

بعد ازاں اللہ تعالیٰ کی مشیت سے وہ بریلی میں آباد ہوئے، جو اس دور میں روہیل کھنڈ کا اہم مرکز تھا۔ اسی علمی اور باوقار خاندان میں بعد میں امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اور پھر مفتیِ اعظم ہند حضرت مصطفیٰ رضا خان نوری رحمۃ اللہ علیہ جیسی عظیم شخصیات پیدا ہوئیں۔

مستند شجرۂ نسب

حضرت مفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ کا شجرۂ نسب مستند تاریخی اور انساب کی کتابوں کی روشنی میں نہایت تحقیق اور احتیاط کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں افغان مؤرخین، خصوصاً برہیچ قبیلے سے تعلق رکھنے والے مؤرخین کی تصانیف کو بنیادی حیثیت دی گئی، کیونکہ انہیں اپنے قبیلے کے نسب اور تاریخ پر زیادہ مستند معلومات حاصل تھیں۔حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت اسحاق علیہ السلام، پھر حضرت طالوت علیہ السلام، حضرت قیس عبدالرشید رحمۃ اللہ علیہ اور بعد ازاں برہیچ خاندان تک نسب کی کڑیاں مختلف مستند تاریخی مآخذ سے تطبیق دے کر مرتب کی گئیں۔ اس مقصد کے لیے خلاصۃ الانساب، اخبار الصنادید اور بستانِ حکمت جیسی معتبر کتب سے بھی استفادہ کیا گیا۔

علمی مقام اور فقہی خدمات

حضرت مفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ اپنے عہد کے ممتاز فقیہ، محدث اور مفتی تھے۔ آپ نے عربی، اردو اور فارسی زبانوں میں متعدد علمی و تحقیقی کتابیں تصنیف کیں، جن میں فقہ، عقائد، تفسیر اور دیگر اسلامی علوم پر گراں قدر مواد موجود ہے۔آپ نے ہزاروں شرعی مسائل کے جوابات تحریر فرمائے، جو بعد میں فتاویٰ مصطفویہ کے نام سے مرتب ہوئے۔ یہ مجموعۂ فتاویٰ اہلِ سنت کے معتبر فقہی ذخیرے میں نمایاں مقام رکھتا ہے اور آج بھی علماء، مفتیانِ کرام اور طلبہ کے لیے اہم مرجع کی حیثیت رکھتا ہے۔

روحانی فیضان اور تلامذہ

حضرت مفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ صرف ایک عظیم مفتی ہی نہیں بلکہ ایک بلند پایہ روحانی رہنما بھی تھے۔ برصغیر سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں ہزاروں علماء، مشائخ اور عوام نے آپ سے بیعت کی اور آپ کے روحانی فیضان سے استفادہ کیا۔ آپ کے بے شمار خلفاء اور مجازین نے مختلف علاقوں میں دینِ اسلام کی تبلیغ، اشاعتِ سنت اور اصلاحِ معاشرہ کی خدمات انجام دیں۔

جماعتِ رضائے مصطفیٰ اور دینی قیادت

حضرت مفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ بریلی میں قائم جماعتِ رضائے مصطفیٰ کے مرکزی قائدین میں شمار ہوتے تھے۔ اس جماعت نے تقسیمِ ہند سے قبل شدھی تحریک کی بھرپور مخالفت کی، جس کا مقصد مسلمانوں کو دوبارہ ہندو مذہب میں داخل کرنا تھا۔جماعتِ رضائے مصطفیٰ نے اہلِ سنت کے مذہبی تشخص، عقائد اور مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔ حضرت مفتیِ اعظم ہند نے آل انڈیا سنی کانفرنس کے پلیٹ فارم سے بھی اہلِ سنت کی نمائندگی کی اور ملتِ اسلامیہ کو درپیش مختلف دینی و سماجی مسائل پر رہنمائی فراہم کی۔

القابات اور عوامی مقبولیت آپ کو دنیا بھر میں آپ کے علمی، فقہی اور روحانی مقام کے باعث مختلف القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان میں تاجدارِ اہلِ سنت، مفتیِ اعظم ہند اور مصطفوی میاں خاص طور پر معروف ہیں۔ یہ القابات صرف محبت کا اظہار نہیں بلکہ آپ کی علمی عظمت اور روحانی قیادت کا اعتراف بھی ہیں۔

ایمرجنسی کے دور میں جرأت مندانہ مؤقف

1975 سے 1977 کے دوران ہندوستان میں نافذ ایمرجنسی کے زمانے میں جب حکومت کی جانب سے نس بندی کی مہم کو سختی کے ساتھ نافذ کیا گیا تو حضرت مفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللہ علیہ نے اس معاملے پر شرعی رہنمائی فراہم کی۔ آپ نے جبری نس بندی کے خلاف فتویٰ جاری کیا اور واضح کیا کہ کسی شخص کو اس عمل پر مجبور کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔

آپ نے اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی حکومت کی اس پالیسی پر اصولی اعتراض کیا۔ اس دور میں لاکھوں افراد اس مہم سے متاثر ہوئے، جبکہ مختلف مذہبی اور سماجی حلقوں نے بھی اس کے خلاف آواز بلند کی۔ حضرت مفتیِ اعظم ہند کا یہ مؤقف ان کی دینی بصیرت، بے باکی اور حق گوئی کا روشن ثبوت سمجھا جاتا ہے۔

علمی وراثت

حضرت مفتیِ اعظم ہند حضرت امام مصطفیٰ رضا خان قادری برکاتی نوری رحمۃ اللہ علیہ کی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، اشاعتِ علم، فتویٰ نویسی، اصلاحِ معاشرہ اور روحانی تربیت سے عبارت تھی۔ آپ نے اپنے والد امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے علمی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے اہلِ سنت کے عقائد و افکار کے تحفظ میں تاریخی کردار ادا کیا۔ آپ کی تصانیف، فتاویٰ، روحانی فیضان اور تربیت یافتہ علماء آج بھی دنیا بھر میں آپ کی علمی و دینی خدمات کے زندہ آثار ہیں۔