امریکہ:حلال کھانوں کی مانگ بڑھی

Story by  اے ٹی وی | Posted by  [email protected] | Date 31-03-2023
امریکہ:حلال کھانوں کی مانگ بڑھی
امریکہ:حلال کھانوں کی مانگ بڑھی

 

 

امریکہ میں حلال ریستورانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس سے حلال غذا کے متلاشی مطمئن بھی ہیں اور مسرور بھی۔

 واشنگٹن : جب شاہد امان اللہ نے حلال ریستورانوں کی فہرست پر کام کرتے ہوئے ویب سائٹ کا آغاز کیا تو انہیں امریکہ بھر میں 200ایسے ریستوران ملے جہاں اسلامی قوانین کے تحت تیار کیے جانے والے کھانے پیش کیے جاتے تھے۔ 25سال بعد آج اس ویب سائٹ پر تقریباً 13ہزار امریکی حلال ریستوران موجود ہیں جن میں ملائشیا سے لے کر میکسیکو تک کے حلال کھانے پیش کیے جاتے ہیں۔ گو کہ تناسب کے لحاظ سے امریکی آبادی میں مسلمانوں کی نمائندگی نسبتاً کم ہے مگر اُن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پیو ریسرچ سینٹر نے2010 سے2050 کے عرصے میں آبادی کے ایک جزو کے طور پر مسلمان آبادی کے دوگنا یعنی (صفر اعشاریہ 9فی صد سے 2اعشاریہ ۱فی صد تک) ہونے کا اندازہ لگایا ہے۔ نئے کھلنے والے حلال ریستورانوں کی تعداد اُن کی آبادی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے اور یہ پہلو امریکی معیشت میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی شرکت کی عکاسی کرتا ہے۔

علاقائی کھانوں سے عوامی کھانوں تک ایوان مفے کھانے کی کتاب’میرا حلال کچن‘ کی مصنفہ ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ امریکی معاشرے میں حلال کھانے اب عام کھانے بن چکے ہیں۔ اس ارتقا کا موازنہ وہ بیسویں صدی کے دوسرے نصف کے دوران میکسیکو کے کھانوں کے ساتھ کرتی ہیں۔ یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں 15برس قبل صرف(مسلم) ”کمیونٹی بات کیا کر تی تھی۔ لیکن آج میرے ایسے دوست موجود ہیں جو مشرق وسطیٰ کبھی نہیں گئے ۔ اس کے باوجود انہیں بخوبی علم ہے کہ حمس، فلافل اور شوارما کیا ہیں۔ وہ انہیں پسند کرتے ہیں۔‘‘ (مشرق وسطیٰ کے سب کھانوں میں اسلامی قانون کے تحت جائز قرار پانے والے اجزاء استعمال نہیں کیے جاتے۔

تاہم ایسی تنظیمیں موجود ہیں جو اجزا کے حلال ہونے کی تصدیق کرتی ہیں اور خوردونوش کی اشیاء تیار کرنے والوں کے لیے تصدیق کے لیبل جاری کرتی ہیں۔) امان اللہ کا کہنا ہے کہ2000 کی دہائی کے اوائل تک ملک میں نسبتاً کم حلال ریستوران ہوا کرتے تھے۔ اِن میں سے زیادہ تر چھوٹے اور انہیں ایک ہی خاندان کے افراد مل جل کر چلایا کرتے تھے۔ اِن میں زیادہ ترمیں عرب یا جنوبی ایشیا کے تارکین وطن گاہکوں کو اُن کے ’’آبائی ملکوں کے پسندیدہ کھانے‘‘ پیش کیے جاتے تھے۔

واشنگٹن کے قریبی علاقے کی انسٹا گرامر سارہ عباسی کہتی ہیں ’’آپ کو اب حقیقی معنوں میں کسی بھی ثقافت یا علاقے کے کھانے مل سکتے ہیں ‘‘اور پیرو سے لے کر کورین کھانوں تک کسی بھی ملک کے کھانوں پر آپ سارہ عباسی کے تبصرے پڑھ سکتے ہیں۔ زیادہ گاہک کم لاگت امان اللہ حلال کھانوں کے ریستورانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کی وجہ دو عوامل کو قرار دیتے ہیں۔ اور یہ عوامل بڑھتی ہوئی مسلم مارکیٹ اور حلال مصنوعات کی خریداری کرنے والے ریستورانوں کی لاگتوں میں کمی ہیں۔ امان اللہ بتاتے ہیں’’مسلمان ملک کی (آبادی) کا ایک فی صد ہیں۔ مگر بڑے میٹروپولیٹن علاقوں میں اُن (کی آبادی)۵فی صد، ۶فی صد حتٰی کہ 10فی صد تک پہنچ جاتی ہے۔‘‘ حلال اور دوسرے گوشتوں کے درمیان قیمتوں کے گھٹتے ہوئے فرق نے بھی ریستورانوں کے لیے حلال کھانوں کے انتخاب کو آسان بنا دیا ہے۔ امان اللہ امریکہ کی کینسس جیسی وسطی مغرب کی ریاستوں میں حلال گوشت کی پیداوار میں اضافے کو بھی کم لاگتوں کا ایک اہم عنصر قرار دیتے ہیں۔

اتفاقیہ حلال ڈیوز ہاٹ چکن اینڈ ایلیویشن برگرکے نام سے ریستورانوں کی ایک چین ( سلسلہ) ہے۔ یہ ریستوران اُس بڑھتے ہوئے رجحان کی مثال ہیں جسے امان اللہ ’’اتفاقیہ طور پر حلال‘‘ ریستوران کہتے ہیں۔ ایلیویشن برگر نے کوالٹی کے معیاروں کی وجہ سے حلال گوشت سپلائی کرنے والی ایک کمپنی کا انتخاب کیا۔ امان اللہ کی حلال کھانوں کی ویب سائٹ پر ریستورانوں کی اس چین کے اندراج کے بعد مسلم گاہکوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔

امان اللہ بتاتے ہیں کہ ڈیوزہاٹ چکن نے باضابطہ طور پر اسے اپنایا اور اپنے ریستورانوں کی کھڑکیوں میں حلال کے اسٹکر لگائے۔ ڈیوڈ اینڈریاس پینیا نے ریاست ورجینیا کے شہر فالس چرچ میں لا ٹینجیریا کے نام سے ایک روایتی میکسیکن ریستوران کھولا۔ پینیا نے اختتام ہفتہ کے دنوں میں قصداً حلال کھانے پیش کرنے شروع کیے جس کے نتیجے میں گاہکوں کے تعداد بڑھ گئی۔ پینیا کہتے ہیں ’’حلال کھانے پیش کرنا ہماری مسابقت کو بہت حد تک کم کرتا ہے۔

کوئی اور میکسیکن ریستوران مسلم کمیونٹی کو ہماری طرح ساتھ لے کر نہیں چلتا۔ وہ اب بھی سور کا گوشت فروخت کرتے ہیں اور شراب پیش کرتے ہیں۔ ہم حلال کھانے پیش کر کے حقیقی معنوں میں ایک تبدیلی لے کر آئے ہیں۔ ہم نے لوگوں کے ایک پورے گروپ کے لیے اپنے ریستوران کے دروازے کھولے ہیں۔

امان اللہ حلال ریستورانوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ مالی عوامل کے علاوہ، امریکی معاشرے میں مسلمانوں کے روز افزوں انضمام کو بھی قرار دیتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے ’’امریکہ میں حلال کوئی برا لفظ نہیں ہے۔ آپ ’دا حلال گائز‘ (نیویارک کے حلال ریستورانوں کی چین یعنی سلسلہ) نام رکھ سکتے ہیں اور کسی کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔‘‘