میرٹھ: اتر پردیش کے ضلع میرٹھ کا 21 سالہ مسلم نوجوان شاکر اپنے ہندو دوست منٹو کے ساتھ سالانہ کانوڑ یاترا میں شریک ہے۔ دونوں دوست ہریدوار سے گنگا جل لے کر 251 لیٹر کی کانوڑ کے ساتھ پیدل سفر کر رہے ہیں۔ جوکہ ملک کی گنگاجمنی تہذیبکی زندہ علامت ہے۔آج کےماحول میں جو ہر کوئی نفرت کی کھیتی کرتا نظر آرہا ہے ایسی تصاویر ملک کی اصل کہانی بیان کرتی ہیں ۔ ایسے مناظر ملک بھر میں نظر آئیں گے جبکہ انہیں سامنے لانے کی ضرورت ہوتی ہے
فلاودہ قصبے کے ہولی چوک کے رہنے والے شاکر نے کہا، ’’ہم اپنی اس یاترا کے ذریعے لوگوں سے سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی اپیل کر رہے ہیں۔‘شاکر گزشتہ سال بھی کانوڑ یاترا میں شریک ہوا تھا، جب اس نے ہریدوار سے 101 لیٹر کی کانوڑ اٹھائی تھی اور شِوراتری کے موقع پر مقامی شیو مندروں میں گنگا جل چڑھایا تھا۔
اس سال شاکر اور اس کا دوست منٹو 251 لیٹر کی کانوڑ لے کر سفر کر رہے ہیں۔ دونوں کا کہنا ہے کہ ان کی دوستی مذہب اور ذات کی تفریق سے بالاتر ہے اور انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے۔
مقامی لوگوں نے دونوں دوستوں کی دوستی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ مذہبی اختلافات کے باوجود اعتماد، تعاون اور انسانیت معاشرے کو متحد کر سکتے ہیں
کیا ہے یاترا
کنور یاترا (کاوَڑ یاترا) شیو کے عقیدت مندوں کی سالانہ مذہبی یاترا ہے، جس میں کنوَریے (کاوَڑیا) اتراکھنڈ کے ہریدوار، گومکھ اور گنگوتری جیسے ہندو زیارت گاہوں سے دریائے گنگا کا مقدس پانی حاصل کرتے ہیں۔ یہ یاترا مون سون کے مہینے شراون (جولائی تا اگست) کے دوران منعقد ہوتی ہے۔
سیکورٹی سخت
دہلی میں جمعرات کو سالانہ کنور یاترا کے پہلے روز سڑکوں پر بھاری پولیس تعیناتی اور ٹریفک پابندیوں کے اعلانات دیکھنے میں آئے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ 13 روزہ یاترا کو خوش اسلوبی سے مکمل کرانے کے لیے شہر بھر میں 1,500 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، سی سی ٹی وی کے ذریعے نگرانی بڑھا دی گئی ہے اور بین ریاستی سطح پر بھی بہتر تال میل یقینی بنایا گیا ہے۔