جھارکھنڈ اسمبلی میں بھرتی امتحانات کی مبینہ بے ضابطگیوں پر ہنگامہ

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 07-08-2026
جھارکھنڈ اسمبلی میں بھرتی امتحانات کی مبینہ بے ضابطگیوں پر ہنگامہ
جھارکھنڈ اسمبلی میں بھرتی امتحانات کی مبینہ بے ضابطگیوں پر ہنگامہ

 



رانچی: جھارکھنڈ اسمبلی میں جمعہ کو بی جے پی نے ریاست میں بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر کارروائی روک دی اور عدالت کی نگرانی میں کمیٹی تشکیل دے کر سی بی آئی سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔ مون سون اجلاس کے دوسرے روز کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور ’’ہیمنت سورین استعفیٰ دو‘‘ جیسے نعرے لگانے لگے۔

بی جے پی ارکان کے ہنگامے کے درمیان اسمبلی اسپیکر رویندر ناتھ مہتو نے ان سے اپنی نشستوں پر واپس جانے کی اپیل کی۔ بار بار اپیل کے باوجود جب ارکان نہیں مانے تو اسپیکر نے سوالیہ وقفے کے دوران ایوان کی کارروائی دوپہر ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کر دی۔ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بابولال مرانڈی نے ملازمت کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی عدالت کی نگرانی میں سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب کانگریس نے الزام عائد کیا کہ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) پہلے ہی اپنی ساکھ کھو چکا ہے اور مرکز کے ایک آلے کے طور پر کام کر رہا ہے۔ کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر پردیپ یادو نے کہا، ’’ہم بھی طلبہ کے مسائل کو لے کر فکرمند ہیں۔ سی آئی ڈی اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ آپ (اپوزیشن) سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن مرکزی ایجنسی پہلے ہی اپنی ساکھ کھو چکی ہے اور مرکز کے آلے کے طور پر کام کر رہی ہے۔‘

‘ جھارکھنڈ کے اعلیٰ اور تکنیکی تعلیم کے وزیر سودِویہ کمار نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کے خدشات سے واقف ہے اور ان مسائل کو حل کرنا چاہتی ہے۔ کمار نے اپوزیشن ارکان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ’’جھارکھنڈ پی ایس سی کے پہلے اور دوسرے امتحانات میں ہونے والی بے ضابطگیوں‘‘ کو بھی یاد کرنا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس وقت ’’بی جے پی رہنماؤں کے رشتہ داروں کو ملازمتیں مل گئی تھیں۔‘‘