لکھنو:اتر پردیش ریاستی خواتین کمیشن نے ای-رکشہ میں خواتین کے ساتھ ہونے والی چھیڑ چھاڑ کے واقعات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ کمیشن نے ہدایت دی ہے کہ اب ہر ای-رکشہ پر ڈرائیور کا نام اور موبائل نمبر واضح طور پر لکھا ہونا چاہیے۔
خواتین کمیشن کی صدر نے بارہ بنکی میں افسروں کے ساتھ میٹنگ کر کے یہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی اس معاملے کو لے کر سنجیدہ ہیں۔ اجلاس میں کمیشن نے خواتین کی سلامتی کے حوالے سے کئی اہم نکات پر گفتگو کی۔ ساتھ ہی کمیشن نے ہیلپ لائن 1090 اور 181 کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی یقین دہانی بھی کرائی تاکہ متاثرہ خواتین کو فوری مدد فراہم کی جا سکے۔
خواتین کمیشن کی صدر نے تمام تھانوں میں "ویمن ڈیسک" کو مزید مضبوط کرنے کی ہدایات بھی دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ خواتین بلا خوف و خطر اپنی شکایت درج کرا سکیں اور انہیں فوری انصاف ملے۔
آپ کو بتا دیں کہ اس سے پہلے بھی اتر پردیش ٹریفک پولیس نے آٹو، ٹیمپو اور ای-رکشہ میں ڈرائیور کا نام، اس کا موبائل نمبر، مالک کا نام اور دیگر تفصیلات شیشے پر آگے لکھنے کی مہم چلائی تھی، جس پر کئی گاڑیوں نے عمل بھی کیا، تاہم بعد میں اس میں سستی آ گئی تھی۔
اب ایک بار پھر خواتین کمیشن کی صدر کے اس فیصلے کے بعد معاملے میں تیزی دیکھنے کو مل سکتی ہے اور آنے والے دنوں میں تمام ای-رکشوں اور آٹو رکشوں کے شیشے پر ڈرائیور کا نام، موبائل نمبر سمیت دیگر تفصیلات عوامی طور پر درج رہیں گی۔ فی الحال خواتین کمیشن کی صدر کی جانب سے یہ فیصلہ خواتین کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے کافی حد تک واقعات میں کمی آنے کا امکان ہے اور ان کا یہ قدم خواتین کے حق میں قابلِ ستائش قرار دیا جا رہا ہے۔