نئی دہلی : ملک کی راجدھانی دلی میں عالمی کتاب میلہ جاری ہے، کتابوں کے شوقین اس میلے میں لطف اندوز ہو رہے ہیں ، ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہر دن کتابوں کی دنیا میں شرکت کررہے ہیں، مختلف ریاستوں اور مختلف زبانوں کے پویلین توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں جہاں ممتاز دانشور شعرا اور دیگر مصنفین مختلف موضوعات پر اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں - اسی دوران قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے زیر اہتمام اہم پروگرام منعقد ہوئے جن میں علمی و ادبی حلقوں کی نمایاں شخصیات کے ساتھ طلبہ اور شائقینِ ادب کی بڑی تعداد نے شرکت کررہے ہیں
اردو فکشن اور ہندوستانی تہذیب پر فکری مذاکرہ
پہلا پروگرام اکیسویں صدی میں ہندوستانی تہذیب اردو فکشن کے حوالے سے کے عنوان سے منعقد ہوا اس مذاکرے میں پروفیسر خالد اشرف پروفیسر فاروق بخشی اور پروفیسر ابو بکر عباد بطور پینلسٹ شریک ہوئے جبکہ ڈاکٹر عبدالرزاق زیادی نے نظامت کے فرائض انجام دیے مقررین نے اردو فکشن میں تہذیب و تمدن کی جھلک بدلتے سماجی رویے اور عصری تقاضوں پر سیر حاصل گفتگو کی
ہندوستانی تہذیب کی ہمہ گیری اور رواداری
پروفیسر خالد اشرف نے کہا کہ ہندوستانی تہذیب کی اصل پہچان اس کی ہمہ گیری رواداری اور جیو اور جینے دو کے جذبے میں ہے ان کے مطابق ہندوستانی تہذیب نے ہمیشہ مختلف تہذیبی عناصر کو اپنے اندر جذب کیا ہے چاہے وہ اس کے مزاج سے پوری طرح ہم آہنگ نہ بھی ہوں اور یہی اس کی وسعت قلبی کی دلیل ہے
گلوبلائزیشن کے اثرات اور تہذیبی شناخت
پروفیسر فاروق بخشی نے گلوبلائزیشن کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کے جہاں کچھ فوائد ہیں وہیں اس کے منفی اثرات بھی سماج پر مرتب ہوئے ہیں خصوصاً ہماری تہذیب اس سے زیادہ متاثر ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود اردو افسانوں اور فکشن میں ہماری تہذیبی شناخت مختلف رنگوں میں آج بھی نمایاں ہے انہوں نے خورشید عالم ابن کنول اور ثروت خان کے فکشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے یہاں ہندوستانی تہذیب اور ثقافت پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے
کلاسیکی اور جدید فکشن میں تہذیبی اقدار
پروفیسر ابو بکر عباد نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ہندوستانی تہذیب مغربی تہذیب کے زیر اثر زیادہ دکھائی دیتی تھی لیکن اب صورت حال میں تبدیلی آ رہی ہے انہوں نے پریم چند راشد الخیری اور دیگر افسانہ نگاروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے فکشن میں ہندوستانی رسوم سماجی اقدار اور تہذیبی رنگ نمایاں طور پر نظر آتے ہیں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئی نسل کے فکشن نگار بھی ہندوستانی تہذیب کے موضوع پر سنجیدہ اور تخلیقی کام کر رہے ہیں
بزمِ سخن میں شعری رنگ
دوسرا پروگرام بزمِ سخن کے عنوان سے منعقد ہوا جس میں جناب نعمان شوق جناب احمد علوی جناب شاہد انور ڈاکٹر وسیم راشد پروفیسر رحمن مصور جناب ارشد ندیم آلوک یادو اور عمیر منظر نے شرکت کی اس مشاعرے میں شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا
منتخب اشعار
ایسے ملے نصیب سے سارے خدا کہ بس
میں بندگی کے زعم میں چلا اٹھا کہ بس
نعمان شوق
کہنا ہے ڈاکٹر کا کہ شوگر کے روگ میں
ہر طرح کی مٹھاس سے خطرے میں جان ہے
ہندی میں لکھ کے لاتا ہوں میں اس لیے غزل
رس گلے سے بھی میٹھی اردو زبان ہے
احمد علوی
فن عروض کی راہیں دکھا کے آئی ہوں
تمام عمر میں اردو پڑھا کے آئی ہوں
ڈاکٹر وسیم راشد
اک دل خراش زخم تری یاد کی طرح
رہتا ہے مرے ساتھ جو ہمزاد کی طرح
ارشد ندیم
نہ درد تھا نہ کرب تھا نہ پیاس بے مثال تھی
ترے بغیر زندگی کی کلپنا محال تھی
رحمن مصور
سانحہ ایک ہی لمحے کے لیے آتا ہے
عمر کٹ جائے گی وہ لمحہ بھلانے والے
شاہد انور
نئی نسلوں کے ہاتھوں میں بھی تابندہ رہے گا
میں مر جاؤں گا مٹی میں قلم زندہ رہے گا
آلوک یادو
ایک سفر روز مرے ساتھ لگا رہتا ہے
کیا بدن ہے کہ جو صحرا میں پڑا رہتا ہے
شعری نشست کی نظامت ڈاکٹر عمیر منظر نے نہایت خوش اسلوبی اور سلیقے سے انجام دی جس پر سامعین نے ان کی کاوش کو سراہا
افسانہ اور شاعری پر فکری مذاکرے
بک فیر میں ہر دن پروگرام ہو رہے ہیں، دوسرے دن ’نوجوان شاعروں سے ملاقات‘ اور ’شامِ افسانہ‘ کے عنوان پر بھی مذاکرے ہوئے ۔ ان پروگراموں میں ادب سے وابستہ اہلِ قلم، طلبہ اور شائقینِ ادب کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

شامِ افسانہ میں افسانے کے فنی اور فکری پہلو زیر بحث
’شامِ افسانہ‘ کے عنوان سے منعقدہ مذاکرے میں ڈاکٹر نگار عظیم، ڈاکٹر شبانہ نذیر، ڈاکٹر رخشندہ روحی مہدی اور ڈاکٹر شہناز رحمن بطور پینلسٹ شریک ہوئیں جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر ذاکر فیضی نے انجام دیے۔ مہمان مقررین نے افسانے کی تخلیق، اس کے فنی اور فکری پہلوؤں اور عصری تقاضوں پر تفصیلی گفتگو کی۔
ڈاکٹر نگار عظیم نے کہا کہ افسانہ زندگی کی علامت ہے اور اسے خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ وقت کے ساتھ اس کی تکنیک میں ضرور تبدیلی آئی ہے۔ ان کے مطابق افسانہ علامتی ہو یا استعاراتی یا بعد جدید تناظر میں لکھا گیا ہو، قاری پہچان لیتا ہے کہ کون سا افسانہ دیرپا ہے۔ نوجوان افسانہ نگاروں کی تحریروں کو مجموعی طور پر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے انہوں نے عجلت پسندی سے بچنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سماجی مسائل سے جڑا افسانہ عمر کی قید سے آزاد ہوتا ہے اور سوشل میڈیا کی مقبولیت کو معیار نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ فن ایک عبادت ہے اور اس کا ثمر فوری نہیں ملتا۔
ڈاکٹر شبانہ نذیر نے کہا کہ افسانہ کئی اجزا کا مجموعہ ہے اور کسی ایک جز کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق عمدہ افسانہ وہی ہوتا ہے جو قاری کے ذہن میں محفوظ رہ جائے۔ انہوں نے ذکیہ مشہدی کو اہم افسانہ نگار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موضوعات اور پیشکش منفرد ہیں۔ سوشل میڈیا پر لکھے جانے والے افسانوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہر افسانے کو ایک ہی زمرے میں رکھنا درست نہیں۔
ڈاکٹر رخشندہ روحی مہدی نے کہا کہ اگرچہ موجودہ دور میں قارئین کی تعداد میں کمی آئی ہے لیکن مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ مطالعے کے لیے نئے پلیٹ فارم دستیاب ہیں اور اچھے قاری آج بھی موجود ہیں۔ انہوں نے اردو اور ہندی افسانوں کے تقابلی مطالعے سے احتراز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر زبان کا اپنا اسلوب اور مزاج ہوتا ہے۔
ڈاکٹر شہناز رحمن نے کہا کہ غیر جانبدار اور معیاری تنقید ہی ادب کو آگے بڑھاتی ہے۔ ان کے مطابق افسانے کی قدر و قیمت کا تعین ذاتی پسند و ناپسند کے بجائے فنی اور فکری پیمانوں پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے نئی نسل کے افسانہ نگاروں کو تنقید سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اسے تخلیقی ارتقا کا ذریعہ بنانے کا مشورہ دیا۔ مذاکرے کے اختتام پر افسانہ نگاروں نے اپنے افسانوں سے منتخب اقتباسات بھی پیش کیے۔

نوجوان شاعروں سے ملاقات میں شاعری اور زبان پر گفتگو
اس سے قبل ’نوجوان شاعروں سے ملاقات‘ کے عنوان سے منعقدہ مذاکرے میں سالم سلیم، خوشبو پروین اور سفیر صدیقی نے شرکت کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شاداب شمیم نے انجام دیے۔
سالم سلیم نے شاعری میں زبان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اچھی زبان کے بغیر معیاری شاعری ممکن نہیں۔ انہوں نے مشاعروں کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشاعرے ماضی میں بھی اردو زبان و ادب کے فروغ کا ذریعہ رہے ہیں اور آج بھی لوگوں کو اردو سے جوڑ رہے ہیں۔
خوشبو پروین نے کہا کہ انہیں شاعری کا شوق بچپن سے تھا جس کا آغاز مدرسے سے ہوا اور یونیورسٹی تک پہنچتے پہنچتے شاعری ان کی شناخت بن گئی۔ ان کے مطابق شاعری میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
سفیر صدیقی نے کہا کہ شاعری ایک فطری صلاحیت ہے اور موزونیت کے بغیر اچھی شاعری ممکن نہیں۔ انہوں نے غزل کو اپنی پسندیدہ صنف قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسی صنف میں تجربات کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی مقبولیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقبول ہونا معیار کی ضمانت نہیں۔
مذاکرے کے اختتام پر نوجوان شاعروں نے اپنے منتخب اشعار بھی سنائے جنہیں حاضرین نے بے حد پسند کیا۔
مطالعہ باشعور معاشرے کی بنیاد
مطالعے کی اہمیت کے موضوع پر ایک اہم مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔ اس مذاکرے میں جناب معصوم مرادآبادی، ڈاکٹر خالد علوی، پروفیسر مشتاق عالم قادری اور ڈاکٹر ابراہیم افسر بطور پینلسٹ شریک ہوئے جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر احسن ایوبی نے انجام دیے۔

مطالعے کے بغیر شعور نامکمل ہے
جناب معصوم مرادآبادی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مطالعے کے بغیر کوئی بھی انسان باشعور نہیں ہو سکتا۔ سوچ میں وسعت اور تنوع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ نئی چیزوں سے آگاہی کے لیے مطالعہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ ڈیجیٹل دور ہے اور وقت کی کمی ایک حقیقت ہے، لیکن آج کتابوں تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو چکی ہے اور معیاری کتابوں کا مطالعہ گھر بیٹھے ممکن ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کتابیں انہی موضوعات پر لکھی جانی چاہئیں جن کی واقعی ضرورت ہو کیونکہ پامال موضوعات پر کتابیں لکھنا وقت کا ضیاع ہے۔
کتاب کا کوئی نعم البدل نہیں
ڈاکٹر خالد علوی نے کہا کہ ماضی میں گھروں میں مطالعے کا ماحول ہوا کرتا تھا اور میزوں پر رسائل و اخبارات رکھے رہتے تھے جس سے مطالعے کا ذوق خود بخود پیدا ہو جاتا تھا۔ ان کے مطابق کتاب کا کوئی نعم البدل نہیں ہے اور جو شخص مطالعہ کرتا ہے وہ دوسروں سے آگے رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آگے بڑھنے اور زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مطالعہ بے حد ضروری ہے۔ کتابوں پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ آج معیاری کتابوں کی کمی محسوس کی جا رہی ہے، اس لیے اچھے اور اہم موضوعات پر کتابیں لکھنے کی ضرورت ہے۔
کتاب اور مطالعہ لازم و ملزوم
پروفیسر مشتاق عالم قادری نے کہا کہ کتاب اور مطالعہ لازم و ملزوم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکسٹ بک کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ قاری اسے بار بار پڑھ سکتا ہے اور اہم نکات کی نشاندہی کر سکتا ہے، جس سے مطالعہ زیادہ مؤثر ہو جاتا ہے۔ انہوں نے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ موبائل فون اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے خاص طور پر نوجوانوں میں مطالعے کا رجحان کم ہوا ہے، تاہم اس کے باوجود کتاب کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔
مطالعہ شخصیت کو نکھارتا ہے
ڈاکٹر ابراہیم افسر نے کہا کہ جتنا زیادہ مطالعہ ہوگا، انسان کے اندر اتنا ہی اعتماد، شعور اور فکری پختگی پیدا ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ مطالعہ نہ صرف علم میں اضافہ کرتا ہے بلکہ انسان کی شخصیت کو بھی نکھارتا ہے۔مذاکرے کے اختتام پر مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مطالعے کے فروغ کے بغیر ایک صحت مند اور باشعور معاشرے کی تشکیل ممکن نہیں۔ نئی نسل کو کتابوں سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔