نئی دہلی،۔اردو ادب اپنے عہد کے سماجی، فکری اور تہذیبی حالات کی عکاسی کرتا آیا ہے۔ موجودہ دور میں تیز رفتار سماجی تبدیلیاں، عالمی اثرات اور نئی فکری قدریں اردو ادب کے موضوعات اور اسالیب کو نئی جہتیں عطا کر رہی ہیں۔ آج کی تخلیقات میں شناخت، سماجی نابرابری، سیاسی شعور اور انسانی مسائل نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ اردو ادب کی عصری معنویت اسی میں ہے کہ وہ روایت سے وابستگی برقرار رکھتے ہوئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رہتا ہے۔ یہ ادب محض جمالیاتی اظہار نہیں بلکہ سماج کی تفہیم اور اس پر تنقیدی نظر ڈالنے کا مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ انہی نکات کو پیش نظر رکھتے ہوئے منعقدہ سہ روزہ اردو سمینار کے تیسرے اور آخری دن دو اہم علمی اجلاس منعقد ہوئے جن میں عصری ادب کے مسائل، رجحانات اور امکانات پر سنجیدہ گفتگو ہوئی۔
تیسرے دن کا پہلا اجلاس صبح دس بجے منعقد ہوا جس کی صدارت پروفیسر علی احمد فاطمی، پروفیسر صغیر افراہیم اور پروفیسر اخلاق احمد آہن نے مشترکہ طور پر کی جبکہ نظامت ڈاکٹر عالیہ نے کی۔ اجلاس میں اردو ادب میں علاقائی اثرات، ناول میں تہذیبی مسائل، شاعری میں طنز و مزاح کا عصری کردار، ڈیجیٹل عہد میں اردو ادب، عصری ادب میں اخلاقی پہلو اور جدید شاعری کے رجحانات جیسے موضوعات پر مقالے پیش کیے گئے۔ مقالہ نگاروں میں پروفیسر قمر الہدیٰ فریدی، پروفیسر خالد اشرف، پروفیسر مظہر احمد، پروفیسر مشتاق عالم قادری، ڈاکٹر خان احمد فاروق اور ڈاکٹر عمیر منظر شامل تھے۔
پروفیسر علی احمد فاطمی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ادب کی حقیقی عصریت اس وقت سامنے آتی ہے جب اس میں اپنے عہد کے مسائل اور ان کی پیچیدگیاں پوری شدت کے ساتھ منعکس ہوں۔ ان کے مطابق ادب محض نظری مباحث کا مجموعہ نہیں بلکہ عہد کی زندہ ترجمانی ہے۔ انہوں نے ناول کے حوالے سے کہا کہ اس میں غیر ضروری فلسفیانہ بحث کی گنجائش نہیں کیونکہ ناول کی پہلی شرط اس کا فکشن ہونا ہے، فلسفہ غالب آ جائے تو تخلیقی جوہر متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سائنس اور ادب میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سائنس طے شدہ اصولوں پر چلتی ہے جبکہ ادب کسی ایک معیار کا پابند نہیں ہوتا اور اکثر غیر ہموار اور پیچیدہ ماحول میں جنم لیتا ہے، یہی اس کی طاقت ہے۔
~2.webp)
پروفیسر اخلاق احمد آہن نے معاصر ادب کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ معاصر ہونے کا مطلب صرف موجودہ حالات کا بیان نہیں بلکہ کامیاب تخلیق کار وہ ہے جو اپنے زمانے کے ساتھ ماضی اور مستقبل کا شعور بھی رکھتا ہو۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ عالمگیریت کے نام پر کہیں نئی نو استعماریت کو فروغ تو نہیں دیا جا رہا۔ مصنوعی ذہانت کے دور کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تخلیقی ذہن ہی اس چیلنج کا سامنا کر سکتا ہے کیونکہ باصلاحیت انسان اپنی انفرادیت سے پہچانا جاتا ہے۔
پروفیسر صغیر افراہیم نے مقالہ نگاروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کسی سمینار کی کامیابی اس بات میں ہے کہ طالب علم کچھ سیکھ کر واپس جائے۔ ان کے مطابق تخلیق کار کو اظہار کی آزادی حاصل ہے جبکہ اس کے تجزیے اور قدر پیمائی کا حق ناقدین کو حاصل ہے اور صحت مند مکالمہ اسی توازن سے ممکن ہے۔
ظہرانے کے بعد دوسرا اور آخری اجلاس دوپہر ڈھائی بجے منعقد ہوا جس کی صدارت پروفیسر سراج اجملی، پروفیسر احمد محفوظ اور پروفیسر فضل اللہ مکرم نے کی جبکہ نظامت ڈاکٹر ثاقب عمران نے انجام دی۔ اجلاس میں اردو ادب اور عوامی بیانیہ، سوشل میڈیا کے اثرات اور دکنی زبان کے اثرات پر مقالے پیش کیے گئے۔ مقالہ نگاروں میں پروفیسر زین رامش، پروفیسر ابو شہیم خان اور ڈاکٹر رحیل صدیقی شامل تھے۔
پروفیسر فضل اللہ مکرم نے سوشل میڈیا کے مثبت پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ موجودہ دور کا ناگزیر وسیلہ ہے، اس کی مخالفت کے بجائے اس کے تعمیری استعمال پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے مطابق یہ پلیٹ فارم اردو زبان و ادب کے فروغ اور نئی نسل تک رسائی کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔
پروفیسر سراج اجملی نے کہا کہ دکنی کو اردو کے دھارے سے الگ کرنے کے رجحان نے لسانی تقسیم کو بڑھایا اور اردو کے ارتقا کو نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق اردو کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے دکنی سرمایہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہی تنوع اس زبان کی اصل قوت ہے۔
پروفیسر احمد محفوظ نے سوشل میڈیا کے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس نے سہولت فراہم کی ہے لیکن مشق، ریاضت اور نظر ثانی کی کمی ادب کے معیار کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عصریت کا مفہوم صرف وقتی موجودگی نہیں بلکہ وسیع فکری شعور ہے جو حال، ماضی اور مستقبل تینوں سے مکالمہ قائم کرتا ہے۔
اختتام پر پروفیسر احمد محفوظ نے اظہار تشکر کرتے ہوئے تمام مہمانوں، شرکا، ریسرچ اسکالرز اور اکادمی کے اراکین و عملے کا شکریہ ادا کیا اور سمینار کو کامیاب بنانے میں ان کی کاوشوں کو سراہا۔