لفظوں کے پیچھے چھپی تہذیب

Story by  اے ٹی وی | Posted by  [email protected] | 25 d ago
لفظوں کے پیچھے چھپی تہذیب
لفظوں کے پیچھے چھپی تہذیب

 

معصوم مرادآبادی

یوں تو اردو میں لاتعداد کتابیں شائع ہوتی ہیں۔ان میں کچھ کتابیں وہ ہوتی ہیں جن کی اشاعت کامقصد صاحبِ کتاب کہلوانا ہوتا ہے۔ کچھ کتابیں وہ ہوتی ہیں جو مادی ضرورتوں کے تحت لکھی اور شائع کی جاتی ہیں، لیکن اردو میں ایسی کتابوں کی اشاعت کا چلن عام نہیں ہے جو ہماری مٹتی ہوئی تہذیب کو زندہ کرنے کا شعور رکھتی ہوں اور جو مکمل جذبہ خلوص سے عبارت ہوں۔پچھلے دنوں ایسی ہی ایک کتاب منظرعام پر آئی جس میں ہماری تیزی سے مٹتی ہوئی تہذیبی نشانیوں کی ایک مستند فرہنگ تیار کی گئی ہے۔کتاب کا نام ہے ”لفظوں کے پیچھے چھپی ہوئی تہذیب:تہذیبی فرہنگ“۔ اس قیمتی کتاب کی صورت گری محترمہ نعیمہ جعفری پاشا نے کی ہے۔ظاہر ہے فرہنگ سازی کوئی آسان کام تو نہیں ہے۔ اس میں اچھے اچھوں کی ایڑیوں میں پسینہ آجاتا ہے، لیکن ممتاز افسانہ نگار محترمہ نعیمہ جعفری پاشا نے یہ کتاب شائع کرکے اردو والوں پر بڑا احسان کیا ہے۔ ایک ہزار صفحات پر مشتمل اس غیر معمولی کتاب میں لفظوں کے پیچھے چھپی ہوئی تہذیب کی بازیافت کا کارنامہ انجام دیا ہے۔ اپنی مٹتی ہوئی تہذیب کادرد ان کے اس شعر سے بھی جھلکتاہے۔

گزری یادیں،گزری باتیں،بیتے دن اور بچھڑے لوگ

وہ تہذیبیں، وہ افسانے، شیریں زباں اور میٹھے لوگ

نعیمہ جعفری پاشاایک افسانہ نگار،محقق اورشاعرہ ہیں۔انھوں نے بچوں کے لیے بھی کہانیاں لکھی ہیں، لیکن ان کی بنیادی شناخت ایک اہم خاتون فکشن نگار کی ہے اور وہ حساس سماجی مسائل کو اپنی کہانیوں میں پیش کرنے کے لیے معروف ہیں۔ان کی اہم کتابوں میں ”آٹھ راتیں،سات کہانیاں“اور”پھر کیا ہوا“(ادب اطفال) ایسا بھی دور“،”دھوپ کے ساتوں رنگ“،”دیدہ ور“،”ٹوٹا ہوا آدمی“،”مانو یا نہ مانو“،”حقیقت سے فسانے تک“(فکشن)اور ”فرہنگ کلیات نظیراکبرآبادی“ شامل ہیں۔اس کے علاوہ خاکوں کے دومجموعے”شجرسایہ دار“اور ”یادرفتگاں“ بھی شائع ہوچکے ہیں۔

محترمہ نعیمہ جعفری پاشا کا تعلق آگرہ کے ایک مقتدرعلمی خانوداے سے ہے۔انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پی ایچ ڈی کی ہے۔نظیراکبرآبادی پر ان کا پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ انھوں نے لڑکیوں اور خواتین کو اردو تعلیم کی طرف راغب کر نے کے اور ان کی ادبی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے ”پرواز“ نامی ایک ادبی کلب بھی قایم کیا ہے۔ان کا پس منظر اور پیش منظر ادبی اورتہذیبی ہے۔ان کی پرورش جس ماحول میں ہوئی وہ شعروادب سے عبارت تھا۔ان کے تایا علامہ میکش اکبرآبادی کو لوگ اسلامی علوم، تصوف،شعروادب اور اردو ثقافت کے ایک مرکز کے طورپر جانتے ہیں۔یوں تو انھوں نے علی گڑھ اور جامعہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے،لیکن زبان وادب کے معاملے میں انھیں اساتدہ کے علاوہ اپنے ایسے بزرگ کی رہنمائی بھی حاصل رہی جس کی حیثیت زبان وادب کے معاملے میں استادالاساتذہ کی تھی۔ان کے والد سید احمد علی شاہ جعفری راجستھان کیڈر کے آئی اے ایس آفیسر تھے اور خود بھی ایک بلند پایہ شاعر اور نثر نگار تھے۔نعیمہ جعفری پاشا کی پیدائش جے پور میں ہوئی۔ ان کی والدہ کا تعلق جے پور کے ایک مشہور صوفی جاگیر دار خاندان سے تھا۔ان کے نانا مولانا انوارالرحمن بسمل جے پوری کثیرالتصانیف ادیب وشاعر تھے اور والدہ نجمہ جعفری بھی صاحب دیوان شاعرہ تھیں۔ اس اعتبار سے شعروادب کے معاملے میں نعیمہ جعفری پاشا نجیب الطرفین ہیں۔ ان کی پوری شخصیت مشرقی تہذیب میں ڈھلی ہوئی ہے۔ان میں جو تواضع، نرمی اورانکسار پایا جاتا ہے،وہ ان ہی کا خاصہ ہے۔

اب آئیے ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ان کی ’تہذیبی فرہنگ‘ پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں۔ موجودہ دور میں ہمارے افسانہ نگار، شاعر، ادیب اور صحافی ایسے موضوعات پر قلم اٹھاتے ہیں، جہاں انھیں کم سے کم محنت کرکے زیادہ سے زیادہ شہرت اور پذیرائی حاصل ہو۔ لیکن محترمہ نعیمہ جعفری پاشا نے ایک ایسا کام کرنے کی ٹھانی جس میں محنت ومشقت اور درد سری سب سے زیادہ تھی۔ مجھے خوشی ہے کہ وہ اس مرحلے سے کامیاب اور کامران ہوکر گزریں۔ انھوں نے ’لفظوں کے پیچھے چھپی ہوئی تہذیب‘ کی بازیافت کا جو کارنامہ انجام دیا ہے، اس کے لیے انھیں تادیر یاد رکھا جائے گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ روزمرہ کی زبان میں بولے جانے والے الفاظ کی تشریح کرنے کے لیے انھوں نے محض کتابوں کا سہارا نہیں لیا بلکہ اس بیش قیمت کتاب میں اپنے ذاتی تجربات ومشاہدات کا نچوڑ پیش کیا ہے، جس سے اس کتاب کا رنگ دوآتشہ ہوگیا ہے۔ ہم روزمرہ زندگی میں جن الفاظ اور محاروں کا استعمال کرتے ہیں، ان میں سے بیشتر کے پس منظر سے واقف نہیں ہوتے، لیکن محترمہ نعیمہ جعفری نے ان الفاظ کی ایک ایسی فرہنگ تخلیق کی ہے جو کئی اعتبار سے منفرد اور یکتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود وہ خود کو’خاتون خانہ‘ کہلانا پسندکرتی ہیں اور یہ وہ لفظ ہے جو آج ہماری زندگی سے اوجھل ہوا چاہتا ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب کیپیش لفظ  میں لکھا ہے کہ:

صدیوں سے مادری زبان کی اہمیت اسی لیے چلی آرہی ہے کہ بچہ جوزبان ماں سے سیکھتا ہے، وہی اس کی پہچان ہوتی ہے۔بدقسمتی سے آج کی ہندوستانی مائیں اپنے بچوں کو ودیشی زبان سکھاتی ہیں، اس طرح نہ صرف اپنی مادری زبان بلکہ اپنی تہذیب سے بھی دور کردیتی ہیں۔ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی مادری زبان کی حفاظت کریں۔ اپنی تہذیب کو یاد رکھیں اور پہچان قایم رکھیں۔اپنے بچوں کو چیزوں کی پہچان کرواتے ہوئے انگریزی ناموں سے واقف کرواتے ہیں۔بڑے ہوکر وہ جانتے ہی نہیں کہ ان چیزوں کو ان کی مادری زبان میں کیا کہتے ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ ’رکابی‘ کیا ہوتی ہے۔’قاب‘ کسے کہتے ہیں۔’دسترخوان‘ پر کھانا کھایا جاتا ہے۔’لوٹے‘ سے ہاتھ دھوئے جاتے ہیں۔’چارپائی‘ اور ’پلنگ‘ بھی فرنیچر میں شامل ہیں۔وہ صرف زبان ہی نہیں بلکہ اپنی تہذیب سے بھی نابلد ہیں۔

ایک تہذیب تھی جس میں شرم وحیا، ادب آداب، لحاظ، مروت، احترام اور پاکبازی کی خوشبو تھی، رشتوں کا احترام تھا، رواداری تھی، انسانیت کی قدریں تھیں۔ یہ تہذیب زبان کے ہر لفظ سے عیاں تھی۔ اس لیے اردو اپنے اندر اتنی کشش رکھتی تھی کہ غیراردو داں بھی اس کے حسن اور شیرینی پر فدا تھے۔اس فرہنگ کا مقصد یہی ہے کہ اردو کے ان کھوئے ہوئے لفظوں کو زندہ کرکے نئی نسل کو اپنی قدیم تہذیب سے واقف کروایا جائے تاکہ وہ کم سے کم اس زبان اور تہذیب سے نابلد نہ رہیں۔

محترمہ نعیمہ جعفری پاشانے اس کتاب کا انتساب اپنے ان بزرگوں کے نام کیا ہے، جنھوں نے انھیں لفظیات سے واقف کروایا اور ان لفظیات کو معنی دئیے۔ان کو درحقیقت اپنی تیزی سے مٹتی ہوئی تہذیب اور زبان کا ملال ہے۔ ہم سب ہی اس کا ماتم کرتے ہیں، لیکن انھوں نے صرف ماتم پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ عمل کے میدان میں قدم رکھ کر چار سال کی طویل محنت اور مشقت کے بعد اردو والوں کو ’تہذیبی فرہنگ‘ کی صورت میں ایک بیش قیمت کتاب پیش کردی ہے، جس کے لیے پوری اردو دنیا کو ان کا ممنون احسان ہونا چاہئے