نئی دہلی: خارجہ امور کے ماہر روبندر سچدیو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے متعلق دعووں کو محض ’’دھمکی اور بیان بازی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سخت بیانات کے باوجود اصل توجہ ایران کے تجارتی نیٹ ورک کو نشانہ بنانے والی شدید معاشی پابندیوں پر مرکوز ہے۔اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے سچدیو نے ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر آبنائے ہرمز کا ایک نقشہ شیئر کیے جانے پر تبصرہ کیا جس پر اسے ’’نیا امریکی علاقہ‘‘ قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اس جنگ کے دوران کئی مرتبہ مکمل فتح کا اعلان کرچکے ہیں اور یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلا ہے اور یہ امریکہ کا علاقہ ہے۔ ان کے بقول یہ بیانات محض دھمکی اور بیان بازی معلوم ہوتے ہیں اور ان کی کوئی حقیقی بنیاد نظر نہیں آتی۔
خارجہ امور کے ماہر کا یہ تجزیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر آبنائے ہرمز سے متعلق علاقائی دعوے دہرائے جانے کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی صدر نے لانگ آئی لینڈ میں پولیس اکیڈمی کی ایک تقریب سے خطاب کے دوران بھی کہا تھا کہ وہ جلد آبنائے ہرمز کو امریکہ کا علاقہ قرار دینے کا اعلان کریں گے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں ناکامی اور اس پر اپنی ملکیت کے دعوے کے درمیان اتنا ہی بڑا فرق ہے جتنا واشنگٹن اور آبنائے ہرمز کے درمیان 7000 میل کا فاصلہ ہے۔ انہوں نے خلیج فارس میں امریکہ کے بعد کے نئے نظام کا بھی ذکر کیا۔
آبنائے ہرمز پر بڑھتی ہوئی بیان بازی کے باوجود روبندر سچدیو نے کہا کہ واشنگٹن کی بنیادی توجہ ایران کی درآمدات اور برآمدات کو محدود کرنے کے لیے سخت مالی پابندیاں عائد کرنے پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اب ایران پر انتہائی سخت معاشی پابندیاں عائد کر رہا ہے جو صرف ایرانی تیل کی برآمدات ہی نہیں بلکہ درآمدات کو بھی نشانہ بنائیں گی۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی ان ممکنہ اقدامات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے تہران کے خلاف ’’تاریخ کی سخت ترین پابندیوں‘‘ کا عندیہ دیا ہے اور بیجنگ سے ایرانی تیل کی ترسیل کے معاملے میں تعاون کی اپیل کی ہے۔ تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مجوزہ پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ثانوی پابندیوں کی بین الاقوامی قانون میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔
روبندر سچدیو نے کہا کہ خطے کے اہم تجارتی شراکت دار بھی امریکی دباؤ محسوس کر رہے ہیں کیونکہ واشنگٹن تہران کے بین الاقوامی تجارتی رابطوں کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق متحدہ عرب امارات نے پہلے ہی ایران کے ساتھ تجارت معطل کردی ہے اور وہ ایران کے 5 بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارت تقریباً 30 ارب ڈالر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اب عراق پر بھی دباؤ بڑھا رہا ہے۔ عراق اور ایران کے درمیان دو طرفہ تجارت تقریباً 12 ارب ڈالر ہے۔ ان کے مطابق امریکہ ترکی پر بھی دباؤ ڈالے گا کیونکہ ترکی کے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات ہیں اور وہ ہر سال ایران سے 3 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس خریدتا ہے۔یہ معاشی مہم ٹرمپ کی اس تنبیہ کے عین مطابق ہے جس میں انہوں نے غیر ملکی حکومتوں کو تہران کو کسی بھی قسم کا سہارا فراہم کرنے سے خبردار کیا ہے۔ اس کے جواب میں محسن رضائی نے پڑوسی ممالک کو امریکہ کی قیادت میں جاری معاشی جنگ کا حصہ نہ بننے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے والے ممالک کو ایران دشمن تصور کرے گا۔
دریں اثنا اہم آبی گزرگاہ غیر منظور شدہ آمد و رفت کے لیے بدستور بند ہے۔ ٹرمپ مسلسل آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے رہے ہیں جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ واشنگٹن کی پالیسی میں تبدیلی تک یہ گزرگاہ بند رہے گی۔ اس تعطل کے باوجود ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سفارتی رابطوں کے ذریعے تنازع حل کرنے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ تہران کو اپنی قومی طاقت اور وقار کا تحفظ کرتے ہوئے تنازع ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔