غوث سیوانی، نئی دہلی
علامہ اقبال نے جب گائتری منتر کو اردو شاعری کا لباس پہنایا تو بعض لوگوں کو ان کا عمل غیراسلامی لگا اور شاعر مشرق پر کفر کا فتویٰ لگادیا۔ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ آج اقبال سب سے زیادہ اسلام پسند حلقوں میں پسند کئے جاتے ہیں مگر جیتے جی انہیں مسلمان ماننے سے بھی انکار کردیا گیا تھا۔ آخر کار انہیں اپنے اشعار کی وضاحت کرنی پڑی۔اقبال کو عموماً اسلامی فکر، خودی، ملتِ اسلامیہ اور احیائے دین کے شاعر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، لیکن ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ مختلف تہذیبوں، مذاہب اور فلسفیانہ روایات کا گہرا مطالعہ رکھتے تھے اور سب کا احترام بھی کرتے تھے۔
اقبال نے جہاں قرآن، حدیث اور اسلامی تاریخ سے اپنی فکری غذا حاصل کی، وہیں انہوں نے ہندو فلسفے، ویدانت، بدھ مت، ایرانی تصوف اور مغربی فلسفے کا بھی سنجیدگی سے مطالعہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں بعض اوقات ایسی نظمیں بھی ملتی ہیں جو دوسرے مذاہب کی روحانی روایات کے حسن کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہیں۔ ان ہی میں ایک نظم "آفتاب" ہے، جسے اقبال کی جانب سے گائتری منتر کے منظوم ترجمے یا شعری باز آفرینی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
گائتری منتر کیا ہے؟
گائتری منترکو ہندو مذہب کے بہت ہی قدیم اور مقدس ترین منتروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ رگ وید میں مذکور ہے اور ہندو مذہبی روایت میں اسے روحانی بیداری، معرفت اور خدائی ہدایت کی دعا سمجھا جاتا ہے۔ اس منتر میں انسان خدا سے یہ التجا کرتا ہے کہ وہ اس کی عقل و شعور کو منور کرے اور اسے راہِ راست کی طرف رہنمائی عطا فرمائے۔ایسا مانا جاتا ہے کہ اس منتر کے تلفظ اور اسے سمجھنے سے خدا کا عرفان حاصل ہوتا ہے۔
اس کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی جاتی ہے اور اس کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ اس میں توحید کا بیان ہے۔ ویدانت کے علماءمانتے ہیں کہ وید میں توحید کا بیان ہے۔ گائتری منتر میں یہ بیان زیادہ واضح انداز میں ملتا ہے۔ گائتری منتر ہندووں کی مذہبی اساس مانا جاتا ہے جس میں خدا کی تعریف وتوصیف کے بعد اس سے یہ التجا کی جاتی ہے کہ وہ صراط مستقیم کی رہنمائی فرمائے۔
گائتری منتر کا بنیادی مفہوم یہ ہے:
"اے خدا! آپ ہر جگہ موجود، ہر چیز پر قدرت رکھنے والے اور کامل اختیار کے مالک ہیں۔ آپ سراسر نور ہیں۔ آپ علم و معرفت اور مسرت کا سرچشمہ ہیں۔ آپ خوف کو دور کرنے والے ہیں، آپ ہی اس کائنات کے خالق ہیں اور سب سے برتر ہیں۔ ہم آپ کے نور کو سلام پیش کرتے ہیں اور آپ کی یاد میں محوِ مراقبہ ہوتے ہیں۔ آپ ہماری عقل کو صحیح راستے کی طرف رہنمائی فرماتے ہیں۔"
بعض ویدانتی علماء کے نزدیک اس منتر میں توحید کا تصور نمایاں ہے، کیونکہ اس میں کائنات کے ایک اعلیٰ اور واحد سرچشمۂ نور کی طرف رجوع کیا گیا ہے۔

اقبال کی نظم "آفتاب"کا مفہوم
اردو کے بہت سے شاعروں نے اس کا آزاد ترجمہ کیا ہے جن میں اقبال بھی شامل ہیں۔ انہوں نے گائتری منتر کے مرکزی خیال کو اپنی شاعرانہ زبان میں ڈھال کر ایک نئی ادبی تخلیق پیش کی ہے جو لگ بھگ ایک صدی سے شائقین ادب کی توجہ کا مرکز ہے اور اس پر زبان وادب کے ماہرین نے بہت کچھ لکھا ہے۔ اقبال نے نظم "آفتاب" میں سورج کو نورِ حقیقت اور سرچشمۂ حیات کی علامت بنا کر لکھا ہے۔اردو شاعری تشبیہات واستعارات کی شاعری ہے۔ یہاں ساغر کہہ کر محبوب کی آنکھیں مراد لی جاتی ہیں،کالی گھٹا کہہ کر معشوق کی زلفوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے لہٰذا سورج کوسرچشمہنور کی علامت کے طور پر پیش کیا جائے تو کچھ حیرت انگیز نہیں ہے۔ بہرحال نظم کے ابتدائی اشعار میں اقبال ، سورج کو زندگی، شعور اور کائنات کی حرکت کا مظہر قرار دیتے ہیں:
اے آفتاب! روح و روانِ جہاں ہے تو
شیرازہ بندِ دفترِ کون و مکاں ہے تو
یہاں آفتاب صرف مادی سورج نہیں بلکہ اس نور کی علامت ہے جو کائنات کو نظم، حرکت اور زندگی بخشتا ہے۔
اسی طرح وہ کہتے ہیں:
ہر شے میں زندگی کا تقاضا تجھی سے ہے
ہر شے کو تیری جلوہ گری سے ثبات ہے
یہ اشعار اس تصور کی عکاسی کرتے ہیں کہ پوری کائنات ایک اعلیٰ نور سے وابستہ ہے اور اسی کے فیض سے زندگی برقرار ہے۔
اے آفتاب ہم کو ضیائے شعور دے
چشمِ خرد کو اپنی تجلی سے نور دے
یہاں شاعرعلم، بصیرت اور ہدایت کا طلب گار ہے، جو گائتری منتر کے بنیادی پیغام سے ہم آہنگ ہے۔
کلیات اقبال میں پوری نظم کچھ اس طرح ہے:
اے آفتاب روح و روان جہاں ہے تو
شیرازہ بند دفتر کون و مکاں ہے تو
باعث ہے تو وجود و عدم کی نمود کا
ہے سبز تیرے دم سے چمن ہست و بود کا
قائم یہ عنصروں کا تماشا تجھی سے ہے
ہر شے میں زندگی کا تقاضا تجھی سے ہے
ہر شے کو تیری جلوہ گری سے ثبات ہے
تیرا یہ سوز و ساز سراپا حیات ہے
وہ آفتاب جس سے زمانے میں نور ہے
دل ہے خرد ہے روح رواں ہے شعور ہے
اے آفتاب ہم کو ضيائے شعور دے
چشم خرد کو اپنی تجلی سے نور دے
ہے محفل وجود کا ساماں طراز تو
يزدان ساکنان نشيب و فراز تو
تیرا کمال ہستی ہرجان دار میں
تیری نمود سلسلہ کوہسار میں
ہر چیز کی حیات کا پروردگار تو
زائيدگان نور کا ہے تاجدار تو
نے ابتدا کوئی نہ کوئی انتہا تری
آزاد قيد اول و آخر ضیا تری
اقبال کا مقصد
گائتری منتر کے ترجمہ سے اقبال کا مقصد کسی مذہبی عقیدے کی تبلیغ نہیں تھا بلکہ وہ انسانی تہذیبوں میں موجود ان آفاقی اقدار کو نمایاں کرنا چاہتے تھے جو انسان کو خدا، اخلاق اور معرفت سے جوڑتی ہیں۔ وہ تنگ نظری کے مخالف تھے اور مختلف مذاہب کی ان تعلیمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے جو انسان کو بلندیِ فکر اور پاکیزگیِ کردار کی طرف لے جائیں۔ گائتری منتر کی شعری تعبیر بھی شاعر کی فکری کشادگی کا مظہر ہے۔
اقبال کی نظم "آفتاب" اس بات کی روشن مثال ہے کہ ایک عظیم شاعر اپنے مذہبی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے دوسری تہذیبوں اور مذاہب کی روحانی روایتوں سے بھی فیض حاصل کر سکتا ہے۔ گائتری منتر کی شعری ترجمانی کے ذریعے اقبال نے دراصل علم، نور، ہدایت اور خدا شناسی کے مشترک انسانی تصورات کو اجاگر کیا ہے۔

اقبال کی ایک یادگارتصویر
اقبال پرکفر کا فتویٰ
علّامہ اقبال کی شاعری اور افکار پرمتعدد فتوے لگائے گئے۔یہ فتوے ان کی زندگی میں لگائے گئے اور ان کی وفات کے بعد بھی۔ایک فتویٰ ان کی نظم "آفتاب" کے مضمون کے پیش نظر لگایا گیا۔ یہ نظم توگائتری منتر کا آزاد ترجمہ ہے۔حالانکہ اقبال کی دوسری نظموں کے مضامین اور ان کے انداز پر بھی فتوے صادر کئے گئے۔ جیسے طویل نظم "شکوہ " کے انداز کو کچھ لوگوں نے غیرمودبانہ قرار دیا۔ اقبال کے فلسفیانہ خیالات کو ہدف تنقید بنایا گیا نیز تصوف کے نام پر خرافات اور کاہلی کو بھی انہوں نے نشانہ بنایا ہے جو کچھ لوگوں کو برا لگا اور انہیں تصوف مخالف سمجھ لیا گیا اور تنازعہ کھڑا ہوگیا۔
بہرحال اقبال کے تعلق سے جو فتویٰ موضوع بحث بنا وہ تھامولوی دیدار علی کا فتویٰ۔ لاہور کی مسجد وزیر خان کے خطیب، مولوی دیدار علی الوری نے علامہ اقبال کی بعض نظموں اور فلسفہ خودی پر کفر کا فتویٰ دیا تھا۔ یہ فتویٰ تب کے رسالوں میں بھی موضوع بحث بنا تھا۔ دراصل مولوی صاحب سےسوال پوچھا گیا تھا کہ ایک شخص اشعار میں آفتاب کو خدائی صفات کے ساتھ متصف کرتا ہے اور اس سے مرادیں طلب کرتاہے اور آخرت پر یقین نہیں رکھتا، حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر پر استہزا کرتاہے، علمائے کرام پر آوازے کستاہے اور ہندوؤں کے ایک بزرگ کو جسے وہ خدا کا اوتار مانتے ہیں، ’امام‘ اور ’چراغ ہدایت‘ کے الفاظ سے یاد کرتاہے ،اس کے تعلق سے شریعت کا کیا حکم ہے؟کیا ایسا آدمی مسلمان ہوسکتا ہے؟ اس کے ساتھ معاملات کا کیا حکم ہے؟اس استفتا میں اقبال کے کچھ اشعار بھی پیش کیے گئےتھے جیسے:
اے آفتاب ہم کو ضیائے شعور دے
چشمِ خرد کو اپنی تجلی سے نور دے
خصوصیت نہیں کچھ اس میں اے کلیم تری
شجر حجر بھی خدا سے کلام کرتے ہیں
غضب ہیں یہ مرشدانِ خودبیں خدا تری قوم کو بچائے
بگاڑ کر ترے مسلموں کو یہ اپنی عزت بنا رہے ہیں
ہے رام کے وجود پر ہندوستان کو ناز
اہلِ نظر سمجھتے ہیں اس کا امامِ ہند
اعجاز اس چراغِ ہدایت کا ہے یہی
روشن تر از سحر ہے زمانے میں شامِ ہند
وغیرہ۔
مذکورہ سوال کے جواب میں مولوی دیدار علی نے ایک فارسی وعربی آمیز زبان میں فتویٰ جاری کیا تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ شاعر نے آفتاب کو اپنی نظم میں یزداں اور پروردگار کہا ہے جو صریح کفر ہے۔خدا کے جنم لینے کا عقیدہ بھی کفریہ ہے اور اللہ کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی توہین بھی کفر ہے،ایسے میں قائل اگر توبہ نہ کرے تو اس سے قطع تعلق کرلیا جائے۔
ظاہر ہے کہ مولوی دیدار علی کے فتویٰ کے بعد ہنگامہ مچ گیا اور لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ اگر اقبال جیسا شخص بھی مسلمان نہیں بچا تو پھر مسلمان کون ہے؟
دراصل اقبال کی شاعری کے تعلق سے سوال ہی غلط پوچھا گیا تھا۔ اقبال نے خود ہی واضح کردیا تھا کہ نظم "آفتاب"رگ وید کے ایک منتر کا ترجمہ ہے ، جسے گائتری منتر کہا جاتا ہے۔ اس نظم میں جس سورج کی بات ہو رہی ہے وہ عام سورج نہیں بلکہ یہ سورج ایک علامت ہےجس سے کسب فیض کیا جاتا ہے اور کائنات کی ہر شے اسی سے فیض حاصل کرتی ہے ،یہاں تک کہ آسمان کا سورج بھی اسی سورج سے استفادہ کرتا ہے۔
قرآن نے بھی کہا ہے کہ اللہ نورالسمٰوات والارض یعنی اللہ زمین وآسمان کا نور ہے۔ ظاہر ہے کہ شاعرانہ استعارات وتشبیہات کو سمجھے بغیر فتویٰ جاری کردیا گیا تھا۔ حالانکہ اقبال نے ان فتوؤں پر براہ راست کوئی جارحانہ ردعمل نہیں دیا اور عام مسلمانوں نے مولوی صاحب کے فتوے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ بہرحال فتووں کے باجود اقبال کی شاعری کی فصل آج بھی لہلہارہی ہے اور دنیا کو متاثر کر رہی ہے۔ دوسری طرف ان فتووں کو یاد کرنے والا بھی اب کوئی نہیں ہے،فتووں کو نہ تب سنجیدگی سے لیا گیا تھا اور نہ اب لیا جاتا ہے۔