تبلیغی جماعت کی خدمت: 560 کورونا مریضوں کی آخری رسومات ادا کیں

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 11-05-2021
انسانی خدمت کی مثال بنے تبلیغی
انسانی خدمت کی مثال بنے تبلیغی

 

 

تروپتی:چھبیس سالہ دامودر ریڈی نے کووڈ کی وجہ سے تروپتی کے ایس وی آئی ایم ایس اسپتال میں دم توڑ دیا ۔ چونکہ اس بیماری سے انفیکشن کا خدشہ تھا اس لئے اس کے اہل خانہ اور رشتہ دار بھی ان کی آخری رسومات ادا کرنے کے لئے آگے نہیں آئے۔ پھر آگے آیا مسلمانوں کا ایک گروہ جس کا تعلق یوں تو مذہبی تبلیغ کے مشن سے ہے ، لیکن اس نے ہندو روایات کے مطابق دامودر کی آخری رسومات ادا کر کے علاقہ مکینوں کو حیرت میں ڈال دیا ۔

اسی طرح کا ایک اور واقعہ روئیہ اسپتال میں دیکھنے میں آیا جب ایک چرچ کے پادری ویٹی داسو کی کورونا کی وجہ سے موت ہوگئی جس کے بعد ان کا کوئی بھی رشتہ دار ان کی لاش لینے نہیں آیا جس کے بعد مسلمانوں کا وہی گروہ پھر سے اسپتال آیا اور اس نے ان کی عیسائی رسم و رواج کے مطابق تدفین کی ۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال اسی تبلیغی جماعت کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈہ کیا گیا تھا جس میں جماعت کے ممبروں کو کورونا پھیلانے کے الزام میں سزا بھی سنائی گئی تھی۔ تاہم ان چیزوں کا اس مسلم گروہ پر کوئی اثر نہیں ہوا اور آندھرا پردیش کے اس شہر میں تبلیغی جماعت کے ممبران کسی کے مذہب کو دیکھے بغیر کووڈ کے متاثرین کی آخری رسومات ادا کر رہے ہیں۔

awazurdu

کووڈ 19 جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے اے سی) کے بینر تلے تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے 60 رضاکاروں نے گذشتہ سال اس وباء کے پھیلنے کے بعد سے اب تک 560 کورونا متاثرین کی لاشوں کی آخری رسومات ادا کی ہیں ۔ وہ نہ صرف ان میتوں کی آخری رسومات ادا کررہے ہیں جن کے رشتے دار ساتھ ہوتے ہیں بلکہ ایسے لوگوں کی بھی آخری رسومات یقینی بنارہے ہیں جن کے کنبے کے افراد نے انفیکشن کے خوف سے اپنے پیاروں کو لاوارث چھوڑ دیا ۔

جے اے سی کے صدر شائق امام صاحب نے کہا کہ وہ میت کے آخری رسومات میت کے مذہبی عقائد کے مطابق ہی انجام دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا اگر متوفی ہندو یا عیسائی ہوتا ہے تو ہم آخری رسومات ادا کرنے کے لئے ان کے پجاری یا متعلقہ شخص کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔

امام کا ماننا ہے کہ جماعت کو نفرت کی نگاہوں سے دیکھنے والوں کو جواب دینے کا یہ اچھا موقع ہے۔ آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے وکیل ، امام کہتے ہیں کہ ہم ان کی نفرت کا جواب محبت ، شفقت اور انسانی خدمت سے دے رہے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں یہ ایک موقع کے طور پر فراہم کیا ہے۔

انہوں نے یاد کیا کہ پچھلے سال تبلیغی جماعت کے خلاف غلط پروپیگنڈا کیا گیا تھا۔ امام نے کہا کہ لوگوں نے جماعت کے ممبروں کو دہشت گرد بھی قرار دیا ۔ آج وہی جماعت کے ممبران کوو د متاثرین کی آخری رسومات ادا کررہے ہیں۔

قدرتی آفات کے دوران امدادی کام انجام دینے کے لئے مسلمانوں کے ایک گروپ نے 2014 میں تروپتی یونائیٹڈ مسلم ایسوسی ایشن نام کی تنظیم تشکیل دی۔ پچھلے سال وبا کے پھیلنے کے بعد انہوں نے جے اے سی تشکیل دی اور مقامی حکام سے درخواست کی تھی کہ وہ انہیں میت کے مذہبی عقائد کے مطابق متاثرین کی آخری رسومات ادا کرنے کی اجازت دیں ۔

جے اے سی شہر کے علمائے کرام یا مسلم مذہبی رہنماؤں کی رہنمائی میں کام کرتا ہے۔ مولانا ابراہیم ہاشمی ، حافظ اسحاق محمد اور مولانا جابر گروپ کے نمایاں لیڈر ہیں۔ امام نے کہا جے اے سی نے عوام سس 20 لاکھ روپے عطیہ حاصل کیا ہے۔ ہم نے ایک نئی ایمبولینس بھی خریدیہے۔ اب ہمارے پاس دو ایمبولینسیں ہیں جو مفت خدمت مہیا کررہی ہیں۔

awazurdu

انہوں نے تیروپتی کے ایم ایل اے کروناکارا ریڈی کا جے اے سی کو ہر طرح کی مدد دینے پر شکریہ بھی ادا کیا۔ ریاست کی حکمران وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے رہنما ریڈی نے اس تنظیم کو کچھ مالیاتی مدد بھی فراہم کی ہے۔

دو مرتبہ کوو ڈ پازیٹیو ہونے کے باوجود ایم ایل اے نے جے اے سی ممبروں کے ساتھ ہلاک ہونے والوں میں سے کچھ کی آخری رسومات میں ذاتی طور پر شرکت کی ۔ جے اے سی اب کووڈ کے مریضوں کو مفت آکسیجن سلنڈر فراہم کرکے اپنی سرگرمیاں بڑھانے کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے۔

awazurdu