دنیا کی بااثر حجابی خواتین

Story by  غوث سیوانی | Posted by  [email protected] | 11 Months ago
 جن کی راہ میں حجاب کوئی رکاوٹ نہیں بنا

 

غوث سیوانی،نئی دہلی

حجاب، مسلمان خواتین کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ ان کے اندر تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے اور بری نظروں سے بچانے کا کام کرتا ہے۔ یہ کہنا قطعی درست نہیں کہ پردہ یا حجاب خواتین کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ ہے۔ باحجاب خواتین نے بار بار ثابت کیا ہے کہ وہ حجاب کے ساتھ بھی آگے بڑھ سکتی ہیں۔ اس کی کچھ مثالیں ذیل میں پیش کی جارہی ہیں۔

الہان عبداللہ عمر

awaz

الہان ​​عبداللہ عمر ایک باحجاب امریکی سیاست دان ہیں جو 2019 سے مینیسوٹا کے 5ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ کے لیے امریکی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی رکن ہیں۔ کانگریس میں اپنے انتخاب سے پہلے، انہوں نے 2017 سے 2019 تک مینیسوٹا ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز میں خدمات انجام دیں.

الہان عمرنے کم از کم اجرت، یونیورسل ہیلتھ کیئر، طلباء کے قرضوں کی معافی وغیرہ کے موضوع پرکام کیاہے۔ اسرائیل کی کثرت سے تنقید کرنے والی الہان مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری کی پالیسی اور فوجی مہمات کی مذمت کرتی ہیں۔

الہان عمرمتعدد بارجان سے مارنے کی دھمکیوں، سیاسی مخالفین کی طرف سے ہراساں کیے جانے، اور ڈونلڈ ٹرمپ کے جھوٹے اور گمراہ کن دعوؤں کا نشانہ بنی ہیں۔ الہان کی پیدائش اکتوبر 4، 1982کوہوئی۔ان کی تعلیم وتربیت ایک اسلام پسند مسل لڑکی کے طور پر ہوئی اور انھوں نے کبھی بھی خود کو حجاب سے دور نہیں رکھا۔

نورہ بنت محمدالکعبی

awaz

متحدہ عرب امارات کو پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایک ماڈل کے طور پر دیکھاجاتا ہے۔یہاں خواتین ملک کی حکومت کا ایک تہائی حصہ ہیں اوروہ حجاب کے ساتھ اپنے ملک کی ترقی میں حصہ دار بن رہی ہیں۔ 2016 میں کونسل کے لیے منتخب ہونے والی پہلی خواتین ممبران میں سے ایک ایچ ای نورا بنت محمد الکعبی تھیں۔وہ اکتوبر 2017 میں وزیربرائےتعلیم وثقافت بنیں۔ وہ ایک باحجاب خاتون ہیں اور حجاب کے ساتھ باوقار طریقے سے اپنی ذمہ داری نبھارہی ہیں۔  

باحجاب امریکی کھلاڑی ابتہاج محمد

awaz

ابتہاج محمدایک باحجاب امریکی اسپورٹس وومن ہیں۔ وہ اولمپکس میں امریکہ کے لیے مقابلہ کرتے ہوئے حجاب پہننے والی پہلی مسلمان امریکی خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ اسے پہن کر اولمپک تمغہ (کانسی) جیتنے والی پہلی امریکی خاتون ہیں۔

۔ 2002 کے اواخر میں، ابتہاج نے نامور پیٹر ویسٹ بروک فاؤنڈیشن میں شمولیت اختیار کی تھی۔ انہیں نیو یارک شہر میں ویسٹ بروک فاؤنڈیشن کے ایلیٹ ایتھلیٹ پروگرام کے تحت تربیت کے لیے مدعو کیا گیا تھا

۔ 2014 میں ابتہاج نے ڈیوک یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کی، جہاں انھوں نے ایک تعلیمی وظیفہ حاصل کیاتھا۔ وہ 3 بار کی آل امریکن اور 2005 جونیئر اولمپک چیمپئن تھیں۔

ڈیوک یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات اور افریقی امریکن اسٹڈیزمیں گریجویٹ ابتہاج2017 تک، امریکہ میں نمبر 2 اور دنیا میں نمبر 7 پرپہنچ گئیں۔

وہ ٹیم ایونٹ میں 2014 کی عالمی چیمپئن سمیت 5 بار کی سینئر ورلڈ میڈلسٹ ہیں۔ 2016 کے سمر اولمپکس کے دوران امریکی صدارتی مہم میں مسلمانوں کے ساتھ امتیاز کا مسئلہ بھی زیربحث تھا۔

تب ابتہاج نے اولمپکس کے دوران امریکہ کو مسلمانوں کے لیے ایک خطرناک جگہ قرار دیتے ہوئے کچھ تنقید کی تھی، اور کہا کہ وہ امریکہ میں رہنے والی ایک مسلمان کے طور پر "محفوظ محسوس نہیں کرتی"۔  

زہرالاری

awaz

زہرا لاری یواے ای کی باحجاب اسپورٹس پرسن ہیں۔2018 کے سرمائی اولمپک گیمز میں پہلی فگر اسکیٹر کے طور پرانھوں نے اپنے ملک کی نمائندگی کی۔ وہ ایک مضبوط خاتون ہیں۔

انھوں نے کھیل کے علاوہ کچھ کمپنیوں کے پروڈکٹ کے لئے ماڈلنگ بھی کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ میں نے12 سال کی عمر میں ڈزنی کی ایک فلم دیکھی جس کا عنوان تھا 'آئس پرنسیز' اور مجھے فوراً ہی اس سے پیار ہو گیا اور میرے والد صاحب نے مجھے سکیٹنگ کے اسباق کے لیے لے جانے کو کہا۔

تب سے، میں اسکیٹنگ کر رہی ہوں اور مزید سیکھ رہی ہوں اور اس کھیل میں مضبوط ہو رہی ہوں۔

زہرالاری کو اکثرقدامت پسندپونے کے طعنے دیئے گئے مگر انھوں نے دل پر نہیں لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نوجوان مسلم لڑکیوں کے لیے ایک اچھی مثال اور رول ماڈل بننے کی پوری کوشش کرتی ہوں اور میں اس خطے میں اس کھیل کی ترقی کو پہلے ہی دیکھ سکتی ہوں۔ اب ہمارے پاس متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان میں بہت سارے اسکیٹر ہیں۔  

حجابی بیلرینااسٹیفنی کرلو

awaz

اسٹیفنی کرلو ایک آسٹریلوی رقاصہ اور بیلے کی طالبہ ہیں جنھیں دنیا کی پہلی حجابی بیلرینا ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ کرلو ایک آسٹریلوی باپ اور روسی ماں کے ہاں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ سڈنی کے مضافاتی علاقوں میں پلی بڑھیں اور دو سال کی عمر میں رقص کرنا شروع کر دیا۔

اسٹیفنی نے 2010 میں نو سال کی عمر میں رقص کرنا چھوڑ دیا کیونکہ وہاں ایسے ڈانس اسٹوڈیوز نہیں تھے جو ان کے عقائد سے مطابقت رکھتے ہوں۔

اسٹیفنی کے خواب سے متاثر ہو کر، ان کی والدہ، السو کرلو نے 2012 میں ایک پرفارمنگ آرٹس اکیڈمی کھولی جو بیلے، مارشل آرٹس، اور ایبوریجینل آرٹس پیش کرتی ہے۔

کلاسزمیں انھوں نے حجاب پہننا شروع کیا۔ کرلو نے کل وقتی کلاسیکی بیلے کی تربیت کے لیے رقم جمع کرنے کے لیے ایک آن لائن مہم شروع کی۔ کرلو نے افریقی-امریکی بیلے ڈانسر مسٹی کوپلینڈ، چینی-آسٹریلین بیلے ڈانسر لی کنکسین، اور اماراتی فگر اسکیٹر زہرہ لاری کو اپنے لئے باعث تحریک ماناہے۔

وہ آن لائن نفرت انگیزی کے خلاف مہم بھی چلاتی ہیں۔

حجابی فیشن آئیکان لیزا ووگل

awaz

لیزا ووگل کے اندر کاروباری جذبہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ایک فیشن برانڈ، ویرونا کلیکشن کی مشترکہ بنیاد رکھی، جب کہ وہ دو بچوں کی گھر میں رہنے والی ماں تھیں۔

ان دنوں، ویرونا کلیکشن دنیا کا ایک معروف نام ہے اور اس کے حجاب اور لباس آن لائن مل سکتے ہیں۔ وہ خود ایک باحجاب خاتون ہیں۔ کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد، ووگل نے کارپوریٹ دنیا میں ایک مشیر کے طور پر اپنا کیریئر شروع کیا۔ یہ ان کے لیے مناسب نہیں تھا۔

اس دواران وہ اسلام کا مطالعہ کر رہی تھیں۔اور2011 میں انھوں نے اسلام قبول کرلیا۔ان کا کہنا ہے کہ جلد ہی،انھوں نے شادی کر لی اور ان کا پہلا بچہ ہوگیا۔انھوں نے کہامیں افریقہ، یورپ اور پورے شمالی امریکہ میں فوٹو شوٹ کر رہی تھی۔ میں نان اسٹاپ سفر کر رہی تھی، پھر ماں بن گئی، اور میری طرز زندگی واقعی بدل گئی۔"

انھوں نے اپنا فوٹو گرافی کا سامان فروخت کیا اور خاندانی زندگی پر توجہ دی۔ لیکن جب ووگل کا دوسرا بچہ ہوا، اس نے اپنی اگلی حرکت کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا اور ایک ایسا کریئر ڈھونڈنا شروع کر دیا جس سے وہ پیار کرتی تھیں۔

ویرونا کلیکشن کا خیال جزوی طور پر ووگل کے تجربات سے آیا۔ جب انھوں نے 2010 میں حجاب پہننا شروع کیا تو انھیں انھیں حجاب ملنا مشکل لگا۔تب انھیں حجاب اور اسلامی ملبوسات کے کاروبار کا خیال آیا اور جب اس میدان میں اتریں تو برانڈ بن گئیں۔