آواز دی وائس اسپیشل:میڈیکل نظام کو سدھارنے کا دوسرا موقع نہیں ملے گا۔ شبانہ اعظمی

Story by  ایم فریدی | Posted by  AVT | 1 Years ago
شبانہ اعظمی


شبانہ اعظمی ،محتاج تعارف نہیں۔نامور شاعر مرحوم کیفی اعظمی کی صاحبزادی اور ممتاز شاعر اور دانشور جاوید اختر کی شریک حیات،جنہوں نے ہندی فلموں میں آرٹ سے کمرشل تک ہر زمرے میں اپنی اداکاری کا لوہا منوایا۔اپنی بے باکی اور صاف گوئی کےلئے بہت مقبول رہی ہیں۔ان کی پہلی فلم انکور 1974 میں آئی تھی۔ شیام بینیگل کی ہدایتکاری میں بننے والی یہ فلم انکور ہندی سنیما کی بہترین فلموں میں سے ایک ہے۔ فلم کی نقادوں نے خوب سراہنا کی تھی، اس کے بعد شبانہ اعظمی نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ، آرٹ فلموں سے لے کر تجارتی فلموں تک ، شبانہ نے لہرایا پرچم ۔ انہوں نے 1983 سے 1985 تک مسلسل تین بار قومی فلم ایوارڈ حاصل کئے ۔ ارتھ اور پار میں ان کے کردار لوگوں کے ذہنوں میں آج بھی آباد ہیں۔ ان کی اداکاری کا لوہا سب سے مان لیا جس کا سلسلہ گاڈ مادرتک جاری رہا اور جاری ہے۔ بہرحال وہ فلمی شخصیت کے ساتھ بالی ووڈ کے ان چند دانشور دانشوروں میں سے ایک ہیں جن کی باتیں سب سنجیدگی کے ساتھ سنتے ہیں۔اس وقت جب ملک کورونا کی لہر کے سبب بحران کا شکار ہے،حالات خراب ہیں ۔ہر کوئی تنقید اور الزامات کے دور سے گزر رہا ہے۔اس دوران شبانہ اعظمی نے وائس - دی وائس کے ایڈیٹر انچیف عاطر خان سے کورونا اور مختلف امور سے بات کی۔ پیش خدمت ہے شبانہ اعظمی کے تفصیلی انٹر ویو کا پہلا حصہ ۔۔۔۔

سوال: : شبانہ جی ، ہم لوگ ایک نہایت ہی خوفناک دور سے گزر رہے ہیں۔ خاص طور سے مہاراشٹرا میں جس طرح حالات بگڑ رہے ہیں ، دہلی میں بھی کل 25 افراد لقمہ اجل بن گیۓ آکسیجن نا ملنے کی وجہ سے ۔ اس آفت کا آپ کس طرح سامنا کررہی ہیں؟

شبانہ اعظمی : سب سے پہلے تو میں یہ سمجھتی ہوں کہ یہ ایک ایسا حادثہ رونما ہوا ہے کہ بجاے اس کے کہ ہم ایک دوسرے کو الزام دیں ، اس نازک صورت حال میں ہمیں یہ غور کرنا پڑیگا کہ ہم اس وقت کیا کر سکتے ہیں۔ ہم اس صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔ اس آفت کے آنے کے بعد ہم سب پر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ہمارے صحت عامہ کے نظام میں بہت ساری خامیاں ہیں ۔ جو لوگ بھی ، بشمول میں خود، پبلک ہیلتھ سسٹم میں کام کر رہے ہیں وہ کئی سالوں سے اس بات پر زور دیتے آ رہے ہیں کہ اس نظام کو ہمیں زیادہ مضبوط کرنا پرے گا, کیونکہ ہمارے پاس کوئی سسٹم نہیں ہے۔ سب سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر اب ہم نہیں سمجھیں کہ یہ موقع ہمارے ہیلتھ سسٹم کو سدھارنے کا ہے تو ہم اس موقع کو ضائع کر دیں گے۔ اگر ہم نے اسے پہلے کر لیا ہوتا تو آج جو حالت ہے وہ شاید نا ہوتی ۔

میں یہ نہیں کہ رہی ہوں کہ یہ ایک ادارہ جاتی مسئلہ ہے ، لیکن بات تو ہے ہمارے ملک کی ۔ بات تو ہے ہمارے ڈاکٹرز اور فرنٹ لائن ورکرس کی جو اپنا سب کچھ چھوڑ کر اس وبا سے نمٹنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ اس لئے جو موٹی موٹی باتیں جو ہمیں بارہا سمجھائی جاتی ہیں جس میں ماسک پہننا، سماجی دوری بناے رکھنا اور بار بار صابن سے اپنے ہاتھ دھوتے رہنا شامل ہے، اس کی پیروی کریں،اس پر عمل کریں ۔ یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے لیکن مجھے ابھی بھی اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ لوگ بغیر ماسک کے کیوں گھوم رہے ہیں ، یہ کیا لوگ ہیں، کیا انہیں پرواہ نہیں ہے؟ کیا یہ پیغام ان لوگوں تک پہنچا نہیں ہے ؟ اس لئے سب سے پہلے ہم اپنے خاندان سے شروع کریں ۔ اس کے لئے ہم یہ دیکھنے کہ کیا ہم نے اپنے خاندان کے تمام افراد کو یہ سمجھایا ہے کہ یہ وبا آخر کیا ہے اور اس کے لئے کیا احتیاط ضروری ہیں ؟

کوشش یہ کریں کہ اگر ہمیں اپنی ضرورت کی چیزیں بازار سے منگوانی ہیں تو کوشش یہ رہے کہ اسے ایک ساتھ منگوائیں اور بار بار بازار نہ جائیں ۔ میں دیکھتی ہوں کہ کچھ لوگ بار بار بازار چلے جاتے ہیں ۔ ہم سب کے لئےاس قسم کے احتیاط برتنا ضروری ہے اور خاص طور پر اپنے اسٹاف اور اپنے خاندان کے لوگوں کی دیکھ بھال کرنا ہماری ذمہ داری بن جاتی ہے ۔ اس کے ساتھ ہمیں خلوص کے ساتھ اس وبا میں کام کر رہے ڈاکٹرس کی حالت کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے ۔۔

سوال: آج کل ہم ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ میں نے پارٹی کے کسی لیڈر کو اپنے کیڈر سے لوگوں کی مدد کرنے کی اپیل کرتے نہیں دیکھا ہے؟

شبانہ اعظمی: بالکل۔ یہ ایسا وقت ہے کہ خدا نہ خواستہ کوئی لڑائی چھڑ گئی ہو ۔ جب لڑائی ہورہی ہوتی ہے تو ہم سب اکٹھے ہو جاتے ہیں یا نہیں ؟ لہذا اب اگر یہ آفت سب پرآئی ہے تو اب وقت آگیا ہے کہ ہم سب متحد ہوکر اپنی ذمہ داری نبھائیں۔ آئیے ملک کے لئے جو بھی ممکن ہو کام کریں۔ دیکھئے اس وقت سپریم کورٹ مرکز سے یہ بات سختی سے پوچھ رہی ہے کہ آپ کا قومی منصوبہ کیا ہے؟ جو ہائی کورٹ ہیں وہ بھی بھی سخت ہیں۔ لیکن مجھے خاص طور پر دل چسپی اس بات میں ہے کہ ہم اپنے مزدور بھائیوں کے لئے کر رہے ہیں جو گھر پر ہیں۔ ہم ان کے کنبے کے لئے کیا کر رہے ہیں۔ ہم ان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کیا کر رہے ہیں۔ پچھلے سال ہم نے دیکھا کہ کیسے مہاجر مزدور واپس آئے۔ تو ہم میں سے بہت سے لوگ تھے جنہوں نے ذاتی طور پر یا ہماری این جی اوز کے ذریعہ ان کی مدد کی۔ لیکن اب ہمیں سبق سیکھنا چاہئے۔ جس طرح سے ہم نے لاک ڈاؤن کیا وہ غلط تھا۔

اس بار ہمیں بہت ساری معلومات پہلے مل چکی ہیں ، لہذا ہمارے پاس جو لیبر ہے وہ گھبرائے ہوئے ہیں۔ آئیے ان کے لئے کچھ کریں۔ در حقیقت معلومات میں بڑی طاقت ہے،عام طور پر لوگوں تک معلومات نہیں پہنچتی اور اسی لئے وہ گھبراہٹ میں غلط اقدامات اٹھاتے ہیں۔

میری ایک این جی او بیجوان انفارمیشن سوسائٹی ہے ، بیجوان اعظم گڑھ کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ لہذا وہاں ہم نے روزگار پیدا کرکے ایک پہل کی ، جہاں ہم نے واپس لوٹ رہے مزدوروں کے لئے ایک معلوماتی مرکز قائم کیا۔ جس میں وہ جان سکتے ہیں کہ اس وقت ملازمتیں کہاں دستیاب ہیں ، کون سی سرکاری جگہوں پر وہ نوکریاں حاصل کرسکتے ہیں ، اگر کوئی درخواست فارم بھرا ہے تو اسے پُر کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ ان کا آدھار کارڈ بنایا جاسکتا ہے۔ مطلب کوئی بھی معلومات۔ یہ ساری چیزیں حکومت کی طرف سے تو ہیں ، لیکن یہ لوگوں تک مکمل طور پر نہیں پہنچ رہی ہے ، لہذا ہمیں ان لوگوں کو ایسی معلومات دینے کی کوشش کرنی چاہئے کہ اس سے انہیں ایک قدم اٹھانے میں مدد ملے ۔ مدد حالانکہ ایک اچھا لفظ نہیں ہے ، چنانچہ جن لوگوں کو ہم نے معلومات دیں وہ آج کسی خراب صورتحال میں نہیں ہیں۔

سوال: کمیونٹی کی شرکت جو گذشتہ سال تھی آج کل نظر نہیں آ رہی ہے۔ کیا یہ صرف ڈر ہے؟ بہت ساری مذہبی رفاہی تنظیمیں تھیں ، پچھلی بار جب وہ راشن تقسیم کررہی تھیں ۔ کیا اس بار مہاجر مزدوروں کا مسئلہ اتنا سنگین نہیں ہے؟

 شبانہ اعظمی: مسئلہ بہت گہرا ، بہت گہرا ہے۔ پچھلے سال کی نسبت اس سے بھی کہیں زیادہ گہرا ۔ اشیائے خوردونوش کی مدد تو کی جا سکتی ہے لیکن آکسیجن سلنڈر کہاں سے دیں ۔ وینٹی لیٹر کہاں سے حاصل کریں ، بستر کہاں سے حاصل کریں۔ صنعت کی کچھ آکسیجن ڈائیورٹ کی گئی ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ اسے ادارہ جاتی سطح پر کرنا ہے۔ رقم کی کمی نے فی الحال کوئی مسئلہ پیدا نہیں کیا ہے۔ اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس بستر نہیں ہیں۔ جن کو آئی سی یو میں رکھنا تھا انہیں تین تین افراد کے ساتھ عام کمروں میں رکھا جا رہا ہے ۔ یہ بہت خوفناک ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہم اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ آج تک ہمارے ملک پر کوئی بڑی مصیبت نہیں آئی ہے۔

 سوال: بدقسمتی سے ہندوستان کے لئے ، ایک امیج تیار کی گئی کہ ہندوستان میں فرقہ وارانہ تفریق ہے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یہ موقع ہے کہ ہم اس شبیہ کو ٹھیک کرسکیں؟ پوری دنیا کی نگاہیں ہندوستان پر مرکوز ہیں۔

شبانہ اعظمی: آپ بالکل بجا فرما رہے ہیں۔ ہمارے بیچ جو مذہبی خلیج پیدا کی جارہی ہے ، سیاسی جماعتیں اس کے ساتھ کھیل رہی ہیں اور ہم اس میں صورتحال پہنچ چکے ہیں ۔ لیکن اس وقت ہم یہ سب بھول جائیں اور مل کر سوچیں کہ ہم کیا کام کرسکتے ہم امیر ، غریب ، ہندو، مسلمان، دلت ، برہمن ، عورت، مرد سب بھول کر صرف اس جانب دھیان دیں ۔ یہ ایک ایسا نادر موقع ہے جب ہم سب مل کر اس سے لڑ سکتے ہیں۔      ۔   جاری ہے  ۔