بشیر بدر کی شاعری ۔ مشاعروں سے ایوان تک

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 30-05-2026
بشیر بدر کی شاعری ۔  مشاعروں سے ایوان تک
بشیر بدر کی شاعری ۔ مشاعروں سے ایوان تک

 



نئی دہلی:: آواز دی وائس

اردو غزل کی دنیا آج سوگوار ہے۔ معروف شاعر۔ پدم شری ڈاکٹر بشیر بدر اب ہم میں نہیں رہے۔ بھوپال میں 91 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا۔ عیدالاضحیٰ کے دن رخصت ہونے والے بشیر بدر اپنے پیچھے ایک ایسا ادبی سرمایہ چھوڑ گئے ہیں جو آنے والی نسلوں تک زندہ رہے گا۔بشیر بدر کو جدید اردو غزل کا اہم ترین شاعر مانا جاتا تھا۔ ان کی شاعری میں محبت۔ تنہائی۔ جدائی اور زندگی کے تلخ تجربات نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کے کئی اشعار عوام میں بے حد مقبول ہوئے اور آج بھی زبان زد عام ہیں۔

بشیر بدر صرف ایک شاعر نہیں تھے بلکہ وہ احساس۔ محبت۔ تنہائی اور انسانی رشتوں کے ترجمان تھے۔ ان کی شاعری نے اردو غزل کو ایک نئی زبان۔ نیا انداز اور نئی تازگی دی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار صرف مشاعروں تک محدود نہیں رہے بلکہ ہندوستانی سیاست کے ایوانوں تک بھی پہنچے۔

مودی اور گھرگے کے درمیان شاعرانہ مقابلہ

وزیر اعظم نریندر مودی  اور کانگریس لیڈر ملکارجن کھڑگے کے درمیان ایک دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملا تھا ۔ جب چھ فروری 2018 میں لوک سبھا کے اندر ایک دلچسپ منظر دیکھنے کو ملا۔ کانگریس لیڈر ملکارجن کھڑگے نے اپنی تقریر کے دوران بشیر بدر کا مشہور شعر پڑھا:

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے

جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

یہ شعر سیاسی اختلاف کے باوجود تعلقات میں شائستگی اور احترام کا پیغام دیتا ہے۔

مگر اگلے ہی دن وزیر اعظم نریندر مودی نے اسی ماحول میں بشیر بدر کا ایک اور شعر پڑھ کر سیاسی طنز کا انداز اپنایا۔ جب پی ایم  مودی نے کہا۔۔۔۔

جی بہت چاہتا ہے سچ بولیں

کیا کریں حوصلہ نہیں ہوتا

یہ شعر فوراً سرخیوں میں آگیا اور پارلیمنٹ کے اندر ایک یادگار ادبی و سیاسی تبادلے کے طور پر یاد کیا جانے لگا۔

بشیر بدر کے اشعار سیاست دانوں کے دلوں میں کس قدر جگہ رکھتے تھے اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ دسمبر 2016 میں راہل گاندھی نے اتراکھنڈ کے الموڑا میں نوٹ بندی کے خلاف تقریر کرتے ہوئے ان کا یہ مشہور شعر سنایا

لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں

تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

اس شعر کے ذریعے راہل گاندھی نے عام لوگوں کی مشکلات اور معاشی پریشانیوں کو بیان کرنے کی کوشش کی تھی۔

دراصل یہ شعران کا درد بیان کرتا ہے کیونکہ بشیر بدر کی زندگی میں کئی تلخ موڑ بھی آئے۔ 1987 کے میرٹھ فسادات کے دوران ان کا گھر جل گیا تھا۔ اس آتش زدگی میں ان کا قیمتی سامان۔ کتابیں اور برسوں کا ادبی سرمایہ بھی تباہ ہوگیا۔ یہ حادثہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ سمجھا جاتا ہے۔

اس سانحے کے بعد وہ میرٹھ چھوڑ کر بھوپال منتقل ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ اس واقعے نے ان کی شاعری کو مزید درد۔ گہرائی اور اثر انگیزی عطا کی۔ ان کی بعد کی غزلوں میں تنہائی۔ بچھڑنے اور ٹوٹنے کے احساسات زیادہ نمایاں نظر آنے لگے۔

جب بھٹو نے پڑھا بشیر بدر کا شعر ۔۔

ان کے ایک مشہور شعر نے 1972 میں سب سے زیادہ تاریخی اہمیت حاصل کی ۔جب پاکستان کے اُس وقت کے وزیر اعظم  ذوالفقارعلی بھٹو نے شملہ معاہدے پر دستخط کے موقع پر ہندستان کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے سامنے یہ شعر پڑھا۔  

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

یعنی دشمنی ضرور کرو مگر اتنی گنجائش باقی رہے کہ اگر کبھی دوستی ہوجائے تو شرمندگی محسوس نہ ہو۔

یاد رہے کہ بشیر بدر گزشتہ کئی برسوں سے ڈیمنشیا کے مرض میں مبتلا تھے۔ یہ بیماری آہستہ آہستہ ان کی یادداشت کو کمزور کرتی گئی۔ فروری 2018 میں ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران وہ اپنے ہی اشعار بھولتے ہوئے دکھائی دیے۔ یہ منظر ان کے مداحوں کے لیے انتہائی جذباتی تھا۔

15 فروری 1935 کو ہندستان میں پیدا ہونے والے بشیر بدر نے اردو غزل کو نئی جہت دی۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ ان کی شادی راحت بدر سے ہوئی تھی۔زمانہ طالب علمی سے لے کر ملازمت کے دوران تک وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ رہے۔ وہ اردو اکادمی کے سربراہ بھی رہے جبکہ ہندستان میں ایم اے اردو کے نصاب میں ان کی شاعری شامل کی گئی۔انہیں 1999 میں ہندستان کے اہم شہری اعزاز پدم شری سے نوازا گیا۔ اسی سال ان کی شاعری پر ساہتیہ اکادمی نے بھی ایوارڈ دیا۔

 جی ہاں ! یہ تھی بشیر بدر کے الفاظ کی طاقت،ان کی شاعری کا جادو،جس نے انہیں عوام کے ساتھ سیاستدانوں میں بھی ہر کسی کے لیے قابل قبول بنایا تھا۔آج بشیر بدر  دنیا میں نہیں۔مگرحقیقت یہ ہے کہ شاعر کبھی مرتے نہیں۔ان کی شاعری ہمیشہ زندہ رکھتی ہے ۔ بشیر بدر بھی عام اور خاص کے دلوں اور زبان پر ہمیشہ زندہ رہیں گے