امریکہ۔ایران معاہدے کے باوجود اسرائیل کا دوٹوک اعلان، جنوبی لبنان سے انخلا نہیں ہوگا

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 15-06-2026
امریکہ۔ایران معاہدے کے باوجود اسرائیل کا دوٹوک اعلان، جنوبی لبنان سے انخلا نہیں ہوگا
امریکہ۔ایران معاہدے کے باوجود اسرائیل کا دوٹوک اعلان، جنوبی لبنان سے انخلا نہیں ہوگا

 



تل ابیب:امریکہ اور ایران کے درمیان نئے سفارتی معاہدے کے اعلان کے بعد اسرائیل نے واضح کر دیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان سے اپنی فوج واپس نہیں بلائے گا۔

اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان شام اور غزہ میں قائم سکیورٹی زونز میں غیر معینہ مدت تک موجود رہے گی تاکہ اسرائیلی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ لبنان سے انخلا کی اسرائیل سخت مخالفت کرتا ہے اور یہ مؤقف امریکہ کو بھی واضح طور پر بتا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر لبنان کے محاذ سے ایران کی جانب سے کوئی حملہ ہوا تو اسرائیل پوری قوت سے جواب دے گا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیر دفاع نے کہا کہ اسرائیل موجودہ اور مستقبل کے تمام دباؤ کے باوجود لبنان سے انخلا قبول نہیں کرے گا۔ ان کے بقول وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی یہ مؤقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے واضح کر دیا ہے۔

اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے بھی امریکی سفارتی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کسی بیرونی معاہدے کا پابند نہیں ہے اور اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ کا معاہدہ اسرائیل پر لاگو نہیں ہوتا۔ اسرائیل ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے اور اس کی پہلی ذمہ داری اپنے عوام اور فوج کے تحفظ کی ہے۔

بن گویر نے کہا کہ ماضی میں جب بھی اسرائیل نے بین الاقوامی دباؤ کے تحت اپنی سلامتی پر سمجھوتہ کیا تو اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے اوسلو معاہدے لبنان معاہدے اور غزہ سے متعلق سابق پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے تجربات دوبارہ نہیں دہرائے جائیں گے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ لبنان سے اسرائیل پر کسی بھی ڈرون یا میزائل حملے کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔ ان کے مطابق اسرائیل حزب اللہ کے مکمل خاتمے سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہوگا اور ان علاقوں سے بھی دستبردار نہیں ہوگا جنہیں اسرائیلی فوج نے دہشت گردی کے ڈھانچے سے پاک کیا ہے۔

یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ ایک سفارتی معاہدہ مکمل ہو گیا ہے اور آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے اور عالمی جہاز رانی کے لیے راستہ کھول دیا گیا ہے تاکہ تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل معمول کے مطابق جاری رہ سکے۔

اسرائیل کا لبنان سے انخلا نہ کرنے کا فیصلہ ایران کی توقعات کے برخلاف قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم مبصرین کے مطابق امریکہ اب بھی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور یکطرفہ اقدامات کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔