خاتون آہن جمیلہ نشاط کی "شاہین" کی اونچی اڑان

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | 3 Months ago
خاتون آہن جمیلہ نشاط کی
خاتون آہن جمیلہ نشاط کی "شاہین" کی اونچی اڑان

 

 

شیخ محمد یونس،حیدرآباد

خواتین اور لڑکیاں حصول علم کے ذریعہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں ۔خود مختار اور خود مکتفی بنیں۔ ظلم اور نا انصافی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا جائے ۔معاشرے کو اپنے وجود کا بھرپور احساس دلایا جائے۔کسی بھی قسم کے دھوکہ کا شکار نہ ہو ں بلکہ معاشی، جسمانی، ذہنی اور جذباتی اعتبار سے خود کو طاقتور بنائیں ۔ان خیالات کا اظہار حیدرآباد کی مشہور و معروف سماجی کارکن جمیلہ نشاط نے کیا ۔

خواتین اور لڑکیوں کے سلگتے مسائل کی یکسوئی کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لئے جمیلہ نشاط کی تنظیم "شاہین وومنس ریسورس اینڈ ویلفیر اسوسی ایشن" کی خدمات مثالی ہیں۔ حیدرآباد کے پرانے شہر کی غریب اور مظلوم خواتین، لڑکیوں کو  انصاف کی فراہمی کے علاوہ علم و ہنر سے آراستہ و پیراستہ کرنے کے لئے یہ تنظیم سرگرم عمل ہے۔

خواتین کے کا زکی چیمپئن

جمیلہ نشاط ایک نامور شاعرہ ہیں اور ان کی شاعری میں  خواتین اور لڑکیوں کے مسائل اور ان کے درد اور کرب کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ وہ سماج میں خواتین پر ہونے والے مظالم اور خواتین کے مسائل پر کھل کر لکھتی ہیں۔ جمییلہ نشاط نے دختران وطن کی ہمہ جہت ترقی کا بیڑا اٹھایا ہے۔ وہ بیٹی پڑھاؤ، بیٹی بچاؤ کا ز کی چیمپئن کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ بلا لحاظ مذہب و ملت  غریب ،پسماندہ، مظلوم اورمتاثرہ خواتین کی مدد کے لئے جمیلہ نےخود کو وقف کر دیا ہے ۔

خاندانی پس منظر

جمیلہ نشاط 1955 میں پورٹریٹ آرٹسٹ جناب سید بن محمد اور فاطمہ سعید کے ہاں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ایک بہترین مصور تھے۔  ایک نواب جنھوں نے سید بن محمد کی فنکارانہ صلاحیتوں کو دیکھا تھا، ان کی تعلیم کو اسپانسر کیا۔ سید بن محمد حیدرآباد کے کالج آف فائن آرٹس اینڈ آرکیٹیکچر میں مصوری کے پروفیسر رہے۔

ایم ایف حسین، ہندوستان کے مشہور فنکار، سید بن محمد کے قریبی دوست تھے۔ جمیلہ کے پاس حسین کی بچپن کی یادیں ہیں جو اپنے گھر کے فرش پر ایک کینوس یا چارٹ پیپر پھیلاتے ہیں اور پینٹنگ کرتے ہیں۔ اپنے ارد گرد اس طرح کے رجحان کے ساتھ اور اپنے والد کی تخلیقی صلاحیتیں وراثت میں ملنے کے بعد، جمیلہ نے چھوٹی عمر میں ہی مصوری میں دلچسپی ظاہر کی۔ لیکن  خاندان نے انھیں ایک شوق کے طور پر پینٹنگ کرنے سے روک دیا۔

شاعری کا شوق

پینٹنگ کا کوئی سہارا نہ ملنے کے باعث جمیلہ کو شاعری میں دلچسپی ہو گئی۔ شاعری، جمیلہ کا جنون بن گئی اور انہوں نے 12 سال کی عمر سے ہی نظمیں لکھنا شروع کر دیں۔ان کی نظموں کو انقلابی سمجھا جاتا تھا۔ ابھرتی ہوئی شاعرہ کو نہ صرف مختلف گوشوں سے کافی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا بلکہ کمیونٹی کی طرف سے دھمکیاں بھی ملیں۔

جمیلہ نشاط کی شادی سعید الرحمن سے ہوئی۔سعیدالرحمن  جے این ٹی یو میں اسسٹنٹ رجسٹرار کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔رحمن نے جمیلہ کو اپنے خیالات کے اظہار اور کام کرنے سے کبھی نہیں روکا ۔ شادی کے بعد رحمن نے جمیلہ کو  مزید تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ جمیلہ نے حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی سے انگریزی میں ماسٹرز کیا اور پھر تھیٹر آرٹس میں پی جی ڈپلومہ حاصل کیا۔

1982 میں جب ان کے والد کا انتقال ہوا تب جمیلہ نشاط نے ان کی یاد میں ایک نظم لکھی۔ ان  کی نظم کو مذہبی زاویہ دیا گیا اور حوصلہ شکنی کی گئی۔ تاہم، ان کے شوہر نے انہیں اپنے خوابوں پر عمل کرنے کی ترغیب دی۔ جمیلہ نے اپنا تخلیقی کام جاری رکھا۔

awazthevoice

سماجی کارکن تک سفر

 فنکار سے سماجی کارکن بننے  کا ان کا سفر کافی دلچسپ ہے۔ وہ  ایک اسکول میں انگریزی پڑھاتی تھیں۔ بابری مسجد کے انہدام اور 1992 میں ہونے والے فسادات کے بعد ان  میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کام کرنے کی خواہش پیدا ہوئیں۔

جمیلہ نے اپنی  سرکاری نوکری کو خیر آ باد کیا ۔انھوں  نے 1997 میں حقوق پر مبنی خواتین کی تنظیمASMITA میں شمولیت اختیار کی اور وہاں پانچ سال تک کام کیا۔ASMITA میں شامل ہونے کے بعد، جمیلہ نے اپنے تخلیقی سفر کو زندہ کیا۔ انہوں نے ایسی نظمیں لکھیں جو حیدرآباد میں خواتین کے مقام کی آئینہ دار تھیں۔

جمیلہ  نے محسوس کیا کہ لکھنا کافی نہیں ہے اور مجھے منظر نامے کو بدلنےکے لئے کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔" اپنے الفاظ کو عملی شکل دینے کے عزم کے ساتھ، انہوں نے 2002 میں "شاہین ویمن ریسورس اینڈ ویلفیئر اسوسی ایشن "کے نام سے اپنی تنظیم کا قیام عمل میں لایا ۔

شاہین کا ظہور

علامہ اقبال کی شاعری میں شاہین ایک ایسا پرندہ ہے جو آسمان پر بہت اونچا اڑتا ہے۔ جمیلہ  نے اپنی تنظیم کا نام پرندے کے نام پر رکھا، جو کہ ایک نوجوان لڑکی کے اپنے آپ کو ظاہر کرنے کے طریقے کی علامتی نمائندگی بھی کرتا ہے۔سلطان شاہی ،حیدرآباد کے پرانے شہر کا ایک ایسا علاقہ ہے، جہاں مسلم اور دلت آبادی کا غلبہ ہے۔ جمیلہ کی ابتدائی دنوں میں  ان برادریوں کومتحد کرنے کی کوششوں کا مطلوبہ نتیجہ نہیں نکلا۔ تاہم، بہت سی کوششوں کے بعد وہ تمام برادریوں کی خواتین کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئیں کہ ان کے درمیان ہم آہنگی ہو سکتی ہے۔

awazthevoice

سلطان شاہی کی خواتین کو اکٹھا کرنے اور ان کی دلچسپی بڑھانے کے لیے جمیلہ نے علاقے کی لڑکیوں کے لیے ڈرائنگ کا مقابلہ منعقد کیا۔ انہوں نے لڑکیوں سے کہا کہ وہ تصویریں بنائیں۔ ، شاہدہ  نامی لڑکی جو صرف 12 سال کی تھی اس  نے بغیر پروں کے ایک پرندے کی تصویر بنائی۔ جمیلہ نے اس لڑکی سے پوچھا کہ کیا اس تصویر میں کچھ غائب نہیں ہے؟ شاہدہ نے پرندے پر پنجرہ بنایا اور کہنے لگی یہ میں ہوں۔ "اس طرح تنظیم کا نام شاہین پڑا۔ شاہین وہ پرندہ ہے جو  آسمان کی بلندی پر اڑتا ہے۔اور جمیلہ کا  مقصد  یہی ہے کہ اس پنجرے میں بند پرندے کو فضاؤں میں بلند اڑان بھر نا ہے۔

امید کی کرن

شاہین،کا پرانے شہر کے علاقے سلطان شاہی میں دفتر ہے اور یہ تنظیم پرانے شہر حیدرآباد اور ملحقہ علاقوں میں کام کرتی ہے۔

شاہین ،خواتین کے حقوق کے لئے اور خواتین کے ساتھ کام کرتی ہے ۔ جمیلہ کے کام میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور صنفی انصاف کا عنصر پایا جاتا ہے۔ شاہین کی تمام لڑکیاں اور خواتین  ہمت اور جرات مندی سےمشکل حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا سہرا  جمیلہ کودیتی ہیں۔ تاہم جمیلہ کے لیے یہ ایک دن کا کام نہیں تھا۔

ایک ورکشاپ میں، ایک خاتون نے اپنے شوہر کا حوالہ دیا، "کیا بیوی کو مارنا جرم ہے؟ جو اپنی بیوی کو نہیں مارتا وہ مرد نہیں ہے۔"یہ الفاظ اب بھی جمیلہ کے ذہن میں گونجتے ہیں، اور یہ الفاظ جمیلہ کو اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنانے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید ٹھوس بنانے کا حوصلہ فراہم کرتے ہیں۔ 2003 کے بعد سے، شاہین ٹیم نے گھر گھر جا کر کمیونٹی کی لڑکیوں اور خواتین کو متحرک کرنا شروع کیا۔

کمیونٹی کے مطالبات کی بنیاد پر جمیلہ نے شاہین میں ووکیشنل کورسز اور لیگل کونسلنگ شروع کی۔ انہوں نے گھرگھر پہنچکر خواتین سے بات چیت کرتے ہوئے انہیں درپیش مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں  نے ہر پہلو پر کام کرنے اور مسائل کی یکسوئی تک پہنچنے کا فیصلہ کیا۔

awazthevoice

گھریلو تشدد کے خاتمہ کے لیے کوششیں

سال 2002 سے 2008 تک، شاہین کی بنیادی توجہ گھریلو تشدد اور بچوں کی شادی سے نمٹنا تھا۔ شاہین نے خاص طور پر خواتین کو گھریلو تشدد سے بچانے کے لیے کام کیا۔ گھریلو تشدد ایکٹ 2005 کے نافذ ہونے تک ایسا کوئی قانون نہیں تھا جس کے تحت متاثرہ کو  انصاف حاصل ہو سکے۔ ایکٹ کے نفاذ کے بعد شاہین کے لیے معاملات آسان ہو گئے۔

ابتدائی طور پر جمیلہ کو گھریلو تشدد کے متعدد واقعات سے نمٹنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔انہوں نے عزم و حوصلے کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا۔ گھریلو تشدد کا شکار    خاتون سلطانہ کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔ سلطانہ کے شوہر نے گھریلو جھگڑے کے دوران اس کی ناک کاٹ دی۔ سلطانہ خون میں لت پت اپنے گھر میں بے ہوش پڑی تھی۔تنظیم شاہین، سلطانہ کو بچانے کے لئے آگے آئی اور تمام طبی اخراجات برداشت کرتے ہوئے اسے اسپتال میں داخل کرایا۔ اس کے بعد شاہین نے پولیس کے ساتھ مل کر اس شخص کو کٹہرے میں لایا۔ شاہین نے پولیس افسران اور سلطانہ کے ساتھ رابطہ کیا۔ جمیلہ نے سلطانہ کا بھر پور ساتھ دیا  اور ساری کارروائی تک  اس کے ساتھ رہیں۔ اس سے سلطانہ کو ظلم و جبر اور نا انصافی کے ساتھ ساتھ  اپنےشوہر کے خلاف شکایت درج کرانے کی ہمت ملی۔ اس واقعہ کے  بعد  جمیلہ نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

سلطانہ، اب شاہین کی کلیدی  رکن ہیں جو خواتین کی کونسلنگ کرتی ہیں اور انہیں ان کے قانونی حقوق سے آگاہ کرتی ہیں۔ سلطانہ کو 17 پلاسٹک سرجریز سے گزرنا پڑا لیکن ان کی ہمت میں ذرا بھی کمی نہیں آئی۔ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ رہتی ہیں۔ سلطانہ نے  انکشاف کیا کہ 2005 میں شاہین میں شامل ہونے سے قبل تک  انہیں قانونی طریقہ کار کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں۔

تنظیم شاہین کی کوششوں کے باعث خواتین میں کافی حد تک شعور بیدارہوا  ہے۔ گھریلو تشدد کا شکار خواتین اور لڑکیاں یا تو شاہین کو فون کرتی ہیں یا خود  دفتر پہنچ جاتی ہیں۔ جمیلہ سب سے پہلے کیس کی مکمل نوعیت کو سمجھتی ہیں اور پھر متاثرین کی کونسلنگ کرتی ہیں ۔سلطانہ اور دیگر خواتین جو زندگی کے کسی موڑ پر گھریلو تشدد کا شکار ہوئی تھیں ایک گروپ کی شکل میں متاثرین کو تسلی دیتی ہیں اور حوصلہ دیتی ہیں۔

ابتدائی کونسلنگ سیشن کے بعد، متاثرہ کو ممکنہ کارروائی کے بارے میں مطلع کیا جاتا ہے یعنی شوہر اور ساس سسر کو مشورہ دینا یا فرسٹ انفارمیشن رپورٹ(FIR) درج کرانا۔ اگر وہ پہلے آپشن  کا انتخاب کرتی ہے تو شوہر کو بلایا جاتا ہے اور سرزنش کی جاتی ہے۔ اگر متاثرہ، پولیس میں شکایت درج کرانے کا انتخاب کرتی ہے، تو شاہین متاثرہ کو ضروری مدد اس وقت تک فراہم کرتی ہے جب تک کہ کیس انجام کو نہ پہنچ جائے۔

کم عمر لڑکیوں کی عرب شیوخ سے شادیوں کی روک تھام

نہ تو لو ہمیں نوٹوں میں تم

 نہ بیچو ہمیں بوڑھوں کو تم

 تنظیم شاہین کے سروے کے مطابق پرانے شہر کے سلم اور پسماندہ علاقوں میں کم عمر میں  لڑکیوں کی شادی کا فیصد بہت زیادہ ہے ۔  علاوہ ازیں کم عمرکی لڑکیوں کی شادی خلیجی ممالک سے آنے والے شیخوں سے کی جاتی ہیں۔ اس پورے عمل کو منظم طریقے سے اس طرح سے انجام دیا جاتا ہے  کہ ابھی تک کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا ہے۔

غربت اور افلاس کی وجہ سے سے والدین اپنی لڑکیوں کی شادی عرب شیوخ سے کرتے ہیں۔ بروکرس ،والدین سے رجوع ہوتے ہیں اور انہیں رقم کا لالچ دیتے ہیں۔ایسی تاریک حقیقتوں کو عوام کے سامنے لانے اور کم عمری کی شادیوں کو روکنے کے لیے، شاہین مصروف عمل ہے

جمیلہ کا ما ننا ہےکہ لڑکیوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانا ہی اس لعنت کا حل ہے۔ اگر لڑکی پڑھی لکھی ہے اور کماتی ہے تو وہ اپنی اور اپنے خاندان کی کفالت کر سکتی ہے۔ لیکن یہ اتنا آسان نہیں جتنا لگتا ہے۔ شاہین بچپن کی شادی کے  تاریکی پہلوؤں سے سماج کو روشناس کرانے کے لئے مختلف حکمت عملیوں اور منصوبوں کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ اس مسئلہ کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے، شاہین نے 2005 میں گھریلو تشدد، بشمول کم عمری  کی شادیوں کی روک تھام کے لئے اردو میں ایک جامع کتابچہ جاری کیا اور اسے بڑے پیمانے پر خواتین میں تقسیم کیا۔

awazthevoice

قانونی آگاہی اور مشاورت

شاہین ایک حقوق پر مبنی تنظیم ہے اور خواتین سے متعلق عملی اور قانونی مسائل کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ یہ خواتین کے حقوق کے بارے میں باقاعدگی سے قانونی آگاہی ورکشاپس کا انعقادعمل میں لاتی  ہے۔ شاہین گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کو قانونی مدد بھی فراہم کرتی ہے۔ شاہین مصیبت میں گھری خواتین کو مستقل بنیادوں پر مشاورت فراہم کرتی ہے۔

فیلڈ وزٹ کے دوران پریشان خواتین کی شناخت کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، شاہین کے بارے میں کافی آگاہی ہے  اسی لیے خواتین شاہین سے مشاورت اور قانونی مدد کے لیے رجوع ہوتی ہیں۔ حقوق سے متعلق آگاہی کا بڑا مقصد یہ ہے کہ خواتین اپنی زندگیوں کی ذمہ داری سنبھالیں اور محرومی کی زندگی نہ گزاریں۔  2012 میں، شاہین نے اردو میں لڑکیوں کے حقوق، حق تعلیم، حق معلومات اور صحت کے عنوان پر ایک جامع کتابچہ شائع کیا اور خواتین میں تقسیم کیا۔

لڑکیوں کی تعلیم

شاہین تعلیم کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے ورکشاپس کا انعقاد  عمل میں لاتی ہے۔ شاہین اسکولوں میں  سہولتوں کے لئے ریاستی محکمہ تعلیم کے ساتھ فعال طور پر کام کرتی ہے۔ شاہین، ان لڑکیوں کو ٹیوشن فراہم کرتی ہے جو اوپن اسکول سسٹم کے ذریعے امتحانات میں شریک ہوتی ہیں۔ اس طرح اب تک درجنوں لڑکیوں نے  ایس ایس سی امتحان کامیاب کیا ہے۔

جمیلہ نے دیکھا کہ بہت سی لڑکیاں تیلگو یا انگریزی زبان کے امتحانات میں فیل ہو رہی ہیں۔ مسلمان لڑکیاں جو اردو بولتی ہیں، انہیں تلگو کا امتحان پاس کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ اس لیے شاہین  تلگوزبان کی ٹیوشن فراہم کرتی ہے تاکہ لڑکیاں دسویں بورڈ کے امتحانات پاس کر سکیں۔

شاہین، طالبات کو امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں داخلہ لینے میں مدد کرتی ہے اگر وہ اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ طالبات کو مالی مدد بھی فراہم کرتی ہے ۔ شاہین ،بچوں کی تعلیم کا پروگرام چلاتی ہے۔

 صحت سے متعلق آگاہی

شاہین صحت کے مسائل کے بارے میں آگاہی پیدا کر نے  کے لئے ہیلت کیمپوں کے انعقاد میں کافی سرگرم رہی ہے۔ وہ غذائیت، حفظان صحت سے متعلق ورکشاپس کا اہتمام کرتی ہے۔شاہین ،خواتین کے لیے باقاعدہ ہیلتھ کیمپ منعقد کرتی  ہے۔دفتر شاہین اور ریسورس سینٹرز ایک ہیلپ لائن سینٹر کے طور پر  بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں جہاں لڑکیاں اور خواتین ایک دوسرے کے ساتھ اپنی صحت سے متعلق تفصیلات کا اظہار کرتی ہیں اور اپنےمسائل کا ازالہ  کرتی ہیں۔شاہین کی جانب سے کیے جانے والے آگاہی پروگراموں کی وجہ سے خواتین کی صحت سے متعلق معاملات میں مثبت تبدیلی واقع ہوئی ہے ۔

خواتین کو خود مکتفی بنانا

شاہین ،خواتین کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کے لئے عملی اقدامات رو بہ عمل لا رہی ہے ۔سلطان شاہی، امان نگر، والمیکی نگر ،شاہین نگر اور حسن نگر میں مراکز قائم کئے گئے ہیں جہاں خواتین اور لڑکیوں کو فیشن ڈیزائننگ ،مہندی، زردوزی کمپیوٹر و دیگر فنی کورسس کی مفت تربیت فراہم کی جاتی ہے ۔تربیت یافتہ خواتین اور لڑکیوں کو ملازمتوں کے حصول کے لئے بھرپور رہنمائی کی جاتی ہے۔ شاہین کی کوششوں کے باعث درجنوں خواتین آج خود مکتفی بن گئی ہیں اور سماج میں خوشحال زندگی بسر کر رہی ہیں۔

awazthevoice

فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا فروغ

شہر حیدرآباد بالخصوص سلطان شاہی میں مسلم، دلت اور ہندو برادری میں اتحاد و اتفاق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لئے شاہین کی کوششیں بھی ثمر آور ثابت ہوئی ہیں۔ شاہین کا دفتر قومی یکجہتی اور گنگا جمنی تہذیب کی عکاسی کرتا ہے جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والی خواتین اپنے اپنے مسائل کی یکسوئی کے لیے رجوع ہوتی ہیں علاوہ ازیں شاہین سے مختلف طبقات کی خواتین وابستہ ہیں۔ خواتین کے حقوق اور کاز کےلئے متحدہ کوششوں کے باعث ہی آج پرانے شہر کی شاہین کو  عالمی سطح پر شہرت حاصل ہے ۔ فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام اور سماج میں امن و امان کی برقراری کے لیے بھی شاہین کی خدمات مثالی ہیں۔ شاہین نے قومی یکجہتی کے جذبے کو پروان چڑھانے کے لئے مختلف طبقات کے افراد کے ساتھ چارمینار کے دامن میں انسانی زنجیر بنائی علاوہ ازیں مختلف سرگرمیوں اور ورکشاپ کے ذریعہ مساوات کے پیغام کو عام کیا جا رہا ہے۔

جمیلہ نشاط نے آواز دی وائس کے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شاہین کو ایک منظم تنظیم کے طور پر قائم کرنے کے لئے انہیں بہت ساری قربانیاں دینی پڑیں۔ شاہین کی بلند پرواز میں جمیلہ کو ان کے خاندان کا بھرپور تعاون حاصل رہا ۔ان کے خاوند سعیدالرحمن کے ساتھ ساتھ ان کے ہونہار فرزندان سہیل الرحمن اور عبید الرحمن نے ہمیشہ ان کا حوصلہ بڑھایا۔ جمیلہ نشاط نے کہا کہ وہ متاثرین کے لئےجب تک انصاف کو یقینی نہیں بناتیں۔ انہیں نیند نہیں آتی ۔انہوں نے کہا کہ کہ تمام مظلومین اور متاثرین  کو میں نے اپنی زندگی میں جگہ دی ہے اور وہ میری شاعری اور نظموں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔