حج: صبر و آزمائش کے ساتھ انتظامی بیداری اور احتساب کی ضرورت

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 22-05-2026
 حج: صبر و آزمائش کے ساتھ انتظامی بیداری اور احتساب کی ضرورت
حج: صبر و آزمائش کے ساتھ انتظامی بیداری اور احتساب کی ضرورت

 



سید قمر عباس قنبر نقوی

حج ایک عظیم عبادت ہے، جس کی حقیقی روح اُس وقت نمایاں ہوتی ہے جب اس میں صبر، آزمائش، قربانی، اخلاص، نظم و ضبط، ایثار اور بندگیِ رب کے جذبات یکجا ہو جائیں۔ اسلام میں حج کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ربِ کریم نے ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار حج فرض قرار دیا ہے۔ حج کی فضیلت بیان کرتے ہوئے حضرت خاتم الانبیاء ﷺ نے ارشاد فرمایا مفہوم "جس شخص نے  خلوصِ نیت سے اللہ کے لیے حج کیا تو وہ اپنے گناہوں سے بالکل ایسے بے داغ اور معصوم ہو جاتا ہے جیسے شکم مادر  سے پیدا  نو مولود کا نامہ اعمال گناہوں سے خالی ہوتا ہے
حج کا عملی پیغام مساوات، اتحاد اور عالمگیر اُخوّت ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک،  زبانوں، رنگوں اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں مسلمان ایک ہی لباسِ احرام میں، ایک ہی مرکز خانۂ کعبہ کے گرد جمع ہو کر ایک ہی صدا بلند کرتے ہیں لبیک اللّٰہم لبیک۔ یہی منظر اسلام کی حقیقی روح کو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔
ہندوستانی حکومت ہر سال اپنے ہندوستانی مسلمانوں کے  فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے وسیع انتظامات فراہم کرتی ہے۔ وزارتِ اقلیتی امور اپنے ماتحت ادارے حج کمیٹی آف انڈیا کے ساتھ پورے سال وزارتِ خارجہ، وزارتِ داخلہ، وزارتِ شہری ہوا بازی، وزارتِ صحت، ریاستی حج کمیٹیوں اور سعودی عرب میں ہندوستانی قونصل خانہ کے اشتراک اور تعاون سے حجاجِ کرام کی خدمت انجام دینے میں مصروف رہتے ہیں، تاکہ سفرِ حج کو زیادہ سے زیادہ آسان، محفوظ اور منظم بنایا جا سکے۔
حج 2026* کے لیے بھی حکومتِ ہند نے قابلِ قدر انتظامات کیے ہیں۔ ہندوستانی حجاج کی خدمت، رہنمائی اور طبی سہولیات کے لیے ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف، حج کورڈینیٹروں، حج افسران،  حج سپرڈینٹنٹ، اسٹیٹ حج انسپکٹروں پر مشتمل ایک بڑی ٹیم سعودی عرب میں مامور کی گئی ہے۔ اِس کے علاوہ سعودی عرب میں موجود قونصل جنرل آف انڈیا جدہ کے افسران و عملہ چوبیس گھنٹے حجاج کی خدمت میں لگے ہیں ۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں طبی مراکز، ڈسپنسریاں، ادویات اور علاج کی سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں تاکہ حجاج کو بروقت طبی امداد میسر آ سکے۔
حکومت کی ان سنجیدہ اور وسیع کوششوں کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ حجاج کی شکایات اور دشواریاں کم کیوں نہیں ہوتیں؟ حقیقت یہ ہے کہ بیشتر شکایات کی بنیاد رہائشی انتظامات، بلڈنگ سلیکشن اور دفتری سطح کی بد انتظامیوں میں پوشیدہ دکھائی دیتی ہے۔ جب کسی حاجی کو پُرسکون، صاف ستھرا اور منظم ماحول میسر نہ آئے تو اُس کی عبادت کا روحانی لطف بھی متاثر ہوتا ہے۔ رہائش اور بنیادی سہولیات میں معمولی سی خرابی بھی پریشان و تھکے ہوئے حاجی کے لیے بڑی آزمائش بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر قیام مناسب ہو تو بہت سی چھوٹی موٹی مشکلات انسان خود بخود برداشت کر لیتا ہے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ مکہ مکرمہ میں بلڈنگ سلیکشن کے نظام میں شفافیت اور دیانتداری کے نظام کو مزید مضبوط و مستحکم کیا جائے، ساتھ ہی اِس نظام کا حصہ حج کمیٹی آف انڈیا، قونصل جنرل آف انڈیا اور دیگر متعلقہ اداروں کے ذیلی مدبران و افسران کا مالی و صلاحیتی احتسابی جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کی مالی بددیانتی، غفلت یا نااہلی کا راستہ روکا جا سکے۔* ساتھ ہی ساتھ قصوروار عناصر کے خلاف سخت کارروائی حکومت کے فیصلوں کو برو کار لانے کے لیے ضروری ہے۔
یہ بھی بعید نہیں کہ بعض غیر ذمہ دار یا مفاد پرست عناصر اپنی کوتاہیوں اور بدعنوانیوں کے ذریعے حکومتِ ہند اور متعلقہ وزیر کی نیک نامی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہوں۔حکومت کی اعلیٰ سطحی سہولیات اور مثبت اقدامات اُس وقت پس منظر میں چلے جاتے ہیں جب ذیلی سطح کے چند افسران اپنی ذمہ داری دیانت داری سے ادا نہیں کرتے۔
حج 2026 میں حکومت نے جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حجاج کے لیے اسمارٹ واچ جیسی مفید سہولت متعارف کرائی ہے، جو بلاشبہ ایک خاموش ڈیجیٹل رہنما کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر عازمینِ حج اس سہولت کو صحیح انداز میں استعمال کریں تو اُن کی بہت سی دشواریاں کم ہو سکتی ہیں۔ یہ اسمارٹ واچ نہ صرف رہنمائی فراہم کرتی ہے بلکہ صحت، لوکیشن، رابطے اور دیگر ضروری معلومات تک فوری رسائی میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم رہائشی و دیگر انتظامی کمزوریاں اس مفید سہولت کے مؤثر استعمال میں بھی رکاوٹ بن گئ، بالکل ایسے ہی ریاستی حج کمیٹیوں کے ذریعے فراہم کردہ سہولیات اور رضاکار تنظیموں کی خدمات کو بھی فراموش کر دیا جاتا ہے ۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حج ایک نہایت وسیع اور پیچیدہ انتظامی عمل ہے۔ لاکھوں انسانوں کے مجمع، محدود وقت اور دوسرے ملک کے قوانین و ضوابط کے درمیان مثالی انتظامات کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اسی لیے بعض اوقات دشواریاں سامنے آجاتی ہیں۔ ایسے مواقع پر حجاجِ کرام کو جذباتیت، مایوسی اور غیر ضروری شکایات کے بجائے صبر، تحمل اور مثبت طرزِ فکر اختیار کرنا چاہیے۔ حج آزمائش بھی ہے اور اجر و رحمت کا ذریعہ بھی۔ جو حاجی مشکلات کے باوجود شکر، دعا اور صبر کا دامن تھامے رکھتا ہے، اُس کے لیے یہی دشواریاں ان شاء اللہ باعثِ مغفرت اور ذریعۂ اجر بن جاتی ہیں۔
البتہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انتظامی کوتاہیوں پر خاموشی اختیار کر لی جائے۔ حجاج کے حقوق، بہتر سہولیات اور شفاف نظام کا مطالبہ کرنا ایک جائز اور ضروری امر ہے، لیکن یہ مطالبہ شائستگی، حقیقت پسندی اور تعمیری انداز میں ہونا چاہیے، نہ کہ افواہوں اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے۔
سوشل میڈیا کا استعمال بھی ذمہ داری کے ساتھ ہونا چاہیے۔ صرف مصدقہ اور درست معلومات ہی شیئر کی جائیں، کیونکہ ایک خبر چند لمحوں میں دنیا بھر تک پہنچ جاتی ہے، اور اُس کے منفی اثرات انسان کی شخصیت اور عبادت دونوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ حج جیسے مقدس سفر کو اشتعال اور غیر ضروری تنازع کا ذریعہ بنانے کے بجائے سنجیدگی، اعتدال اور خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے۔
حجاجِ کرام کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ وہ صرف ایک حاجی ہی نہیں بلکہ سرزمینِ حجاز میں اپنے وطنِ عزیز ہندوستان کے نمائندے بھی ہوتے ہیں۔ اُن کا اخلاق، صبر، رویّہ اور کردار دراصل اُن کے ملک اور قوم کی پہچان بنتا ہے۔
ربِ کریم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام حجاجِ کا حج، حجِ مبرور قرار دے، اُن کی عبادات و زیارات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، تمام عازمین کو آسانیاں نصیب فرمائے اور وطنِ عزیز بھارت میں امن، اتحاد، ترقی اور خوشحالی عطا کرے۔ آمین یا رب العالمین ۔