مکہ : دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے حج صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ زندگی کا سب سے مقدس اور روحانی سفر سمجھا جاتا ہے۔ ہر سال لاکھوں مسلمان سعودی عرب پہنچ کر خانۂ کعبہ کا طواف کرتے ہیں۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی انجام دیتے ہیں۔ میدانِ عرفات میں وقوف کرتے ہیں اور منیٰ و مزدلفہ میں قیام کے مراحل مکمل کرتے ہیں۔ مگر اب ایک نئی بین الاقوامی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی عالمی گرمی اس عظیم عبادت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔
تحقیق کے مطابق 2024 کے حج کے دوران شدید گرمی اور نمی نے ایسے حالات پیدا کر دیے تھے جن میں انسانی جسم کے لیے قدرتی طور پر خود کو ٹھنڈا رکھنا تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر دنیا نے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو آنے والے برسوں میں حج کا سفر لاکھوں افراد کے لیے مزید خطرناک ہو سکتا ہے۔
نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
یہ تحقیق ایک ماہرِ موسمیات Atta Ullah اور جرمنی کے تحقیقی ادارے Climate Analytics کے ماہرین نے مشترکہ طور پر انجام دی۔ اس تحقیق میں 2024 کے حج کے دوران مکہ مکرمہ اور دیگر مقدس مقامات پر درجہ حرارت اور نمی کے تفصیلی اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ جون 2024 کے دوران بعض اوقات گرمی اور نمی کا امتزاج اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ نوجوان اور مکمل صحت مند افراد کے لیے بھی کھلے ماحول میں موجود رہنا جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا۔ سائنس دانوں نے واضح کیا کہ جب درجہ حرارت اور نمی ایک ساتھ بڑھتے ہیں تو انسانی جسم پسینے کے ذریعے خود کو ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت کھونے لگتا ہے۔ ایسے حالات میں جسم کا اندرونی درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے جس سے ہیٹ اسٹروک۔ پانی کی شدید کمی۔ دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور حتیٰ کہ موت کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
.webp)
چار مسلسل گھنٹے۔ جب جسم نے جواب دینا شروع کیا
تحقیق کے مطابق 17 جون 2024 کو صورتحال انتہائی تشویشناک رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً مسلسل چار گھنٹوں تک ایسا ماحول رہا جہاں انسانی جسم پسینے کے ذریعے اپنے درجہ حرارت کو محفوظ سطح پر برقرار رکھنے میں ناکام ہو گیا۔
رپورٹ کے مطابق ان چار گھنٹوں کے دوران اگر کوئی شخص کھلے آسمان تلے موجود رہتا اور اسے فوری ٹھنڈک یا سایہ میسر نہ آتا تو اس کی جان خطرے میں پڑ سکتی تھی۔ یہ صورتحال صرف ضعیف افراد یا بیمار حاجیوں کے لیے ہی خطرناک نہیں تھی بلکہ نوجوان اور طاقتور افراد بھی اس سے محفوظ نہیں تھے۔
ماہرین نے کہا کہ حج کے دوران جسمانی مشقت پہلے ہی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ لاکھوں افراد شدید رش میں مسلسل چلتے ہیں۔ دعائیں کرتے ہیں۔ طواف کرتے ہیں اور مختلف مقامات کے درمیان سفر کرتے ہیں۔ اس مسلسل حرکت اور جسمانی دباؤ کی وجہ سے انسانی جسم گرمی کے اثرات کا زیادہ تیزی سے شکار ہوتا ہے۔
حج کے اہم مراحل اور بڑھتی ہوئی گرمی
حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں شامل ہے اور ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار حج فرض ہے۔ یہ عبادت پانچ دنوں پر مشتمل ہوتی ہے اور اس دوران حاجیوں کو کئی اہم مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔
سب سے پہلے لاکھوں مسلمان خانۂ کعبہ کا طواف کرتے ہیں۔ اس کے بعد صفا اور مروہ کے درمیان سعی ادا کی جاتی ہے۔ پھر حاجی منیٰ روانہ ہوتے ہیں جہاں خیموں میں قیام کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد میدانِ عرفات میں وقوف ہوتا ہے جسے حج کا سب سے اہم رکن قرار دیا جاتا ہے۔ غروبِ آفتاب کے بعد حاجی مزدلفہ پہنچتے ہیں اور پھر دوبارہ منیٰ جا کر رمی جمرات یعنی شیطان کو کنکریاں مارنے کی رسم ادا کرتے ہیں۔
یہ تمام مراحل زیادہ تر کھلے میدانوں اور شدید گرم موسم میں انجام دیے جاتے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ان مقامات پر درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے عبادت کی ادائیگی پہلے سے کہیں زیادہ دشوار بنتی جا رہی ہے۔
.webp)
میدانِ عرفات سب سے زیادہ خطرناک مقام قرار
تحقیق میں خاص طور پر میدانِ عرفات کو سب سے زیادہ خطرناک مقام قرار دیا گیا ہے۔ یومِ عرفات کے دوران لاکھوں حاجی ایک ہی دن میں کھلے میدان میں جمع ہوتے ہیں جہاں قدرتی سایہ انتہائی کم ہوتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق حاجیوں کو اس دوران گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہنا پڑتا ہے جبکہ درجہ حرارت بعض اوقات پچاس ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ شدید نمی کے باعث پسینہ بخارات میں تبدیل نہیں ہو پاتا جس سے جسم مزید گرم ہوتا چلا جاتا ہے۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگر مستقبل میں گرمی کی شدت میں مزید اضافہ ہوا تو میدانِ عرفات میں روایتی انداز میں عبادت کی ادائیگی بہت مشکل ہو سکتی ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ آنے والے عشروں میں انتظامیہ کو مزید بڑے پیمانے پر حفاظتی اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔
روایتی حج میں تبدیلیاں شروع
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شدید گرمی کے اثرات کے باعث حج کے بعض انتظامات میں پہلے ہی تبدیلیاں لائی جا چکی ہیں۔ صفا اور مروہ کے درمیان سعی اب زیادہ تر ایئرکنڈیشنڈ اور اندرونی حصوں میں انجام دی جاتی ہے تاکہ حاجیوں کو گرمی سے بچایا جا سکے۔
اسی طرح منیٰ میں بڑے پیمانے پر مستقل شیڈز۔ خیمے اور ٹھنڈک فراہم کرنے والے نظام نصب کیے گئے ہیں۔ جگہ جگہ پانی کے اسپرے۔ پنکھے اور کولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں تاکہ گرمی کے اثرات کم کیے جا سکیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اقدامات انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں مگر ان سے حج کے روایتی ماحول میں تبدیلی آ رہی ہے۔ بعض عبادات جو تاریخی طور پر کھلے ماحول میں انجام دی جاتی تھیں اب انہیں محفوظ بنانے کے لیے جدید ڈھانچوں کے اندر منتقل کیا جا رہا ہے۔
.webp)
2050 کے بعد صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے
تحقیق کے مطابق آنے والے بیس سے تیس برسوں میں حج نسبتاً ٹھنڈے مہینوں میں ادا کیا جائے گا کیونکہ اسلامی قمری کیلنڈر ہر سال آگے بڑھتا ہے۔ اس سے وقتی طور پر گرمی کے خطرات میں کچھ کمی آئے گی۔
لیکن سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ تقریباً 2050 کے بعد حج دوبارہ شدید گرم موسموں میں واپس آ جائے گا۔ اس وقت تک اگر عالمی حدت میں اضافہ جاری رہا تو مکہ مکرمہ اور اطراف کے علاقوں میں گرمی کی شدت پہلے سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
تحقیق میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ مستقبل میں ہیٹ ویوز زیادہ طویل اور خطرناک ہوں گی جبکہ نمی کی سطح بھی بڑھ سکتی ہے۔ ایسے حالات میں لاکھوں افراد کا ایک ساتھ کھلے ماحول میں جمع ہونا صحت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
صرف حفاظتی انتظامات کافی نہیں
ماہرین نے کہا ہے کہ اگرچہ سعودی عرب کی جانب سے کولنگ سسٹمز۔ شیڈز۔ پانی کی فراہمی اور طبی سہولتوں جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں مگر یہ خطرے کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتے۔
تحقیق میں واضح کیا گیا کہ اصل مسئلہ عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہے۔ جب تک دنیا کاربن اخراج میں کمی اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مؤثر عالمی اقدامات نہیں کرتی اس وقت تک خطرات بڑھتے رہیں گے۔
سائنس دانوں نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ اب یہ مذہبی آزادی۔ انسانی صحت اور عالمی ثقافتی روایات کے تحفظ کا معاملہ بھی بن چکی ہے۔
حج صرف عبادت نہیں۔ انسانی برداشت کا امتحان بھی
ہر سال دنیا کے مختلف خطوں سے بزرگ۔ خواتین۔ بچے اور بیمار افراد بھی حج کے لیے آتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے افراد گرم موسم کے عادی نہیں ہوتے۔ بعض افراد کو دل۔ شوگر یا سانس کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔ شدید گرمی ایسے حاجیوں کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
2024 کے حج کے دوران شدید گرمی کے باعث سینکڑوں افراد کی اموات اور ہزاروں افراد کے بیمار ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کی رفتار یہی رہی تو مستقبل میں ایسے واقعات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
مذہبی اجتماعات بھی موسمیاتی تبدیلی کی زد میں
تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف برفانی تودوں کے پگھلنے یا سمندری سطح بلند ہونے تک محدود مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ دنیا کے بڑے مذہبی اجتماعات اور عبادات کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
حج دنیا کا سب سے بڑا سالانہ مذہبی اجتماع ہے اور اس میں لاکھوں افراد ایک محدود مقام پر جمع ہوتے ہیں۔ اس لیے یہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات زیادہ واضح اور خطرناک صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
عالمی برادری کے لیے واضح پیغام
ماہرین نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ اگر دنیا نے فوری اقدامات نہ کیے تو آئندہ نسلوں کے لیے حج کی ادائیگی پہلے سے کہیں زیادہ مشکل اور خطرناک ہو سکتی ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ کاربن اخراج کم کرنے۔ صاف توانائی کے استعمال کو فروغ دینے اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اجتماعی کوششوں کو تیز کیا جائے تاکہ نہ صرف انسانی جانوں کو بچایا جا سکے بلکہ حج جیسے عظیم روحانی سفر کی اصل روح اور روایت کو بھی محفوظ رکھا جا سکے۔