نئی دہلی:سپریم کورٹ نے سوموار (9 مارچ، 2026) کو ایک وکیل کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ جین برادری کے جذبات کو کیوں مجروح کرنا چاہتے ہیں۔ وکیل نے ایک درخواست دائر کر رکھی تھی کہ سپریم کورٹ ایک کمیٹی بنانے کا حکم دے جو یہ تحقیق کرے کہ کیا واقعی پیاز اور لہسن تامسک غذا میں شامل ہیں۔
عدالت نے وکیل کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی درخواستیں عدالتوں کے بوجھ کو بڑھاتی ہیں۔ لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) سوریہ کانت اور جسٹس جویمالیہ باگچی کی بینچ کے سامنے جب یہ درخواست پیش کی گئی تو وکیل کی اپیل سن کر CJI بہت ناراض ہوئے۔ وکیل، سچن گپتا خود درخواست گزار کے طور پر پیش ہوئے تھے۔ CJI سوریہ کانت نے ان سے کہا کہ وہ جین برادری کے جذبات کو کیوں مجروح کرنا چاہتے ہیں۔ CJI کے سوال پر وکیل نے کہا، "کیونکہ یہ ایک بہت عام مسئلہ ہے۔
گجرات میں ایک جوڑے کا طلاق صرف اس وجہ سے ہوا کہ کھانے میں پیاز استعمال کیا گیا تھا۔" تاہم، بینچ وکیل کی دلائل اور پبلک انٹرسٹ پیٹیشن پر بہت ناراض ہوئی۔ عدالت نے وکیل کو انتباہ دیا کہ اگلی بار ایسی درخواست دائر کی گئی تو ان کے خلاف کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ CJI سوریہ کانت نے کہا، اگلی بار آپ ایسی درخواست لے کر آئیں تو آپ دیکھیں گے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔"
یہ درخواست آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت دائر کی گئی تھی، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ ایک کمیٹی بنا کر تحقیق کرے کہ کیا پیاز تامسک غذا میں آتی ہے یا اس میں کون سے منفی عناصر ہیں۔ درخواست گزار نے یہ بھی کہا کہ جین برادری کے لوگ پیاز، لہسن اور جڑ والی سبزیاں نہیں کھاتے، کیونکہ وہ انہیں تامسک غذا سمجھتے ہیں۔
ایڈووکیٹ سچن گپتا نے اس کے علاوہ تین اور پبلک انٹرسٹ پیٹیشنز بھی دائر کی تھیں، لیکن عدالت نے انہیں بھی مسترد کر دیا۔ ایک درخواست میں شراب اور تمباکو میں موجود نقصان دہ عناصر کو ضابطے کے تحت لانے کی ہدایت طلب کی گئی، دوسری درخواست میں جائیداد کا رجسٹریشن لازمی کرنے کی ہدایت مانگی گئی، اور تیسری درخواست میں کلاسیکی زبانوں کے اعلان کے حوالے سے ہدایات طلب کی گئی۔ عدالت نے ان درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی درخواستیں عدالتوں کے بوجھ کو بڑھاتی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اگر درخواست گزار وکیل نہ ہوتے تو ان پر نمونہ جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا تھا۔