تحقیقی مقالات۔ تخلیقی پیشکشیں اور شعری محفلیں کے ساتھ اردو اکاڈمی کے ’’نئے پرانے چراغ‘‘ کا اختتام

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 02-09-2026
تحقیقی مقالات۔ تخلیقی پیشکشیں اور شعری محفلیں کے ساتھ اردو اکاڈمی کے   ’’نئے پرانے چراغ‘‘ کا  اختتام
تحقیقی مقالات۔ تخلیقی پیشکشیں اور شعری محفلیں کے ساتھ اردو اکاڈمی کے ’’نئے پرانے چراغ‘‘ کا اختتام

 



نئی دہلی :اردو اکادمی دہلی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے پانچ روزہ ادبی اجتماع ’’نئے پرانے چراغ‘‘ کا اختتامی دن بھی علمی۔ ادبی۔ تحقیقی اور تخلیقی سرگرمیوں سے بھرپور رہا۔ دن بھر ہونے والے مختلف اجلاسوں میں ریسرچ اسکالرز اور اہل قلم نے اپنے تحقیقی و تخلیقی کام پیش کیے جبکہ ممتاز ادبا۔ ناقدین اور ماہرین نے ان پیشکشوں کا جائزہ لیتے ہوئے اہم علمی و ادبی نکات کی طرف توجہ دلائی۔ پانچ روزہ اس ادبی اجتماع کے آخری دن کی سرگرمیوں نے پروگرام کو وقار۔ معنویت اور علمی وسعت کے ساتھ اختتام تک پہنچایا۔

آخری دن کا پہلا تنقیدی و تحقیقی اجلاس صبح 10 بجے منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت پروفیسر معین الدین جینابڑے۔ پروفیسر خالد اشرف اور ڈاکٹر خالد علوی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر یوسف رضا نے انجام دیے۔

اس اجلاس میں دہلی یونیورسٹی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے وابستہ ریسرچ اسکالرز نے اردو ادب کی مختلف اصناف اور متنوع موضوعات پر اپنے تحقیقی و تنقیدی مقالات پیش کیے۔جناب فردوس عالم نے ’’اپنی تلاش میں ماضی کی بازگشت اور نئے عہد کی تشکیل‘‘ کے عنوان سے مقالہ پیش کیا۔ جناب محمد چاند رضا نے ’’ہائی وے پر کھڑا آدمی۔ ایک منتشر عہد کی داستان‘‘ پر گفتگو کی۔ جناب محمد سرتاج حسین نے ’’ناول مہاماری میں سیاسی نظام کی عکاسی‘‘ کے موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا جبکہ جناب عبدالماجد نے ’’احمد علی کی افسانہ نگاری۔ قید خانہ کے خصوصی حوالے سے‘‘ کے عنوان سے اظہار خیال کیا۔

جناب شہباز قدیر چودھری نے ’’ناول پوکے مان کی دنیا میں مشرف عالم ذوقی کا فکری زاویہ۔ ڈیجیٹل عہد اور بچوں کی نفسیات‘‘ پر تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ جناب سیف الرحمٰن نے ’’ناول پدماوت کے کردار‘‘ کے موضوع پر گفتگو کی۔ جناب شہباز ریحان نے ’’ٹاکی سنیما اور اردو فلم صحافت‘‘ پر اپنا مقالہ پیش کیا جبکہ جناب طفیل احمد نے ’’احمد جمال پاشا کی انشائیہ نگاری‘‘ کا جائزہ لیا۔اسی اجلاس میں جناب ساجد انصاری نے ’’اردو نثر کے فروغ میں قدیم تراجم قرآن کا حصہ۔ 18ویں صدی کے حوالے سے‘‘ کے موضوع پر مقالہ پیش کیا جبکہ جناب عبدالرحمٰن عابد نے ’’منیب الرحمٰن کی ترجمہ نگاری۔ جولیس سیزر۔ اینٹنی اور قلوپطرہ کے حوالے سے‘‘ کے موضوع پر اپنے تحقیقی خیالات پیش کیے۔

پیش کیے گئے مقالات پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد علوی نے کہا کہ تمام مقالہ نگاروں نے بڑے اعتماد۔ حوصلے اور جرأت کے ساتھ ایک اہم ادبی پلیٹ فارم پر اپنے تحقیقی کام پیش کیے جو قابل ستائش ہے۔ انہوں نے تمام ریسرچ اسکالرز کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کسی بڑے علمی و ادبی پلیٹ فارم پر اپنے تحقیقی کام کو اعتماد کے ساتھ پیش کرنا بذات خود ایک بڑی خوبی ہے۔انہوں نے ریسرچ اسکالرز کو مشورہ دیا کہ تحقیق کے دوران اپنے مطالعے کا دائرہ وسیع رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی محقق کسی خاص تخلیق کار یا ادبی صنف پر کام کر رہا ہے تو اسے صرف ایک صنف تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ افسانہ۔ ناول۔ ڈراما۔ انشائیہ۔ خاکہ اور دیگر متعلقہ اصناف کے ساتھ اہم تخلیق کاروں کا بھی مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ ادب کے بارے میں اس کی معلومات جامع اور وسیع ہوں۔

پروفیسر خالد اشرف نے مقالہ نگاروں کو وقت کی پابندی اور سنجیدگی اختیار کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی سمینار یا ادبی پروگرام میں شرکت کے لیے وقت کی پابندی نہایت ضروری ہے اور مقالہ پیش کرتے وقت بھی ایک سنجیدہ اور ذمہ دارانہ رویہ برقرار رہنا چاہیے۔مشرقی اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے بعض اسکالرز کی زبان کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر خالد اشرف نے کہا کہ ان کی گفتگو میں ہندی زبان کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں اور آج کے سمینار میں بعض مقالات کی پیشکش کے دوران بھی یہ بات محسوس کی گئی۔ انہوں نے اسکالرز کو مشورہ دیا کہ وہ معیاری۔ شستہ اور فصیح اردو بولنے کے ساتھ اپنے تلفظ کی درستی پر خصوصی توجہ دیں تاکہ ان کی زبان علاقائی اثرات سے آزاد ہو اور ادبی معیار کے مطابق ہو۔

پروفیسر معین الدین جینابڑے نے پیش کیے گئے مقالات پر تبصرہ کرتے ہوئے مقالے اور مضمون کے بنیادی فرق کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج پیش کیے گئے بیشتر مقالات کو سننے کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ انہیں صحافتی تحریر سمجھا جائے یا باقاعدہ تحقیقی مقالہ۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ مقالہ نگاری میں علمی اور تحقیقی اسلوب کی موجودگی نہایت ضروری ہے لیکن آج پیش کیے گئے بیشتر مقالات میں یہ پہلو کمزور نظر آیا۔ ان کے مطابق علمی تحریر عام نثر کے مقابلے میں مختلف اور نسبتاً مشکل ضرور ہوتی ہے لیکن تحقیقی کام کے لیے اس کے تقاضوں اور اسلوب سے واقفیت ناگزیر ہے۔انہوں نے ریسرچ اسکالرز کو مشورہ دیا کہ وہ انگریزی زبان میں لکھے گئے معیاری تحقیقی مقالات کا مطالعہ کریں اور اپنے کام کا ان سے تقابلی جائزہ لیں تاکہ تحقیقی اور علمی تحریر کے بنیادی اصولوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔

تخلیقی اجلاس میں نئی نسل کی نمائندگی

ظہرانے کے بعد آخری دن کا تخلیقی اجلاس دوپہر 3 بجے منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت پروفیسر کوثر مظہری۔ ڈاکٹر پرویز شہریار اور ڈاکٹر قمر الحسن نے کی جبکہ نظامت ڈاکٹر شاداب شمیم نے انجام دی۔اس اجلاس میں محترمہ ڈاکٹر عذرا نقوی۔ ڈاکٹر شمع افروز زیدی۔ ڈاکٹر مظفر حسین غزالی۔ ڈاکٹر قدسیہ نصیر۔ ڈاکٹر شاہد حبیب۔ ڈاکٹر نگار عظیم۔ ڈاکٹر سفینہ۔ ڈاکٹر ثاقب فریدی۔ جناب ثروت عثمانی۔ جناب طٰہٰ نسیم۔ ڈاکٹر شاہنواز ہاشمی۔ ڈاکٹر عمران عاکف خان۔ جناب وسیع الرحمٰن عثمانی۔ محترمہ ترنم جہاں شبنم۔ محترمہ نجمہ انعم۔ محترمہ حرا قمر اور امجد حسین نے اپنے افسانے۔ انشائیے اور خاکے پیش کیے۔تخلیقی اجلاس میں پیش کی گئی تخلیقات پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر قمر الحسن نے کہا کہ ’’نئے پرانے چراغ‘‘ کے اس ادبی اجتماع میں جہاں سینئر قلم کاروں نے عمدہ تحقیقی کام پیش کیا وہیں نئی نسل کے قلم کاروں اور محققین کی پیشکشیں بھی قابل تحسین رہیں۔

انہوں نے مقالہ نگاروں کی پیشکش کے انداز۔ تلفظ اور موضوعات کے انتخاب کو سراہتے ہوئے کہا کہ پیش کیے گئے متعدد موضوعات منفرد اور اچھوتے تھے۔ انہوں نے تمام شرکا کو مبارکباد پیش کی۔ڈاکٹر پرویز شہریار نے کہا کہ موجودہ دور کا اہم تقاضا یہ ہے کہ عصری مسائل اور موجودہ عہد کی حسیت کو نئے اسلوب اور جدید تقاضوں کے مطابق پیش کیا جائے۔ ان کے مطابق نئی نسل کے قلم کار اس ذمہ داری کو زیادہ مؤثر انداز میں انجام دے سکتے ہیں کیونکہ وہ جدید ٹیکنالوجی۔ مصنوعی ذہانت اور بدلتے ہوئے ادبی و سماجی رجحانات سے بخوبی واقف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی پر نئی نسل کی گرفت انہیں عصر حاضر کے تقاضوں اور قاری کی بدلتی ہوئی ذہنی ساخت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تخلیقات میں موجودہ عہد کے مسائل اور احساسات کی ترجمانی زیادہ مؤثر انداز میں کی جا سکتی ہے۔پروفیسر کوثر مظہری نے اپنے تاثرات میں کہا کہ کوئی بھی کہانی۔ ناول یا شعر عصری حسیت سے الگ ہو کر وجود میں نہیں آ سکتا خواہ اس کا تعلق کسی بھی زبان سے ہو۔ ہر تخلیق کار اپنی تخلیق میں اپنے تجربات۔ مشاہدات اور جذبات کو پیش کرتا ہے لیکن حقیقی فنکار وہی ہوتا ہے جو اپنے فن میں اجنبیت اور انفرادیت کا عنصر پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔انہوں نے کہا کہ ادب میں معمولی سے معمولی چیز کو بھی استعارے اور دیگر فنی وسائل کے ذریعے بامعنی۔ مؤثر اور گہرے انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

محفل شعر و سخن میں 70 شعرا کی شرکت

پانچ روزہ ادبی اجتماع کے اختتامی دن محفل شعر و سخن کا انعقاد شام 6 بجے کیا گیا۔ محفل کی صدارت معروف شاعر جناب طالب رامپوری نے کی جبکہ نظامت کے فرائض جناب شعیب رضا فاطمی نے انجام دیے۔محفل میں تقریباً 70 شعرا نے اپنا کلام پیش کیا اور سامعین کو اپنے اشعار سے محظوظ کیا۔ یوں اردو اکادمی دہلی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والا پانچ روزہ ادبی اجتماع ’’نئے پرانے چراغ‘‘ علمی و تحقیقی مباحث۔ تخلیقی پیشکشوں اور شعری نشستوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ اس اجتماع نے سینئر اہل قلم اور نئی نسل کے محققین اور تخلیق کاروں کو ایک مشترکہ ادبی پلیٹ فارم فراہم کیا جہاں ادب۔ تحقیق۔ تخلیق اور زبان کے مختلف پہلوؤں پر سنجیدہ گفتگو ہوئی۔