مہوبا (اتر پردیش): اتر پردیش کے ضلع مہوبا سے انسانیت، بہادری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک ایسی مثال سامنے آئی ہے جس نے ہر دل کو متاثر کر دیا۔ کھنہ تھانہ علاقے کے گاؤں سرسی کلا کے قریب شیام نالہ میں طغیانی کے دوران باراتیوں سے بھری ایک بولیرو گاڑی تیز بہاؤ میں بہہ گئی۔ خوشیوں سے بھرپور یہ سفر چند لمحوں میں خوفناک حادثے میں تبدیل ہو گیا، لیکن مقامی نوجوانوں کی بروقت جرات مندانہ کارروائی نے چھ قیمتی جانیں بچا لیں۔
مسلم نوجوانوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر ندی میں چھلانگ لگا دی
حادثے کے وقت قریب ہی ٹریکٹر مرمت کی دکان پر موجود اسرائیل کے بیٹوں توفیق اور شفیق نے چیخ و پکار سنتے ہی عرفان، جمشید، دیندیال اور دیگر دیہاتیوں کے ساتھ نالے میں چھلانگ لگا دی۔ سب نے مل کر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک ریسکیو آپریشن جاری رکھا اور دلہے کے والد رام اوتار سمیت تمام چھ باراتیوں کی جان بچا لی۔حادثے کے وقت گاڑی میں دلہے کے والد رام اوتار سمیت چھ افراد سوار تھے۔
شدید بہاؤ اور انتہائی دشوار حالات کے باوجود تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والے امدادی آپریشن کے بعد تمام چھ باراتیوں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔ مقامی نوجوانوں کی اس جرات اور بے لوث خدمت کو ہر طرف سراہا جا رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ مشکل کی گھڑی میں انسانیت ہی سب سے بڑا مذہب ثابت ہوتی ہے۔
In Mahoba,UP
— Nehr_who? (@Nher_who) July 12, 2026
Rohit's wedding car carrying 6 members
fell into a flooded river, when they cried for help
Tauseef, Shafiq, Irfan and Jamshed jumped into the river & rescued the whole family.
Humanity still exists in India pic.twitter.com/BxtQAm9Ysm
زیرِ تعمیر پل اور حفاظتی انتظامات کی کمی حادثے کی وجہ بنی
اطلاعات کے مطابق چیچارا گاؤں کے رہائشی رام اوتار کے بیٹے روہت کی بارات ضلع باندا کے گاؤں مساری جا رہی تھی۔ سرسی کلا کے قریب زیرِ تعمیر پل کی وجہ سے بنائے گئے متبادل راستے سے گزرتے وقت تیز بہاؤ کے باعث بولیرو گاڑی بے قابو ہو کر نالے میں جا گری۔
مقامی افراد کا الزام ہے کہ پل کی تعمیر گزشتہ تقریباً ایک سال سے جاری ہے، لیکن محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) اور متعلقہ ٹھیکیدار نے نہ تو خطرناک مقام پر بیریکیڈنگ کی اور نہ ہی کوئی انتباہی بورڈ نصب کیا۔ مسلسل بارش کے باوجود حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث یہ بڑا حادثہ پیش آیا۔

پولیس نے گاڑی نکالی، سرکاری لاپروائی پر سوالات
حادثے کی اطلاع ملتے ہی کھنہ تھانے کے انچارج دھرمندر سنگھ پولیس ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے۔ مقامی دیہاتیوں کی مدد سے ٹریکٹر منگوا کر بولیرو گاڑی کو بھی نالے سے باہر نکال لیا گیا۔
حادثے نے جہاں ہندو مسلم اتحاد اور انسانیت کی روشن مثال پیش کی، وہیں محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی) کی سنگین غفلت بھی بے نقاب کر دی۔ مقامی افراد کا الزام ہے کہ گزشتہ تقریباً ایک سال سے پل کی تعمیر کا کام ادھورا پڑا ہے۔ تیز بہاؤ والے متبادل راستے پر نہ تو حفاظتی رکاوٹیں (بیریکیڈنگ) لگائی گئی تھیں اور نہ ہی کسی قسم کا انتباہی بورڈ نصب تھا، جس کے باعث یہ بڑا حادثہ پیش آیا۔
مقامی رہائشی کالی چرن پرجاپتی کے مطابق پل کی تعمیر کا کام انتہائی سست رفتاری سے جاری ہے اور کئی بار درمیان میں بند بھی کر دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے یہاں ہر وقت کسی بڑے حادثے کا خدشہ رہتا ہے۔ اگرچہ اس واقعے میں تمام باراتی محفوظ رہے، لیکن اس نے ایک بار پھر سرکاری لاپروائی اور دیہاتیوں کی جرأت و بہادری دونوں کو نمایاں کر دیا۔
خوش آئند بات یہ رہی کہ اس حادثے میں تمام باراتی محفوظ رہے، تاہم اس واقعے نے ایک بار پھر سرکاری لاپروائی اور بنیادی حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ دوسری جانب توفیق، شفیق، عرفان، جمشید، دین دیال اور ان کے ساتھیوں نے اپنی بہادری اور انسان دوستی سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کی ایک قابلِ تقلید مثال قائم کی ہے۔