ہمیشہ دلوں میں زندہ رہے گی بشیر بدر کی شاعری

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 29-05-2026
بشیر بدر۔ ایک شاعر جسن کے اشعار نسلوں کے احساسات بن گئے
بشیر بدر۔ ایک شاعر جسن کے اشعار نسلوں کے احساسات بن گئے

 



زیبا نسیم : ممبئی

 حقیقت یہی ہے کہ بشیر بدر جیسا سریلا شاعر ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہوگیا، لیکن اس کی شاعری ہمیشہ زندہ رہے گی۔

بشیر بدر نئی اردو غزل کے اُن منفرد اور بااثر شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے غزل کو ایک نیا لہجہ اور تازہ احساس عطا کیا۔ انہوں نے اردو غزل میں نئی لفظیات شامل کیں، نئے حسّی پیکر تراشے اور بدلتے زمانے کے انسان کی نفسیات، تنہائی، جذبات اور داخلی کیفیات کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا۔

بشیر بدر نے روایتی مضامین کے ساتھ ساتھ ترقی پسندی اور جدیدیت کے سخت نظریاتی دائروں سے خود کو آزاد رکھا۔ انہوں نے عام انسان کی روزمرہ زندگی، اس کے تجربات، دکھ، محبت، بچھڑنے اور بدلتے رشتوں کو سادہ مگر دل نشیں انداز میں شاعری کا حصہ بنایا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری صرف اردو داں طبقے تک محدود نہیں رہی بلکہ غیر اردو داں طبقے میں بھی بے حد مقبول ہوئی۔ ان کے اشعار زبان زدِ عام بن گئے اور ہر عمر کے لوگوں نے ان میں اپنے جذبات کی ترجمانی محسوس کی۔

بشیر بدر کی غزلوں کو میر تقی میر کی روایت کا تسلسل قرار دیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں محبت، جدائی، زندگی کے اسرار اور انسانی دکھوں کی ایسی جھلک ملتی ہے جو قاری کے دل میں دیر تک اترتی چلی جاتی ہے۔ادبی حلقوں میں اکثر کہا جاتا ہے کہ غالب کے بعد اگر کسی شاعر کو غیر اردو داں طبقے میں سب سے زیادہ محبت، شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی تو وہ بشیر بدر تھے۔

ڈاکٹر بشیر بدر جدید اردو غزل کی ان چند شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے شاعری کو صرف مشاعروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عام انسان کے دل کی آواز بنا دیا۔ ان کی غزلیں محبت کرنے والوں کی زبان پر بھی رہیں اور زندگی کی تلخیوں سے گزرنے والوں کے احساسات کی ترجمان بھی بنیں۔

ایودھیا سے اردو دنیا تک کا سفر

15 فروری 1935 کو اتر پردیش کے تاریخی شہر ایودھیا میں پیدا ہونے والے بشیر بدر کا اصل نام سید محمد بشیر تھا۔ بچپن ہی سے ادب اور زبان سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے صرف سات برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کردیا تھا۔ ان کے والد بھی ادب سے دلچسپی رکھتے تھے اور یہی ادبی ماحول آگے چل کر بشیر بدر کی شخصیت کا اہم حصہ بن گیا۔

انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے۔ ایم اے اور بعد ازاں پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ طالب علمی کے زمانے ہی میں ان کی شاعری ادبی حلقوں میں پہچانی جانے لگی تھی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دیں جبکہ بعد میں میرٹھ کالج میں شعبۂ اردو کے صدر اور لکچرر کے طور پر تقریباً 17 برس تک خدمات انجام دیتے رہے۔

سادگی میں چھپی دل کو چھو لینے والی تاثیر

بشیر بدر کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی اس کی سادگی تھی۔ انہوں نے مشکل الفاظ اور پیچیدہ تراکیب کے بجائے عام فہم زبان میں انسانی جذبات کو بیان کیا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کا کلام خواص کے ساتھ عوام میں بھی بے حد مقبول ہوا۔

ان کی شاعری میں محبت۔ جدائی۔ تنہائی۔ بدلتے رشتے۔ زندگی کی بے ثباتی اور انسان کے اندر چھپے درد کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا۔ ان کے کئی اشعار وقت کے ساتھ زبان زدِ عام ہوگئے اور عوامی حافظے کا حصہ بن گئے۔

میرٹھ فسادات اور زندگی کا سب سے بڑا سانحہ

1987 کے میرٹھ فسادات بشیر بدر کی زندگی کا ایسا زخم ثابت ہوئے جس کی کسک ان کی شاعری میں ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی۔ فسادات کے دوران ان کا گھر نذرِ آتش ہوگیا۔ اس حادثے میں ان کا قیمتی سامان۔ کتابیں اور برسوں کا ادبی سرمایہ جل کر خاک ہوگیا۔

یہ سانحہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ سمجھا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد وہ میرٹھ چھوڑ کر بھوپال منتقل ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ اس حادثے نے ان کی شاعری میں مزید درد۔ گہرائی اور اثر پیدا کردیا۔ ان کی بعد کی غزلوں میں تنہائی۔ بچھڑنے اور ٹوٹنے کے احساسات زیادہ شدت کے ساتھ نمایاں نظر آنے لگے۔

اردو غزل کو نیا لہجہ دینے والا شاعر

بشیر بدر نے اردو غزل کو ایک نیا انداز عطا کیا۔ انہوں نے روایتی غزل کو جدید احساسات سے جوڑا اور نئی نسل کو اردو شاعری کے قریب کیا۔ ان کے اشعار صرف مشاعروں تک محدود نہیں رہے بلکہ فلموں۔ تقاریر۔ سیاسی جلسوں اور روزمرہ گفتگو کا حصہ بن گئے۔

انہیں اردو۔ فارسی۔ ہندی اور انگریزی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ ان کی کئی غزلیں دیوناگری رسم الخط میں بھی شائع ہوئیں جس سے غیر اردو داں طبقے تک بھی ان کا کلام پہنچا۔ ان کے شعری مجموعوں کے انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں تراجم بھی ہوئے۔

ادبی خدمات اور مقبول کتابیں

ڈاکٹر بشیر بدر کے کئی شعری مجموعے بے حد مقبول ہوئے جن میں “آمد”۔ “امیج”۔ “اکائی”۔ “آس” اور “کلیاتِ بشیر بدر” خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان کا شعری مجموعہ “آس” جدید اردو شاعری کا اہم سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔شاعری کے ساتھ ساتھ انہوں نے اردو تنقید میں بھی اہم خدمات انجام دیں۔ ان کی کتابیں “آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ” اور “بیسویں صدی میں غزل” اردو تنقید میں معتبر مقام رکھتی ہیں۔

اعزازات اور عالمی شناخت

اردو ادب میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹر بشیر بدر کو کئی اہم اعزازات سے نوازا گیا۔ انہیں ہندوستان کے باوقار شہری اعزاز “پدم شری” سے بھی سرفراز کیا گیا۔ اس کے علاوہ اتر پردیش اردو اکیڈمی نے انہیں چار مرتبہ ایوارڈ دیا جبکہ بہار اردو اکیڈمی نے بھی ان کی خدمات کا اعتراف کیا۔انہیں میر اکیڈمی ایوارڈ اور نیویارک میں “پوئٹ آف دی ایئر 1980” جیسے بین الاقوامی اعزازات بھی حاصل ہوئے۔ انہوں نے امریکہ۔ دبئی۔ قطر۔ پاکستان اور کئی دیگر ممالک میں عالمی مشاعروں میں شرکت کرکے اردو زبان و ادب کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔

بیماری کے باوجود شاعری سے آخری سانس تک تعلق

ڈاکٹر بشیر بدر گزشتہ کئی برسوں سے بھوپال میں گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہے تھے۔ وہ یادداشت سے متعلق بیماری میں مبتلا تھے جس کے باعث ان کی یادداشت مسلسل کمزور ہورہی تھی۔ ان کی گفتگو بھی کافی متاثر ہوگئی تھی لیکن شاعری سے ان کا تعلق آخری وقت تک قائم رہا۔ان کے قریبی افراد کے مطابق جب کوئی ان کے سامنے ان کی غزلیں پڑھتا تھا تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی تھی اور وہ اشعار پر داد دیے بغیر نہیں رہتے تھے۔ یہی ان کی شاعری سے بے پناہ محبت کا سب سے خوبصورت ثبوت تھا۔

ایک عہد کا اختتام مگر لفظ ہمیشہ زندہ رہیں گے

ڈاکٹر بشیر بدر کے انتقال سے اردو ادب ایک ایسی آواز سے محروم ہوگیا ہے جس نے کئی نسلوں کے جذبات کو لفظوں کا روپ دیا۔ ان کی غزلیں۔ اشعار اور ادبی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ اردو ادب کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ احترام اور محبت کے ساتھ لیا جاتا رہے گا۔

بشیر بدر جسمانی طور پر اس دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن ان کے اشعار آنے والے وقتوں میں بھی دلوں کو چھوتے رہیں گے اور اردو ادب کے افق پر ہمیشہ جگمگاتے رہیں گے۔

بشیر بدر کے چند لازوال اشعار

 بشیر بدر کے اشعار کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ سیدھے دل میں اتر جاتے تھے۔ ان کی شاعری میں محبت بھی تھی، جدائی بھی، زندگی کی تلخ حقیقتیں بھی اور انسانی رشتوں کی نزاکت بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کئی اشعار زبان زدِ عام ہوگئے اور ہر نسل نے اپنے جذبات ان میں تلاش کیے۔

“بڑے لوگوں سے ملنے میں ہمیشہ فاصلہ رکھنا
جہاں دریا سمندر سے ملا دریا نہیں رہتا”

یہ شعر انسان کی انفرادیت اور خودداری کی خوبصورت ترجمانی کرتا ہے۔

“اتنی ملتی ہے میری غزلوں سے صورت تیری
لوگ تجھ کو میرا محبوب سمجھتے ہوں گے”

محبت کے احساس کو اس سادگی اور خوبصورتی سے بیان کرنا بشیر بدر ہی کا خاصہ تھا۔

“کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا”

یہ شعر اردو شاعری کے مقبول ترین اشعار میں شمار ہوتا ہے اور آج بھی محبت میں شکست کھانے والوں کی زبان پر رہتا ہے۔

“تم کو ضرور کوئی چاہتوں سے دیکھے گا
مگر آنکھیں ہماری کہاں سے لائے گا”

اس شعر میں محبت کی شدت اور محبوب کے لیے منفرد احساس کو نہایت دلکش انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

“تم محبت کو کھیل کہتے ہو
ہم نے برباد زندگی کر لی”

بشیر بدر کے اس شعر میں محبت کے درد اور جذباتی سچائی کی ایسی جھلک ملتی ہے جو قاری کے دل کو چھو لیتی ہے۔

اس کے ساتھ یہ اشعار بھی ہمیشہ یاد رکھے  جائیں گے

“کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو”

“شہرت کی بلندی بھی اک پل کا تماشا ہے
جس شاخ پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے”

“لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں”

“اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں
پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے”