نئی دہلی:کانگریس کے صدر ملیکار جن کھرگے نے منگل کو الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا مغربی ایشیا کے بحران پر راجیہ سبھا میں دیا گیا بیان ابہام پیدا کرنے کی کوشش" تھا، جس سے جوابات ملنے کے بجائے مزید سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
راجیہ سبھا میں وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سات بااختیار گروپ تشکیل دیے گئے ہیں، جو ایل پی جی، ضروری خدمات اور اشیاء کی فراہمی سمیت مختلف شعبوں کا جائزہ لے کر تجاویز دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس تنازع کو تین ہفتوں سے زیادہ ہو چکے ہیں اور اس کے باعث دنیا بھر میں شدید توانائی بحران پیدا ہو گیا ہے۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے کھرگے نے ایکس’ پر لکھا، راجیہ سبھا میں وزیر اعظم مودی کا 20 منٹ کا بیان زیادہ سے زیادہ ابہام پیدا کرنے کی ایک کوشش تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تین بنیادی سوالوں کے واضح جواب چاہتے ہیں۔ پہلا، وزیر اعظم کی غیر مستقل سفارتی پالیسی نے بھارت کی اسٹریٹیجک خود مختاری کے توازن کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس تبدیلی کے بارے میں پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا اور اس خود مختاری کو بحال کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ کھرگے نے مزید کہا کہ تقریباً 37 سے 40 بھارتی پرچم والے جہاز، جن میں تقریباً 1100 ملاح سوار ہیں، آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان پر موجود سامان کی مالیت تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ وزیر اعظم کی ایرانی صدر سے دو مرتبہ بات چیت اور وزیر خارجہ کی اپنے ایرانی ہم منصب سے متعدد رابطوں کے باوجود بھارت اپنے جہازوں کے لیے محفوظ راستہ کیوں یقینی نہیں بنا سکا؟ جبکہ چین، روس اور جاپان جیسے ممالک کو محفوظ گزرگاہ دی جا رہی ہے۔ کانگریس صدر کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ پہلے بھارت اپنی توانائی کی ضروریات 27 ممالک سے پوری کرتا تھا، جبکہ اب 41 ممالک سے درآمد کی جا رہی ہے۔
کھرگے نے پوچھا کہ اس وقت کون سے ممالک بھارت کو ایل این جی، ایل پی جی اور خام تیل فراہم کر رہے ہیں اور کس مقدار میں؟ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ عوام کو اب بھی قلت، طویل قطاروں، ذخیرہ اندوزی اور مہنگائی کا سامنا کیوں ہے؟
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے موجودہ صورتحال کا موازنہ کووڈ سے کیا، جبکہ ملک وبا کے دوران ہونے والی تباہ کاریوں کو نہیں بھولا، جب لاکھوں افراد جان سے گئے اور لوگوں کو آکسیجن جیسی بنیادی سہولیات کے لیے جدوجہد کرنا پڑی۔ کھرگے نے مزید سوال کیا کہ کیا وزیر اعظم یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ 140 کروڑ بھارتی شہریوں کو ایک بار پھر اپنی حفاظت خود کرنی ہوگی، جبکہ ملک توانائی بحران، خوراک، کھاد، چھوٹے و درمیانی کاروبار اور مہنگائی جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم مودی کا بیان بہت تاخیر سے آیا اور اس نے جواب دینے کے بجائے مزید سوالات کو جنم دیا۔