نئی دہلی: استاد صرف کتابی علم منتقل کرنے والا نہیں بلکہ نئی نسل کی فکری، اخلاقی اور عملی تربیت کا معمار ہوتا ہے۔ والدین بچے کو دنیا میں لاتے ہیں، مگر اسے زندگی جینے کا سلیقہ اور صحیح راستہ دکھانے میں استاد کا کردار بنیادی ہے۔ طالب علمی کے زمانے میں شاید شاگرد اپنے استاد کی قدر و منزلت کو پوری طرح محسوس نہ کرسکے، لیکن عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد اسے استاد کی رہنمائی، شفقت اور تربیت کی حقیقی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔ یہ خیالات علی رضا زیدی اور پروفیسر خالد محمود نے اردو اکادمی، دہلی کے زیر اہتمام منعقدہ ’مشاعرۂ یومِ اساتذہ‘ سے خطاب کرتے ہوئے ظاہر کیے۔
یومِ اساتذہ کی مناسبت سے اردو اکادمی، دہلی نے قمر رئیس سلور جبلی آڈیٹوریم میں ایک باوقار شعری نشست کا اہتمام کیا، جس میں درس و تدریس سے وابستہ معروف اساتذہ اور شعراء نے اپنی منتخب تخلیقات پیش کیں۔ مشاعرے میں شریک شعراء نے استاد، تعلیم، معاشرتی تبدیلی، انسانی رشتوں اور عصری مسائل کو اپنے منفرد شعری اسلوب میں پیش کرکے محفل کو ادبی رنگ عطا کیا۔
پروگرام میں علی رضا زیدی، سابق رکن مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن، حکومتِ ہند مہمانِ خصوصی تھے، جبکہ پروفیسر خالد محمود، سابق صدر شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے صدارت کی۔ ابتدائی نظامت سفیر صدیقی نے کی، جبکہ مشاعرے کی نظامت کے فرائض سلمان سعید نے انجام دیے۔
مشاعرے کے آغاز سے قبل اردو اکادمی کے سینئر کارکنان محمد ہارون اور عزیر حسن قدوسی نے مہمانِ خصوصی علی رضا زیدی اور صدرِ مشاعرہ پروفیسر خالد محمود کا استقبال کیا اور انہیں پودے پیش کیے۔ بعد ازاں مہمانِ خصوصی، صدرِ مشاعرہ اور شریک شعراء نے مشترکہ طور پر شمع روشن کرکے مشاعرے کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
اپنے خطاب میں علی رضا زیدی نے یومِ اساتذہ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ استاد کی خدمات کا دائرہ ایک طالب علم تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ پوری نسل کی فکری اور اخلاقی تشکیل میں حصہ لیتا ہے۔ انہوں نے اپنی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ بچپن میں یومِ اساتذہ کا دن ان کے لیے خاص جوش و خوشی کا باعث ہوتا تھا، کیونکہ اس دن انہیں بھی استاد بننے کا موقع ملتا تھا۔ استاد سے وابستہ محبت، احترام اور عقیدت کا یہ جذبہ آج بھی ان کے دل میں قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم مکمل کرکے جب طالب علم عملی زندگی میں داخل ہوتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے اساتذہ نے اس کی زندگی کو سنوارنے میں کس قدر اہم کردار ادا کیا۔ ان کے بقول، والدین بچے کو دنیا میں لاتے ہیں، لیکن استاد اسے زندگی کے نشیب و فراز سے نمٹنے اور بہتر انسان بننے کا شعور دیتا ہے۔
علی رضا زیدی نے تعلیمی شعبے میں اپنی سابقہ خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے رکن کی حیثیت سے انہوں نے جموں و کشمیر، چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ سمیت مختلف علاقوں کے غریب اور پسماندہ اسکولوں کی معاونت اور ان کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم معاشرے میں بچوں کی تعلیم کے حوالے سے جو مثبت تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں، ان میں اساتذہ کی مسلسل محنت اور رہنمائی کا بھی اہم حصہ ہے۔
صدرِ مشاعرہ پروفیسر خالد محمود نے مشاعرے کو معیاری اور کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ محفل میں شریک بیشتر شعراء اپنے اپنے شعبے میں استاد کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کی علمی و تخلیقی صلاحیتیں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ان کے مطابق جب ایسے باکمال اہلِ علم و ادب ایک جگہ جمع ہوں تو محفل کے ادبی وقار میں اضافہ فطری ہے۔
انہوں نے مشاعرے کی نظامت کو ایک مشکل فن قرار دیتے ہوئے سلمان سعید کی عمدہ نظامت کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشاعرے میں صدر کی ذمہ داری نسبتاً آسان ہوتی ہے، جبکہ ناظمِ مشاعرہ کو پوری محفل کو مربوط رکھنے کا مشکل کام انجام دینا پڑتا ہے۔
پروفیسر خالد محمود نے بتایا کہ وہ اب تک تقریباً 80 مشاعروں کی صدارت کرچکے ہیں، تاہم اس نوعیت کی محفل کم ہی دیکھنے کو ملی جس میں زیادہ تر شرکاء ان کے دوست یا شاگرد ہوں۔ انہوں نے اسے اپنے لیے ایک یادگار مشاعرہ قرار دیتے ہوئے تمام شعراء کو مبارکباد پیش کی۔
یومِ اساتذہ کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 5 ستمبر کو ملک بھر میں سابق صدرِ جمہوریہ ہند اور ممتاز فلسفی و ماہرِ تعلیم ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کی سالگرہ کی مناسبت سے یومِ اساتذہ منایا جاتا ہے۔ یہ دن دراصل اساتذہ کی علمی و تعلیمی خدمات کے اعتراف اور ان کے احترام کا دن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو اپنی کامیابیوں میں اپنے اساتذہ کی رہنمائی کو یاد رکھنا چاہیے۔ استاد کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی خراجِ تحسین نہیں ہوسکتا کہ اس کے شاگرد اس کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں آگے بڑھائیں۔
آخر میں اردو اکادمی، دہلی کے سینئر کارکن محمد ہارون نے مہمانِ خصوصی، صدرِ مشاعرہ، شعراء اور تمام شرکائے محفل کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مشاعرے کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اردو اکادمی کی جانب سے مستقبل میں بھی ایسی ادبی و ثقافتی محافل کا سلسلہ جاری رہے گا۔
پروفیسر خالد محمود
جسے دیکھو چھپا پھرتا ہے خالد
جماعت آ گئی ہے میوات والی
پروفیسر فاروق بخشی
صدیوں سے ایک جان تھے کس آن بان سے
رشتے کہاں چلے گئے سب درمیان سے
پروفیسر خالد علوی
وہ میرے عشق سے پہلے نہ تھا اتنا دلکش
ازسرنو اسے ایجاد کیا ہے میں نے
پروفیسر احمد محفوظ
ایک عالم کو تیرا تیر نشانہ کرکے
آن بیٹھا ہے میرے دل میں ٹھکانہ کرکے
پروفیسر کوثر مظہری
عجیب حبس کا عالم ہے کوئی تحفہ لا
میں آبشار خریدوں، تو ایک دریا لا
ڈاکٹر شبانہ نظیر
آج ہم کوئی الگ، کوئی نئی بات کریں
یوں کریں عمرِ گزشتہ سے ملاقات کریں
پروفیسر رحمٰن مصور
ایک خواب کی تعبیر کی تردید ہوئی تھی
ہم لوگ حقیقت میں اسی خواب سے نکلے
پروفیسر عفت زریں
کاتبِ تقدیر نے لکھی پریشانی بہت
اور ہمیں کرنی ہے اب ان کی نگہبانی بہت
اعجاز انصاری
کیوں نہ ہو مغرور اردو کی غزل تشہیر سے
فکر کا انداز غالب سے ملا، فن میر سے
ڈاکٹر وسیم راشد
صرف اپنوں کو نہیں سارے زمانے کے لیے
عمر میں نے کاٹ دی اردو پڑھانے کے لیے
پروفیسر احمد امتیاز
دور تک اپنی ہی آواز سنا کرتا ہوں
خاموشی جانے کسے یاد کیا کرتی ہے
ڈاکٹر واحد نظیر
سوچ کر اس کو میرا دل آج بھر آیا تو کیا
وہ جزیرہ ہے، جزیرے میں کھنڈر آیا تو کیا
شہلا نواب
اہلِ قلم بھی کیا لکھیں جرأت ہی کھو گئی
اس قوم کی وہ فہم و فراست ہی کھو گئی
ڈاکٹر خالد مبشر
سنی ہے تیری حکایاتِ دلکشی جب سے
چمن تمام تیرے رنگ کی تلاش میں ہے
اختر اعظمی
کتنا مشکل ہوں یہ اندازہ تجھے کیا ہوگا
میں تیرے سامنے آسان بنا رہتا ہوں
ارشاد احمد ارشاد
غریبی توڑ دیتی ہے انا کے خول کو آخر
بہت مضبوط ہوکر بھی بیچارے ٹوٹ جاتے ہیں