اردو ہماری شناخت ہے اور اس کے بغیر ہندوستان کمزور ہو جائے گا۔ ایم جے اکبر

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 06-02-2026
 اردو ہماری شناخت ہے اور اس کے بغیر ہندوستان کمزور ہو جائے گا۔ ایم جے اکبر
اردو ہماری شناخت ہے اور اس کے بغیر ہندوستان کمزور ہو جائے گا۔ ایم جے اکبر

 



نئی دہلی:اردو اپنی ماں سے سیکھی۔ اردو صرف محبت سے نہیں بلکہ جنون سے آتی ہے۔

  معروف صحافی اور سابق وزیر مملکت برائے امور خارجہ ایم جے اکبر  میں ان خیالات کا اظہار جمعہ کو راجدھانی میں کیا

وہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان  کی جانب سے تین روزہ عالمی اردو کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں خطاب کررہے تھے جس کا افتتاح وزیر اعظم میوزیم تین مورتی مارگ نئی دہلی میں عمل میں آیا۔ کثیر لسانی ہندوستان میں اردو زبان و تہذیب کے عنوان سے منعقد اس کانفرنس کا آغاز شمع روشن کرکے کیا گیا۔ ایم جے اکبر نے مزید کہا کہ اردو کسی مذہب کی زبان نہیں مگر 1947 کے سانحے نے غلط فہمیاں پیدا کیں۔
انہوں نے کہا کہ اردو ہماری شناخت ہے اور اس کے بغیر ہندوستان کمزور ہو جائے گا۔ اردو محبت کی زبان ہے اور کتاب میلوں کی کامیابی اس کے قارئین کی وسعت کا ثبوت ہے۔ اردو کے بارے میں ذہن و فکر کو صاف رکھنا بھی ضروری ہے۔
افتتاحی تقریب میں معروف صحافی اور سابق وزیر مملکت برائے امور خارجہ ایم جے اکبر۔پروفیسر طارق منصور رکن لیجسلیٹو کونسل اتر پردیش و سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی۔ پروفیسر سید عین الحسن وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد۔ اور محترمہ کامنا پرساد بانی جشن بہار ٹرسٹ شریک رہیں۔
قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ ہندوستان میں بولی جانے والی بے شمار زبانوں میں اردو کئی اعتبار سے منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ اردو کا کوئی مخصوص علاقہ نہیں بلکہ یہ پورے ملک میں سمجھی اور بولی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2047 میں وکست بھارت کے خواب کی تکمیل میں زبانوں کا کردار نمایاں ہوگا اس لیے اردو کو نئی ٹیکنالوجی سے جوڑنا اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کانفرنس کے مقاصد پر روشنی ڈالی اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان و حکومت ہند کا شکریہ ادا کیا۔

مہمان اعزازی کامنا پرساد نے کہا کہ اردو ہندوستان کی قدیم تہذیبوں کے میل جول کا نتیجہ ہے جس میں عربی فارسی سنسکرت اور دیگر زبانوں کی آمیزش شامل ہے جس سے یہ زبان مزید شیریں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اردو کبھی عشق کے اظہار کی زبان بنی اور کبھی آزادی کی تحریک کی آواز۔ اردو ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی نمائندہ ہے جس کی نمایاں خصوصیات کشادہ دلی اعلی ظرفی اور ملائمیت ہیں۔

پروفیسر سید عین الحسن نے اردو کی کشادہ قلبی اور دیگر زبانوں سے خوبصورت میل جول پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو میں شیرینی کے ساتھ طنز اشارہ اور کنایہ کی دلکشی بھی پائی جاتی ہے۔ اردو نے ہر طبقے کو احترام دیا۔ فلمی نغموں نے اردو کی خوش کلامی کو عام کیا اور اسے احساسات کی زبان بنایا۔ اردو نے معاشرے کو حساسیت کا مزاج عطا کیا ہے۔

پروفیسر طارق منصور نے کہا کہ ہندوستان زبانوں کے اعتبار سے بے حد ثروت مند ملک ہے۔ قومی اردو کونسل کے کتاب میلوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ اردو کے قارئین اور بولنے والے ملک کے ہر حصے میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردو کے فروغ کے لیے ذاتی سطح پر کوشش ضروری ہے۔ اردو رسم الخط کا تحفظ اور اس کا سیکھنا اس کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 مادری زبان پر زور دیتی ہے اور اردو آبادی کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اردو خالص ہندوستانی زبان ہے اور اس کا تعلق کسی مخصوص طبقے سے نہیں۔ عالمی اردو کانفرنس اردو کی ترویج میں اہم کردار ادا کرے گی۔

اس موقع پر قومی اردو کونسل کی کتاب وکست بھارت کا وژن اور اردو زبان کا اجرا بھی کیا گیا جو گزشتہ عالمی اردو کانفرنس اور پٹنہ سمینار میں پیش کیے گئے مقالات پر مشتمل ہے جسے ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے مرتب کیا ہے۔

افتتاحی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر حفیظ الرحمن کنوینر خسرو فاؤنڈیشن نئی دہلی نے کی جبکہ شکریے کی رسم ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی اسسٹنٹ ڈائرکٹر اکیڈمک این سی پی یو ایل نے ادا کی۔ تقریب کا اختتام راشٹر گان پر ہوا۔

افتتاح کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایم اے انصاری آڈیٹوریم میں ہیومر باز کے عنوان سے ایک ثقافتی مزاحیہ پروگرام منعقد ہوا جس میں معروف اداکار اور کامیڈین رحمان خان نے اپنے رفقا کے ساتھ شاندار فن کا مظاہرہ کیا۔ پروگرام کا تعارف ڈاکٹر جاوید حسن نے پیش کیا۔ اس موقع پر ملک اور بیرون ملک سے آئے مہمانوں کے ساتھ کونسل کے اراکین افسران اور بڑی تعداد میں سامعین موجود رہے۔