رمضان میں دین اور دنیا کا توازن: دباؤ نہیں مقصد کے ساتھ جینا

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 27-02-2026
 رمضان میں دین اور دنیا کا توازن: دباؤ نہیں مقصد کے ساتھ جینا
رمضان میں دین اور دنیا کا توازن: دباؤ نہیں مقصد کے ساتھ جینا

 



ایمان سکینہ

رمضان ہر سال ایک معزز مہمان کی طرح آتا ہے نرم مگر بااثر روحانی مگر عملی۔ یہ نہ ہمیں دنیا چھوڑنے کا کہتا ہے اور نہ ہی اس میں ڈوب جانے کی ترغیب دیتا ہے بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے دل کو اللہ سے کیسے جوڑے رکھا جائے۔ دین اور دنیا کے درمیان توازن کا مطلب کسی ایک کو چن لینا نہیں بلکہ خلوص اور حکمت کے ساتھ دونوں کو ہم آہنگ کرنا ہے۔

آج کے مسلمان طلبہ پیشہ ور افراد والدین اور کاروباری حضرات کے لیے رمضان روزمرہ کی ذمہ داریوں کے درمیان آتا ہے۔ امتحانات دفتری مصروفیات گھریلو کام سب ساتھ چلتے ہیں۔ اصل مسئلہ وقت کی کمی نہیں بلکہ توازن کی کمی ہے اور رمضان اسی توازن کی بہترین تربیت گاہ ہے۔

1 مقصد کو سمجھنا

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں کہ اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

رمضان کا اصل مقصد تقویٰ ہے۔ یہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں اللہ کی یاد اور شعور کو بڑھانا ہے۔ جب یہ سوچ دل میں بیٹھ جائے تو دین اور دنیا کو ساتھ لے کر چلنا آسان ہو جاتا ہے۔ نیت درست ہو تو کام بھی عبادت بن جاتا ہے۔ گھر والوں کی خدمت صدقہ بن جاتی ہے اور حلال روزی کمانا اطاعت شمار ہوتا ہے۔

2 نیت سے آغاز

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ نیت کا ایک سادہ سا بدلاؤ دنیاوی کاموں کو بھی عبادت بنا دیتا ہے۔

کام پر جا رہے ہیں تو حلال رزق کمانے کی نیت کریں۔
افطار تیار کر رہے ہیں تو روزہ داروں کی خدمت کی نیت کریں۔
امتحان کی تیاری کر رہے ہیں تو نفع بخش علم حاصل کرنے کی نیت کریں۔

جب نیت درست ہو جائے تو دین اور دنیا کی تقسیم ختم ہونے لگتی ہے اور زندگی ایک وحدت اختیار کر لیتی ہے۔

3 وقت کی حکمت سے ترتیب

رمضان ان لوگوں کو نوازتا ہے جو منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ بغیر ترتیب کے تھکن غالب آ سکتی ہے اور روحانی اہداف پیچھے رہ سکتے ہیں۔ جلد سونا فجر اور تہجد کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ صبح کے وقت قرآن کی تلاوت دل اور دماغ کو تازگی دیتی ہے۔ غیر ضروری مصروفیات کم کریں اور سادہ کھانوں کو اختیار کریں۔ چھوٹے مگر مستقل اعمال میں برکت ہوتی ہے۔

4 فرائض کو ترجیح

توازن کا مطلب یہ نہیں کہ نوافل میں اتنا مشغول ہو جائیں کہ بنیادی ذمہ داریاں متاثر ہوں۔ پانچ وقت کی نماز وقت پر ادا کرنا صحیح طریقے سے روزہ رکھنا حلال کمائی اور اہل خانہ کے ساتھ حسن سلوک سب سے پہلے ہیں۔ اسلام اعتدال کا دین ہے اور حد سے زیادہ مشقت سے روکتا ہے۔

5 روزمرہ میں روحانی لمحے

مصروف دن میں کچھ لمحات ایسے ہوں جو دل کو اللہ سے جوڑتے رہیں۔ دن کا آغاز قرآن سے کریں۔ سفر کے دوران ذکر کریں۔ کام کرتے ہوئے مفید باتیں سنیں۔ افطار سے پہلے دعا کے لیے توقف کریں۔ یہ چھوٹے لمحے پورے دن کو یاد الٰہی سے بھر دیتے ہیں۔

6 گھر اور عبادت کا توازن

رمضان گھر کے ماحول کو مضبوط بنانے کا مہینہ ہے۔ ممکن ہو تو گھر میں باجماعت نماز ادا کریں۔ افطار کے بعد مختصر حدیث یا قرآن کا سبق پڑھیں۔ بچوں کو سحری اور افطار کی تیاری میں شامل کریں۔ عبادت جب اجتماعی ہو تو خوشی اور آسانی دونوں بڑھتی ہیں۔ ساتھ ہی چند لمحے تنہائی میں دعا اور غور و فکر کے لیے بھی نکالیں۔

7 نمائش سے بچیں

آج کے دور میں رمضان کو بعض اوقات محض کارکردگی کی فہرست بنا دیا جاتا ہے۔ زیادہ ختم قرآن زیادہ نوافل زیادہ مصروفیات۔ لیکن رمضان تھکن کا مقابلہ نہیں بلکہ اخلاص کا سفر ہے۔ کم مگر توجہ کے ساتھ کیا گیا عمل زیادہ بہتر ہے۔ ایک سچی دعا کئی گھنٹوں کی بے توجہی سے بہتر ہو سکتی ہے۔

8 کام اور تعلیم میں بہترین کردار

روزہ سستی کا جواز نہیں۔ بلکہ یہ کردار کو نکھارتا ہے۔ اگر رمضان آپ کے اخلاق اور کام کے معیار کو بہتر بنا دے تو یہی اصل کامیابی ہے۔ روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ برے رویے سے بھی رکنے کا نام ہے۔

9 سادگی اختیار کریں

فضول خرچی غیر ضروری خریداری اور پُرتکلف افطاریں رمضان کی روح کو کمزور کرتی ہیں۔ سادہ زندگی اختیار کریں۔ جتنا دنیا کو کم پکڑیں گے اتنی ہی آخرت کے لیے جگہ بنے گی۔ رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ کم میں بھی زندگی گزاری جا سکتی ہے اور دل مطمئن رہ سکتا ہے۔

10 توازن کے لیے دعا

حقیقی توازن صرف منصوبہ بندی سے نہیں بلکہ اللہ کی توفیق سے حاصل ہوتا ہے۔ جب اللہ وقت میں برکت ڈال دے تو مشکل کام بھی آسان ہو جاتے ہیں۔رمضان کے اختتام پر اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہم دنیا سے الگ ہو گئے بلکہ یہ ہے کہ ہم نے دنیا میں رہتے ہوئے اپنے دل کو ایمان سے جوڑنا سیکھ لیا۔ یہی مقصد ہے دباؤ کے بغیر مقصد کے ساتھ جینا۔