ڈائیلاسز ۔ صرف100 روپئے میں ۔ ڈاکٹر فواد حلیم کا مثالی مشن

Story by  اے ٹی وی | Posted by  [email protected] | Date 01-07-2024
ڈائیلاسز ۔ صرف100 روپئے میں ۔ ڈاکٹر فواد حلیم کا مثالی مشن
ڈائیلاسز ۔ صرف100 روپئے میں ۔ ڈاکٹر فواد حلیم کا مثالی مشن

 

منصور الدین فریدی۔ نئی دہلی  / محمد شمیم حسین۔ کولکتہ 

صرف سو روپئے میں ڈائیلاسز ۔۔۔ جی ہاں ! ایسا ہی ہورہا ہے،یہ ہے انسانی خدمت کی ایک شکل ،ایک مہم ،جو ایک خاموش تحریک بن چکی ہے۔ سینکڑوں خاندانوں کے لیے شہ رگ کا کام کررہی ہے ۔ زندگیاں بچا رہی ہے اور نا امیدی میں امید کی کرن بن گئی ہے۔

اس کا سہرا کوکلتہ کے ممتاز ڈاکٹر فواد حلیم کے سر جاتا ہے ۔ ایک کمیونسٹ سیاستداں کے وارث اور کولکتہ میں ضرورت مندوں کا مسیحا بنے ڈاکٹر فواد حلیم انتہائی خاموشی کے ساتھ اپنے ہم خیال دوستوں اور مددگاروں کے ساتھ مل کر اس خدمت کو انجام دے رہے ہیں ۔ کسی کی زندگی کو سہارا دے رہے ہیں اور کسی خاندان کی امیدوں کو روشن رکھے ہوئے ہیں۔ میڈیکل سروسیز کی فیس میں ہر دن اضافہ کے دور میں  یہ ایک انوکھی پہل ہے، جس میں ہر بار فیس کم ہوتی گئی، جو چھ سو روپئے سے شروع ہوکر  اب سو روپئے پر پہنچ چکی ہے۔

آواز دی وائس سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فواد حلیم نے کہا کہ یہ ایک مشن ہے ،ضرورت مند خاندانوں کے لیے ایک سہارا ہے،علاج کو سستا کرنے کی کوشش ہے ۔مریضوں کو علاج کے نام پر اذیت رسانی سے بچانے کا جوش ہے۔ جسے میں صرف اس لیے جاری رکھے ہوئے ہوں کہ میرے ساتھ یا میرے پیچھے میرے ہم خیال دوست ہیں اور مددگار ہیں جن کی مدد اور تعاون کے بغیر یہ کام ممکن نہیں تھا۔ آپ کو بتا دیں کہ ڈاکٹر فواد حلیم کا تعلق ایک کمیونسٹ خاندان سے ہے۔ جن کے والد ہاشم عبدالحلیم بائیں بازو لیڈر تھے اور بنگال اسمبلی میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک اسپیکر رہے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر فواد حلیم کی بیگم  نے اس مرتبہ لوک سبھا انتخابات میں لال پرچم کے ساتھ میدان سنبھالا تھا ۔

ڈاکٹر فواد حلیم نے 2021 اسمبلی کے انتخابات اور 2019لوک سبھا انتخابات لڑے تھے لیکن انہوں نے کبھی سیاسی موضوعات کا انتخابات نہیں کیا۔ ٹاکٹر دواد حلیم کی  پیدائش سال  1970 میں کولکتہ میں ہوئی تھی اور میں نے سینٹ انتھونی اسکول سے بنیادی تعلیم حاصل کی تھی۔اس کے بعد سینٹ جوزف کالج کا رخ کیا تھا۔ پھر نیل رتن سرکار میڈیکل کالج  سے ایم بی بی ایس کیا۔ رائل کالج، حیدرآباد کے اپولو گروپ کے تحت فیلو شپ کی اور دیگر جگہوں پر مختلف ڈگریاں حاصل کیں۔

کورونا کا دور 

ڈاکٹرفواد حلیم ڈائیلاسز کے مشن کے بارے میں کہتے ہیں کہ کورونا کے دور میں ہم میں سے تقریباً چوبیس ہزار ڈائیلاسز کئے تھے اور وہ بھی صرف پچاس روپئے کی فیس میں ۔ فی الحال ہمارے ڈائیلاسز کا ریٹ 100 روپے فی ڈائیلاسس ہے۔آپ کو حیرت ہوگی کہ جب ہم نے اس کا آغاز کیا تو اس کا ریٹ 600 روپے فی ڈائیلاسز تھا۔دو سال بعد پھر ہم نے اسے کم کر کے ساڑھے پانچ سو کر دیا۔ 2009 میں یہ گھٹ کر پانچ سو روپئے رہ گیا ۔ پھر اگلے دو سال کے بعد ساڑھے چار سو روپئے ہوگیا ۔ کووڈ سے پہلے ہم تین سو پر ڈائیلاسز کر رہے تھے،کوویڈ کے دوران ہم نے دسمبر کے مہینے میں اس کو گھٹا کر 50 روپئے کردیا تھا ۔اب اس کی فیس سو روپئے ہے ۔اگر ڈائیلاسز کے ساتھ کچھ اور ضرورت پڑتی ہے تو اس کے لیے کچھ الگ چارجز ہوتے ہیں لیکن برائے نام ہی ۔ ہمارے پاس ان کے لیے ڈے کیئر سینٹر ہے۔ لوگ ڈے کیئر سنٹر آتے ہیں اور ڈائیلاسز کرنے کے بعد چلے جاتے ہیں۔ اسی میں میرا ایک چیمبر ہے ،میں اپنے مریضوں کو بھی دیکھتا ہوں،فیس صرف پچاس روپئے ہے

اس خدمت کا آغاز کب اور کیسے ہوا تھا

کمیونسٹ نظریات کے حامی ڈاکٹر فواد حلیم کہتے ہیں کہ یہ کام 2004 میں ہوا تھا جب ہم نے موتیا بند کے آپریشن کرائے تھے،تین ہزار آپریشن کے ساتھ کولکتہ کو اس سے پاک کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد ہم نے بلڈ ڈونیشن پر توجہ مرکوز کی۔ اس سلسلےمیں تنظیم کولکتہ سوستھیا سنکلپ کو 2009 مرکزی حکومت نے قومی ایوارڈ دیا تھا۔اسی کے بعد ہم نے ڈائیلاسیز کا مشن شروع کیا تھا اور دل و جان سے لگ گئے۔ آج سو خاندان ہیں جو ڈائیلاسز کی سہولت حاصل کررہے ہیں۔ ڈائیلاسز کا مسئلہ گردے کی خرابی میں ہوتا ہے، گردے کی بیماری کئی وجوہات کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ جب ماں کے پیٹ میں بچہ بڑا ہوتا ہے، جب اس کا گردہ بنتا ہے۔ اگر مناسب غذائیت نہ دی جائے یا اس میں کمی ہو تو وہ بچہ کمزور گردے کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔جب وہ بچہ پینتیس سال سے کچھ زیادہ کا ہوتا ہے تو یہ کمزوری سامنے آتی ہے۔

بات پیپلز ریلیف کمیٹی کی

ڈاکٹر فواد حلیم لہتے ہیں کہ میں اور میرے دوستوں نے ایک پہل کی تھی۔ تاکہ مہنگے ڈائیلاسز کو سستا کیا جاسکے۔ جبکہ ایک 82 سال پرانی تنظیم پیپلزریلیف کمیٹی ہے۔میں اس کے صدر کی حیثیت سے میں اس کی نگرانی کرتا ہوں ۔جس کے تحت ہم کم قیمت پر جانچ ٹیسٹ، علاج اورنرسنگ ہوم فراہم کرتے ہیں، وہاں لوگوں کو کم قیمت پر علاج فراہم کیا جاتا ہے۔ میں اس کا بندوبست کرتا ہوں ۔ تومیری زندگی میں دو پہلو نہیں ہیں،سیاست بھی اسی سوچ کے ساتھ کررہا ہوں جس سوچ کے ساتھ ڈاکٹر بنا ہوں یعنی خدمت کے جذبے کے تحت ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ مرض بہت نازک ہوتا ہے۔اگر ہم اسے زندگی دینا چاہتے ہیں تو سب سے بڑھ کراسے صحیح مقدار میں صحیح ڈائیلاسز کرانا چاہیے۔ اگر کسی شخص کو ایک ڈائیلاسز کے بجائے آدھے ڈائیلاسز سے گزرنا پڑتا ہے تو اس کا معیار زندگی اچھا نہیں ہوگا۔اس کی زندگی بہتر نہیں ہوسکے گی ۔سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ لوگ اپنے اخراجات کا انتظام نہیں کر سکتے۔ لہذا ہمارا بنیادی خیال یہ ہے کہ ہم ڈائیلاسز کی لاگت کو کم کریں گے۔ اسی لیے ہم نے ڈائیلاسز کی لاگت کو کم کرنے کے لیے مختلف طریقوں کا استعمال کیا، جن میں ڈونیشن کا بھی بڑا کردار ہے ۔

ڈاکٹر کی سیاست میں دلچسپی

 اگرایک ڈاکٹر کے سیاست میں دلچسپی لینے کی  بات کی جائے توانہوں نے کہا کہ یہ میرے  خاندانی پس منظر کا نتیجہ ہے۔میرے دادا حضور نے نیتا جی سبھاش چندر بوس کے ساتھ 1925 میں کولکتہ کارپوریشن کا الیکشن لڑا تھا۔ نیتا جی سبھاش چندر بوس میئر بن گئے۔ اس کے بعد ابا حضورہاشم عبد الحلیم مرحوم کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہو ئے۔ کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ رہ کرزندگی بھر جدوجہد میں لگے رہے۔ حکومت میں بھی رہے۔اسی رجحان کو برقراررکھتے ہوئے میں  نے 1887 میں طلبہ سیاست اور نوجوانوں کی تنظیم سے اپنی وابستگی قائم کی۔جو آج تک جاری ہے۔

ایک ساتھ دو محاذوں پر

ڈاکٹر فواد حلیم کہتے ہیں کہ سیاسی زندگی ، میڈیکل پریکٹس سے مختلف نہیں ہے۔ دراصل میں ایک ہی انسان ہوں اور میرے خیالات بھی وہی ہیں۔ میری خدمت اور میری سیاست کی  ایک ہی بنیاد ہے۔ میں لوگوں کا علاج کرتا ہوں وہ ایک انقلابی سوچ کا نتیجہ ہے  کیونکہ ہماری سوچ یہ ہے کہ لوگوں کو صحت کا حق ملنا چاہیے۔لوگوں کو پریشانی کا سامنارہتا ہے، میں جتنا ہو سکتا ان کی پریشانیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ  اکیلا آدمی کچھ نہیں کر سکتا۔ تو جو ہمارے اسکول کے دوست ہیں وہ ہمارے ساتھ ہیں۔ وہی میری طاقت ہیں ،ہمت ہیں ۔ ایسی کوشیشوں کو تنہا انجام نہیں دلا جاسکتا ہے ۔