عقیدت سے مرثیہ گوئی تک۔ غیر مسلم شعراء اور امام حسینؑ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 18-06-2026
عقیدت سے مرثیہ گوئی تک۔ غیر مسلم شعراء اور امام حسینؑ
عقیدت سے مرثیہ گوئی تک۔ غیر مسلم شعراء اور امام حسینؑ

 



زیبا نسیم : ممبئی 

حضرت امام حسینؑ کی منفرد شناخت اس حقیقت سے قائم ہے کہ انہوں نے 61 ہجری مطابق 680 عیسوی میں عراق کے مقام کربلا میں حق۔ انصاف اور سچائی کی خاطر اپنی جان قربان کر دی۔ کربلا کی جنگ محض اقتدار کی کشمکش نہیں تھی بلکہ اصولوں۔ اقدار اور انسانی ضمیر کی بقا کی جنگ تھی جس میں امام حسینؑ نے ظلم اور جبر کے سامنے سر جھکانے کے بجائے شہادت کو ترجیح دی۔شہادت کے چودہ سو برس گزر جانے کے باوجود امام حسینؑ اور ان کے افکار آج بھی ان تمام لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں جو انصاف۔ انسانی وقار اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ کربلا کا واقعہ حریت۔ عدل۔ صبر اور قربانی کا ایسا عالمگیر پیغام بن چکا ہے جو زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہے اور ہر دور کے انسان کو حق کے لیے ڈٹ جانے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔

امام حسینؑ کی شخصیت کسی ایک مذہب یا مکتب فکر تک محدود نہیں۔ کربلا کا پیغام حق و صداقت۔ عدل و انصاف۔ حریت و انسانیت اور ظلم کے خلاف استقامت کا ایسا عالمگیر درس ہے جس نے ہر مذہب اور ہر طبقے کے لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر میں محرم اور عزاداری کی روایات صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی امام حسینؑ سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔برصغیر کے متعدد غیر مسلم شعراء نے حضرت امام حسینؑ اور واقعۂ کربلا سے اپنی گہری وابستگی کو اپنے کلام کا موضوع بنایا۔ ان شعراء نے امام عالی مقامؑ کو انسانیت کا نجات دہندہ۔ حق و صداقت کا علمبردار اور مظلوموں کی آواز قرار دیا۔ پروفیسر ستنام سنگھ خمار۔ پرتپال سنگھ بیتاب۔ امر سنگھ جوش۔ چرن سنگھ چرن۔ سردار جسونت سنگھ راز چونتروی۔ ڈاکٹر امر جیت ساگر۔ سردار ترلوک سنگھ سیتل۔ ہر چرن سنگھ مہر۔ سورج سنگھ سورج۔ روپ کماری۔ منشی دیشو پرشاد ماتھر لکھنوی۔ رام پرکاش ساحر۔ رائے بہادر بابو اتاردین۔ دلو رام کوثری۔ پنڈت ایسری پرشاد پنڈت دہلوی اور منشی لچھمن داس جیسے شعراء نے اپنے اشعار کے ذریعے امام حسینؑ سے عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ کربلا صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ سرمایہ ہے۔

پروفیسر ستنام سنگھ خمار کے اشعار ملاحظہ ہوں۔
لکھا ہے آسماں پہ فسانہ حسین ؑ کا
سب کا حسینؑ، سارا زمانہ حسینؑ کا
کوئی امام کوئی پیمبر کوئی ولی
کتنا ہے سربلند گھرانہ حسینؑ کا
ہوگی کوئی تو بات کہ صدیوں کے بعد بھی
جس دل کو دیکھئے، ہے دیوانہ حسین ؑ کا
میں حر ہوں چاہیے مجھے تھوڑی سے نقشِ پا
کوئی مجھے بتا دے ٹھکانہ حسینؑ کا
آزادی خیال کی تحریک ہی تو ہے
عاشور کو چراغ بجھانا حسین ؑ کا
مظلومیت کے وار سے ظالم نہ بچ سکا
آخر ہدف پہ بیٹھا نشانہ حسین ؑ کا
اب بھی زبانیں خشک ہیں پہرے فرات پر
دہرا رہا ہے خود کو زمانہ حسین ؑ کا
کب سے چکا رہا ہوں قصیدوں میں اے خمار
مجھ پر ہے کوئی قرض پرانا حسین ؑ کا
ایک اور غیر مسلم شاعر پرتپال سنگھ بیتاب کے اشعار دیکھیئے، وہ کس طرح امام حسین ؑ سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔
اور غم زمانے کے دور دور رہتے ہیں
اک حسین ؑ کا غم ہے جب سے مہرباں اپنا
بے تاب کا ایک اور شعر ملاحظہ ہو
جو شہیدوں نے لہو سینچا نہ ہوتا بے تاب
یہ جو اسلام کا گلشن ہے بیاباں ہوتا
پرتپال سنگھ بیتاب نے عمدہ مرثیے کہے ہیں۔
اسی طرح امر سنگھ جوش بھی اپنے انداز میں سیدالشہداؑ کو نذرانہ عقیدت مسدس کے اشعار میں یوں پیش کرتے ہیں۔
ظالموں کے اتنے جھانسوں میں بھی تو آیا نہیں
دیکھ کر طاقت کو تیرا دل بھی گھبرایا نہیں
دولتِ دنیا کے آگے صبر جھک پایا نہیں
زندگی ٹھکرائی تو نے عزم ٹھکرایا نہیں
دوسروں میں ایسی جرات کی فراوانی کہاں؟
سارے عالم میں بھلا تیری سی قربانی کہاں؟
چرن سنگھ چرن امام حسینؑ کے آسرے کو منزلِ مراد سمجھتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ
لیا خیال کا جب تیرے آسرا میں نے
ہوا یقیں کہ منزل کو پا لیا میں نے
خدا کرے کہ مجھے خواب میں حسینؑ ملیں
تمام رات اندھیروں میں کی دعا میں نے
سردار جسونت سنگھ راز چونتروی لکھتے ہیں۔
وہ یاد آتے ہی ہو جاتی ہیں آنکھیں اشکبار اب بھی
زمیں ہے مضمحل اب بھی، فضا ہے لالہ زار اب بھی
ڈاکٹر امر جیت ساگر امام ؑ عالی مقام کے حضور یوں ہدیہ سلام پیش کرتے ہیں۔
متاعِ زیست کو اس پر نثار کرتے ہیں
نہ ہم سے پوچھیئے کس غم سے پیار کرتے ہیں
رواں ہے شام و سحر چشمِ درد سے ساگر
غمِ حسینؑ سے ہم بھی تو پیار کرتے ہیں
سردار ترلوک سنگھ سیتل اپنے قلم کو یوں وضو کراتے ہیں۔
جنگ کے میداں کو جب سرور چلے
ہر طرف بھالے، گڑے، خنجر چلے
دھوپ کے صحرا کا منظر الاماں
اوڑھ کر تطہیر کی چادر چلے
اف رے آلِ مصطفٰی پر یہ ستم
بیڑیوں میں پھول سا عابدؑ چلے
سن کے سیتل کربلا کا سانحہ
سینکڑوں خنجر میرے دل پر چلے
ہر چرن سنگھ مہر کے اشعار ملاحظہ ہوں۔
حسینؑ تو نے راہِ حق میں جان دے دی
یہ وہ عمل ہے جو عالی وقار کرتے ہیں
کبھی نصیب ہو ہم کو بھی کربلا کی خاک
یہ وہ دعا ہے جسے بار بار کرتے ہیں
سورج سنگھ سورج کا ایک قطعہ بحضور امام عالی مقام
یہ معجزہ بھی پیاس جہاں کو دکھا گئی
آنکھوں میں آنسوؤں کی سبیلیں لگا گئی
کرب و بلا میں دیکھیئے شبیر ؑ کی ’’نہیں"
ہر دور کے یزید کو جڑ سے مٹا گئی
ہندو شاعرہ روپ کماری کہنہ مشق شاعرہ تھیں۔ قصیدہ، نعت اور مرثیے کے عمدہ اشعار کہے۔ ان کی نظمیں بھی ان کی فکری بلندی کی آئینہ دار ہیں۔ روپ کماری امام ؑ عالی مقام کے حضور یوں ہدیہ عقیدت پیش کرتی ہیں۔
بے دین ہوں، بے پیر ہوں
ہندو ہوں، قاتل شبیر نہیں
حسینؑ اگر بھارت میں اتارا جاتا
یوں چاند محمد کا، نہ دھوکے میں مارا جاتا
نہ بازو قلم ہوتے، نہ پانی بند ہوتا
گنگا کے کنارے غازی کا علم ہوتا
ہم پوجا کرتے اس کی صبح و شام
ہندو بھاشا میں وہ بھگوان پکارا جاتا
ہندو شاعر منشی دیشو پرشاد ماتھر لکھنوی کو اہل بیت اطہار بالخصوص حضرت سیدالشہداء امام حسینؑ کی مدح سرائی کی وجہ سے بڑی شہرت حاصل ہے، وہ کہتے ہیں:
انسانیت حسینؑ تیرے دم کے ساتھ ہے
ماتھر بھی اے حسینؑ تیرے غم کے ساتھ ہے
معروف ہندو شاعر رام پرکاش ساحر کہتے ہیں:
ہے حق و صداقت مرا مسلک ساحر
ہندو بھی ہوں، شبیرؑ کا شیدائی بھی
اسی طرح رائے بہادر بابو اتاردین کے خیالات ملاحظہ کیجیئے:
وہ دل ہو خاک، نہ ہو جس میں اہل بیت کا غم
وہ پھوٹے آنکھ جو روئی نہ ہو محرم میں
سال 1918ء میں معروف ہندو شاعر دلو رام کوثری نے ایک مرثیہ بعنوان ’’قرآن اور حسینؑ ‘‘ کہا تھا، اس کے چند اشعار ملاحظہ ہوں
قرآن اور حسینؑ برابر ہیں شان میں
دونوں کا رتبہ ایک ہے دونوں جہان میں
کیا وصف ان کا ہو کہ ہے لکنت زبان میں
پیہم صدا یہ غیب سے آتی ہے کان میں
قرآں کلام پاک ہے، شبیر ؑ نور ہے
دونوں جہاں میں دونوں کا یکساں ظہور ہے
پنڈت ایسری پرشاد پنڈت دہلوی کہتے ہیں:
نکلیں جو غمِ شہ میں وہ آنسو اچھے
برہم ہوں، جو اس غم میں، وہ آنسو اچھے
رکھتے ہیں جو حسینؑ سے کاوش پنڈت
ایسے تو مسلمانوں سے ہندو اچھے
کئی ایک اردو کے غیر مسلم شعراء کا کلام کالم کا حصہ بنایا جاسکتا ہے، مگر وہی بات کہ کالم اور تحقیقی مقالے کی اپنی اپنی ضروریات اور حد بندیاں ہوتی ہیں۔ ہندو شاعر منشی لچھمن داس مرثیہ گوئی میں منفرد مقام رکھتے ہیں، ان کا ایک قطعہ ملاحظہ ہو، بالخصوص ان کے آخری دو مصرعوں نے عالمگیر شہرت حاصل کی:
کم جس کی خیالیں ہوں، وہ تنویر نہیں ہوں
بدعت سے جو مٹ جائے وہ تصویر نہیں ہوں
پابند شریعت نہ سہی گو لچھمن
ہندو ہوں مگر دشمن شبیر ؑ نہیں ہوں