نئی دہلی:اردو اپنی ماں سے سیکھی۔ اردو صرف محبت سے نہیں بلکہ جنون سے آتی ہے۔
معروف صحافی اور سابق وزیر مملکت برائے امور خارجہ ایم جے اکبر میں ان خیالات کا اظہار جمعہ کو راجدھانی میں کیا
.webp)
مہمان اعزازی کامنا پرساد نے کہا کہ اردو ہندوستان کی قدیم تہذیبوں کے میل جول کا نتیجہ ہے جس میں عربی فارسی سنسکرت اور دیگر زبانوں کی آمیزش شامل ہے جس سے یہ زبان مزید شیریں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اردو کبھی عشق کے اظہار کی زبان بنی اور کبھی آزادی کی تحریک کی آواز۔ اردو ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی نمائندہ ہے جس کی نمایاں خصوصیات کشادہ دلی اعلی ظرفی اور ملائمیت ہیں۔
پروفیسر سید عین الحسن نے اردو کی کشادہ قلبی اور دیگر زبانوں سے خوبصورت میل جول پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو میں شیرینی کے ساتھ طنز اشارہ اور کنایہ کی دلکشی بھی پائی جاتی ہے۔ اردو نے ہر طبقے کو احترام دیا۔ فلمی نغموں نے اردو کی خوش کلامی کو عام کیا اور اسے احساسات کی زبان بنایا۔ اردو نے معاشرے کو حساسیت کا مزاج عطا کیا ہے۔

پروفیسر طارق منصور نے کہا کہ ہندوستان زبانوں کے اعتبار سے بے حد ثروت مند ملک ہے۔ قومی اردو کونسل کے کتاب میلوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ اردو کے قارئین اور بولنے والے ملک کے ہر حصے میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردو کے فروغ کے لیے ذاتی سطح پر کوشش ضروری ہے۔ اردو رسم الخط کا تحفظ اور اس کا سیکھنا اس کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 مادری زبان پر زور دیتی ہے اور اردو آبادی کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اردو خالص ہندوستانی زبان ہے اور اس کا تعلق کسی مخصوص طبقے سے نہیں۔ عالمی اردو کانفرنس اردو کی ترویج میں اہم کردار ادا کرے گی۔
اس موقع پر قومی اردو کونسل کی کتاب وکست بھارت کا وژن اور اردو زبان کا اجرا بھی کیا گیا جو گزشتہ عالمی اردو کانفرنس اور پٹنہ سمینار میں پیش کیے گئے مقالات پر مشتمل ہے جسے ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے مرتب کیا ہے۔
افتتاحی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر حفیظ الرحمن کنوینر خسرو فاؤنڈیشن نئی دہلی نے کی جبکہ شکریے کی رسم ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی اسسٹنٹ ڈائرکٹر اکیڈمک این سی پی یو ایل نے ادا کی۔ تقریب کا اختتام راشٹر گان پر ہوا۔
افتتاح کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایم اے انصاری آڈیٹوریم میں ہیومر باز کے عنوان سے ایک ثقافتی مزاحیہ پروگرام منعقد ہوا جس میں معروف اداکار اور کامیڈین رحمان خان نے اپنے رفقا کے ساتھ شاندار فن کا مظاہرہ کیا۔ پروگرام کا تعارف ڈاکٹر جاوید حسن نے پیش کیا۔ اس موقع پر ملک اور بیرون ملک سے آئے مہمانوں کے ساتھ کونسل کے اراکین افسران اور بڑی تعداد میں سامعین موجود رہے۔