کیا بائیں بازو کی انتہاپسندی کی جگہ دائیں بازو کی انتہاپسندی لے گی؟اویسی

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 30-03-2026
کیا بائیں بازو کی انتہاپسندی کی جگہ دائیں بازو کی انتہاپسندی لے گی؟اویسی
کیا بائیں بازو کی انتہاپسندی کی جگہ دائیں بازو کی انتہاپسندی لے گی؟اویسی

 



نئی دہلی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے پیر کو لوک سبھا میں حکومت سے سوال کیا کہ کیا ملک میں دائیں بازو کی انتہاپسندی، بائیں بازو کی انتہاپسندی کی جگہ لے لے گی۔ بائیں بازو کی انتہاپسندی سے ملک کو آزاد کرنے کی کوششوں پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ملک میں سب سے بڑی آبادی نوجوانوں کی ہے اور بنگلہ دیش و نیپال کے حالیہ واقعات سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا، “بنگلہ دیش اور نیپال بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ انقلاب وہاں حکومت بدلنے کے لیے نہیں بلکہ نظام میں بہتری کے لیے لایا گیا تھا۔” اویسی نے کسی دائیں بازو کی تنظیم کا نام لیے بغیر الزام لگایا کہ فرضی انکاؤنٹر، گھروں کو مسمار کرنا اور قبائلیوں و مسلمانوں کی عزت کو مجروح کرنے کا ماحول وہ تنظیمیں بنا رہی ہیں جو شدت پسند نظریات پر یقین رکھتی ہیں، اور حکومت ان کی حمایت کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا، “میں حکومت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا دائیں بازو کی انتہاپسندی، بائیں بازو کی انتہاپسندی کی جگہ لے گی؟” انہوں نے مزید سوال کیا، “کیا آپ اس شدت پسند نظریے پر روک لگائیں گے؟” اے آئی ایم آئی ایم کے رکن پارلیمنٹ نے بالواسطہ طور پر آسام کی بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مسلمانوں کی بڑی نوجوان آبادی ہے اور بعض بیانات ایسے دیے جا رہے ہیں جن سے انہیں ریاست چھوڑنے پر مجبور کرنے کا ماحول بنتا ہے۔

انہوں نے کہا، “یہ درست نہیں ہے اور یہ بھی ایک طرح کی انتہاپسندی ہے، جس کی مذمت ہونی چاہیے۔” اویسی نے یہ بھی کہا کہ بائیں بازو کی انتہاپسندی ختم ہونے کے حکومتی دعوؤں پر سوال اٹھتے ہیں، کیونکہ جو لوگ ہتھیار ڈال رہے ہیں وہ اپنی نظریہ نہیں چھوڑ رہے۔ انہوں نے کہا، “وہ ہتھیار تو ڈال رہے ہیں مگر اپنے نظریے پر قائم ہیں۔ اگر وہ نظریہ نہیں چھوڑ رہے تو پھر آپ نے کون سی کامیابی حاصل کی؟” انہوں نے دعویٰ کیا کہ نکسل نظریہ آج بھی برقرار ہے۔