مدارس سروے کا انکشاف: دارالعلوم دیوبند مدرسہ بورڈ سے رجسٹرڈ نہیں

Story by  ایم فریدی | Posted by  Shah Imran Hasan | Date 22-10-2022
مدارس سروے کا انکشاف: دارالعلوم دیوبند مدرسہ بورڈ سے رجسٹرڈ نہیں
مدارس سروے کا انکشاف: دارالعلوم دیوبند مدرسہ بورڈ سے رجسٹرڈ نہیں

 


لکھنو: اتر پردیش کی ریاستی حکومت کی ہدایت پر ریاست کے مدارس کا سروے کیا گیا۔ جس میں اب تک سہارنپور ضلع میں 360 مدارس حکومت کی طرف سے غیر امدادی پائے گئے ہیں۔  اس کے ساتھ ہی سب سے بڑا چونکا دینے والا انکشاف یہ ہے کہ دیوبند میں واقع 156 سال پرانا  مدرسہ دارالعلوم بھی یوپی مدرسہ بورڈ میں رجسٹرڈ نہیں ہے بلکہ سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہے۔

دراصل ریاستی حکومت کے حکم کے بعد ضلع مجسٹریٹ اکھلیش سنگھ نے بھی غیر امدادی مدارس کا سروے کرنے کی ہدایات دی تھیں۔  تحصیل سطح پر ٹیم تشکیل دے کر سروے شروع کر کیا گیا۔ ضلع میں سروے کا کام 10 ستمبر2022 کو شروع ہوا تھا۔ سہارنپور کی تحصیل صدر میں سب سے زیادہ غیر امدادی مدارس ہیں۔ سب سے کم امدادی مدارس تحصیل بیہٹ میں پائے گئے ہیں۔ چونکہ ابھی سروے جاری ہے اس لیے ایسے مدارس کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک 360 سے زائد ایسے مدارس کا پتہ چلا ہے جو حکومت سے غیر امدادی ہیں۔ تحصیل صدر میں سب سے زیادہ 123 مدارس ہیں۔ جب کہ سب سے کم مدارس تحصیل بیہٹ میں پائے گئے ہیں۔ تاہم تحصیل بیہٹ میں سروے جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحصیل بیہٹ میں مدارس کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔ ڈی ایم سروے رپورٹ تیار کرکے 15 نومبر2022 تک حکومت کو بھیجیں گے۔

ضلع مجسٹریٹ اکھلیش سنگھ نے کہا کہ سروے ٹیم مقررہ فارمیٹ پر رپورٹ تیار کر رہی ہے۔اس میں نصاب، قیام کا سال، بانی، آپریٹنگ انسٹی ٹیوٹ، طلبہ کی تعداد، مدارس کو حکومتی امداد اور اساتذہ کی تعداد وغیرہ پر پوائنٹ وار سروے رپورٹ تیار کی جارہی ہے۔

ڈی ایم اکھلیش سنگھ نے کہا کہ اب تک ایسے 360 مدرسوں کا پتہ چلا ہے جو حکومت سے غیر امدادی ہیں۔دارالعلوم بھی اسی میں سے ایک ہے، لیکن یہ سوسائٹیز ایکٹ میں رجسٹرڈ ہے، لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ غیر قانونی ہے۔ سروے کو لے کر لوگوں میں کنفیوژن ہے۔

انہوں نے کہا کہ سروے کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ کتنے مدارس کو حکومت سے امداد مل رہی ہے۔ سرکاری امداد یافتہ مدارس کو اقلیتی محکمہ کے ساتھ رجسٹر کرنا ضروری ہے، لیکن سرکاری امداد حاصل نہ کرنے والے مدارس کو اس وقت تک غیر قانونی نہیں کہا جا سکتا جب تک اس بات کی تصدیق نہ ہو جائے کہ ان کو ملنے والی امداد کا ذریعہ صحیح نہیں ہے۔

بتادیں کہ ریاستی حکومت کی جانب سے غیر امدادی مدارس کے سروے کے خلاف یوپی کے مدارس کا ایک کنونشن دارالعلوم دیوبند میں منعقد کیا گیا تھا۔ اس میں مولانا ارشد مدنی نے کہا تھا کہ مدارس کا سروے کرنا حکومت کا حق ہے۔ مدارس کے اندر کوئی غیر قانونی سرگرمی نہیں ہوتی۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کا پتہ لگائیں کہ آیا کوئی موجود ہے۔ غیر تسلیم شدہ مدارس کے سروے پر منعقدہ کانفرنس میں دارالعلوم دیوبند نے اپنا موقف واضح کیا کہ سروے سے ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ سروے میں تعاون کریں اور مکمل اور درست معلومات دیں۔