بلڈنگ سے نہیں،درخت لگانے سے ترقی ہوتی ہے:نواز الدین صدیقی

Story by  غوث سیوانی | Posted by  [email protected] | Date 26-06-2021
نوازالدین صدیقی کی نیم لگائومہم
نوازالدین صدیقی کی نیم لگائومہم

 

 

مظفرنگر:بالی ووڈ اداکار نوازالدین صدیقی ،ان دنوں شجرکاری مہم کے سبب سرخیوں میں ہیں۔ انھوں نے نیم کے درخت لگانے کی مہم چلارکھی ہے اور اس کام کا آغاز انھوں نے اپنے آبائی گائوں سے کیاہے۔ انھوں نے مظفر نگر میں شجرکاری کا عمل شروع کیا ہے۔ لوگ اس مہم کی خوب تعریف کر رہے ہیں۔۔

گزشتہ 20 جون کو اداکارنے اپنے گائوں میں نیم کا درخت لگا کر شجرکاری کا آغاز کیا۔ نواز الدین صدیقی نے آنے والے دنوں میں نیم کے 5 ہزار درخت لگانے کا عزم ظاہر کیا۔اصل میں کورونا بحران کے دوران جب فلم انڈسٹری میں کام نہیں ہورہا ہے تو تو وہ اپنے آبائی گھرصفی پور، بڈھانا میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ وقت گزار ررہے ہیں۔

اس دوران نوازالدین صدیقی نے اپنے فارم ہاؤس پہنچ کر نیم کے درخت لگانے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس موقع پر نوازالدین صدیقی نے شجرکاری مہم کی اہمیت بتاتے ہوئے میڈیا سے گفتگوکے دوران کہا کہ ’’بلڈنگ بنانے سے نہیں بلکہ درخت لگانے سے ترقی ہوتی ہے۔‘

انھوں نے‘ کہا کہ ہمیں شجرکاری کی طرف توجہ دینی ہوگی، ہمیں ماحولیات کو بہتر بنانا ہوگا۔ نوازالدین نے خود بھی ایک سال میں پانچ ہزار درخت لگانے کا ہدف رکھا اور کہا کہ فارم ہاؤس سے اس پروگرام کی شروعات ہوئی ہے اور دھیرے دھیرے اس پروگرام کے تحت سرکاری احاطہ قصبہ، تھانہ، تحصیل وغیرہ میں درخت لگائے جائیں گے۔

نوازالدین صدیقی چند دن قبل اپنے بھائی فیض الدین کے ساتھ صفی پور گاؤں واقع فارم ہاؤس پہنچے تھے۔ نوازالدین صدیقی نے فضائی آلودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت شجرکاری بہت اہم ہے۔ ملک کی ترقی صرف بلڈنگ بنانے سے نہیں بلکہ درخت لگانے سے بھی ہوگی۔

درخت سے ہمیں آکسیجن ملتا ہے، آکسیجن کے بغیر ہماری زندگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔

معروف فلم اداکار کودیکھ کر لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی۔ ہر شخص کی خواہش تھی کہ صدیقی کے ساتھ سیلفی لے اور انھوں نے کسی کو مایوس نہیں کیا۔ دیر تک لوگ ان کے ساتھ سیلفی لیتے رہے۔ اس موقع پر نوازالدین صدیقی نے کہا کہ کہا کہ ’’ممبئی میری کرم بھومی ہے اور بڈھانا میری جنم بھومی۔ جب بھی مجھے وقت ملتا ہے میں اپنے گاؤں آتا ہوں۔ مجھے یہاں آ کر عام زندگی گزارنا اور جھونپڑی میں رہنا ایک سکون کا احساس دلاتا ہے۔‘‘