وقف صرف متولی کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ مولانا محمود مدنی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 25-07-2026
وقف صرف متولی کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ مولانا محمود مدنی
وقف صرف متولی کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ مولانا محمود مدنی

 



نیو دہلی: وقف کو صرف متولی کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں، بلکہ اس کی حفاظت پوری ملت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جس قوم نے اپنی امانتوں کی حفاظت سے غفلت برتی، تاریخ نے بھی اس کی حفاظت نہیں کی

آل انڈیا متولیان کانفرنس میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے ان خیالات کا اظہار کیا

وقف ایکٹ 2025 کے خلاف جاری سماجی و قانونی جدوجہد کے درمیان جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام ایوانِ غالب، نئی دہلی میں آل انڈیا متولیان کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی صدارت سید شاہ محمد علی الحسینی، سجادہ نشین درگاہ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ، گلبرگہ شریف نے کی، جبکہ استقبالیہ کلمات جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے پیش کیے۔ نظامت کے فرائض مولانا مفتی حسان قاسمی نے انجام دیے۔

کانفرنس سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ وقف محض ایک جائیداد کا نام نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی امانت اور اسلامی تہذیب کا ایک اہم ستون ہے۔ اس لیے اس کی حفاظت، دستاویزات کو محفوظ رکھنا اور ضرورت پڑنے پر قانونی جدوجہد کرنا بھی عبادت کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کو صرف متولی کا مسئلہ سمجھنا درست نہیں، بلکہ اس کی حفاظت پوری ملت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جس قوم نے اپنی امانتوں کی حفاظت سے غفلت برتی، تاریخ نے بھی اس کی حفاظت نہیں کی۔

مولانا مدنی نے کہا کہ اوقاف کو درپیش مسائل میں بیرونی چیلنجز کے ساتھ ہماری اپنی غفلت، ناقص انتظام اور وقف دستاویزات کی عدم حفاظت بھی شامل ہے۔ انہوں نے وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کے تناظر میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ انصاف اور آئینی اصولوں کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کسی ایک طبقے پر احسان نہیں، بلکہ ریاست کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ قانون کی عزت اسی وقت برقرار رہتی ہے جب وہ سب کے لیے یکساں ہو۔

انہوں نے متولیان سے اپیل کی کہ وقف املاک کا مکمل ریکارڈ محفوظ کرنے کے ساتھ اسے ڈیجیٹلائز کیا جائے، مالی معاملات میں شفافیت اختیار کی جائے، باقاعدگی سے آڈٹ کرایا جائے اور ناجائز قبضوں کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے موروثیت سے اجتناب پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے باعث اداروں کا اعتماد اور روح متاثر ہوتی ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ موجودہ حالات میں اوقاف کے تحفظ کے لیے جز وقتی نہیں بلکہ کل وقتی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اخلاص، منصوبہ بندی اور مسلسل محنت کے ساتھ اس میدان میں کام کریں، ذمہ دار افراد تیار کریں اور ملت کو اس مشن سے جوڑیں تو اللہ تعالیٰ ہماری کوششوں کو قبول فرمائے گا اور اوقاف کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنایا جا سکے گا۔

پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اقبال انصاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جہاں متولی موجود ہیں، وہاں وقف املاک کی رجسٹریشن اور قانونی کارروائیوں کے سلسلے میں بھی کئی مشکلات سامنے آ رہی ہیں۔ اس لیے متولیان کو اپنی ذمہ داری کا خصوصی احساس کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور عوام کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات میں عدالتوں کو آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کہا کہ اوقاف کے تمام مسائل کا بوجھ صرف متولیان یا حکومت پر ڈالنے کے بجائے پوری ملت اور عوام کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خاں نے اوقاف کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں زیادہ مؤثر اور عوامی مفاد کے لیے کارآمد بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف املاک پر ناجائز قبضوں اور تنازعات کی ایک بڑی وجہ بعض متولیان کی غفلت اور بعض مقامات پر وقف جائیدادوں کو ذاتی ملکیت سمجھنے کا رجحان ہے، جس سے اوقاف کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

اپنے صدارتی خطاب میں سید شاہ محمد علی الحسینی نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران وقف کے تحفظ کی تحریکوں کے نتیجے میں عوام میں وقف کے بارے میں نمایاں بیداری پیدا ہوئی ہے، تاہم اسے مزید منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف املاک کا تحفظ، ناجائز قبضوں کے خلاف بروقت قانونی کارروائی اور وقف قوانین سے مکمل واقفیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اہل ثروت سے نئے اوقاف قائم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وقف کو تعلیم، صحت اور رفاہ عامہ کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بنایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ متولی کی بنیادی ذمہ داری واقف کے منشا کی مکمل پابندی ہے۔

شاہ سید یداللہ حسینی، نائب سجادہ نشین روضہ خرد، گلبرگہ شریف نے وقف کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر اور فعال کمیٹی تشکیل دینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی وقف جائیدادوں کے تحفظ، نگرانی اور قانونی دفاع کے لیے عملی منصوبہ تیار کرے۔ اوقاف کا مؤثر تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب ذمہ داران ذاتی دلچسپی، احساس ذمہ داری اور مستقل عملی کوشش کے ساتھ اس کام کو آگے بڑھائیں۔

ساؤتھ ایشین مائناریٹیز لائرز کی جانب سے بھی اس بات پر زور دیا گیا کہ ہر علاقے میں وقف تحفظ کمیٹیاں اور قانونی سیل قائم کیے جائیں، شفاف مالی و انتظامی نظام اپنایا جائے اور نوجوانوں کو بھی اس عمل میں شریک کیا جائے۔ مقررین نے کہا کہ وقف کا تحفظ پوری ملت کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس لیے وقف کی آمدنی کو اس کے اصل دینی، تعلیمی اور سماجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

اپنے خطاب میں ممبر پارلیمنٹ ہریندر ملک نے وقف املاک میں بعض مقامات پر بدانتظامی اور غیر شفاف معاملات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وقف کی آمدنی غریبوں اور ضرورت مندوں کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہونی چاہیے۔ انہوں نے وقف کے تحفظ کی اس جدوجہد میں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

ممبر پارلیمنٹ مولانا محب اللہ ندوی نے جمعیۃ علماء ہند کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے وقف کے تحفظ کے لیے مشترکہ اور منظم جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا۔ ممبر پارلیمنٹ عمران مسعود نے وقف کے حوالے سے حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وقف املاک کے تحفظ کا مسئلہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں، بلکہ ملک میں دیگر مذہبی مقامات بھی مختلف نوعیت کے تنازعات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں تمام مذہبی اداروں اور ان کی املاک کے تحفظ کے لیے ہندوؤں اور مسلمانوں کو مل کر جدوجہد کرنا ہوگی۔

عبدالواحد حسین انگار، درگاہ اجمیر شریف نے کہا کہ صرف قوانین پر انحصار کافی نہیں، بلکہ عوامی شعور، باہمی اعتماد اور اجتماعی تعاون ہی اوقاف کے مؤثر تحفظ کی حقیقی ضمانت ہیں۔ مولانا صدیق اللہ چودھری، صدر جمعیۃ علماء مغربی بنگال، نے ملک کو پانچ زون میں تقسیم کرکے اوقاف کے انتظام کو مزید مؤثر بنانے کی تجویز پیش کی۔

کانفرنس میں آئی آر ایس اکرم الجبار خاں، حاجی محمد ہارون، ایڈووکیٹ اقبال شیخ، سابق ممبر وقف کونسل، آئی آر ایم ایس سید محمود اختر، ایڈووکیٹ طاہر محمد حکیم، ممبر پارلیمنٹ عبدالوہاب کیرالہ اور سابق ممبر پارلیمنٹ حارث بیرن سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

اس موقع پر نواب احمد حمید باغیت، ایڈووکیٹ فیروز غازی، جنرل سکریٹری ساملہ، مرضیہ خالدی، علماء گجرات کے جنرل سکریٹری پروفیسر شار احمد انصاری، مولانا یعلیٰ کریمی، ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء ہریانہ، ہماچل پردیش و پنجاب، نائب صدر ماسٹر محمد قاسم مہوں، جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے صدر مولانا محمد قاسم نوری، جنرل سکریٹری مولانا آفتاب عالم صدیقی، مولانا قاری عبدالسمیع اور اویس سلطان خاں سمیت جمعیۃ علماء ہند، جمعیۃ علماء دہلی، ہریانہ، میوات اور مغربی اترپردیش کے ذمہ داران کے علاوہ پانچ سو سے زائد متولیان نے شرکت کی۔ اس موقع پر معزز مہمانوں کا شال پوشی کے ذریعے استقبال بھی کیا گیا۔