سری نگر: وسطی کشمیر کے یوسمرگ کے بالائی علاقوں میں ہندوستانی فوج کی کارروائی میں مارے گئے ایک دہشت گرد کی شناخت یاسر کے طور پر ہوئی ہے۔ حکام نے ہفتہ کو بتایا کہ یاسر پاکستانی شہری تھا اور ممنوعہ تنظیم لشکر طیبہ کے لیے کام کرتا تھا۔ حکام کے مطابق وہ پونچھ میں ہندوستانی فضائیہ کے قافلے پر گھات لگا کر کیے گئے حملے اور 2024 میں فوجی جوانوں اور شہری کارکنوں پر کیے گئے حملوں میں ملوث تھا۔
دوسرے دہشت گرد کی تلاش جاری ہے، جو بڑی چٹانوں اور قدرتی غاروں کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ مڈبھیڑ کا مقام پیر پنجال پہاڑی سلسلے میں 12 ہزار سے 15,500 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ مسلسل بارش اور حدِ نگاہ کم ہو کر صرف پانچ میٹر رہ جانے کے باعث کارروائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، تاہم فوج اور اس کی خصوصی فورسز کی یونٹس نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے تاکہ دہشت گرد کے فرار کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔ فوج اور جموں و کشمیر پولیس کی مشترکہ کارروائی کے دوران یاسر مڈبھیڑ میں مارا گیا۔ حکام کے مطابق یاسر کی موجودگی کا پہلی بار 2024 میں پتہ چلا تھا۔
خفیہ اطلاعات کے مطابق وہ 2024 میں کم از کم تین بڑی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھا۔ ان میں پونچھ ضلع میں ہندوستانی فضائیہ کے قافلے پر گھات لگا کر کیا گیا حملہ، سونمرگ کے قریب تعمیراتی مزدوروں پر حملہ اور بوٹا پتری میں فوج پر حملہ شامل ہیں۔ پونچھ ضلع میں دہشت گردوں کے گھات لگا کر کیے گئے حملے میں فضائیہ کا ایک جوان شہید اور چار دیگر زخمی ہوئے تھے۔ یہ حملہ 4 مئی 2024 کو شام تقریباً 6:15 بجے سرنکوٹ علاقے میں شاہ ستار کے قریب اس وقت ہوا تھا، جب جوان سنائی ٹاپ کی طرف جا رہے تھے۔ سونمرگ کے گگن گیر علاقے میں 20 اکتوبر 2024 کو ایک دہشت گرد گروپ نے سات افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا، جن میں ایک مقامی ڈاکٹر بھی شامل تھا۔
حکام نے بتایا کہ یاسر اس دہشت گرد گروپ کا حصہ تھا جس کی قیادت لشکر طیبہ کا کمانڈر جنید احمد بھٹ کر رہا تھا۔ جنید 3 دسمبر 2024 کو سری نگر کے مضافات میں واقع دچی گام کے جنگلات میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں مارا گیا تھا۔ حکام کے مطابق 24 اکتوبر 2024 کو یاسر اور دیگر دہشت گردوں نے جموں و کشمیر کے گلمرگ کے قریب بوٹا پتری علاقے میں ہندوستانی فوج کی ایک گاڑی پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا، جس میں پانچ افراد مارے گئے تھے۔ حکام نے بتایا کہ یاسر جنید سے ملاقات کے لیے پیر پنجال پہاڑی سلسلے کے شمالی حصے کی جانب گیا تھا۔
بوٹا پتری مڈبھیڑ کے بعد سے وہ اور لشکر طیبہ کا ایک اور دہشت گرد موسیٰ یوسمرگ اور پلوامہ کے علاقوں میں چھپے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال دونوں جموں خطے میں پیر پنجال کے جنوبی حصے میں واپس چلے گئے تھے، لیکن رواں ماہ کے آغاز میں دوبارہ وادی میں داخل ہوئے۔ خفیہ اطلاع ملنے کے بعد خصوصی فورسز اور ہندوستانی فوج کی یونٹس نے 12 ہزار سے 15,500 فٹ کی بلندی پر واقع پہاڑی دروں میں مورچے سنبھال لیے تھے۔ حکام کے مطابق یکم ستمبر کو علاقے میں سخت ناکہ بندی اور محاصرہ کیا گیا تھا۔ مڈبھیڑ کا مقام بڈگام کے دودھ پتھری علاقے سے تقریباً پانچ گھنٹے کی مسافت پر ہے اور یہ انتہائی دشوار گزار علاقہ ہے۔
سری نگر میں قائم چنار کور نے جمعہ کو ’ایکس‘ پر کہا، ’’مخصوص خفیہ اطلاع کی بنیاد پر ہندوستانی فوج، جموں و کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف نے بڈگام میں مشترکہ تلاشی مہم شروع کی۔ چوکس جوانوں نے مشتبہ سرگرمی دیکھی اور جب انہیں چیلنج کیا گیا تو دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے بعد دونوں جانب سے شدید فائرنگ ہوئی، جس میں ایک دہشت گرد مارا گیا اور ایک اے کے رائفل برآمد کی گئی۔‘‘ حکام نے بتایا کہ موسیٰ کو پکڑنے کے لیے تلاشی مہم جاری ہے اور بلند پہاڑی علاقوں میں مزید سکیورٹی فورسز تعینات کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پیر پنجال کے جموں والے حصے میں بھی بڑی تعداد میں جوان تعینات کیے گئے ہیں تاکہ فرار کے تمام ممکنہ راستے بند کیے جا سکیں۔