اترکاشی:کیوں بن گئے چوہاکانکن، ناصر،قریشی اور وکیل ، افسران محمود احمد اور عطا حسنین کے ساتھ ہیرو

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | 3 Months ago
اترکاشی:کیوں بن گئے چوہاکانکن، ناصر،قریشی اور وکیل ، افسران محمود احمد اور عطا حسنین کے ساتھ ہیرو
اترکاشی:کیوں بن گئے چوہاکانکن، ناصر،قریشی اور وکیل ، افسران محمود احمد اور عطا حسنین کے ساتھ ہیرو

 

آواز دی وائس : نئی دہلی 

آخر کار زندگی جیت گئی، 17 دن کی مسلسل جدوجہد کے بعد اتر کاشی سرنگ میں سے 41 مزدوروں کو باہر نکال لیا گیا، ایک بڑی کامیابی ایک بڑی خوشخبری جس نے سرنگ کے دہانے پر خوشی کا ماحول پیدا کر دیا - موت اور زندگی کی جنگ نے پورے ملک کے لیے اعصاب شکن حالات پیدا کر دیے تھے مگر منگل کی شام سرنگ میں کھدائی کے اخری مرحلے کو بخوبی پورا کر لیا گیا

اس پورے آپریشن میں سینکڑوں افراد شامل تھے،جو دن رات محنت کررہے تھے۔ جنہوں نے نہ موسم کی فکر کی نہ نیند کی ۔22سرکاری ایجنسیاں شامل تھیں،جن میں ہر کسی کا کردار کہیں نہ کہیں اہم تھا۔

ان میں سب سے جو،گراونڈ زیرو پر توجہ کا مرکزبنے ۔ ان میں چھ رکنی چوہا کانکنی کے ماہر اور ٹیم لیڈر وکیل حسن ،فیروز قریشی کے ساتھ ناصر حسین  تھےجبکہ اس پورے آپریشن  کی نگرانی کررہے دوسینئر افسران تھے جو منصوبہ بندی سے ایکش تک ہدایات دے رہے تھے۔ان میں ایک ہیں نیشنل ہائی ویزاینڈ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر محمود احمد اور دوسرے ہیں سابق فوجی لیفٹینٹ جنرل اور نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کے ممبر عطا حسنین ۔

awazurdu

اترکاشی میں چوہا کانکن بنے ہیرو

منا قریشی  داخل ہوا سرنگ میں 

 چار سو گھنٹے جاری رہنے والے اس بچاو آپریشن میں جب تمام مشینری فیل ہوگئی تو جس پر بھروسہ کیا گیا،وہ تھے’’چوہا کانکن‘‘۔ جس کی ٹیم مدھیہ پردیش اوراتر پردیش سے بلائی گئی تھی جس کے ٹیم لیڈروکیل حسن تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا جذبہ یہی تھا کہ آخری پندرہ میٹر کا کام بہت نازک تھا۔لیکن ہمارے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ۔ ایک اور کانکن  فیروز عرف منا قریشی نے کہا کہ یہ ہمارا مشن تھا۔ وہ آخری مرحلے کی کھدائی کے بعد سرنگ کے باہر اپنے ساتھی کانکنوں کے ساتھ کھڑا تھا، رات بھر کی کھدائی کے بعد ان سب  کے چہرے سفید دھول سے اٹے ہوئے تھے۔انہوں نے تین تین کی دو ٹیموں میں کام کیا، ایک شخص ڈرلنگ، دوسرا ملبہ اکٹھا کر رہا تھا اور تیسرا اسے پائپ سے باہر دھکیل رہا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے 24 گھنٹے سے زیادہ کام کیا۔

 منا قریشی، دہلی سے چوہے کی کان میں کام کرنے والا پہلا شخص تھا جو دوسری طرف پہنچا جہاں 12 نومبر سے مزدور پھنسے ہوئے تھے۔اس نے کہا کہ جب میں نے آخری چٹان ہٹا دی۔ میں انہیں دیکھ سکتا تھا۔ پھر میں دوسری طرف چلا گیا۔ انہوں نے ہمیں گلے لگایا، اٹھا لیا۔ اور ہمیں نکالنے پر شکریہ ادا کیا۔ ہم نے پچھلے 24 گھنٹوں میں مسلسل کام کیا۔ میں اپنی خوشی کا اظہار نہیں کر سکتا۔ میں نے یہ اپنے ملک کے لیے کیا ہے-انہوں نے مزید کہا کہ سرنگ میں پھنسے مزدوروں نے ہمیں جو عزت دی ہے، میں ساری زندگی نہیں بھول سکتا

چھ کان کنوں میں سے ایک ناصر حسین نے کہا کہ جب ہم نے آخری ملبہ ہٹایا اور سرنگ کے اندر دیکھا،سب کے چہروں پر خوشی کی لہر تھی۔ جب ہم سرنگ کے اندر داخل ہوئے تو ہم نے انہیں ایسے گلے لگایا جیسے وہ گھر والے ہوں۔

  آپ کو بتادیں کہ ’’چوہا کانکنی ‘‘بہت ہی نازک اور پر خطر کام ہے۔ جنوری 2019 تک ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک پھنسے رہنے کے بعد میگھالیہ میں ایسی ہی ایک کان میں کم از کم 15 کان کن ہلاک ہو گئے تھے - یہ عمل 1970 کی دہائی میں غیر قانونی ہو گیا تھا، جب ملک میں کوئلے کی کانوں کو قومیا لیا گیا تھا اور سرکاری زیر انتظام کول انڈیا کو اجارہ داری دی گئی 

بچاو مہم جدوجہد میں جو شخص سب سے آگے ہے وہ محمود احمد ہے۔ مزدوروں کو بچانے کے لیے دن رات کام کرنے والی ٹیم کی نگرانی محمود احمد خود کر رہے ہیں۔ محمود احمد نیشنل ہائی وے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ نیشنل ہائی وے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے نامزد ڈائریکٹر کا چارج سنبھال رکھا ہے۔ روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری محمود احمد جو این ایچ آئی اے کے منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے کا اضافی چارج بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔ محمود احمد 1993 بیچ کے انڈین اکاؤنٹس اینڈ فنانس سروس کے افسر ہیں۔ وہ وزارت ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز میں جوائنٹ سکریٹری بھی ہیں۔ وہ ایم ڈی کے عہدے کا اضافی چارج سنبھالے ہوئے ہیں۔ محمود احمد نے اس بحران کے دوران پورے آپریشن کی کمان سنبھالی ۔ وہ مسلسل نگرانی کررہے تھے اور جائے وقوع پر موجود تھے۔ بچاو کاری کی منصوبہ بندی اوراس پر عمل درآمد  ان کی نگرانی میں ہورہا تھا۔ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا حکومت کی ایک خود مختار ایجنسی ہے۔ جو 1988 میں قائم ہوئی تھی۔ یہ ہندوستان میں 1,15,000 کلومیٹر میں سے 50,000 کلومیٹر سے زیادہ قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک کے انتظام کے لیے ذمہ دار ہے۔ یہ روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کی وزارت کی ایک نوڈل ایجنسی ہے۔

awazurdu

چوہا کانکنی  کے ہنر کا لوہا منوانے والے چہرے

اگر بات کریں جنرل سید عطا حسنین کی تو وہ  نیشنل ڈیزاسٹرمینجمینٹ اتھاریٹی کے ممبر ہیں۔ جو پہلے دن سے ہی بچاو مہم کے سلسلے میںسرگرم رہے۔ انہوں نے منگل کو مہم پوری ہونے کے بعد کہا کہ یہ کسی ایک یا دو  کی کوشش نہیں تھی بلکہ اس میں ملک کی بائیس ایجنسیاں شامل تھیں جن میں پی ایم او بھی شامل تھا۔  انہوں نے اپنے 40 سالہ شاندار کیرئیر میں ہنگامہ خیز ماحول میں نازک اور حساس مقامات میں خدمات انجام دیں۔  یہ بحران بھی ان کے لیے کسی بڑے چیلنج کی طرح تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس دوران  مسلسل ہدایات دیں اور ان کی قیادت نے اہم کردار ادا کیا۔  آپ کو بتا دیں کہ لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ  حسنین نے سری لنکا سے لے کر سیاچن گلیشیر تک، شمال مشرق سے لے کر جموں و کشمیر (جے اینڈ کے) تک اور موزمبیق سے روانڈا تک اقوام متحدہ کی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا۔

وہ جموں و کشمیر کے ماہر رہے ہیں ،جہاں وہ سات بار تعینات رہے ۔انہوں نے ہندوستانی فوج کی سری نگر میں قائم 15 کور کی کمانڈ کی۔ انہوں نے کہا کہ  یہ ہندوستان کی کامیابی ہے ۔یہ ملک کی قیادت کی کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک مشترکہ مہم تھی اس میں ہزاروں افراد شامل تھے۔

آپ کو بتا دیں کہ سید عطا حسنین  آج جموں و کشمیر پاکستان، مشرق وسطیٰ اور بین الاقوامی انتہا پسندانہ تشدد پر صف اول کے مصنفین اور تجزیہ کاروں میں سے ایک ہیں۔ بڑے ہندوستانی اخبارات - ٹائمز آف انڈیا، دی انڈین ایکسپریس، دی ہندو، ڈیکن کرونیکل اور دی ایشین ایج کے لیے لکھتے ہیں۔اس کے علاوہ وہ مرکزی دھارے کے ٹیلی ویژن پر ٹیلی ویژن مباحثوں میں باقاعدہ حصہ لیتے ہیں۔ شیرووڈ کالج نینی تال، سینٹ سٹیفن کالج دہلی، رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیز، کنگز کالج لندن اور ایشیا پیسیفک سینٹر فار سیکیورٹی اسٹڈیز، ہوائی سے تعلیم یافتہ ہیں ۔

یاد رہے کہ 13 جولائی 2018 کو ہندوستان کے صدر نے لیفٹیننٹ جنرل حسنین کو کشمیر کی سنٹرل یونیورسٹی کا چانسلر مقرر کیا تھا ۔جنرل حسنین کو صدر ہند کی طرف سے چھ اور آرمی چیف کی طرف سے دو اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ وہ 40 سال کی فعال خدمات کے بعد جولائی 2013 میںہندوستانی فوج سے سبکدوش ہوئے۔اتر کاشی بحران کے دوران  سید عطا حسنین اور محمود احمد نے اہم کردار ادا کیا 

سرنگ کی تعمیر کے ماہر آرنلڈ ڈکس

سائنسی محقق اور زیر زمین سرنگ کے ماہر آرنلڈ ڈکس بھی اترکاشی ٹنل حادثے میں پھنسے مزدوروں کو نکالنے میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ ڈکس 20 نومبر کو سرنگ کے مقام پر پہنچے۔ وہ سرنگ بنانے کے دنیا کے معروف ماہرین میں سے ایک ہیں۔