غوث سیوانی، نئی دہلی
کیا آپ یقین کرسکتے ہیں کہ شاعر اسلام علامہ اقبال کی نظر میں شری کرشن کا خاص مقام تھا؟ یعنی جس مفکر نے اسلامی فلسفے کو اپنی تحریروں کے ذریعے عام کیا ،اس کے دل ودماغ اور شاعری پر کرشن کنہیا کی گہری چھاپ تھی۔جی ہاں! یہ کوئی افسانوی داستان نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ جس طرح اقبال نے بھگوان رام کو "امام ہند" کے لقب سے یاد کیا ہے، اسی طرح کرشن کی بانسری کو اقبال نے سرود ربانی قراردیا ہے۔
علامہ اقبال اگرچہ اپنی شاعری میں اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں مگر اسی کے ساتھ اقبال ایک عظیم مفکرتھے اور مختلف مذاہب، تہذیبوں اور فلسفیانہ روایتوں کا گہرائی سے مطالعہ کیا تھا۔ اگرچہ ان کی شناخت "شاعرِ اسلام" کے طور پر ہوتی ہے، لیکن ان کی فکر کسی ایک مذہب یا قوم تک محدود نہیں تھی۔ وہ جہاں بھی انسانیت، روحانیت، اخلاق اور سچائی کی روشنی دیکھتے تھے، اس کا احترام کرتے تھے۔ اسی کشادہ نظری کی وجہ سے اقبال نے ہندو مذہب کی کئی اہم شخصیات کا ذکر عزت و احترام کے ساتھ کیا، جن میں شری کرشن کا نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔اس موضوع پر آگے بڑھنے سے پہلے کرشن جی کا ایک مختصر تعارف ضروری ہے تاکہ اس مضمون کو سمجھنے میں آسانی ہو۔
شری کرشن کون؟
شری کرشن ہندو مذہب کی سب سے اہم اور محبوب شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ہندو عقیدے کے مطابق وہ بھگوان وشنو کے آٹھویں اوتار ہیں۔ ان کی زندگی، تعلیمات اور کردار نے نہ صرف ہندو مذہب بلکہ ہندوستانی تہذیب، ادب، موسیقی، فنونِ لطیفہ اور فلسفے پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ آج بھی کروڑوں لوگ شری کرشن کو محبت، حکمت، روحانیت اور راست بازی کی علامت کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
ہندو روایات کے مطابق شری کرشن کی پیدائش تقریباً پانچ ہزارسال قبل متھرا میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام واسودیو اور والدہ کا نام دیوکی تھا۔کرشن کے بچپن کے قصے ہندو روایات میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کی بانسری کی دھن، گوپیوں سے محبت اور رادھا کے ساتھ ان کے تعلقات ہندوستانی ادب اور لوک روایات کا اہم حصہ ہیں۔
یہ واقعات محض قصے نہیں سمجھے جاتے بلکہ ان میں روحانی اور اخلاقی معانی بھی تلاش کیے جاتے ہیں۔ بہت سے مفکرین کے نزدیک کرشن اور رادھا کی محبت دراصل بندے اور خدا کے درمیان روحانی تعلق کی علامت ہے۔
شری کرشن کا سب سے اہم کردار عظیم رزمیہ داستان مہابھارت میں نظر آتا ہے۔ اس جنگ میں انہوں نے پانڈوؤں کی حمایت کی، لیکن خود ہتھیار نہیں اٹھائے۔ وہ ارجن کے رتھ بان (سارَتھی) بنے اور جنگ کے میدان میں اسے زندگی، فرض، اخلاق اور روحانیت کے بارے میں جو تعلیمات دیں، وہ بعد میں بھگود گیتا کی صورت میں مرتب ہوئیں۔ بھگود گیتا ہندو مذہب کی مقدس ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔
ہندوستان کی تہذیب میں شری کرشن کا اثر بہت وسیع ہے۔ ان کے بارے میں بے شمار کتابیں، نظمیں، ڈرامے، گیت اور مصوری کے شاہکار تخلیق کیے گئے ہیں۔ جنم اشٹمی کا تہوار ان کی پیدائش کی یاد میں بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔
ہندوستان کے علاوہ نیپال، بنگلہ دیش، ماریشس، فجی، امریکہ، برطانیہ اور دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی کرشن کے ماننے والے موجود ہیں۔

شری کرشن سے اقبال کی عقیدت
اقبال نے شری کرشن کو صرف ہندو مذہب کی ایک مقدس شخصیت کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ انہیں ایک عظیم روحانی رہنما، حکیم اور انسانیت کے معلم کے طور پر تسلیم کیا۔ ان کے نزدیک شری کرشن ایسی شخصیت تھے جنہوں نے ہندوستان کی روحانی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔
اقبال نے اپنی تحریروں میں کرشن جی کے لئے نہایت محبت اور احترام کے جذبات کا اظہار کیا ہے۔
کرشن اورسرود ربانی
بانگ درا کی مشہور نظم "سرگزشت آدم "میں اقبال نے شری کرشن کی تعلیمات کا احترام سے ذکر کیا ہے۔وہ کرشن جی کی بانسری کے نغمے کو 'سرود ربانی' یعنی الوہی نغمہ قرار دیتے ہیں جس نے ہندوستان کو پیغامِ توحید دیا۔ اقبال کہتے ہیں:
سنایا ہند میں آکر سرود ربانی
اقبال کے اس ایک مصرع نے ہی واضح کردیا کہ وہ کرشن جی کی بانسری کو پیغام ربانی کا حامل سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ مصرع روحانی، تہذیبی اور فکری معنویت سے بھرپور ہے۔ وہ بتارہے ہیں کہ سرزمینِ ہند میں کرشن جی کے ذریعے الٰہی پیغام، روحانی نغمہ یا ربانی تعلیمات کی بازگشت سنائی دی۔ لفظ "سرودِ ربانی" خدا کی طرف سے آنے والی ہدایت، سچائی، محبت اور انسان دوستی کے پیغام کی علامت ہے، جبکہ بانسری کرشن کی شخصیت کی نمائندگی کرتی ہے۔
اس مصرع سے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ ہندوستان صدیوں سے روحانیت، معرفت اور توحید کا مرکز رہا ہے، جہاں مختلف انبیاء، اولیاء، صوفیاء اور مصلحین کے پیغامات نے انسانیت کو اخلاق، محبت اور امن کا درس دیا۔اقبال کی یہ خوبی ہے کہ وہ چند الفاظ میں طویل تاریخ کو بیان کردیتے ہیں اور اس مصرع میں بھی انہوں نے یہی کیا ہے۔طویل نظم "سرگزشت آدم" کے ایک مصرع میں انہوں نے ہندوستان کے وسیع تاریخی اور فکری پس منظر کو سمو دیا ہے۔
اقبال کی دوسری تحریریں بھی ظاہر کرتی ہیں کہ وہ کرشن کو ایک عظیم داعی اور مصلح تصور کرتے ہیں۔ اقبال کی درج ذیل تحریر ملاحظہ فرمائی:
"جس عروس معنی کو سری کرشن ،سری رام اور رام نوج بے نقاب کرنا چاہتے تھے سری شنکر کے منطقی طلسم نے اسے؟ محجوب کر دیا اور سری کرشن کی قوم ان کی تجدید کے ثمر سے محروم رہ گئی ۔"
دیباچہ اسرارخودی
علامہ اقبال کی یہ عبارت ان کے فلسفۂ خودی، مذہبی فکر اور تاریخِ ہند کے بارے میں گہرے مطالعے کی عکاس ہے۔ اقبال یہاں ہندو مذہبی اور فلسفیانہ روایت کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سری کرشن، سری رام اور رام نوج انسان کو ایک زندہ روحانی حقیقت، عشق، عمل اور خدا سے تعلق کا پیغام دینا چاہتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ تعلیمات انسان کی باطنی بیداری اور اخلاقی ارتقا کا سرچشمہ تھیں۔
اقبال کے مطابق سری شنکر آچاریہ کے فلسفۂ وحدت الوجود (ادویت ویدانت) اور اس کی منطقی موشگافیوں نے اس روحانی حقیقت کو ایک ایسے فکری اور فلسفیانہ طلسم میں چھپا دیا جس سے اصل پیغام پس منظر میں چلا گیا۔
اقبال کی نظر میں محض عقلی اور تجریدی فلسفہ اگر زندگی، عمل اور روحانی حرارت سے خالی ہو جائے تو وہ قوموں کو حقیقی تجدید اور بیداری نہیں دے سکتا۔ چنانچہ وہ سمجھتے ہیں کہ کرشن کی قوم یا ہندوستانی قوم ان کی اصلاحی اور روحانی تحریک کے مکمل ثمرات سے محروم رہ گئی، کیونکہ ان کے پیغام کی عملی اور اخلاقی روح فلسفیانہ بحثوں میں گم ہو گئی۔ یہ عبارت دراصل اقبال کے اس بنیادی نظریے کی ترجمان ہے کہ زندگی کی اصل قوت عشق، حرکت، عمل اور خودی کی بیداری میں ہے، نہ کہ محض مجرد عقلی مباحث میں۔شری کرشن کے تعلق سے اقبال کے خیالات کیا تھے؟ اس بارے میں ڈاکٹرمحمد نفیس حسن لکھتے ہیں:
"ہندو اساطیر میں مہا بھارت کی لڑائی میں سری کرشن نے جو تعلیمات ارجن کو دیں، گیتا انہیں تعلیمات پر مبنی اور علمی و اخلاقی مطالب پرمشتمل ہے۔ سری کرشن کی تعلیمات گیتا کی زینت ہیں۔ اقبال نے سری کرشن کے فکر و فلسفہ سے متاثر ہو کر اسرار خودی' کے دیباچے میں انہیں یہ خراج تحسین پیش کیا ہے:
"سری کرشن کا نام ہمیشہ ادب و احترام سے لیا جائے گا ۔ اس عظیم الشان انسان نے ایک نہایت دلفریب پیرائے میں اپنے ملک و قوم کی فلسفیانہ روایات کی تنقید کی اور اس حقیقت کو آشکار کیا کہ ترک عمل سے مراد ترک کلی نہیں ہے کیونکہ عمل اقتضائے فطرت ہے اور اس سے زندگی کا استحکام ہے بلکہ ترک عمل سے مراد یہ ہے کہ عمل اور اس کے نتائج سے مطلق دل بستگی نہ ہو ۔"
بانگ درا کی نظم "سرگذشت آدم "میں اقبال نے سری کرشن کی بانسری یعنی ان کے افکار و تصورات کو سرود ربانی سے تعبیر کیا ہے۔ ع
سنایا ہند میں آکر سرود ربانی۔"
فکرِ اقبال کے مشرقی مصادر۔ محمد نفیس حسن۔ 142
شری کرشن اوران کی تعلیمات سے اقبال کی عقیدت کا ثبوت 11 اکتوبر 1921ء کو مہاراجہ کشن پرشاد شاد کے نام لکھے گئے ان کے خط سے بھی ملتا ہے،جس میں انہوں نے بھگوت گیتا کا اردو میں ترجمہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
علامہ اقبال کے ہاں تمام مذاہب کی عظیم شخصیات کے لیے احترام موجود تھا اور شری کرشن کا شمار ان کی ان منتخب ہستیوں میں ہوتا ہے جن کی تعلیمات سے اقبال نے اپنے فلسفے کے لیے روشنی کشید کی۔
کرشن اور محبت کا پیغام
اقبال کے نزدیک شری کرشن کی سب سے بڑی خصوصیت محبت تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ کرشن نے انسانوں کو محبت، اخوت اور روحانی وابستگی کا درس دیا۔ اقبال کی نگاہ میں محبت ہی وہ قوت ہے جو انسان کو خدا کے قریب لے جاتی ہے اور انسانوں کے درمیان نفرتوں کو ختم کرتی ہے۔
اسی لیے اقبال نے کرشن کی شخصیت کو صرف مذہبی دائرے میں محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں محبت اور روحانیت کا عالمی پیامبر قرار دیا۔
کرشن ایک قومی رہنما کے طور پر
اقبال کی شاعری میں قوموں کی بیداری اور خودشناسی کا موضوع بہت اہم ہے۔ وہ ایسے رہنماؤں کو پسند کرتے تھے جو اپنی قوم کو زوال سے نکال کر ترقی اور شعور کی راہ پر گامزن کریں۔ اقبال کے نزدیک شری کرشن بھی ایسے ہی رہنما تھے جنہوں نے ہندوستانی معاشرے کو فکری اور روحانی قوت عطا کی۔
گیتا اور اقبال
شری کرشن سے متعلق گفتگو میں بھگود گیتا کا ذکر ناگزیر ہے، کیونکہ گیتا میں کرشن کی تعلیمات بیان ہوئی ہیں۔ اقبال گیتا کو ہندوستان کے اہم ترین روحانی اور فلسفیانہ متون میں شمار کرتے تھے۔انہوں نے اپنی کتاب اسرارِ خودی کے دیباچے میں گیتا اور اس کی تشریحات کا ذکر کیا ہے۔ اقبال کے نزدیک گیتا میں عمل، ذمہ داری اور باطنی تربیت کا جو تصور پیش کیا گیا ہے، وہ انسانی شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اگرچہ اقبال کا فلسفۂ خودی اسلامی تعلیمات سے ماخوذ ہے، لیکن وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہندوستانی فلسفے میں بھی کئی ایسے عناصر موجود ہیں جو انسان کی روحانی ترقی میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
اقبال اور مذہبی رواداری
شری کرشن کے بارے میں اقبال کی تحریریں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ وہ مذہبی تعصب کے قائل نہیں تھے۔ انہوں نے بھگوان رام، گورو نانک، سوامی رام تیرتھ، گوتم بدھ اور آدی شنکر آچاریہ جیسی شخصیات کا بھی احترام کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کرشن کو ہندوستان کے عظیم روحانی رہنماؤں میں شمار کیاہے۔اقبال نے ہمیشہ علمی دیانت کے ساتھ دوسروں کے افکار کا مطالعہ کیا اور جہاں خوبی دیکھی، اس کا اعتراف کیا۔

موجودہ دور کے لیے پیغام
آج کے دور میں جب مذہبی اور سماجی اختلافات اکثر کشیدگی کا سبب بن جاتے ہیں، اقبال کا طرزِ فکر ہمارے لیے ایک اہم سبق رکھتا ہے۔ انہوں نے دکھایا کہ اپنے عقیدے پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے بھی دوسری مذہبی اور فکری روایتوں کا احترام کیا جا سکتا ہے۔
شری کرشن کے بارے میں اقبال کی رائے اس بات کی بہترین مثال ہے کہ علمی وسعت، رواداری اور انصاف پسندی کس طرح مختلف مذاہب کے درمیان مکالمے اور باہمی احترام کو فروغ دے سکتی ہے۔
اقبال کی نظر میں شری کرشن ہندوستان کی ایک عظیم روحانی اور تاریخی شخصیت ہیں۔ انہوں نے کرشن کو محبت، حکمت، روحانیت اور قومی بیداری کی علامت کے طور پر دیکھا۔ یہی اقبال کی فکری کشادگی، علمی دیانت اور انسان دوستی کا سب سے روشن پہلو ہے۔