عید میلاد النبی ﷺ: دنیا میں جشنِ ولادت کے منفرد رنگ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 26-08-2026
 عید میلاد النبی ﷺ: دنیا میں جشنِ ولادت کے منفرد رنگ
عید میلاد النبی ﷺ: دنیا میں جشنِ ولادت کے منفرد رنگ

 



زیبا نسیم 

  عید میلاد النبی ﷺ، جسے عربی میں عام طور پر میلاد یا مولد بھی کہا جاتا ہے، ربیع الاول کی بارہویں تاریخ سے منسوب وہ مبارک موقع ہے جب دنیا بھر کے مسلمان حضور اکرم حضرت محمد ﷺ کی ولادتِ باسعادت کو یاد کرتے ہیں۔ مختلف مسلم معاشروں میں اس دن کی تقریبات ان کی مقامی ثقافت، تاریخی روایات اور مذہبی مزاج کے مطابق مختلف انداز اختیار کرتی ہیں۔کہیں مساجد اور سڑکیں روشنیوں اور جھنڈیوں سے سجائی جاتی ہیں، کہیں بڑے عوامی جلوس نکلتے ہیں، کہیں قرآنِ کریم کی تلاوت اور سیرت النبی ﷺ کے بیانات ہوتے ہیں، جبکہ بعض ممالک میں خاندان اور برادری کے لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر کھانے تقسیم کرتے، نعتیں پڑھتے اور نئی نسل کو رسول اللہ ﷺ کی زندگی اور تعلیمات سے روشناس کراتے ہیں۔اگرچہ جشنِ میلاد کے انداز مختلف ہیں، لیکن ان تقریبات کے درمیان ایک مشترک جذبہ نمایاں ہے: حضور نبی کریم ﷺ سے محبت، آپ کی سیرت کو یاد کرنا اور آپ کی تعلیمات کو اگلی نسل تک منتقل کرنا۔

اجمیر شریف میں جشن میلاد النبی کا منظر

ہندوستان: محافلِ نعت، سیرت اور مقامی روایات

ہندوستان میں عید میلاد النبی ﷺ مختلف علاقوں میں اپنی اپنی مقامی روایات کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ مساجد اور مذہبی مراکز میں قرآنِ کریم کی تلاوت، نعت خوانی اور سیرت النبی ﷺ پر خطابات کا اہتمام ہوتا ہے۔ممبئی، لکھنؤ اور دیگر شہروں میں میلاد کے جلوس بھی نکلتے ہیں۔ ان میں نعتیں پڑھی جاتی ہیں اور بعض مقامات پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے متعلق علامتی ماڈل اور سجاوٹ بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ہندوستان کے کچھ علاقوں میں میلاد کے ساتھ مخصوص مقامی مذہبی رسومات بھی جڑی ہوئی ہیں، جبکہ حضرت بلؒ کی درگاہ، کشمیر میں عقیدت مند بڑی تعداد میں جمع ہوتے ہیں اور حضور اکرم ﷺ سے منسوب مقدس تبرکات کی زیارت بھی میلاد کی روحانی فضا کا حصہ بنتی ہے۔

سری نگر کے حضرت بل میں جشن میلاد النبی کی عبادت کا منظر

 پاکستان: چراغاں، جلوس اور نعتوں کی گونج 

پاکستان میں عید میلاد النبی ﷺ بڑے پیمانے پر مذہبی اور عوامی جوش و خروش کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ 12 ربیع الاول کے موقع پر مساجد، گھروں، بازاروں اور سرکاری و نجی عمارتوں کو خوبصورتی سے سجایا جاتا ہے۔ سبز جھنڈے، بینرز، برقی قمقمے اور دیگر آرائشی اشیا پورے ماحول کو جشنِ میلاد کے رنگ میں رنگ دیتے ہیں۔ملک کے مختلف شہروں میں میلاد کے جلوس نکالے جاتے ہیں جن میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں۔ نعت خوانی، درود و سلام اور سیرت النبی ﷺ کے اجتماعات ان تقریبات کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔ مختلف مقامات پر اسلامی تاریخ سے وابستہ مقدس مقامات کے ماڈل بھی سجائے جاتے ہیں۔وفاقی دارالحکومت اور صوبائی دارالحکومتوں میں اس موقع پر سرکاری سطح کی تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں، جس سے میلاد ایک مذہبی اجتماع کے ساتھ ساتھ قومی سطح کی اہم تقریب بھی بن جاتا ہے۔

بنگلہ دیش: مذہبی اجتماعات اور سیرت کے پروگرام

بنگلہ دیش میں میلاد النبی ﷺ کے موقع پر مساجد، مدارس اور مذہبی مراکز میں خصوصی پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔ قرآنِ کریم کی تلاوت، نعت خوانی، درود و سلام اور رسول اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ پر خطابات عام روایت ہیں۔کئی علاقوں میں عوامی اجتماعات کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق، عدل، رحم اور انسانیت دوستی کے پہلو اجاگر کیے جاتے ہیں۔ خاندانوں میں بھی اس موقع پر خصوصی مجالس اور اجتماعات کا اہتمام کیا جاتا ہے، جہاں بچوں اور نوجوانوں کو سیرتِ طیبہ سے واقف کرانے پر توجہ دی جاتی ہے۔

چین میں جشن میلاد النبی

تیونس: قومی تعطیل اور قیروان کی عظیم مذہبی تقریب

تیونس میں عید میلاد النبی ﷺ کو قومی اہمیت حاصل ہے اور یہ دن قومی تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر اسکول، بینک اور کئی کاروباری مراکز بند رہتے ہیں۔ملک کی مذہبی روایات میں قیروان کی جامع عقبہ بن نافع مسجد کی تقریب کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہاں قرآنِ کریم کی تلاوت اور معروف علما کے خطابات کے ساتھ خصوصی مذہبی اجتماع منعقد ہوتا ہے جس میں اہم سرکاری و مذہبی شخصیات بھی شریک ہوسکتی ہیں۔گھروں میں بھی خاندان ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں اور روایتی کھانے تیار کیے جاتے ہیں۔ ان میں عصیدہ ایک معروف تیونسی میٹھا ہے جسے اس موقع کی روایتی خوراک میں شمار کیا جاتا ہے۔

ایتھوپیائی جشن میلاد النبی

لبنان: صوفی روایت اور روحانی اجتماعات

لبنان میں میلاد النبی ﷺ کی تقریبات میں صوفیانہ روایت کے مختلف رنگ نظر آتے ہیں۔ جنوبی شہر صیدا اور شمالی شہر طرابلس میں میلاد سے منسلک مذہبی اور روحانی اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔بعض صوفی حلقوں میں ذکر و اذکار اور مخصوص روحانی رسومات ادا کی جاتی ہیں، جبکہ طرابلس میں درویشوں کی گھومتی ہوئی سماع بعض تقریبات میں ایک نمایاں روحانی علامت کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔یہاں میلاد مذہبی عقیدت کے ساتھ صوفی روایت، ذکر اور اجتماعی روحانیت کے اظہار کا موقع بھی بن جاتا ہے۔

انڈونیشیا: اسلامی روایت اور مقامی تہذیب کا سنگم

انڈونیشیا میں میلاد النبی ﷺ کی تقریبات مقامی ثقافت اور اسلامی روایت کے منفرد امتزاج کی مثال پیش کرتی ہیں۔وسطی جاوا میں بعض علاقوں میں ’’گونگنان‘‘ نامی مخروطی شکل کے نذرانے محل یا مرکزی مقام سے مسجد تک لے جائے جاتے ہیں۔ مذہبی شخصیات کی دعا کے بعد انہیں لوگوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جس میں اجتماعی برکت اور خیر کا تصور نمایاں ہوتا ہے۔

بعض مقامات پر قرآنِ کریم کی تعلیم مکمل کرنے والے بچوں کو خصوصی لباس پہنا کر گھوڑوں پر بٹھایا جاتا ہے۔ بچے جلوس کی شکل میں نکلتے ہیں اور خاندان، پڑوسی اور ان کے ساتھی ان کے ہمراہ ہوتے ہیں۔مغربی جاوا میں میلاد کے ساتھ خود احتسابی اور روحانی پاکیزگی کی علامتی رسومات بھی بعض مقامی روایات کا حصہ ہیں۔

مصر: مذہبی اجتماع سے عوامی تہوار تک

مصر میں میلاد النبی ﷺ مذہبی اور سماجی دونوں رنگوں میں نظر آتا ہے۔ مساجد اور دینی مراکز میں سیرت، قرآن خوانی اور مذہبی اجتماعات کے ساتھ ساتھ بعض شہروں میں میلاد نے ایک وسیع عوامی تہوار کی شکل بھی اختیار کی ہے۔اس موقع پر خصوصی میلاد کی مٹھائیاں تیار کی جاتی ہیں جو خاندانوں اور بچوں میں تقسیم ہوتی ہیں۔ بازاروں اور عوامی مقامات پر بھی جشن کی فضا دکھائی دیتی ہے۔یوں مصر میں میلاد ایک ایسا موقع بن جاتا ہے جس میں مذہبی یاد، خاندانی اجتماع اور مقامی تہذیبی روایت ایک دوسرے میں گھل مل جاتی ہیں۔

ترکی: میولِد قندیل کی روحانی رات

ترکی میں میلاد النبی ﷺ کو عموماً میولِد قندیل کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر مساجد میں خصوصی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں اور قرآنِ کریم کی تلاوت، درود و سلام اور میولِد شریف کی قرأت کی جاتی ہے۔گھروں میں بھی لوگ عبادت، دعا اور رسول اکرم ﷺ کی سیرت کے مطالعے کے ذریعے اس موقع کو یاد کرتے ہیں۔ یہاں تقریبات عموماً پُرسکون، روحانی اور عبادت پر مرکوز ہوتی ہیں۔

عراق، لیبیا  اور مراکش میں جشن میلاد النبی

ملائیشیا: اجتماعی کھانے اور عوامی مذہبی پروگرام

ملائیشیا میں میلاد النبی ﷺ کو مولِد الرسول کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مساجد اور اسلامی مراکز میں نعت، درود و سلام، قرآن خوانی اور سیرتِ رسول ﷺ کے بیانات منعقد کیے جاتے ہیں۔کئی مقامات پر اجتماعی پروگرام اور عوامی اجتماعات بھی ہوتے ہیں۔ کھانے کی تقسیم اور اجتماعی ضیافت کے ذریعے اہلِ محلہ، خاندان اور کمیونٹی کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ خوشیاں بانٹتے ہیں۔یہاں میلاد کی تقریبات میں مقامی ملائی ثقافت اور اسلامی روایت کا امتزاج نمایاں نظر آتا ہے۔

برونائی: اجتماعی عقیدت اور دینی اجتماعات

برونائی میں میلاد النبی ﷺ کے موقع پر مساجد اور مذہبی اداروں میں خصوصی اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ تلاوتِ قرآن، نعت خوانی، درود و سلام اور سیرتِ رسول ﷺ پر خطابات ان پروگراموں کا حصہ ہوتے ہیں۔اجتماعی ملاقاتوں اور کھانے کی تقسیم کے ذریعے بھی میلاد کی خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ان تقریبات میں رسول اکرم ﷺ کے اخلاق، رحم، عدل اور باہمی بھائی چارے کو خاص طور پر اجاگر کیا جاتا ہے۔

یمن کی راجدھانی صنعا میں میلادِ النبی کا جشن

برطانیہ: مسجد سے گھر تک سادہ تقریبات

برطانیہ میں میلاد النبی ﷺ کی تقریبات عام طور پر نسبتاً سادہ اور کمیونٹی پر مرکوز ہوتی ہیں۔ مساجد میں خصوصی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں، جبکہ اسلامی اسکول اور کمیونٹی ادارے بچوں اور نوجوانوں کے لیے سیرت سے متعلق پروگرام ترتیب دیتے ہیں۔بہت سے خاندان اپنے گھروں میں سیرت کی کتابیں پڑھتے، نعتیں سنتے اور بچوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے واقعات پر گفتگو کرتے ہیں۔ بعض کمیونٹیز بچوں کے لیے کہانی سنانے، دستکاری اور تعلیمی سرگرمیوں کو بھی میلاد کا حصہ بناتی ہیں۔

امریکہ: نئی نسل کو سیرت سے جوڑنے کی کوشش

امریکہ میں بھی میلاد النبی ﷺ عموماً مسجد، اسلامی مرکز اور خاندان کے گرد گھومنے والی تقریبات کے ذریعے منایا جاتا ہے۔اسلامی مراکز میں سیرت النبی ﷺ کے پروگرام، نعتیہ محافل اور دینی مجالس منعقد ہوتی ہیں، جبکہ ہفتہ وار اسلامی اسکولوں میں بچوں کے لیے خاص تعلیمی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔والدین اس موقع کو نئی نسل کو حضور اکرم ﷺ کے کردار، اخلاق، صبر اور انسانیت سے محبت کے بارے میں بتانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح میلاد مذہبی جشن کے ساتھ ساتھ اسلامی تربیت کا ایک ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔

مختلف ملک، مختلف روایت؛ محبت ایک

دنیا کے مختلف ممالک میں عید میلاد النبی ﷺ کے انداز ایک جیسے نہیں۔ کہیں یہ قومی تعطیل ہے، کہیں بڑے جلوس اس کی پہچان ہیں، کہیں صوفیانہ محافل روحانی رنگ پیدا کرتی ہیں، کہیں روایتی کھانے اور مٹھائیاں اس دن کی خوشی کا حصہ بنتی ہیں اور کہیں اس موقع کو بچوں کی دینی تربیت اور سیرت کے مطالعے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔پاکستان میں چراغاں اور جلوس، ہندوستان میں محافل و جلوس، تیونس میں قومی تقریب، لبنان میں صوفیانہ روایت، انڈونیشیا میں مقامی تہذیب کا امتزاج، مصر میں عوامی تہوار، ترکی میں میولِد قندیل اور جنوب مشرقی ایشیا میں اجتماعی اجتماعات—سب اپنے اپنے انداز میں محبتِ رسول ﷺ کا اظہار ہیں۔

اٹلی میں میلاد النبی کا شاندار جلوس

ان تمام روایات میں ایک مشترک دھاگا نمایاں ہے: حضور اکرم ﷺ کی سیرت، آپ کے کردار اور آپ کی تعلیمات کو یاد رکھنا اور انہیں اگلی نسل تک پہنچانا۔اسی لیے دنیا کے کسی بڑے شہر کی روشن سڑک ہو، کسی گاؤں کی سادہ مسجد، کسی گھر کی مختصر محفل یا کسی بڑے عوامی اجتماع کا منظر—میلاد النبی ﷺ اپنی بنیادی روح میں محبت، عقیدت، رحمت، اخلاق اور سیرتِ نبوی ﷺ سے وابستگی کا پیغام دیتا ہے۔